Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Episode 15

پاشا اسے بازو سے تھام کر اندر لایا تھا..
وہ ہونق بنی سب کو دیکھ رہی تھی..

کیونکہ سب آنکھوں میں شرارت لیے اسے ہی دیکھ رہے تھے. وہ مارے خفت کے سر جھکا گئی..
کیونکہ پاشا نے اس کا بازو اب بھی نہیں چھوڑا تھا.

پھر ریشماں نے ہی رحاب کی مسکین سی شکل دیکھ کر اس کی مشکل آسان کی.
آگے بڑھی.. رحاب کا ماتھا چوما.

ارے ہٹو بھی.. دلہے میاں… شام تک انتظار کرو.. کبیر اور سوہم کو فون کر دیا ہے نکاح تک پہنچ جائیں گے.. اور اس کو بھی تو دلہن بنانا ہے.. صبر کرو اب

ریشماں نے رحاب کا بازو چھڑایا.رحاب سرخ ہوئی ریشماں کے سینے میں منہ دے گئی..
جبکہ سوہم خان کے نام پر وہاں موجود ایک چھوٹی سی جان روح تک کانپ اٹھی تھی…

پاشا دوسری جانب رخ کیے مبہم سا مسکرایا..
ریما نے ایک حسرت بھری نگاہ اس مسکان پر ڈالی جو فورا غائب ہو کر پھر سے سنجیدگی میں بدل گئی..

وہ پینٹ کی پاکٹوں میں ہاتھ دئیے اپنے کمرے میں چلا گیا..
پیچھے انھوں نے پورا وائٹ پیلس سر پر اٹھا لیا..
روحا نے شرارت سے رحاب کو دیکھا اور ٹہوکا مارا..

اب سناؤ رحاب بےبی… ہمارا مزاق اڑا رہی تھیں… اب سناؤ

پلیز نہیں کرو ناں.. رحاب نے بے چارگی سے اشارہ کیا تو وہ قہقہہ لگا کر ہنس پڑی..

ہم تو نہیں کریں گے پر وہ کیا کیا کریں گے اس کی کوئی گارنٹی نہیں…. روحا نے رحاب کی طوطے اڑائے..

ریشماں بھی سن چکی تھی قہقہہ لگا کر ہنس پڑی. وہ دونوں سرخ چہرہ لئے وہاں سے رحاب کے کمرے میں بھاگ گئیں..

🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺

انتظامات بہت شاندار تھے…
سوہم اور کبیر بھی ہیلی سے پہنچ گئے تھے…

شام کے سائے گہرے تھے…
سوہم اپنے کمرے میں آیا تو وہ بلکل تیار تھی.. ہاف وائٹ کامدار میکسی میں وہ ہلکے میک اپ کے ساتھ غضب ڈھا رہی تھی..

اور اپنی کمر پہ آدھ کھلی زپ کو بند کرنے کی تگ و دو میں جان ہلکان کر رہی تھی..
آئینے میں پیچھے اطمینان سے کھڑے سوہم پر نظر پڑی تو بے تحاشا گھبرائی اور پیچھے مڑ کر دیوار سے ٹیک لگا لی.

سوہم کو اس کی حرکت پر ہنسی آئی مگر ضبط کر گیا.. وہ نارمل انداز میں قدم قدم چلتا اس تک آیا.
گہرے بلو ٹو پیس میں لمبے سرو قد کے حامل مردانہ وجاہت کا شہکار وہ بے تحاشا ہینڈسم اور ڈیشگ لگ رہا تھا
پینٹ کی پاکٹ میں ہاتھ ڈالے وہ اطمینان سے اس کے سامنے کھڑا تھا.

جلاد(executioner) کے دماغ میں کیا چل رہا تھا کوئی بھی نہیں جان سکا تھا آج تک.

کیسی ہو.. نارمل انداز.. روحا کو حیرت ہوئی.

ہم…. ٹھیک ہیں…. آپ کک… کیسے ہیں.. اس کی زبان لڑکھڑائی.
سوہم نے اس کا سوال نظر انداز کیا.

Do you miss me… Baby….
وہ پوچھ بیٹھا..

اب وہ کیا بتاتی اس کے رویے سے کتنا جھنجھلا رہی تھی..
وہ اسے یہاں لا کر خود کیوں غائب تھا..
مگر بول کر اپنی شامت بلانی تھی کیا؟
اسی لئے نظریں جھکا گئی..

سوہم نے اپنے اور اس کے بیچ کا فاصلہ دو قدم میں سمیٹا… دیوار پر اس کے دائیں بائیں ہاتھ رکھے..
مردانہ کلون کی خوشبو اس کے حواس سلب کیے دے رہی تھی… روحا کی جان پر بنی.

I asked do you miss me.. Didn’t you baby..

روحا نے مزید سر جھکایا…
سوہم نے ٹھنڈی سانس بھری..

اور اس کی کمر پر ہاتھ سرکائے.. وہ بوکھلائی اور سختی سے آنکھیں بند کر لیں..
مگر سوہم خان کے ہاتھوں نے پیچھے سے اس کی میکسی کی زپ آہستگی سے بند کی تھی..

سب ویٹ کر رہے ہیں جلدی نیچے آؤ… وہ کہتا پیچھے ہٹا.
مگر روحا نے آنکھیں نہیں کھولیں
جب کھولیں تو کمرے میں کوئی نہیں تھا.
اسے جانے کیوں..
مگر سوہم خان کے یوں چلے جانے سے سخت کوفت ہوئی..

جھنجھلا کر باہر آئی..

🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺

راسم مصروف سا کسی کام سے روم میں داخل ہوا تھا.
مگر سامنے کھڑی اس پری کو دیکھ کر مبہوت رہ گیا.

بلیک میکسی میں کالے آسمان پر کوئی روشن ستارہ لگ رہی تھی.. وہ بے خود سا آگے بڑھا..
لپ گلوز لگاتی…. وہ جو اپنی تیاری کو آخری ٹچ دے رہی تھی.

کمر کے گرد لپٹتے سرسراتے ہاتھوں سے بوکھلائی..
راسم… یہ کیا کر رہے ہیں آپ…
راسم نے اس کا رخ اپنی جانب کیا..

جان من ہر مرتبہ پوچھتی ہو کہ کیا کر رہا ہوں جبکہ ہر مرتبہ جانتی ہو..اب اتنا اچھا تیار ہونے کا خراج وصول نہیں کرو گی…. وہ شرارت سے بولتا اس کے لبوں پر جھکنے لگا جب فانیہ نے فوراً اس کے لبوں پر ہاتھ رکھا..

خبردار… راسم آپ نے میری لپ اسٹک خراب کی…

یہ تو ہوگا……. راسم نے کندھے اچکا کر اسے چھیڑا اور اس کے بازو پیچھے باندھے..

نن.. نہیں… وہ مچلی.. مگر راسم اسے بے بس کر چکا تھا..
جی بھر کے خود کو سیراب کیا..
جب نرمی سے اسے چھوڑا تو فانیہ نے اسے سخت گھوری سے نوازا..

کیا…. … یار لپ اسٹک کا کوئی اور برانڈ یوز کرو… یہ تو بہت میٹھا ہے …… مجھے اور تمھیں سوٹ نہیں کرتا.. اسی لئے میں ہر مرتبہ کھا جاتا ہوں..
وہ بے حد شرارت سے بولا..

فانیہ نے لپک کر برش اٹھایا… مگر اس کی حسرت, حسرت ہی رہی کہ وہ برش راسم کی کمر سینکتا.

وہ کمرے سے قہقہہ لگاتا بھاگ چکا تھا…

🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺

رحاب نے خود کو آئینے میں دیکھا اور خود ہی شرما گئی…
پاؤں کو چھوتی لونگ ٹیل سرخ میکسی..

دلہنوں والے میک اپ سرخ لپ اسٹک میں اس پر الگ ہی روپ آیا تھا..
مگر ایک چیز جو اسے گھبراہٹ سے دوچار کر رہی تھی.. وہ میکسی کے بولڈ اور آگے پیچھے کے ڈیپ گلے تھے.
اس نے بڑا سا دوپٹہ اچھی طرح آگے پیچھے سیٹ کروایا تھا….

دروازے پر ہلکی دستک ہوئی اور ریشماں خود اسے لینے آئی…..
چشم بد دور….. ریشماں نے کھل کر تعریف کی..
اسے لئے باہر آئی..
سب لاؤنج میں موجود تھے.سب کی نظر رحاب پر اٹھی. مگر ایک نظر تھی جو پلٹنا بھول گئی تھی.سب نے ہوٹنگ کی مگر وہ پاشا ہی کیا جو کسی چیز کا اثر لے لے..
یونہی اطمینان سے بیٹھا اسے دیکھتا رہا..

بلیک ڈنر سوٹ میں وہ بھی چھ فٹ سے نکلتا قد، چوڑی جسامت بے حد شاندار لگ رہا تھا..
پاس ہی ریما سوگوار سی بیٹھی اسے دیکھے جا رہی تھی..

مولوی صاحب آ چکے تھے… نکاح کی کاروائی شروع ہوئی..
جلد ہی ایجاب و قبول کا مرحلہ طے پا گیا..

حال تالیوں سے گونج اٹھا..
کھانا وغیرہ کھایا گیا.. مولوی صاحب رخصت ہوئے تو ایک ہنگامہ سا تھا جو جاگ اٹھا تھا.

کبیر بھی اداس سا بیٹھا اس دشمن جاں کو یاد کر رہا تھا.. جو اپنے آپ کو اس سے دور کرنے پر تلی بیٹھی تھی…

روحا جی جان سے جل رہی تھی….سوہم خان نے آج اس چھوٹی سی جان کو انگاروں پر گھسیٹا ہوا تھا..

کیونکہ آج تو سوہم خان کے تیور ہی نرالے تھے. دو سیٹر صوفے پر اپنے پہلو میں کومل کو بٹھا رکھا تھا..
ہنس ہنس کر اس سے باتیں کرتا وہ زہر لگ رہا تھا اسے.

اس قدر حسین لگنے کے باوجود سوہم اس کی جانب دیکھ بھی نہیں رہا تھا..

بار بار اس کی آنکھیں نم ہو رہی تھی.. یہ منظر دیکھ کر حلق کڑوا ہوا اور حلق میں کانٹے سے چبھے..

اسی لئے جب میڈ اس کے پاس جوس کا گلاس لئے آئی تو اٹھا کر غٹا غٹ پی گئی..

جب اس کی بے رخی، بے عتنائی اور بے وفائی برداشت سے باہر ہو گئی تو اٹھی اور چپکے سے اپنے کمرے میں آئی..
کمرہ لاک کیا..
اوندھے منہ بیڈ پر گری.

اور تکیے میں منہ دئیے پھوٹ پھوٹ کر رو دی…
سر بھاری ہوا، بہت بھاری تو وہ گہری غنودگی میں چلی گئی…

🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺

کافی شور شرابہ اور ہنگامہ تھا…
سامنے ہی وہ شرمائی، لجائی سر جھکائے بیٹھی اس کا ضبط آزما رہی تھی.

گلاب کی پنکھڑیوں جیسے لبوں پر ہلکی سی شرمیلی مسکان.. اس پر قیامت ڈھاتا یہ دلہن والا روپ….سرخ میکسی میں دودھیا رنگت دمک رہی تھی.

پاشا کی برداشت جواب دے گئی تو اٹھا اور لاؤنج میں موجود ان سب لوگوں کے سامنے ہی اپنی دلہن کو بازوؤں میں بھرا..

وہ بے تحاشا گھبرائی.. چہرہ لال ٹماٹر ہو گیا.
سب نے ہوٹنگ کی.. شور مچانا شروع کر دیا مگر اسے پرواہ نہیں تھی.
وہ اسے اٹھائے اپنے کمرے کی جانب آیا..

پنکی راستے میں آئی..
کہاں میاں.. نیگ دو ہمارا… فری میں تو دلہن نہیں ملے گی..

پاشا نے سوہم کی طرف دیکھا… جیسے کہہ رہا ہو… جلدی جان چھڑواؤ یار…

سوہم اپنی جگہ سے اٹھ کر قریب آیا..
اپنے کوٹ کی پاکٹوں سے بڑی بڑی نیلی نوٹوں کی گڈیاں نکالیں.اور پنکی کی طرف بڑھا دیں

پنکی خوش ہوتی نوٹ تھامتی باقی سب اپنے ہمنواؤں کی جانب لپکی.
ریشماں کھل کر مسکرائی
پاشا کی بے صبری پر بھی ہنسی آ رہی تھی

رحاب بے حد کسمسائی.. مگر جب پاشا کے ہاتھوں نے نرمی سے سہلا کہ اسے وارننگ دی اور اسے نیچے نہیں اتارا تو گھبرا کر پاشا کے سینے میں ہی منہ چھپا لیا.

کمرے میں آ کر پاؤں سے کمرہ لاک کیا اور دروازے پر ہی اسے نیچے اتارا…

ان دونوں کو اظہار کی ضرورت تو تھی ہی نہیں…جو ایک دوسرے کی روح میں بس جائیں… آنکھوں سے دلوں کے راز پا لیں انھیں بھلا اظہار کی کیا ضرورت…

کچھ بھی کہے بغیر پاشا نے نرمی سے اسے دوپٹے سے آزاد کیا.. رحاب بوکھلائی کیونکہ میکسی کہ گہرے گلے اور اتنی فٹنگ اس کی ساری رعنائیاں عیاں کر رہی تھیں..

پاشا نے دونوں بازو کمر کے گرد لپیٹے اور اسے خود میں بھینچا..جھک کر ماتھے پر محبت کی پہلی مہر ثبت کی.

وہ تو آج اس کی بے باک نگاہوں سے ہی پگھلی جا رہی تھی..
کہاں اس کی دہکتی پرشدت محبت میں ڈوبی قربت سہتی.

نرمی سے دونوں آنکھیں چومیں…مزید بے خود اور مدہوش سا ہوا….
ایک ہاتھ کھلے کمر پر آبشار کی طرح گرے بالوں میں پھنسا کر گداز لبوں پر جھکا..

لمس میں بے پناہ شدت تھی.. آج تو وہ اپنے ہر عمل سے رحاب کی جان لینے پر تلا ہوا تھا…
رحاب کے رونگٹے کھڑے ہوئے.

سینے پر ہاتھ رکھ کر اسے دور کرنے کی کوشش کی مگر وہ اس وقت کسی شیر کی گرفت میں تھی.
جب سانس اٹکی تو رحاب نے اس کی شرٹ کا کالر مٹھی میں بھرا.

پاشا نرمی سے پیچھے ہٹا..اپنا کوٹ اتارا..
لال ٹماٹر چہرہ دلچسپی سے دیکھا..

ایک مرتبہ پھر بے خود ہو کر اسے خود میں بھینچا..

Hold me tightly… Jan.. Never leave me…… Never stay away from me…
Otherwise, to be honest.. You will die at my hand…

بھاری بوجھل گھمبیر آواز میں وہ سرگوشی رحاب کی جان نکالے دے رہی تھی…. اپنا چہرہ اسکے سینے میں چھپایا.

پاشا نے زرا سا جھک کر اسے بازوؤں میں اٹھایا..
اور لا کر پھولوں کے درمیان سجی ہوئی مسہری پر لٹایا..
خود اس پر جھکا..
رحاب نے دونوں ہاتھوں سے اپنا چہرہ چھپا لیا..

پاشا کھل کر مسکرایا… اورجھک کر لبوں کی جگہ اس کے ہاتھوں پر اپنے دہکتے لب رکھے..

زرا سا اوپر ہو کر اپنی شرٹ اتاری.. اس کے ہاتھ ہٹا کر تکیے سے لگائے.. وہ مکمل اس پر جھکا اس کے بالوں میں منہ دے کر ان کی خوشبو اپنی روح میں اتارنے لگا..

جب وہ بری طرح کسمسانے لگی تو پاشا نے ہاتھ بڑھا کر لائٹ آف کی..ااس کی شدتوں کے آگے رحاب موم کی طرح پگھل رہی تھی..

ابھی پانچ منٹ بھی نا گزرے تھے کے بیڈ کی سائیڈ ٹیبل کی ڈرار سے ایک ہلکی سی بیل سنائی دی..

پاشا جس چیز سے اسے اپنے قریب لانے سے ڈرتا تھا وہی ہوا.. ابھی تو اسے سہی طرح محسوس بھی نہیں کر پایا تھا… کہ وہ بیل اس کی جان کا آزار بن گئی..

اتنے قریب آ کر اب اسے دور جانا پڑے گا ابھی اور اسی وقت….
پاشا کا دل کیا پوری دنیا کو آگ لگا دے.. لب سختی سے دانتوں میں بھینچے… رگیں یو تن گئیں جیسے ابھی پھٹ پڑیں گی..

نرمی سے رحاب پر سے اٹھا.. لائٹ جلائی..

اپنی شرٹ اور موبائل اٹھایا اور ڈریسنگ میں چلا گیا..
کچھ ہی دیر بعد باہر آیا…
وہ بیڈ پر بیٹھی اپنا اکھڑا سانس بحال کر رہی تھی..
اس کے قریب آیا..

اس کا چہرہ اپنے ہاتھوں کے پیالوں میں بھرا.. اور ماتھے سے ماتھا ٹکایا.

ابھی مجھے کہیں جانا ہے میری جان… اپنا خیال رکھنا… واپس آؤں گا تو یہیں سے کانٹنیو کریں گے.
آخر میں وہ شرارت سے بولا.

تو وہ گھبرا کر نظرین جھکا گئی..
میں شاید ہی اپنی زندگی میں کبھی کسی چیز سے ڈرا ہوں

مگر آج…. آج میری جان میں ڈر گیا تھا.. تم نے مجھے ڈرا دیا.. تمھیں کھونے کا خوف وہ واحد خوف ہے جو پاشا ابراہیم کو ڈرا گیا……. پرامس کرو اپنا خیال رکھو گی… مجھ سے دور نہیں جاؤ گی… پاشا کو پتا نہیں کیوں لاشعور میں یہ خوف تھا کہ وہ اس سے دور نہ ہو جائے..
وعدہ کرو مجھ سے کبھی دور نہیں جاؤ گی…. پاشا نے اپنا ہاتھ اس کے سامنے پھیلایا.

جس میں رحاب نے اپنا مہندی بھرا نازک ہاتھ تھما دیا تو پاشا کی روح تک میں سکون اترا…

رحاب نے اثبات میں سر ہلا کر وعدہ کیا..
پاشا جانے لگا….. جب پھر تیزی سے دروازے سے واپس آیا..
اس کے پیٹ پہ ہاتھ رکھ کر ایک مرتبہ پھر نازک لبوں پہ جھکا..
نرمی سے اسے چھوڑا اس کے گلال چہرے پر ایک بھر پور نظر ڈالی…
اورڈور لاک کرتا کمرے سے باہر نکلتا چلا گیا…

خفیہ رستوں سے ہوتا ہوا بیسمنٹ میں آیا
جہاں اس کا بہت خاص بندہ ٹونی کھڑا تھا جو تب ہی آتا تھا جب انتہائی غیر معمولی بات ہو یا بہت خطرے کی بات ہو..

وہ آ کر اپنی سربراہی کرسی پر بیٹھا..

بولو. ٹونی.

سر یہ ریکارڈنگ سنیں.. اس نے موبائل فون پر ایک وائس ریکارڈنگ آن کی…

بادشاہ دادا کامکروہ قہقہہ گونجا……..
اس کے چمچے کی آواز آئی
سر کیا بے وقوف بنایا ان سو کالڈ executioners کو… منہ دیکھتے رہ گئے.. انھیں لگتا ہے کہ آپ باہر گئے مگر آپ تو یہیں رہ کر ان کے تڑپنے کا تماشہ دیکھ رہے ہیں…..

ہاں کوئی اور خاص خبر جس سے میں ان پر ایک اور کاری وار کر سکوں…
جی سر.. آپ نے کہا تھا ان کی کمزوری ڈھونڈو…… ان چاروں نے عورتیں رکھی ہوئی ہیں…. آگے کیا حکم ہے..

سب سے پہلے جس نے میرے بھائی کو اتنی بے دردی سے مارا اس سوہم خان کی رکھیل کو لا کر میرے بستر کی رونق بناؤ…… پھر میں اس کے سامنے اس کی رکھیل کو اسی کے سٹائل میں گردن پر گولی مار کر اڑاؤں گا…

سر آپ باہر آ جائیں اب.. ان کے رو برو مقابلہ کریں.. اپنے بندے بھی باتیں بنا رہے ہیں کہ آپ اپنے دشمنوں سے چھپ کر بیٹھے ہیں..

ابے بھونک نہیں.. مجھے پاگل کتے نے کاٹا ہے.. اس پاشا کے ہاتھوں کتے کی موت نہیں مرنا چاہتا.. جو کہہ رہا ہوں وہ کرو…
اس چمچے نے اپنے بزدل بوس کو افسوس سے دیکھا.

ریکارڈنگ بند ہو گئی..پاشا نے ٹونی کو دیکھا.
لوکیشن؟

یس سر… مگر وہ چینج کرتا رہتا ہے لوکیشن..

پھر بھی چلو… پاشا طیش میں اٹھا…
پہلے بادشاہ کی موت کچھ آسان ہوتی مگر یہ الفاظ سننے کے بعد اسے ایسی موت نصیب ہوگی کہ اس کی سات نسلوں کی روح کانپ اٹھے گی..

سر سوہم خان کو اطلاع؟

ہر گز نہیں… میں کسی طور نہیں چاہتا جو اس نے اپنی وائف کے ساتھ پلین بنایا ہے وہ خراب ہو….. اب چلو..

پاشا بھسم کرنے والے انداز میں وہاں سے ٹونی کے ہمراہ نکلا……

💐💐💐💐💐💐💐💐💐💐💐💐💐💐💐💐