Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Episode 11

ریشماں اور پنکی رحاب کے کمرے کی طرف جا رہیں تھی.

اری… تجھے پتا ہے پنکی……. پاشا اس لڑکی سے کتنی زیادہ محبت کرتا ہے..

ارے ناں…..ناں کریں باجی… قسم سے.. مگر میں نے تو سنا اس نے کہا اسے دارالامان چھوڑ دیں… پنکی حیرت میں ڈوبی..

کہاں رے پگلی… ناسمجھ ہے وہ.. جان بوجھ کر کرتا ہے. دیکھنا زرا واپس آتا ہے.. تو کچھ دیر کے لیے بھی اس لڑکی کو چھپا دیا ناں پورے وائٹ پیلس کو آگ لگا دے گا..

پنکی کھلکھلا کر ہنسی.. ہاں سوچنے والی بات تو ہے باجی کہ پاشا ایک لڑکی کو اٹھا لیا.. ریما جب سے آئی ہے پھرتی ہے اس کے آگے پیچھے… مگر وہ ایک نظر بھی نہیں ڈالتا اس پر…اسی لئے ریما جلن میں کہہ رہی ہوگی کہ لڑکی مغرور اور گھمنڈی ہے بولتی ہی نہیں کسی سے.

وہ باتیں کرتی رحاب کے کمرے میں داخل ہو چکیں تھیں..
وہ اٹھ کر بیٹھی..

چشم بد دور… ہائے اللہ باجی… یہ تو کتنی خوبصورت ہے.. پنکی گالوں پر ہاتھ رکھے.. اس نازک سی گڑیا کو نہار رہی تھی..
وہ بلش ہوئی…

کیسا لگا کمرہ تجھے… کسی چیز کی ضرورت تو نہیں.. ریشماں نے سر پر ہاتھ رکھ کر پوچھا..
مگر وہ سر جھکا گئی

کیا اچھا نہیں لگا.. کوئی پریشانی ہے یہاں پر.

اس نے زور سے نفی میں سر ہلایا… یہ کمرہ بہت خوبصورت ہے …. مجھے کوئی پریشانی نہیں… بہت خوش ہوں… رحاب نے اشارہ کیا..

ریشماں اور پنکی پھٹی پھٹی آنکھوں سے اس پری پیکر کی معصومیت دیکھ رہی تھیں..
تم بول نہیں سکتی… پنکی کو زیادہ صدمہ لگا.

نہیں.. اس نے نفی میں سر ہلایا..

پاشا کو معلوم ہے.. مجھے نہیں لگتا اسے معلوم ہے… کیونکہ اس نے ہربات بتائی.. اس کے علاوہ…

نہیں.. رحاب نے پھر نفی میں سر ہلایا

اوہ… ریشماں اور پنکی سخت اداس ہوئیں..
ٹھیک ہے اپنا خیال رکھو…
وہ اسے گال تھتھپا کر چلیں گئیں..

رحاب کو ایک اور سوچ ستانے لگی..
اگر انھیں پتہ لگ گیا کہ میں بول نہیں سکتی تو کیا ہوگا..

اس کی آنکھیں ڈبڈبائیں…

ریشماں اور پنکی روحا کے کمرے میں آئیں…

سوہم خان جا چکا تھا..
گلو خلاصی ہوئی… روحا نے سکھ کا سانس لیا..
فورا بیڈ سے اتری اور صوفے پر آ گئی..

ریشماں اور پنکی اندر آئیں تو ایک مرتبہ پھر اوسان خطا ہوئے.. سہم کر کھڑی ہوئی…

ارے بچی ڈرو مت… پنکی فدا ہوئی.. اور قریب آئیں.
پھر وہ دونوں اس کے پاس صوفے پر بیٹھ کر ڈھیر ساری باتیں کرتے رہے..
اسے خود سے مانوس کیا.
روحا کا سارا ڈر بھاگ گیا.
اور وہ نارمل ہو کر ان سے باتیں کرنے لگی.

🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺

گاڑی لاہور کی طرف رواں دواں تھی.
گاڑی میں بلکل خاموشی تھی.
کبیر خد ڈرائیونگ کر رہا تھا.

گارڈ اور کبیر کے خاص آدمیوں کی گاڑیاں ان کے آگے پیچھے تھیں..
وہ دروازے سے تقریباً چپک کر بیٹھی تھی..

کبیر کو سویاں چبھی….. کوئی بات ہی کر لو……

کیوں؟ وہ تڑخ کر بولی.

اب ہزبینڈ وائف باتیں تو کر ہی سکتے ہیں.. کبیر نے وہ رشتہ جتایا.. جو اب ان دونوں کے بیچ تھا.

اونننہہ زبردستی کا رشتہ….زمل نے دانت پیسے… آپ کو معلوم ہے آپ نے میری مجبوری کا فائدہ اٹھایا..

ہر گز نہیں میری جان… یہ بات تو تم اتنے دعوے سے تب کرتیں جب لاہور جانے سے پہلے میں تمھیں اپنے بیڈروم میں لے کر جاتا…تمھارا وجود میرے بستر کی سلوٹیں بڑھاتا….

وہ استہزایہ ہنسا…وہ کبیر تھا. کبیر ابراہیم
پتہ نہیں وہ کیوں اس بلا سے الجھ جاتی تھی
خفت سے کانوں تک سرخ ہوئی.
پہلو بدل کر رہ گئی…
ایک بار میں ہی وہ اسے لاجواب کر گیا..
اس کی بولتی بند….

پھر زمل نے کوئی بھی بکواس کرنے کی جرات نا کی اس کے آگے.. بس اس کی باتوں کا ہوں ہاں میں جواب دینے لگی..

کچھ گھنٹوں میں وہ لاہور میں تھے.
اپنے مخصوص ٹھکانے پہنچے..
وہاں کا ایک آدمی بھاگ کر ان کے پاس آیا…

سر اس کا پتہ چل چکا ہے.. شہر سے تھوڑا باہر پرانی فیکٹری ایریا میں بادشاہ دادا کا آؤٹ ہاؤس ہے.. وہاں رکھا ہے اسے…

ٹھیک ہے چلو.. اب میں سکون سے تب ہی بیٹھو گا.. جب اسے واپس لے آؤں گا…
زمل تم اندر جاؤ…

وہ نکلنے لگے.. جب زمل نے آ کر اس کے بازو کو دبوچا..
پلیز مجھے بھی ساتھ لے جائیں.

کبیر نے طیش کے عالم میں سختی سے لب بھینچے.. ہر گز نہیں..
میں بھی نہیں جاؤں گی اندر.. وہ ضدی ہوئی
ایک تو پتہ نہیں وہ اس کی ہر ضد کیوں ماننے بیٹھ جاتا تھا.. کبیر نے دانت کچکچائے.. جھنجھلا کر گاڑی میں بیٹھا.

وہ بھی بھاگ کر گاڑی میں بیٹھ گئی.

گاڑیاں نکلیں…
اسپیشل الرٹ مل چکا تھا کہ پاشا، سوہم اور راسم پہنچنے والے ہیں.
مگر کبیر نے ان کا انتظار نہیں کیا.
اور شاید یہی سب سے بڑی غلطی کر دی..

وہ جلد ہی اس فیکٹری ایریا میں پہنچے…
پرانی خالی اور ٹوٹی پھوٹی فیکٹریاں تھیں.. انھوں نے آؤٹ ہاؤس کو چاروں طرف سے گھیرا..

مگر یہ کیا..
کبیر بے تحاشا چونکا.
مخصوص اشارے سے اپنے آدمیوں کو رک جانے کا اشارہ کیا..
کبیر کی چھٹی حس جاگی… اور سخت گڑ بڑ کا احساس ہوا
کوئی مزاحمت کیوں نہیں تھی.
کوئی آدمی پہرے کے لئے کیوں نہیں تھا.
کبیر نے انتظا کیا.
اور ابھی بیس منٹ ہی گزرے تھے کہ

تبھی فضا ایک زور دار دھماکے سے گونج اٹھی تھی. اور آؤٹ ہاؤس کے پرخچے اڑ گئے

کبیر کے چند آدمی جو ہاؤس کے زیادہ قریب تھے وہ بھی موقع پر دم توڑ گئے..

شاید وہ پوری تیاری کر کے بیٹھے تھے.. اسی لئے فائرنگ کی برسات ہوئی تھی.

زمل جو کہ دھماکے کی آواز سن کر گاڑی میں دبکی بیٹھی تھیاب شدید خوفزدہ ہوئی تھی..

کبیر کے لوگوں نے جوابی فائرنگ شروع کر دی تھی.

اتنے میں ہی سامنے سے ایک فیکٹری سے اچانک وین نکل کر ان کے مخالف سمت دوڑی تھی.
جس کا دروازہ کھلا تھا.. اس میں کچھ غنڈے سیف کو دبوچے بیٹھے تھے.

سیف شور مچا رہا تھا.
زمل سیف کو دیکھ چکی تھی..
سیفی…. سیفی.
جب تیزی سے گاڑی میں سے نکل کر وین کے پیچھے بھاگی..

کبیر کے پیروں نیچے سے زمین کھسکی تھی.. وہ بھی زمل کے پیچھے اپنا بچاؤ کرتا بھاگا..؛

وین والے غنڈوں نے زمل پر فائر کیا تھا.. ایک آگ کا شعلہ تھا جو زمل کے پہلو میں آر پار ہوا تھا..
وہ وہیں لڑکھڑا کر بل کھاتی بہت دور جا کر گری..

زمل… کبیر چلایا..
اتنے میں ایک طوفان تھا جو وہاں سب کچھ تہس نہس کرتا داخل ہوا تھا..
پاشا، سوہم اور راسم پہنچ چکے تھے..
اور خون کی ندی بہا دی تھی..

وین والے درندوں نے عین سیف کے دل کی جگہ فائر کیا تھا.. اور اسے وین کے نیچے پھینک کر خود فرار ہونے کی کوشش کی مگر اب معاملہ پاشا کے سپرد ہو چکا تھا
اسی لئے ان کی درد ناک موت طے تھی.

پاشا وین کے سامنے سے آیا تھا اور ڈرائیور کے بھیجے میں گولی ماری تھی.. وین لڑکھڑائی..
شدید ایکسیڈنٹ ہوا اور ان غنڈوں کے چیتھڑے اڑ گئے

کبیر نے بے ہوش زمل کو گود میں بھرا تھا.
چند لمحوں میں ہی بادشاہ کے آدمی کتے کی موت مارے جا چکے تھے..
وہ بھاگ کر سیف کے پاس گئے.
مگر دیر ہو چکی تھی.
سیف مر چکا تھا.

اس کی شرٹ کی پاکٹ میں چٹ تھی.
پاشا نے فوراً کھول کر دیکھی.

پاشا…
پہلا تحفہ مبارک
تمھارا اور تمھارے سب جلادوں کا یونہی سر کچلوں گا.. ان ہیجڑوں سمیت…
شروعات تمھارے بھائی کی رکھیل کے بھائی سے سہی..

پاشا کی رگوں میں خون لاوا بن کر دوڑا تھا.. سوہم بھی پیغام پڑھ چکا تھا.
تم لوگ ہوسپیٹل جاؤ….. میں اور سوہم زرا بادشاہ کو کتے کی طرح بھگا بھگا کر مارنے جا رہے ہیں…
پاشا دھاڑا.

کوئی فائدہ نہیں سر….. وہ بزدل آپ کے ڈر سے یہ بزدلانہ کاروائی کر کے پہلے ہی ملک سے فی الحال فرار ہو چکا ہے..

شٹ….. پاشا کو آگ لگی..
مگر اس کی دردناک موت طے ہے…. سوہم غرایا
وہ سب فوراً ہوسپیٹل کے لئے نکلے تھے.

🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺

آپریشن کے بعد زمل ٹھیک تھی..
کیونکہ گولی پہلو میں لگی تھی اور کوئی بڑا نقصان نہیں ہوا تھا..
مگر خون بہت ضائع ہو چکا تھا… اسے روم میں شفٹ کر دیا گیا تھا.
کبیر اس کے بلکل پاس ہی بیڈ پر بیٹھا تھا.. بے بسی کے احساس سے لب کچل رہا تھا.
وہ زمل کے سیفی کو نہیں بچا پایا تھا..
باہر وہ سب موجود تھے..
وہ اتنی تکلیف میں تھااسی لئے پاشا نے اسے فی الحال کچھ نہیں کہا تھا.. کیونکہ یہ اس کی لاپروائی تھی کہ اس نے ان کا انتظار نہیں کیا تھا..

زمل نے آہستگی سے آنکھیں کھولیں تھیں..
مگر اس وقت اسے خود سے زیادہ سیفی کی فکر تھی..

سس… سیفی… وہ سسکی

وہ ٹھیک ہے.. بلکل….. کبیر نے ڈاکٹرز کی ہدایت کے مطابق جھوٹ بولا..
مجھے اسے دیکھنا ہے…زمل نے بازو پھیلائے..مطلب مجھے اٹھا کر لے جاؤ..
کبیر نے کمر میں ہاتھ ڈال کر اسے خود میں بھینچا…

مجھے سیفی کے پاس جانا ہے.اسے دیکھنا ہے ایک بار. کبیر کے سینے سے لگی وہ سسکی.
گولی لگنے سے وہ پیلی زرد پڑ چکی تھی… نڈھال سی تھی.

کبیر نے لال انگارہ آنکھیں لئے…. جھک کر اس کا چہرہ ہاتھوں کے پیالے میں بھرا.. اور اس کے لب نرمی سے اپنے لبوں کی گرفت میں لئے…

اس نے مزاحمت نہیں کی.. مگر گھبرا کر اس کی شرٹ کالر سے جکڑی..
کبیر نرمی سے پیچھے ہٹا.. اور اس کی مسلسل ایک ہی ضد سے اسے بازوؤں میں بھرے icu میں لایا..

وینٹی لیٹر پر موجود وہ وجود مردہ تھا مگر یہ بات صرف کبیر جانتا تھا..
اس کے بازوؤں میں موجود زخموں سے چور زمل نہیں..

ڈاکٹر سے بول کر آکسیجن اور Ecg مشین چلوا رکھی تھی.
ای سی جی مشین میں چلتی دل کی دھڑکنوں کو ظاہر کرتی وہ لائینیں نقلی تھیں.

مجھے قریب لے جائیں.. وہ نڈھال سی مچلی.
کبیر کا چہرہ خوف اور بے بسی سے لٹھے کی طرح سفید ہوا…

اس نے لا کر بیڈ پر زمل کو بٹھایا.
وہ زرا سا جھکی..
سیفی میرے بھائی.. بابا انتظار کر رہے.. جلدی سے ٹھیک ہو جاؤ.. پھر گھر چلیں گے.. سب کچھ ٹھیک ہو جائے گا..

زمل اس کے ماتھے پر بوسہ لینے کو جھکنے لگی.. جب کبیر نے بہت جلد تڑپ کر اسے پھر بازوؤں میں بھرا.

زمل وہ زخمی ہے.. اسے تکلیف ہوگی..

نن. نہیں کبیر… مم.. مجھے لگ رہا ہے.. سیفی سانس نہیں.. ڈاکٹر کو بلاؤ.. وہ مچلی…

وہ فورا اسے روم میں اس کے بیڈ پر لایا تھا..
نہیں مجھے سیفی کے پاس جانا..

وہ ٹھیک ہے زمل.. پلیز… میری….. زمل… زمل…. اس کی بات ادھوری رہ گئی جب وہ اس کے بازوں میں نیم جان سی جھول گئی.
ڈاکٹر….
کبیر چلایا…… ڈاکٹر بھاگ کر اندر داخل ہوئے تھے.
پھر کبیر زمل کے ہاس ہی رہا.. اگلے تین دن اسے بے ہوش ہی رکھا گیا.

پاشا سوہم اور راسم سیف کی ڈیڈ باڈی جہلم اس کے بابا کے پاس لائے تھے…

غم سے نڈھال وہ بوڑھا شخص اپنے جواں سالہ بیٹے کی میت دیکھ کر بکھر گیا تھا..کندھے جھک گئے تھے.
برسوں کا بیمار اور بوڑھا دکھائی دیتا تھا…
ان تینوں نے ہی سیفی کی آخری رسومات ادا کی تھی.

اور بوجھل دلوں کے ساتھ اسے منوں مٹی تلے دبا آئے تھے..
اب وہ بابا کے پاس بیٹھے تھے.
زمل کا بھی بتا دیا تھا کہ وہ زخمی ہے اور اسے سیفی کے بارے میں نہیں بتایا گیا..
پھر وہ سامنے اپنے ٹھکانے پر چلے آئے تھے
.
چوتھے دن زمل کی حالت میں کافی سدھار تھا.. کبیر اسے بابا کے پاس لے کر آیا تھا..
اب وہاں سوہم، پاشا اور راسم بھی موجود تھے..

وہ لپک کر بابا کے پاس آئی تھی… بابا سیفی کہاں ہے.. انھوں نے کہا کہ وہ بلکل ٹھیک ہے اور گھر آ گیا.. مم.. مجھے ملنا ہے اس سے..

جاؤ قبرستان چلی جاؤ… کیونکہ اب وہ وہیں ہے… کبھی واپس لوٹ کر نہیں آئے گا… بابا پتھر بنے ایک ہی جگہ کو گھور رہی تھے…
پتہ تھا زرا سی نرمی کی تو بیٹی کو بھی کھو بیٹھے گیں

اس کی آنکھیں صدمے اور تحیر سے پھٹیں… بب… بابا یہ کیا کہہ رہے ہیں آپ..

سچ کہہ رہا ہوں مر گیا ہے تمھارا سیفی…. لاہور سے ڈیڈ باڈی آئی تھی اس کی.اب بیٹھ کر رو لو اسے زمل

وہ کبیر کی جانب لپکی اور اسے گریبان سے جھنجھوڑا
یہ کیا کہہ رہے ہیں بابا.. بتائیں مجھے.. آپ نے کہا تھا آپ بحفاظت لائیں گے اسے… کہاں ہے وہ….

کبیر نے آہستگی سے اپنا گریبان چھڑایا اور نظریں چرا لیں.. وہ زمین پر بیٹھتی چلی گئی.
پھر پورے گھر میں اس کی چیخیں اور دھاڑیں گونجیں تھی.

وہ دھاڑیں مار مار کر رو رہی تھی.
اپنے بال نوچ رہی تھی..
چیختی سیفی سیفی پکار رہی تھی..
ان چاروں نے بے چینی سے پہلو بدلا.
کبیر کا چہرہ شدت ضبط سے سرخ پڑا…

سب سے پہلے کبیر ان چیخوں اور دھاڑوں کی آوازیں سننے سے بچنے کیلئے وہاں سے تیزی سے نکلا تھا.

پھر وہ تینوں ہی جلد وہاں سے نکلے….

🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺

آگے کا سارا لائحہ عمل تیار ہے.. وہ سور جب بھی لوٹا ہمیں پتہ چل جائے گا.. میں لاہور کی سرزمین سے اس کی راجدھانی کو آگ لگا کر راکھ کر دوں گا..

پاشا کی آنکھوں میں نفرت تھی.. اور اب بادشاہ کی رگوں کو پاشا کے اس مخصوص آلے سے کوئی نہیں بچا سکتا تھا….
یا اس کی شہہ رگ کو سوہم کی گن سے…..

راسم میں اور سوہم واپس جا رہے ہیں اور تم اب یہاں آ ہی گئے ہو تو اپنی بیوی کو ساتھ لے کر آنا..
اسلام آباد زیادہ دور نہیں
راسم کچھ بولنے لگا
اور یہ میرا آرڈر ہے… کبیر تم بھی یہیں رہو..زمل کو تمھاری ضرورت ہے…

سوہم اور پاشا وہاں سے نکلے…

🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺

روحا اور رحاب کی اچھی خاصی دوستی ہو گئی تھی.
سوہم نہیں تھا روحا تو سکون میں تھی.
مگر جانے کیوں رحاب کا دل کسی چیز میں نہیں لگ رہا تھا.
اب بھی روحا کے کمرے میں سے اپنے کمرے میں آئی اور اداسی سے کھڑکی میں کھڑی ہو گئی.

اففف کیا کروں.. یہ دل کمبخت کہیں نہیں لگ رہا ہے. کیا مصیبت ہے… ابھی وہ کچھ اور سوچتی کہ بیک سائیڈ والے گیٹ سے گاڑی اندر داخل ہوئی تھی..
پھر پورچ میں جا کر رکی

وہ کھل اٹھی… مڑ کر باہر کی طرف آئی..
مگر اس سے پہلے وہ لوگ ریشماں کے کمرے میں چلے گئے تھے.. وہ صرف پیٹھ ہی دیکھ پائی…
اور اب وہیں کھڑے ہو کر ان کے باہر نکلنے کا انتظار کرنے لگی.

پہلے کمرے سے سوہم نکلا تھا..
اور وہ پورچ کی جانب بڑھا.
وہ بے چین ہوئی… شاید وہ پھر کہیں چلے جائیں گے…
مڑ کر سیڑھیوں کی جانب آئی.
وہ جب تک سیڑھیوں کی جانب آئی.. پاشا کمرے سے نکل کر باہر کی جانب بڑھ چکا تھا….

وہ ننگے پیر سیڑھیاں اترتی فیروزی فراک پاجامے میں وائٹ پیلس کے وائٹ سنگ مر مر پر بھاگ رہی تھی.
دوپٹہ گلے میں دائیں بائیں جھولتا ہوا میں اڑ رہا تھا

اس وقت دل میں بس ایک جھلک.
صرف اور صرف ایک جھلک
دیکھنے کی شدت کی خواہش تھی.

وائٹ پیلس میں ہو کا عالم تھا.. جو موجودہ تھے. وہ اپنے اپنے کمروں میں تھے.

طویل و عریض کوریڈور میں بھاری بوٹوں کی دھمک گونج رہی تھی.ان بوٹوں کی آواز میں دو بلکل چھوٹے پائلوں کے گھنگھروؤں کی آواز دب گئی تھی.

وہ دیوانوں کی طرح چھپ کر اس کے پیچھے بھاگ رہی تھی..

پاشا آج پورے چار دن بعد وائٹ پیلس آیا تھا.. بس ریشماں سے ملنے..ایک نازک سے وجود سے گریز بہت ضروری تھا جو وہ کر رہا تھا.

اب اپنے مخصوص سٹائل میں پینٹ کی پاکٹوں میں ہاتھ ڈالے.. سن گلاسز لگائے واپس جا رہا تھا.
کوریڈور سے گزر کر باہر نکلا

ریحاب باہر تک پیچھے آئی. بڑے برآمدے کے بڑے پلر کے پیچھے چھپی.اور زرا سا جھک کر اسے دائیں جانب سے دیکھا..دیدار ہو چکا تھا.. اتنے دنوں سے جو ننھی سی جان کانٹوں پر گھسیٹ لی گئی تھی..
روح تک میں سکون اترا

پاشا ٹھٹھک کر رکا.. وہ تو اسے اس کی آہٹ سے بھی پہچاننے لگا تھا.
اور بھلا وائٹ پیلس میں آئینوں کی کیا کمی تھی.
بائیں جانب لگے پلر کے آئینے میں سے فیروزی آنچل اڑتا دکھائی دیا.

پاشا نے لب بھینچے.. رگیں تن گئیں..
یہ لڑکی مرے گی میرے ہاتھوں.. وہ جو دامن بچا کر جانا چاہتا تھا.. اب جیسے قدموں میں زنجیریں جکڑی گئیں تھیں.

مگر وہ کوئی معمولی انسان نہیں.. پتھر دل پاشا تھا جسے خود پر کنٹرول کرنا آتا تھا اسی لئے اگنور کرتا پھر آگے بڑھا اور نکلتا چلا گیا..

🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺