Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Episode 20

سر میم کو ہوش آ گیا آپ مل سکتے ہیں ان سے..
نرس نے آ کر سوہم کو کہا..

سوہم روم کی طرف آیا…
وہ ٹھیک تھی.. اور اٹھ کر بیٹھی تھی..

کیسی ہیں آپ…. سوہم نے مسکراتے پوچھا..
اس نے سر ہلایا..
آپ کو پتا ہے آپ کا آپریشن ہوا ہے اب آپ بول پائیں گی..مگر یہ بات صرف مجھے پتہ ہے پاشا بھائی کے لئے سرپرائز ہی رکھا ہے میں نے…

جانتی ہوں.میں سب سے پہلے ان کے سامنے انھی کا نام بولنا چاہتی ہوں .. اس نے اشارہ کیا.. اور شرم سے نظریں جھکا لیں

سوہم نیچے منہ کر کہ مسکرایا…

کدھر ہیں وہ…

ناراض ہیں آپ سے.. آپ انھیں بتائے بغیر وائٹ پیلس سے کیوں نکلیں…. کہتے ہیں آپ کو اس حالت میں نہیں دیکھ سکتے اس لئے چلے گئے..

رحاب نے اداسی سے سر جھکا لیا…

🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺

پاشا وہاں سے سیدھا زمل کے گھر آیا تھا..

بابا رخصتی کی اجازت ہے؟میں اسے لینے آیا ہوں… اس نے دو حرفی بات کی..

بابا حیران ہوئے..
مگر بیٹا وہ کہاں ہے مجھے نہیں معلوم.. بابا کی آنکھیں نم ہوئیں.. کیسا باپ ہوں اپنی بیٹی کا خیال نہیں رکھ سکا..

آپ کیوں پریشان ہوتے ہیں… اب وہ آپ کی نہیں کبیر کی زمہ داری ہے.. اور ہمارے گھر کی عزت ہے.. ہم غافل نہیں.. مجھے معلوم ہے وہ کہاں ہے.. محفوظ اور سہی سلامت ہے آپ بس اجازت دیں..

بابا کی آنکھیں تشکر کہ احساس سے بھیگیں..
بیٹا اب وہ تمھارے گھر کی عزت ہے تو میں کون ہوتا ہوں اجازت دینے والا..
مگر تم لوگوں کے اتنا خیال رکھنے سے میں یہ تو جان ہی گیا ہوں کہ وہ اب محفوظ ہاتھوں میں رہے گی..
نادان ہے میری بیٹی بس معاف کر دینا اسے..

زمل ہوسٹل کے ڈرائینگ روم میں وکیل کے سامنے بیٹھی پیپر پڑھ رہی تھی..

چند ضروری باتوں کی ڈسکشن کے بعد وہ پین اٹھا کر سائن کرنے کے لئے پیپرز پر جھکی جب

دھاڑ سے دروازہ کھول کر بے حد خطرناک تاثر لیے پاشا اندر داخل ہوا تھا..

ٹانگ کی ایک ہی بھر پور ضرب سے شیشے کا ٹیبل دیوار سے ٹکرا کر چکنا چور ہوا تھا.
اور پیپر ہوا میں بکھر گئے.

زمل نے خوفزدہ نگاہوں سے اپنے جیٹھ جی کہ بھیانک تاثرات کو ملاحظہ کیا.. اور سہم گئی

وکیل کی بدقسمتی تھی جو Deadly Pasha کے ہتھے چڑھ گیا تھا.
منٹوں میں اس کو دھنکا تھا پاشا نے

پلیز سٹاپ اٹ.. بس کریں یہ کیا کر رہے ہیں آپ…
پاشا زمل کی جانب بڑھا تھا.
جب ایک زناٹے دار تھپڑ پڑا تھا اسے
کہ دن میں چاند تارے نظر آنے لگے.
وکیل موقع پا کر اس جلاد سے اپنی جان چوٹتے دیکھ رفوچکر ہو چکا تھا…

کیوں.. کیوں کر رہی ہو ایسا.. پہلے پیپر بنوائے ٹھیک.. گھر سے نکلی ٹھیک..کبیر کی خاطر . وہ بھی نظر انداز کر گیا میں .. مگر ابراہیمز کی عزت کا کیوں تماشہ بنا رکھا ہے.. کیا میں پوچھ سکتا ہوں.. وہ غرایا..

زمل سسک پڑی..

کبیر نے کچھ زیادہ ہی سر چڑھا رکھا ہے تمھیں.اس کی جگہ میں ہوتا بابا کی پرمیشن کے بغیر گھر سے نکلنے کی جرات پر ٹانگیں توڑ دیتا تمھاری .. اس کی محبت نظر نہیں آتی تمھیں.. اندھی ہو کیا.. سیف کی ڈیتھ ہوئی اس میں کبیر کی کیا غلطی… زرا وضاحت دو مجھے.. یہ اس کا نصیب تھا.. اس کی اتنی ہی زندگی تھی…
تمھاری مدر کی ڈیتھ ہوئی اس وقت تم ان کے پاس تھی تو کیوں نہیں روکا جانے سے انھیں.. بتاؤ زرا مجھے

پاشا آج اس کے بخیے ادھیڑنے پر تلا ہوا تھا.

پلیز چپ کریں.. سٹاپ اٹ…. خاموش ہو جائیں.. وہ کانوں پر ہاتھ رکھ کر پھوٹ پھوٹ کر روئی..

پاشا نے کچھ بھی کہے بغیر اسے بازو سے دبوچا..
زمل کی روح فنا ہوئی..
گھسیٹتا باہر لا کر گاڑی میں دھکیلا..

کک… کہاں؟ میں نن..نہیں..

شٹ اپ…بابا سے رخصتی کی پرمیشن لے چکا ہوں میں.. اب زمل کبیر ابراہیم چپ چاپ بیٹھی رہو..
پاشا دھاڑا…
وہ اس جلاد کے خوف سے بے آواز سسک پڑی

🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺

اگلی رات تک وہ زمل کو لئے وائٹ پیلس پہنچ چکا تھا..

مجھے کہیں نہیں جانا… وہ گاڑی میں کونے پر دبکی… کبیر ابراہیم کے کمرے میں پہنچنے کے خوف نے اس کی روح فنا کی تھی..

پاشا نے اسے بازو سے پکڑ کر باہر نکالا..
اس نے گاڑی کا دروازہ دبوچا..
گڑیا مجھے اور سختی کرنے پر مجبور مت کرو… پاشا نے دانت پیسے..

گھسیٹتے اندر لایا..

لا کر ریشماں کے قدموں میں پٹخا..
اسے تیار کر کہ کبیر کے کمرے میں پہنچائیں ریشماں…
وہ کہتا واپس مڑنے لگا…

رحاب گھر آ گئی ہے پاشا… ریشماں نے کہا تو ایک سیکنڈ کے لیے اس کے قدم تھمے مگر پھر وہ تن فن کرتا وہاں سے نکلتا چلا گیا..

و جو بڑی مشکل سے کھڑکی تک آ کر اس دشمن جاں کو دیکھ رہی تھی. اسے جاتے دیکھ آنکھوں سے آنسو گالوں پر لڑھکے….

ریشماں نے نرمی سے روتی زمل کو زمین سے اٹھایا…
ارے ہٹ پگلی… جانے دے اسے.. باہر سے یونہی ہے پتھر..
مگر دل کا برا نہیں

🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺

ایک ہفتہ گزر چکا تھا… سوائے راسم کے ان تینوں میں سے کسی نے وائٹ پیلس میں قدم بھی نہیں رکھا تھا..

راسم فانیہ کا بے تحاشا خیال رکھ رہا تھا..

زمل سکون میں تھی کہ کبیر آیا ہی نہیں..

سوہم خان روحا کا سارا خون جلا چکا تھا اب بس وہ یہ انتظار کر رہی تھی کہ کب وہ آئے اور کب روحا اس کا منہ نوچے….

رحاب اپنا زخم ریکور کر چکی تھی.. مگر بولی نہیں.. یہ بھی ابھی سب کے لئے سرپرائز ہی تھا…

🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺

سوہم اپنے ایک خاص اڈے پر بیٹھا.. پاشا اور کبیر کے ساتھ ان سے کچھ اہم معاملات پر ڈسکس کر رہا تھا.

وہ جانتا تھا پاشا ابراہیم ہاؤس میں رکا ہے.. جب وہ بہت زیادہ اپ سیٹ ہوتا تھا تو ابراہیم ہاؤس رکتا تھا اور اب وہ ایک ہفتے سے وہیں تھا..

سوہم نے کچھ خاص پلین کر رکھا تھا.. پاشا بلکل انجان تھا.
اس نے ابراہیم ہاؤس کو دلہن کی طرح سجوایا تھا.
اب بس دلہن پہنچانی باقی تھی
ریشماں کو ضروری ہدایات دے دی تھیں…
جس پر عمل بھی ہو چکا تھا..

ریشماں نے اس کے نا نا کرنے کے باوجود اسے ساڑھی پہنوا کر تیار کروایا تھا.. ریشماں نے اسے بتا دیا تھا کہ اسے پاشا کہ پاس بھیجا جا رہا ہے تو وہ بوکھلائی
مگر ریشماں نے اس کی ایک نا سنی تھی….

🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺

پاشا رات کے دس بجے ابراہیم ہاؤس داخل ہوا تھا.
یہ ایک جدید طرز پر بنا ایک انتہائی خوبصورت بنگلہ تھا.

اندر داخل ہو کر حیران ہوا..
ہر طرف جیسے گلاب موتیے اور گلاب کی پتیوں کی چادریں سی بچھا دی گئیں تھیں…
وہ سیکنڈوں میں سمجھ گیا سوہم خان نے آج اسے کیوں دن بھر الجھا کر رکھا تھا.

وہ دشمنِ جاں یہیں کہیں آس پاس اس گھر میں موجود ہے یہ سوچ کر گہرا سا مسکرایا..

تو مسز پاشا ابراہیم میرے ایک ایک پل کی تڑپ کی سزا بھگتنے کو تیار ہو جاؤ.. نیچے مکمل خاموشی تھی..
وہ سمجھ گیا وہ کہاں ہو سکتی ہے.

رحاب پھولوں سے سجی اس چھت پر بیٹھی بری طرح نروس ہو رہی تھی.. جہاں چار بڑے کمروں کے آگے برآمد کے بڑے بڑے پلر بھی پھولوں سے ڈھانپ دئیے گئے تھے.
کشادہ چھت، رات کا وقت، معنی خیز خاموشی، پھولوں کی مسحور کن خوشبو
اس کا نروس ہونا بنتا تھا…..

بھاری بوٹوں کی مخصوص سیڑھیاں چڑھتی دھمک سن کر وہ جی جان سے لرزی تھی..
فوراً ادھر ادھر دیکھا اور برآمدے کے بڑے سے پلر کے پیچھے چھپ گئی..

اس نے کہا تھا کہ رحاب اگر اس سے دور ہوئی تو وہ اپنے ہاتھوں سے اس کی جان لے گا.

اب وہ کیسے اسے سزا دے گا.. کیسے جان لے گا.. یہ تو وہ خود بھی نہیں جانتی تھی..

پاشا چھت پر آیا تھا.. چاروں اور نظر دوڑائی.. تیزی سے آگے بڑھا..
پلر سے اچانک اس کی کلائی تھام کر اپنے سامنے کر کے پلر سے لگایا..
بلو ساڑھی میں نیلی پڑتے خوف سے اس نے سختی سے آنکھیں بند کیں تھیں…

جب بازوؤں سے تھام کر وہ اس کی شہہ رگ جتنے قریب آیا

سزا کی لسٹ کافی طویل ہے جان… آج رات تو بہت کچھ سہنا ہے. ابھی سے گھبرا گئیں…
بھاری بوجھل گھمبیر سرسراتا لہجہ اس کی روح فنا ہوئی.

اس کی گلے پر گولی کے نشان کی جگہ دہکتے لب رکھے…
ایسے ہی پیار کرتے وہ لبوں کے بہت قریب آیا..

جو جو کہوں گا… کرتی جاؤ… فی الحال مجھ سے اظہارِ محبت کرو ابھی اور اسی وقت..اشاروں سے ہی کر دو

وہ دو قدم پیچھے ہٹ کر ہاتھ سینے پر باندھ کر اطمینان سے اسے دیکھے گیا..

رحاب کی اٹکی سانس بحال ہوئی..
یعنی وہ بول سکتی ہے پاشا اس بات سے انجان ہے.. وہ اس سے فائدہ اٹھا سکتی ہے..

مگر اس سے آگے اسے پاشا کا کیا کیا پاگل پن جھیلنا پڑے گا.. سوچ کر ہی رونگٹے کھڑے ہو گئے..

اس نے اشارہ کرنا شروع کیا…..I love you

مجھے سمجھے نہیں آئی…پاشا نے اطمینان سے کہا

Seriously………..
رحاب جھنجھلائی… اور چہرہ ہاتھوں سے چھپا لیا.
وہ دشمن جاں پھر ایک بار بہت قریب آیا..

اچھا صرف ایک مرتبہ اور….

رحاب نے پھر اشارہ کیا…
پاشا نے مدہوش سا ہو کر اس کی کمر کے گرد بازو حمائل کیے..

وہ بے تحاشا گھبرائی.

پپ… پاشا…

پاشا نے بے تحاشا حیرت سے دیکھتے اس کے لرزتے نرم و گداز لبوں سے اپنا نام سنا…
کیا کہا ایک مرتبہ اور کہنا…

پاشا…. وہ اس کی حیرت انجوائے کرتی اطمینان سے بولی..
پاشا کہ زہن میں سوہم کی باتیں گونجیں کہ وہ کیوں کہہ رہا تھا کہ کچھ لوگ حادثوں سے بھی آواز کھو دیتے ہیں مگر علاج سے ٹھیک ہو جاتے ہیں..

او تو ڈئیر وائفی سرپرائز تھا یہ… دنیا کا سب سے زیادہ خوبصورت سرپرائز تھا.. یہ کہہ کر وہ مدہوش سا ہوتا اس کے لبوں پر جھکنے لگا جب وہ بدک کر پیچھے ہٹی..

ایک اور سرپرائز ہے آپ کے لئے..

واٹ…..

اپنی آنکھیں بند کریں…..
پاشا نے فوراً آنکھیں بند کیں…
مگر وہ کھلاکھلاتی نیچے بھاگ چکی تھی… پائل کی سیڑھیاں اترتی چھنکار سنائی دی وی پھرمسکرایا

آہاں پاشا ابراہیم سے چالاکی….
وہ اطمینان سے نیچے کی طرف بڑھا..

رحاب نے نیچے بیٹھ کر پاوں سے پائلیں نکال کر آہستگی سے ایک سائیڈ رکھی..
اور منہ پر ہاتھ رکھ کر گہری مسکرائی

نازک پاؤں سینڈل سے بھی آزاد کر دئے جس سے اب اس کے چلتے قدموں کی چاپ سنائی نہیں دینے والی تھی.

لاؤنج میں ملگجا سا اندھیرا تھا.. وہ صوفے کے پیچھے چھپی…

پاشا مبہم مسکراتا لاؤنج میں داخل ہوا

Ohhhh…… She wants to play
Then let’s play baby……
اپنے آپ سے مخاطب ہوا…
پینٹ کی پاکٹوں میں ہاتھ ڈالے اطمینان سے کھڑا اس کی خوشبو اپنے آس پاس محسوس کر رہا تھا..

رحاب دبے قدموں اس کی پشت سے نکل کر باہر بھاگنے کے ارادے سے نکلی..

مگر کیا پاشا ابراہیم کو ڈاج دینا اتنا ہی آسان تھا..
بجلی کی سی تیزی سے مڑ کر اس کے پیٹ کے گرد ہاتھ لپیٹ کر اسے خود میں بھینچا…

اچانک افتاد پر وہ بوکھلائی… مگر اب تو پاشا کی پرشدت گرفت میں بری طرح پھنس چکی تھی..

کوشش بھی مت کرنا بےبی…. آج بچ نکلنا ناممکن ہے.. پاشا نے دہکتے لب اس کے پچھلے گلے پر رکھے

پاشا… آپ نے چیٹنگ کی ہوگی.. اس نے منہ پھلایا
پاشا نے ایک جھٹکے سے اس کا رخ اپنی جانب کیا تھا..

آہاں….. ابھی تو میں نے سٹارٹ ہی نہیں کی.. کمر پر سرسراتے ہاتھ ڈوری میں الجھے جھٹکے سے ڈوری ٹوٹ کر موتی جا بجا بکھرے تھے..
رحاب کی روح فنا ہوئی

پپ… پاشا.. وہ. میں….

اششششش… پہلے میں تمھاری آواز سننا چاہتا تھا.. مگر آج یہ تمھاری آواز مجھے بری طرح ڈسٹرب کر رہی ہے…
پاشا نے ایک ہاتھ اس کی کمر کے گرد لپیٹ کر دوسرا گردن کے گرد لپیٹا

یہ کہہ کر پاشا نے رحاب کی سانسوں کی خوشبو کو اپنی روح میں اتارنا شروع کیا تھا…..
رحاب اس کی بانہوں میں پگھلی…

پرحدت قربت سے رحاب کی جان پر بن آئی…. مگر پاشا تھا کہ سیراب نہیں ہو پا رہا تھا..
آخر اسے آزدی بخش کر جھٹکے سے بازوؤں میں اٹھایا…

رحاب نے گھبرا کر سینے میں منہ دے لیا..
اپنے کمرے میں داخل ہوا جو کے گلابوں سے بڑے شاندار طریقے سے سجایا گیا تھا..

کہاں کی سزا کونسی سی سزا… وہ مکمل اپنے ہوش اڑا بیٹھا تھا..
لا کر اسے بیڈ پر لٹایا… وہ مچلی…
مگر آج پاشا رکنے والا نہیں تھا.. نرمی سے اپنے اور اس کے بیچ آزار بنتا وہ پلو ہٹایا… اور اس کے لبوں پر جھکتا چلا گیا.

لمحہ بہ لمحہ پگھلتی رات میں پاشا نے رحاب کے وجود کو خود میں سمیٹ کر اپنے عشق اور جنون کی داستان لکھی تھی.

🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺, 💓💓💓💓💓💓