Rate this Novel
Episode 1
کراچی کلفٹن کے ایک پوش اور بھیڑ بھاڑ سے الگ ایریے میں بنا بہت بڑا وہ سفید بنگلہ ہر دیکھنے والی نظر کو مرعوب کرتا تھا.اور اپنی جانب کھینچتا تھا..
مگر جیسے ہر چمکنے والی چیز سونا نہیں ہوتی ویسے ہی وہ بنگلہ جتنا باہر سے خوبصورت تھا.
اندر سے اتنا ی سرد، بے رحم، سفاک اور خونی تھا.
کیونکہ یہاں رہنے والے انسان کم بھیڑیے اور درندے تھے..
اسی بنگلے کے بیسمنٹ میں لمبی سی ٹیبل کے گرد وہ چاروں
مطلب پاشا، سوہم، کبیر، راسم اور ان کے خاص آدمی بیٹھے تھے..
سربراہی کرسی پر پاشا اور اس کے بلکل سامنے والی پر ریشماں تھی.
ریشماں ایک خواجہ سرا تھی… اور اوپر بنگلے میں بظاہر اسی کی اور اس کی کافی ساری شاگردوں کی رہائش تھی..
اسی ٹیبل پر ان جرم کے دنیا کے بے تاج بادشاہوں یا چاروں
Executioners
کی خاص میٹنگ جاری تھی.
انھیں میں ان کی بہت خاص ہیکر ریما… بھی شامل تھی.
اور رجا اور کومل بھی تھیں.. جو پاشا کی بہت خاص ورکر تھیں..
میری ڈیتھ بک میں کالی کا نام ٹاپ آف دی لسٹ آ چکا ہے… اسی لیے اسے مرنا ہوگا..
ریشماں؟
پاشا نے سوالیہ نظریں ریشماں کی جانب اٹھائیں.
انھوں نے آنکھ کے اشارے سے اجازت دی.
حال میں پاشا کی بہت بھاری، رعب دار اور سرد و سفاک آواز گونجی…
اس سے میں نمٹ لوں گا.. سوہم نے سرسراتے لہجے میں کہا.. میرا کچھ حساب کتاب نکلتا ہے اس کی طرف.. میرے بہت خاص آدمی کی جان لی ہے اس نے اسی لیے معاملہ زرا پرسنل ہے
اوکے ڈن… کل کی میٹنگ میں کالی کے جہنم رسید ہونے کی خبر سننا چاہتا ہوں..
ہو جائے گا.. سوہم نے اطمینان سے کہا…
میٹنگ برخاست ہو چکی تھی…
وہ اٹھے اور بیسمنٹ کے خفیہ راہداریوں سے ہوتے ہوئے
انھیں کے ہی بندوں کے بڑے سے مردانہ سیلون میں نکلے.
سیلون میں سینکڑوں کی تعداد کے لوگوں میں کسی کا باپ بھی ان کو آتے جاتے نہیں پہچان سکتا تھا.
کیونکہ انھوں نے آنے جانے کے لئیے کبھی بنگلے کا مین گیٹ یوز نہیں کیا تھا..
سوہم باہر نکلنے لگا جب قادر اس کے پیچھے تقریباً بھاگتا ہوا اسے تمام ضروری خبریں دینے لگا..
سر ایک اور بات….
بولو…؟
میڈم کو ایک لڑکا دو تین دن سے پریشان کر رہا ہے…
سوہم پل بھر کو رکا… اور خونخوار نظروں سے مڑ کر قادر کو دیکھا..
منہ سے سگریٹ نکال کر انگلیوں میں گھمائی جس کا مطلب تھا کہ وہ انسان سے جلاد بن چکا ہے اور میٹر شارٹ کر کے قہر ڈھانے والا ہے.
قادر کی روح فنا ہوئی.
سر.. وہ ہٹ جائے گا راستے سے… آپ فکر مت کریں..
گڈ.. وہ کہتا سگریٹ منہ میں دبائے.. لمبے لمبے ڈگ بھرتا گاڑی میں بیٹھ چکا تھا..
🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺
وہ افتاں و خیزاں کالج سے آئی اور کمرے میں بند ہو گئ تھی.
وہ بیڈ پر لیٹی پھوٹ پھوٹ کر رو رہی تھی..
پھر ایک جھٹکے سے اٹھی..
دو دن ہو گئے تھے جان سولی پر لٹکے.. اس غنڈے کی بے ہودہ اور گندی باتیں برداشت کرتے.
ذہن میں جھماکا ہوا.. بی جان اور بڑی ماں گھر پر نہیں ہیں.
دبے قدموں بی جان کے کمرے میں داخل ہو کر الماری میں سے وہ منقش لکڑی کا چھوٹا سا صندوق نکالا اور وہی کارپٹ پر بیٹھ کر بھیگے چہرے اور کانپتے ہاتھوں سے وہ صندوق کھولا..
سب سے پہلے سامنے ہی وہ مسکراتی دس سالہ پرانی تصویر تھی..
اس نے اذیت سے وہ تصویر نکالی..
سوہم خان….. لب پھڑپھڑائے..
پھر وہ سنہری بالوں والی گڑیا نکالی اور کانوں میں آواز گونجی.
دیکھو روحا… میں تمھارے لیے کتنی پیاری ڈول لایا.
سوہم خان کہاں چلے گئے آپ.. آج سے سات سال پہلے جب ہم تیرہ سال کے تھے تو اتنے بھی چھوٹے نہیں تھے کہ آپ کو جاتے دیکھ کر پہچان نا پاتے.
ہمیں نہیں پتہ اس وقت کیا ہوا تھا.. ہمارے اپنے سب کہاں چلے گئے.یہ مسٹری ہم کبھی solve نہیں کر پائے.
. لیکن آپ ہم تینوں کا آخری سہارا تھے.
سگے اکلوتے پوتے ہونے کے باوجود کیوں بی جان کہتی ہیں کہ آپ مر گئے.؟ . کیا کیا آپ نے…؟
کیوں بڑی ماں نانی ہونے کے باوجود آپ کو مرا ہوا سمجھتی ہیں..
ہمیں کیوں چھپاتی ہیں بی جان آپ سے…
اتنی نفرت کیوں کرتی ہیں آپ سے.. آپ مرے نہیں چھوڑ کر گئے ہمیں.. کیوں..؟
وہ بھیگی پلکوں سے اس تصویر سے باتیں کیے جا رہی تھی..
کہ اچانک صندوق میں بی جان کے زیورات کے ڈبوں کے نیچے کچھ پیپرز پر نظر پڑی..
ہاتھ ڈال کر پیپر نکالے. پیپر کھول کر دیکھے تو پیروں نیچے سے زمین کھسکی.. حویلی کی چھتیں روحا کے سر پر گریں.
کیونکہ جو پیپر اس کے ہاتھ میں تھے وہ سوہم خان اور روحا مراد کے نکاح کے پیپر تھے..
اس کا دل کیا ان پیپرز کے ٹکڑے ٹکڑے کر کے ہوا میں اچھال دے..
اونہہ… سوہم خان تو یہ ہے آپ کی حقیقت.. کہ ہمارے محافظ ہونے کے باوجود ہم زمانے کی ٹھوکروں پر ہیں.
کاش آپ میں کچھ غیرت ہوتی تو اپنے گھر کی خواتین کی حفاظت کرتے.نفرت ہے ہمیں آپ سے..
I hate u Soham khan….. I hate u
جلدی سے ساری چیزیں واپس رکھ کر صندوق الماری میں رکھا.. اور پھوٹ پھوٹ کر رو دی.
جب باہر سے بی جان کی آواز آئی…
روحا…. میری بچی کدھر ہو..
اس نے فوری واش روم میں گھس کر منہ پر پانی کے چھینٹے مارے اور چہرہ صاف کیا..
باہر آئی.. یس بی جان.. ہم یہاں ہیں.. اس نے بازو پھیل کر کہا..اور بی جان کے گلے میں جھول گئی
ارے بھئی کیا کر رہی ہو کیوں بوڑھی ہڈیاں توڑنی ہیں..جاؤ چائے بناؤ… بھئی تھک گئی میں تو..
پھر وہ دنیا بھلائے اپنی بی جان اور بڑی ماں سے لاڈ اٹھاتی چائے پینے میں مگن ہو گئی..
یہ فیصل آباد میں ایک بڑی سی حویلی تھی…
ابھی ابھی بی جان اور بڑی ماں زمینوں کی سیر کر کے اور منشی کریم سے سارا حساب کتاب کر کے لوٹیں تھیں..
کافی تھک گئیں تھیں
اب وہ کبھی بی جان اور کبھی بڑی ماں کے پاؤں دبا رہی تھی
ان کی دنیا اور زندگی کا مرکز بھی تو یہ ننھی سی جان تھی..
جس کے مستقبل کا سوچ سوچ کر بی جان کی راتوں کی نیندیں اڑی ہوئیں تھیں…
اگلے دن وہ کالج گئی تو وہ غنڈہ اس کی راہ میں حائل نہیں ہوا..
اور اسے لگا اس کی دعا پوری ہوئی ہے…
🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺
ارے او منحوس، جنم جلی گونگی ہے….. بہری تو نہیں جو سنائی نہیں دے رہا.. کب سے آوازیں دے دے کر حلق سوکھ گیا.. مگر تیرے سر پر جوں تک نہیں رینگی.. شاہینہ نے حلق پھاڑ کر بے بس کمزور یتیم اور مسکین نند پر رعب جھاڑا.
میں چھت پر کپڑے سکھانے گئی تھی.. رحاب نے نم آنکھوں سے بے بسی سے اشارہ کیا..
تو وہیں مر گئی تھیں کیا.. جواب نہیں دے سکتی تھیں.. آہ مگر تم کیسے جواب دیتیں.. گونگی جو ہو.. لہجہ صاف ہتک آمیز تھا….
اب منہ کیا دیکھ رہی ہو جاؤ جا کر کھانا بناؤ..تمھارا بھائی آتا ہو گا..
رحاب اثبات میں سر ہلا کر کچن میں آئی..
کرتی بھی کیا بھابھی کا کہنا ماننے کے علاوہ کوئی چارہ نہیں تھا..
کیا قسمت پائی تھی.. مسکین نے..
پہلے تو باپ نہیں تھا.. مگر ماں کی ٹھنڈی آغوش تو تھی.
مگر دو سال ہوئے ماں کے گزرنے کے بعد جیسے تپتے صحرا میں ننگے پاؤں بھاگ رہی تھی.
بے حس اور کم ظرف تھا وسیم جو بہن کے حقوق نہیں پورے کرسکتا تھا…
انھیں دو سالوں میں وہ چھت سے گری تھی اور گلے پر چوٹ لگنے سے اپنی آواز کھو بیٹھی.
کچھ علاج سے لاپرواہی کا نتیجہ تھا.. آپریشن کے پانچ لاکھ مانگے گئیے تھے…
جنھیں دینا تو دور کی بات سننے کے بعد شاہینہ نے وہ واویلا مچایا تھا.. کہ خدا کی پناہ
وسیم کو سب کچھ پتا تھا کہ کس طرح اس کی بیوی نے بہن کو بے دام کی غلام بنا رکھا ہے… اور اس سے جانوروں جیسا سلوک کرتی ہے.. مگر.
بے حسی کا مظاہر کرتے ہوئے کان لپیٹے رکھتا کہ زرا سے کچھ کہنے پر شاہینہ چچڑی کی طرح جان کو چمٹ جاتی تھی..
صد شکر تھا کہ وہ اسے پڑھنے دے رہی تھی.. اور وہ بی ایس سی کے تھرڈ سمسٹر میں تھی.
بیچاری رحاب انجان تھی کہ اس میں بھی اس کا کوئی مطلب ہی تھا.
شاہینہ اپنے دنیا جہاں کے نکمے اور آوارہ بھائی کے ساتھ اس پڑھی لکھی بے تحاشا حسین گونگی لڑکی سے شادی کروانا چاہتی تھی.
جو ساری عمر اسے کما کر کھلائے… مگر اف نا کرے.
🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺
سوہم کالی کے اڈے پر اطمینان سے داخل ہوا تھا..
انھوں نے اس کی تلاشی لی اور تسلی کی کہ وہ نہتا ہے.
اس کے ساتھ صرف قادر اور دو آدمی اور تھے ..
اس کے آنے سے کالی کے چند دوستوں اور آدمیوں میں ایک عجیب سا خوف اور بے سکونی سی پھیلی تھی
وہ انتہائی اطمینان سے weed کی سگریٹ لبوں میں دبائے ٹانگ پر ٹانگ رکھے پاؤں جھلا رہا تھا..
ٹیبل کے اردگرد بیٹھے لوگوں کے ماتھے پر پسینے چھوٹے ہوئے تھے اور بار بار گلے میں ایک گٹھلی سی ابھر کر معدوم ہر رہی تھی.
مگر اس کے سامنے بیٹھا شخص نڈر طریقے سے بول رہا تھا.
وہ بول رہا تھا کیونکہ وہ اسے بولنے دے رہا تھا..
تو پاشا نے تمھیں بھیجا.. مجھ سے…… کالی سے نمٹنے کیلئے اپنے یہ دو تین کتوں کو بھیج کر.. مگر تم شاید بھول گئے کے سامنے میں ہوں ..تمھیں جرم کی دنیا کا Executioner (جلاد) کہوں یا پھر سوہم خان کہوں. کیونکہ میں سب جانتا ہوں تمھارے بارے میں..
سوہم خان کے نام پر پل بھر کو سوہم کا ہلتا پاؤں رکا..مگر پھر پاؤں جھلاتا اس نے جلتی سگریٹ لبوں سے نکال کر ہاتھوں کی انگلیوں میں گھمائی.
پیچھے کھڑے قادر نے کن اکھیوں سے اس کی انگلی میں گھومتی سگریٹ کو دیکھا..
کالی بولتا چلا جا رہا تھا.
سگریٹ دوسری مرتبہ اس کی انگلیوں میں گھومی.
اور اب قادر کو پتہ تھا کہ تیسری مرتبہ سگریٹ انگلیوں میں گھومنے کے بعد کیا ہونے والا ہے کیونکہ سوہم خان کو نا زیادہ بولنا ہسند تھا نا زیادہ سننا.
اور کالی تو بہت بول چکا تھا.
یہاں آئے ہو تو زندہ واپس نہیں جاؤ گے سو کالڈ جلاد میں تمھیں زندہ یہیں گاڑھ….
اس سے پہلے کہ اس کی بات پوری ہوتی سوہم کی انگلیاں تیسری بار سگریٹ ہاتھ میں گھما چکی تھیں..
قادر نے آنکھیں بند کر لیں.کیونکہ اتنا بڑا غنڈہ ہونے کہ باوجود وہ اب تک سامنے بیٹھے جلاد جتنا بے رحم نہیں ہو پایا تھا جو شہ رگ پر گولی مار کر گردن ہی اڑا دیا کرتا تھا.
. سوہم نے فائر کیا تھا.. جو کالی کی شہ رگ پر بجا تھا. اور اس کی گردن کی دھچیاں اڑ گئیں تھیں.. سر ڈھلک کر کمر سے جا لگا..اور وہ زمین بوس ہو گیا.
اور یہ تو ان کے فرشتے بھی نہیں جان پائے تھے کہ نہتا آیا وہ جلاد اب فائر کیسے کر گیا تھا..
وہ جلاد اب اطمینان سے اٹھا.. ایک ہاتھ میں سگریٹ لبوں میں دبائے دوسرا میں پسٹل گھماتا کالی کے پاس گیا.
اور اس کی پیٹ پر اپنے جوتے پر لگا اس کا خون صاف کرتے بولا.
اگر مارنا ہو.. تو مارتے ہیں.. اگر کاٹنا ہو تو بھونکنے میں ٹائم ویسٹ نہیں کرتے… کاٹ ڈالتے ہیں… باسٹرڈ..
یہ کہتا وہ اطمینان و سکون سے weed سے اپنا زہن پرسکون کرتا وہاں سے نکلا تھا..
🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺
راسم،کبیر، ریما، اور رجا.. بظاہر میاں بیوی کے بھیس میں اس کیپٹل سٹی میں اس بڑی مسجد میں ایز اے ٹورسٹ
آئے تھے…
پاشا نے یہ کام خصوصی طور پر راسم کے سپرد کیا تھا..کیونکہ یہ کام کرنے کے لیے پاشا جتنی سفاکی کا لیول ہونا بہت ضروری تھا…
اور راسم تو وہ بھڑکتا شعلہ تھا جو ٹارگٹ کو جلا کر خاکستر کر دیتا تھا…
اور اب درختوں کے گھنے جھنڈ کے پیچھے بڑے پتھروں پر بیٹھ کر ریما تیزی سے لیپ ٹاپ پر انگلیاں چلاتی ٹارگٹ کی لوکیشن ہیک کرتے ہوئے ٹریس کر رہی تھی.
جب راسم کو کچھ عجیب سا لگا اور ایک بڑے درخت کے قریب گیا.
زرا سا آگے ہو کر دیکھا…
سرمئی لباس میں لپٹا ایک چھوٹا سا وجود تھا… سرمئی بڑی سی چادر سے خود کو چھپایا ہوا…
ایک بڑے سے پتھر پر سر جھکائے بیٹھی تھی اور چھوٹا سا بیگ گود میں رکھا ہوا تھا.
درخت کے پیچھے سے اس کی نسوانی سسکیوں کی آوازیں آ رہی تھیں..پھر فون رنگ ہوا جو کہ اس نے رسیو کیا تھا..پھر اس سرمئی گٹھڑی میں سے آواز آئی.
تماشہ سننے کے لیے فون کیا کہ میں زندہ ہوں کہ مر گئی مگر مجھے در بدر کر کے اتنا جان لو نایاب کہ روز تمھارا ضمیر تمھیں کچوکے لگائے گا.. کانٹوں پر گھسیٹ لی جاؤ گی.. مگر تب تم مجھ تک نہیں پہنچ پاؤ گی کیونکہ اس کال کے بعد میں یہ فون سپوئل کرنے والی ہوں.. وہ بڑی سی چادر سے خود کو چھپائے سہمی ہوئی سی تھی.
ہاہاہا ہاہاہا فون میں سے نایاب کے مکروہ قہقہہ گونجے.
وہ پھر بولی…
سنو نایاب میرا نام فانیہ ہے… فانیہ… مطلب آزاد.. اور اب میں آزاد ہوں.. سنو….. تم نے یہ سب کر کے مجھ پر بہت بڑا احسان کیا ہے کیونکہ روز روز کی تمھارے باپ کی مکروہ نظروں سے میں بچ گئی ہوں.تم نے میری ماں کی نظر میں مجھے چاہے جتنا مرضی گرایا ہو. مگر میری نظر س دیکھو تو. دنیا کی کوئی طاقت میرے پاکیزہ دامن کو داغ دار نہیں کر سکتی…
او…. اب بھی اتنا غرور ہے… جب زمانے کی ٹھوکروں پر رکھی جاؤ گی تو خود ہی یہ غرور تار تار ہو جائے گا.جب کسی کوٹھے پر پہنچا دی جاؤ گی… .نایاب نفرت سے بولی جو اس سناٹے میں باہر تک صاف سنائی دیا.
یہ بھی تمھاری غلط فہمی ہے نایاب.. کیونکہ اگر مجھ پر کبھی ایسا وقت آیا بھی تو چاقو بیگ میں لئے بیٹھی ہوں.. سب سے پہلے اپنی شہ رگ کاٹ لوں گی..
یہ کہہ کر فانیہ نے موبائل پتھر سے دے مارا جو کہ چکنا چور ہو چکا تھا..
کہاں جاؤں گی.. دماغ سنسنایا….. اور اگر کسی غلط ہاتھوں میں چلی گئی تو.. نہیں مر جاتی ہوں…اب یہ زندگی بلکل بے کار اور فضول ہے.
ہاں یہ ٹھیک ہے… وہ با آواز بلند بڑبڑائی اور بیگ میں سے چاقو نکالا..
کانپتے ہاتھوں سے اپنی گردن پر رکھا. آنکھیں بند کیں.
مگر اس سے پہلے ہی پیچھے گردن پر ایک سوئی سی چبھتی محسوس کی..
راسم جو کہ پیچھے کھڑا یہ تمام کاروائی دیکھ اور سن رہا تھا.. اس کے چاقو شہہ رگ پر رکھنے سے بلکل بے اختیار ہو کر بغیر سوچے سمجھے بے ہوشی کا انجیکشن اس کی پچلھی گردن میں انجیکٹ کر چکا تھا.
آہہہہہہہہ….. وہ سسکی.. اس سے پہلے کچھ سمجھ آتا وہ بلکل نرم اور نازک حسین سا وجود راسم کی فولادی اور آہنی بازوؤں میں جھول گیا تھا..
🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺
