Rate this Novel
Episode 4
بی جان اسے پوری حویلی میں آوازیں دیتی پھر رہی تھیں..لیکن جانتی تھی آج سنڈے تھا اور وہ گھسی ہوگی کوئی پرانا سوٹ پہن کر چمارن بن کر مٹی اور گملوں میں.
گارڈنگ کا جنون کی حد تک شوق تھا اسے… اور حویلی کا جو شاندار سا باغیچہ تھا اسی کی محنت کا ثمر تھا.
ہوا بھی یونہی بی جان لان میں نکلی تو وہ منہ پر ملتانی مٹی کا فیس پیک لگائے مٹی سے اٹی بڑے بڑے گملوں میں گھسی ہوئی تھی..
بی جان نے ماتھا پیٹا.. ارے لڑکی حالت دیکھ اپنی… کہاں سے لگتی ہو میری پوتی… بھنگن لگ رہی ہو اس وقت..
وہ قہقہہ لگا کر ہنسی… بی جان فکر مت کریں ابھی ہم جب سمینار کے لئے تیار ہو کر انار کلی بنیں گے پھر آپ کی پوتی ضرور لگیں گے..انداز شاہانہ سا تھا..
دماغ خراب ہے لڑکی اتوار کو کونسا سمینار کاہے کا سیمینار.
افف او بی جان.. سٹیٹ کے منسٹر آ رہے ہیں.اسی لئے آج ہی ہے.. ہم بس جا رہے ہیں تیار ہونے . سمینار لوک ورثہ اور ہماری ثقافت کو فروغ دینے کے لیے رکھا گیا ہے..
روحا نے تفصیل بتائی..
اچھا… جو بھی ہے مگر آج سمینار سے واپسی پر حویلی مت آنا علی کے ساتھ اس کے فلیٹ چلی جانا.. بی جان کو سوہم کا فون آ چکا تھا اور انھیں الگ ہی فکریں ستا رہی تھیں..
لیکن کیوں بی جان… آپ نے ایسا کیوں کہا؟ اسے حیرت ہوئی…
لیکن ویکن چھوڑو بس جو کہا ہے وہ کرو
. بی جان کہتی اندر جا چکی تھیں..
اس نے کندھے اچکائے.. اور واپس اپنے کام میں مشغول ہو گئی.. بس ایک گھنٹہ تھا تیار ہونے کے لیے.. وہ اٹھی.. تبھی ایک شاندار بلیک رنگ بی ایم ڈبلیو بلکل انجان گاڑی حویلی کے اندر داخل ہوئی.. اسے تجسس ہوا..
تو وہیں کھڑی رہی.
پھر جو شخص گاڑی کی ڈرائیونگ سیٹ سے اتر کر باہر آیا اسے دیکھ کر اور پہچان کر روحا کے پیروں نیچے سے زمین کھسکی..
اور اس کے پیچھے آتی وہ بے باک سے لباس میں لڑکی..
وہ حیرت سے انھیں دیکھ رہی تھی.
سرخ و سفید رنگت، چھ فٹ سے نکلتا قد.. چوڑا کسرتی جسم، لائٹ پرپل شرٹ اور بلیک پینٹ میں وہ مردانہ وجاہت کا شہکار تھا..
وہ دونوں اسے دیکھ کر اس کی جانب آئے..
ہیلو میڈ… ہمیں بی جان سے ملنا ہے.. کدھر ہیں وہ..
اس کے حلیے سے کومل اسے میڈ سمجھی.
وہ بولی کچھ نہیں بس اندر کی جانب اشارہ کیا..
سوہم سن گلاسز اتار کر اپنی سبز آنکھوں سے اس حویلی کو دیکھ رہا تھا.
جہاں اس کا بچپن گزرا تھا.
جو اس کا اصل تھا…
کومل نے اس کا اشارہ پاتے ہی سوہم کو اندر جانے کا اشارہ کیا..
وہ چلے گئے..
تو بی جان اسی لیے نہیں چاہتی تھیں کہ ہم آج حویلی رکیں… اونہہ… پرواہ کسے ہے.. لگتا ہے دوسری شادی کر لی.
اس نے سر جھٹکا اور حویلی کی پچھلی جانب سے اپنے کمرے میں گئی.. اب بی جان کو تیار ہو کر نہیں دکھا سکتی تھی.
اسی لئے اپنا سارا ساماں سمیٹا.. شاور لے کر فریش ہوئی..
سامان لے کر افضل کاکا کے ساتھ کالج چلی گئی..
🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺
وہ دستک دے کر بی جان اور بڑی ماں کے مشترکہ کمرے میں داخل ہوا تھا..
بڑی ماں نے تو لپک کر اسے سینے میں بھینچا… بوڑھی آنکھوں کا سالوں کا انتظار آج بہے جا رہا تھا..
سوہم نے لب بھینچے ہوئے تھے.. مگر بڑی ماں کو سینے سے لپٹایا ہوا تھا..
بی جان کے بھی دل میں کیا کیا طوفان نہیں اٹھ رہے تھے.. اس جواں سالہ بھر پور جوبیس سال کے مرد میں اپنا جوان بیٹا دکھائی دے رہا تھا.
دل تھا کے اسے سینے میں بھینچنے کو مچلا مگر وہ بھی اپنے نام کو بیگم زیب النساء تھیں.. پتھر سی بنی بیٹھی رہیں.
پہلے تو ایک شکایتی نظر سوہم نے بی جان پر ڈالی مگر انھیں پتھر بنا دیکھ کر وہ بھی پتھر کا ہو گیا…
اور جن قدموں سے چل کر وہاں آیا تھا.. انھیں قدموں سے تن فن کرتا واپس لوٹ گیا..
حویلی میں موجود اپنے مخصوص کمرے میں آ کر دھاڑ سے دروازہ بند کیا..
سب کچھ ویسے کا ویسا تھا.. ساری چیزیں اپنی جگہ پر موجود تھیں مگر بی جان کی بے حسی ہنوز برقرار تھی..
پیچھے بی جان پھوٹ پھوٹ کر رو دی تھیں.. اور بڑی ماں کومل سے سوال جواب کرنے لگی.
میں سوہم کی دوست ہوں.. آنٹی… اس نے مسکرا کر کہا.. مگر اس پھیکے شلجم کو دیکھ کر بڑی ماں کچھ خاص خوش نہیں تھیں.
تمھارا کمرہ سیٹ کر دیا ہے آؤ میں چھوڑ کر آؤں…
🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺
شام کے سائے بہت گہرے تھے..
بی جان بے چینی سے پہلو بدل رہی تھیں…
سوہم اب تک کمرے سے باہر نہیں آیا تھا….
بڑی ماں بھی انتظار کر رہی تھی..
آخر وہ دونوں لاؤنج میں داخل ہوئے..سوہم آہستگی سے جا کر دا جی کی مخصوص قدرے کونے پر ملگجے سے اندھیرے میں رکھی کرسی پر جا کر بیٹھ گیا..
بی جان نے پہلو بدلا..
جی تو کہیے بی جان کیوں بلایا مجھے؟ سوہم ان کے منہ سے سننا چاہتا تھا..
تم جانتے ہو سوہم خان.. بی جان بجی لاپروائی سے بولیں.
آپ کے ہی حکم کی تکمیل کے لئے آیا ہوں.. وہ طنزیہ بولا
کاش میرے دوسرے احکام کی طرح تم نے یہ حکم بھی نا مانا ہوتا سوہم خان.. کچھ تو اپنی غیرت اور ملکیت کا رعب جمایا ہوتا… بی جان دل میں تلملائیں..
ابھی وہ کچھ اور کہتا کہ ایک خوشبوؤں کا ریلا لاؤنج میں داخل ہوا تھا..
اس کی نظر داخلی دروازے کی جانب اٹھی تھی اور پلٹنا بھولی تھی.
ملٹی کلر کے لہنگے میں دوپٹہ سیٹ کیے.. گھنے ہلکے گھنگھرالے بال کمر سے نیچے تک جھولتے.. بالوں میں ایک سائیڈ جھومر لگائے ہلکے میک اپ میں وہ بڑی سی ٹرافی ہاتھ میں پکڑے اکسائٹٹڈ سی لاؤنج میں داخل ہوئی تھی..
یاہو… بی جان دیکھیں تو زرا.. ہمیں کیا ملا.. وہ صوفے کے پیچھے سے بی جان کے گلے میں جھول گئی.
ارے لڑکی پاگل ہو گئی ہو کیا.. بی جان نے شاید پہلی مرتبہ اسے جھڑکا.. مگر پرواہ کسے تھی.. وہ جلدی سے سامنے آئی..
بی جان ہمیں منسٹر نے بقلم خود دی یہ.. ہماری اتنی محنت پر…
ٹرافی ٹیبل پر رکھی.. اور کمر پہ ہاتھ رکھے.
اب تو آپ کو شکایت نہیں کہ ہم آپ کی پوتی نہیں لگتے.. دیکھیں بلکل انار کلی لگ رہے ہیں.. وہ دائیں بائیں سے بی جان کو خود کو دکھاتی لہرائی.
بی جان کا دل کیا ماتھا پیٹ لیں یا اپنا یا اس بے وقوف لڑکی کا.
سوہم بغور اسے دیکھ رہا تھا. پیچھے کھڑی کومل بھی تحیر سے دیکھ رہی تھی.
وہ بلکل آسمان سے اتری پری لگ رہی تھی.اوپر سے شاہانہ انداز اور ادائیں.
کومل نے چور نظروں سے سوہم کو دیکھا جس نے اب تک پلکیں بھی نہیں جھپکائی تھیں.
بی جان آپ نے ہمیں کہا تھا کہ آج ہم حویلی نا آئیں مگر یہ ٹرافی دکھانے کے لیے ہم اتنے آکسائٹڈ ہو گئے تھے اس لیے چلے آئے..
اس کی اس بات سے سوہم کو آگ لگی.. اور ایک جھٹکے سے اٹھا.
اب آہٹ پا کر روحا نے پیچھے مڑ کر دیکھا تو دل کیا ڈوب مرے…
بوکھلا کر فوراً رخ پھیرا..
سوہم ایک گہری نظر اس پر ڈال کر ایک جھٹکے سے وہاں سے نکلتا چلا گیا..
بی جان نے کڑے تیوروں سے اس کی جانب دیکھا.
وہ فوراً ٹرافی اٹھاتی اپنے کمرے میں بھاگ گئی..
بی جان نے گہری سانس بھری.. وہ تو سائن کرنے والا تھا..
مگر اٹھ کر گیا کیوں؟
وہ شدید غصے میں کنپٹیاں سہلاتا.. ادھر ادھر چکر لگا رہا تھا..
کومل صوفے پر بیٹھی.جھلا رہی تھی کہ آخر وہ سائن کر کے کیوں نہیں اٹھا تھا.
کیا ہوا..
دیکھا تم نے کومل.. بی جان نے اسے منع کیا کہ میرے سامنے نا آئے..میں کھا جاؤں گا اسے.. جیسے میں جلاد ہوں…
وہ تو تم ہو سوہم خان.. بھول گئے یہاں آ کر کیا.. بڑے فخر سے کہلانا پسند کرتے ہو یہ خطاب خود کو… اور سائن کیوں نہیں کئے..
شٹ اپ یو……….. اپنی مرضی کا مالک ہوں… کسی کا پابند نہیں.. جب مرضی ہو گی تو کروں گا.. ناؤ گیٹ لاسٹ… مجھے سکون چاہیے کچھ دیر کے لئے.. وہ دھاڑا تو کومل چپ چاپ وہاں سے چلی آئی..
سوہم بیڈ پر اوندھے منہ گرا…ایک جنگ سی تھی جو دل دماغ کے اندر چھڑ چکی تھی..
ادھر روحا کو جب بی جان نے بتایا کہ سوہم اسے ڈائیورس دینے آیا ہے تو وہ بے یقینی سے انھیں دیکھے گئی…
ان کہ جانے کے بعد پھوٹ پھوٹ کر روئی تھی.
اونہہ تو ہم کونسا مری جا رہی ہیں ان کے لیے…
کسی کی کیا ضرورت ہے.. یہ پر کٹی کبوتری لئے گھوم جو رہے ہیں ساتھ…
ویسے بھی ہمیں نفرت ہے آپ سے سوہم خان..
آپ کو چاہ نہیں…. تو ہمیں بھی پرواہ نہیں
🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺
اگلے تین دن وہ جس کام سے آیا تھا اس میں بزی رہا..
اور بی جان سے چھپتا پھرتا رہا..
ایسا کیوں کر رہا تھا.. خود نہیں جانتا تھا.
بی جان نے بھی اس سے بات کرنے کی کوشش نہیں کی تھی..
مگر جب حویلی میں ایک لڑکے کو دو تین بار دیکھا تو اس کا دل کیا پوری دنیا کو آگ لگا دے.
ابھی بھی کنسائمنٹ اپنے اصل ٹھکانے پر پہنچا کر وہ حویلی لوٹا تھا.. اپمے کمرے میں آیا.. اور صوفے پر بیٹھا.
سوہم آوازیں سن کر کھڑکی تک آیا تھا.
سامنے وسیع لان میں جھولے کے اوپر وہ دونوں بیٹھے تھے..
دونوں کے ہاتھ میں شاید بھانپ اڑاتی کافی کے مگ تھے. ہر سو دھند تھی..
وہ لڑکا روحا سے عمر میں چھوٹا تھا مگر اس کا قد اتنا تھا کہ روحا اس کے کندھے تک آ رہی تھی.
وہ بڑی توجہ اور انہماک سے اس کی باتیں سن رہی تھیں.. اس کی باتوں پہ کھلکھلا کر ہنس رہی تھی.
پھر کسی بات پر ان دونوں نے ہاتھ پر ہاتھ مار کر ہائی فائی کیا تھا.
بس……….
سوہم اتنا ہی دیکھ پایا…
سینے میں سانس الجھتی محسوس ہوئی.
رگوں میں خون نہیں جیسے دہکتا سلگتا لاوا بہنے لگا.
شدید دم گھٹا… سفید رنگ میں ضبط کی شدت سے سرخیاں گھل گئیں.
اسے لگا کسی نے پٹرول ڈال کر آگ لگا دی ہو اسے.. جلدی سے اپنی شرٹ اتار کر واش روم میں گھسا.. اور اتنی شدید ٹھنڈ میں شاور کھول کر اس کے نیچے کھڑا ہو گیا.
کیا کرنے آیا تھا… کیا کر رہا تھا.
ریشماں کے الفاظ کانوں میں گونجے. ایک مرتبہ دیکھ لو کیا پتہ ارادہ بدل جائے.
نہیں بدلے گا..
پھر ریشماں کی معنی خیز آواز کانوں میں گونجی.جس کی اسے اب سمجھ آئی
جس کو پنجاب سے لگاؤ ہے
اس کے سینے میں کوئی گھاؤ ہے
بڑے دعوے سے کہا تھا ریشماں کو کہ خود کو executioner اس لئے بنایا ہے تاکہ کوئی تکلیف نا ہو.
اور تکلیف تو معمولی سا لفظ تھا……اب کیسے تڑپ رہا تھا.. ایسے جسم و جاں جل رہے تھے جیسے آگ کی بھٹی میں جھونک دیا گیا ہو..
کیا وہ نہیں جانتی کہ میری امانت ہے… دل میں سویاں چبھیں… صرف سوہم خان کی ملکیت ہے وہ… اس پر صرف میرا حق ہے.. کیا اتنی انجان ہے..
شاور کے نیچے کھڑا وہ اب بھی دل و جاں سے جل رہا تھا..
اسے اندازہ ہے کہ وہ مجھے کس قدر اذیت دے رہی ہے..؟
جب برداشت حد سے گزر گئی تو وہ چینج کر کے باہر نکلا.
اور ان کی جانب بڑھا…
خونخوار نظروں سے روحا کو دیکھا.. روحا کی روح فنا ہوئی.. بڑا واضح پیغام تھا سوہم خان کی آنکھوں میں.. وہ فورا اندر بھاگ گئی.
ہائے…علی نے ہاتھ آگے بڑھایا.. مگر سوہم خان کی نظر تو اس کی شہہ رگ پر تھی.. جسے اڑانے کا بڑی شدت سے دل کیا اس کا.
وہ کچھ کہے بغیر باہر کی جانب بڑھا..
علی نے کندھے اچکائے….
🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺
اگلے دن وہ بے فضول باہر سڑکیں ناپ رہا تھا..
جب قادر کی کال آئی..
قادر اور اس کے کچھ خاص آدمی بھی ساتھ آئے تھے ان کے…مگر وہ اپنے اڈے پر تھے.
اس نے کال رسیو کی مگر اس کی اگلی بات پر سوہم واپس executioner بن چکا تھا… رگیں تنی تھیں یوں جیسے پھٹ پڑیں گی.. جب قادر نے جھجھکتے بتایا.
سر….. وہ میم…….. گرینڈ سٹی ریسٹورنٹ کے بک کئے گئے ایک پرائیویٹ کیبن میں اس لڑکے کے ساتھ ہیں…
تم کہاں ہو..
ادھر ہی ہوں..
پھر وہیں رکو.. میں آ رہا ہوں…
سر میں خود لے آتا ہوں میم….
. نو…… وہ دھاڑا.. اور آندھی طوفان بنا.. ریسٹورنٹ پہنچا..
قادر نے ڈرتے ایک جانب اشارہ کیا..
وہ آگ بنا مڑا.. اور کیبن کی طرف گیا..
سامنے دیکھا تو وہ دونوں ایک ہی صوفے پر بیٹھے تھے.. وہ روحا کے ہاتھ میں کچھ پہنا رہا تھا..
شاید بریسلٹ تھی..
وہ دھاڑ سے اندر داخل ہوا.. روحا اچھلی.
مگر وہ سیکنڈوں میں ٹیبل پر پڑا واس اٹھا کر علی کے سر پر پھوڑ چکا تھا.
علی… روحا چیخی.. اور لہو لہان اس پر تڑپ کر جھکنے لگی.. جس سے سوہم کو اور آگ لگی.
علی کے سینے پر ایک زور دار لات رسید ہوئی تھی..
یہ کیا کر رہے ہیں آپ.. چھوڑیں اسے.. وہ دھاڑی… اور اس کی ڈھال بننے کی کوشش کی..
مگر سوہم اسے بازو سے دبوچ چکا تھا..
پھر وہ ریسٹورنٹ سے اسے گھسیٹ کر لایا تھا اور گاڑی میں پھینکا..
خود اس کے پاس بیٹھا..
قادر نے گاڑی چلائی.
حویلی چلو… وہ غرایا..
حویلی پہنچ کر وہ پھر اس کی جانب جھپٹا تھا.. اور بازو سے گھسیٹ کر اندر لایا..
چھوڑیں ہمیں… آپ پاگل ہو گئے ہیں..
بلکل تم نے کر دیا ہے پاگل مجھے مسز سوہم خان..
وہ لاؤنج میں داخل ہوا…
جب بی جان نے روحا کی ابتر حالت دیکھ کر آگے بڑھ کر سوہم خان کو تھپڑ مارا تھا..
تمھاری ہمت کیسے ہوئی سوہم خان میری پوتی کو ہاتھ لگانے کی… چھوڑو اسے.
ہمت آپ نے دیکھی کہاں بی جان… آپ کا ہی پوتا ہوں….اور ہاتھ اس لئے لگایا کہ یہ بیوی ہے میری… کان کھول کر سن لیں سب… یہ میری ہے… صرف اور صرف سوہم خان کی.. اگر کسی کو یہ غلط فہمی ہے کہ میں اسے چھوڑ دوں گا.. جسے میرے باپ نے میرا بنایا… تو وہ بہت بڑی غلط فہمی ہو سکتی ہے.. میں ایسا کچھ نہیں کرنے والا.. بلکہ تیاری کریں اسے میرے ساتھ رخصت کرنے کی… ساتھ لے کر جانے والا ہوں میں….
وہ کہتا اسے گھسیٹتا پورے حق سے اپنے کمرے کی جانب لے کر گیا تھا..
بی جان چھڑائیں ہمیں ان سے… ہمیں کہیں نہیں جانا.. وہ مچلتی رہی… مگر سوہم خان تو آج اپنا ہر حق پورا کرنے پر تلابیٹھا تھا
بی جان نے سرد اور لمبی سی سانس بھری.. کومل اور بڑی ماں ہکا بکا اسے دیکھتء رہ گئیں.
بی جان نے بڑی ماں کو اشارہ کیا وہ دونوں اپنے کمرے میں چلی گئیں..
🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺
سوہم دھاڑ سے دروازہ لاک کر کے اسے بیڈ تک لایا تھا اور کسی کانچ کی گڑیا کی طرح شدت سے اسے بیڈ پر پٹخا..
چھوڑیئے ہمیں… روحا چلائی..
چٹاخ… ایک زور دار تھپڑ پڑا تھا روحا کو..
سوہم نے جھک کر آہنی ہاتھ سے اس کی گردن دبوچی..اور زرا سا اوپر اٹھایا..
ہاؤ ڈئیر یو… جرات کیسے ہوئی تمھاری وہاں جانے کی..
تمھاری اصلی جگہ یہ ہے…. یہ روم اور یہ بستر مسز سوہم خان… اب میری اجازت کے بغیر اس کمرے سے ایک قدم بھی باہر نکالا تو تمھاری ٹانگوں کی سلامتی کی گارنٹی تو بی جان بھی نہیں دے پائیں گی…
وہ دھاڑا..
وہ تڑپتی مچلتی سرخ چہرے سے سخت مزاحمت کر رہی تھی..
نازک ہاتھوں سے اس پاگل آدمی کا ہاتھ ہٹانے کی کوشش کی.. آنسو تیزی سےبہہ رہے تھے..
اور اس سے پہلے کے وہ اس کی گردن کی ہڈیاں چٹخا بیٹھتا..اسے پھر بیڈ پر پٹخا……. اور اپنے ہی بالوں کو مٹھیوں میں جکڑ کر وہ آگ لگاتا غصہ، اشتعال اور طیش دبانے کی کوشش کرنے لگا.
دوپٹہ تو راستے میں ہی گر گیا تھا بکھرے بال… نازک وجود
وہ شدید کھانستی سانس بحال کر رہی تھی.بیڈ سے نیچے اتر کر کھڑی ہوئی . اور شدید غصے میں پھنکاری.
کس حق سے لائے ہیں آپ ہمیں یہاں؟ مانتے ہیں آپ اس رشتے کو….؟ اور آپ تو ہمیں چھوڑنے آئے تھے.. ڈائیورس دینے آئے تھے…. ناں تو اب کیا ہوا.. کوئی حق نہیں آپ کا ہم پر سنا آپ نے…
وہ بول رہی تھی.. اور سوہم کے ہاتھ شدید طیش میں اپنی شرٹ میں چھپی پسٹل کی جانب بڑھ رہے تھے.. لال انگارہ آنکھیں اور لہو ٹپکاتا چہرہ.. اس سے پہلے کہ وہ کوئی انہونی کر بیٹھتا…. اسے چپ کرانا بہت ضروری تھا..
آپ کی ہمت کیسے ہوئی…. چھوا کیسے آپ نے ہمیں؟
وہ شدید طیش میں اس کی جانب بڑھا..
ہمت کیسے ہوئی؟ اور چھوا کیسے….؟
ایسے….. یہ کہہ کر وہ اسے لئے بیڈ پر گرا تھا..کسرتی آہنی جسم کا سارا وزن ایک نازک سی جان پر آیا تھا.
سوہم نے تڑپتی روحا کے ہاتھ پکڑ کر بیڈ سے لگائے تھے اور بڑی شدت سے اس کے لبوں کو اپنے لبوں کی قید میں لیا تھا….
روحا کو اپنے جسم سے جان نکلتی محسوس ہوئی…
اس کی وحشی قربت اور شدت بھرے لمس میں بہت اذیت تھی… کہ روحا کو لگا آج وہ اس کے جسم کا سارا خون نچوڑ کر اسے مار ہی ڈالے گا…
شدید جلن کے احساس نے اسے اذیت سے تڑپا ہی دیا.. مگر وہ اس چٹانی گرفت میں ہل بھی نہیں پا رہی تھی.
اوپر سے کمر میں بری طرح پیوست ہوتی اس کی انگلیاں…
دوسری طرف سوہم کے اتنے سالوں کے بے سکون، تڑپتے، بھڑکتے اور سلگتے دل پر جیسے ٹھنڈے پانی کے چھینٹے پڑ رہے تھے.. رگ رگ میں سکون، سرور اور اس کی طلب خون بن کر دوڑ گئی تھی.
پہلے ہی گلے پر اتنے دباؤ اور اب اس درندے کے اتنی دیر سے سانس بند کرنے.. وحشت خوف نے اسے ہوش و خرد سے بیگانہ کیا تھا..
اس کی شدید مزاحمت بند ہوئی تو خود کوسیراب کرتے سوہم کو ہوش آیا.. اور جھٹکے سے پیچھے ہٹا..
وہ بے رحم اب اسے بے ہوش دیکھ کر جی جان سے گبھرایا تھا..
اس پر جھکا اس کے گال تھپتھپائے.
روح………. میری جان… اٹھو پلیز…
اس کی حالت دیکھ کر غصہ جھاگ کی طرح بیٹھا تو غور کیا وہ کیا درندگی کر چکا ہے اس کے ساتھ…
چہرے پر تھپڑ اور گلے پہ انگلیوں کے نشان….. لہو کی طرح سرخ ہوئے نازک لب…. جنھیں وہ زخمی کر چکا تھا.
کمر میں ہاتھ ڈال کر نرمی سے سینے سے لگایا..
افففففف…. اس نازک سی جان کے لیے اتنی شدت کہاں سے آئی مجھ میں…
مگر میرا روم روم بھی تو آتش عشق میں سلگ رہا ہے میری جان…
سوہم نے سکون سے آنکھیں موندیں.
🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺
