Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Episode 13

اگلے دن راسم کی آنکھ کھلی..
وہ اس کے سینے سے لپٹی گہری نیند میں تھی.بال آبشار کی طرح سینے پر پھیلے ہوئے تھے..
وہ مسکرا اٹھا..
برسوں کے تڑپتے بھڑکتے دل کو اس چھوٹی سی لڑکی کی قربت سے بہت سکون ملا تھا..

راسم نے اس کے بکھرے بال سمیٹے…
فانیہ… میری جان… اٹھو آنٹی انتظار کر رہی ہوں گی. تم نے پیکنگ بھی کرنی ہے.. راسم نے جھک اس کی کان کی لو کو لبوں سے کاٹا اور سرگوشی کی..

وہ کسمسائی.. اور بری طرح جھلاتی کڑوا سا منہ بنایا..
راسم سونے دیں ناں… میری نیند پوری نہیں ہوئی..

کیوں… کیوں پوری نہیں ہوئی… وہ انجان بنا.

مجھے نہیں پتا.. وہ روہانسی ہوئی.. اور کروٹ بدل کر اس سے دور کھسکنے کی کوشش کی.
جو کہ اس نے ناکام بنا دی..

پھر سے اس نازک سے وجود کو خود میں سمیٹا..
مگر وہ آنکھیں موندے گہری نیند میں تھی..
راسم کو شرارت سوجھی.

او آنٹی ہم آ ہی رہے تھے.. راسم نے اچانک شوشا چھوڑا… فانیہ کی نیند بھک سے اڑی تھی.. ہڑبڑا کر اٹھی.

مگر وہ اتنا بے وقوف نہیں تھا.. ڈور لاکڈ تھا..
ہاہاہا ہاہاہا.. وہ قہقہہ لگا کر ہنس پڑا
فانیہ اپنی جھلاہٹ بھلائے مبہوت سی اسے پہلی مرتبہ ہنستے ہوئے دیکھے گئی..

کیا ہوا بیوی… زیادہ پیار آ رہا ہے تو پھر کیا خیال ہے ایک مرتبہ پھر……..وہ قریب کھسکا.

فانیہ گھبرا کر اٹھی.. اور واش روم میں گھس گئی.. پیچھے پھر وہ زور سے ہنسا..

فانیہ نے ناشتہ بنایا.. ناشتہ کر کے اس نے پیکنگ کی.. راسم نے نسیمہ بیگم کو بھی بہت کہا کہ ساتھ چلیں.. مگر انھوں نے منع کر دیا.

وہ تقریباً گیارہ بجے نکلے تھے..

🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺

وائٹ پیلس میں رونقیں اور ہنگامے جون کی توں برقرار تھیں.
راسم فانیہ کو لے کر پہنچا تو روحا اور رحاب کو دیکھ کر اسے خوشگوار حیرت ہوئی.

وہ تینوں فرینڈ بھی بن گئیں تھیں..
روحا نے وائٹ ہاؤس میں آئے بلکہ پھینکے گئے بہت کم عمر خواجہ سرا بچوں کو پڑھانا شروع کر دیا.

سوہم ساؤتھ افریقہ گیا تھا.. اس لئے روحا سکون میں تھی.
ریشماں بہت مہربان تھیں.
بی جان اور بڑی ماں سے بھی روز بات ہو جاتی تھی..

رحاب نے بھی اپنی دلچسپی کے مطابق وائٹ پیلس کی بیک سائیڈ پر موجود کافی بڑے سے باغیچے کی دیکھ بھال کرنا شروع کر دی تھی.

ریشماں نے اسکی فرمائش پر وہاں آسٹریلین پیرٹ کا بڑا سا پنجرا بنوا کر اسے ڈھیر سارے پیرٹس بھی لا کر دئیے تھے
وہ شام کا سارا وقت وہیں گزارتی تھی.

ایک ماہ ہو گیا تھا.. وہاں رہتے…
سب ایک دوسرے سے مانوس ہو چکے تھے.
فانیہ سب سے زیادہ شرارتی تھی.
اس کی شرارتوں سے وائٹ پیلس میں رونق لگی رہتی.
ریشماں، پنکی، ڈولی، منی سب ان پر وارے صدقے جاتیں

ایک ماہ سے پاشا اور سوہم وائٹ پیلس نہیں آئے تھے.
پتہ نہیں کیا مصروفیات تھیں ان کی

کہ راسم بھی صرف مہینے میں دو چار مرتبہ ہی آ پایا
فانیہ سخت ناراض تھی اس سے..

روحا سخت جھنجھلائی.. ہوئی تھی اسے وہاں لا کر خود جناب سوہم خان غائب تھے.. نا اتا لیا نا پتہ

رحاب بھی لاشعوری طور پر اس کا انتظار کرتی رہی.. ریما اس دن کے بعد رحاب کے سامنے ہی نہیں آئی. رجا اور کومل اپنے کمروں میں دبکی رہتی
صرف کام کے وقت بیسمنٹ چلی جاتی تھیں .

یا پاشا سے دوسرے ٹھکانے پر ملاقات ہوتی تھی..
دن یونہی عجیب بے کل سے تھے.

🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺

زمل پورے ایک ماہ سے اپنے کمرے میں بند تھی باہر نکلی ہی نہیں..
کبیر آتا اور باہر سے ہی بابا سے اس کی خیر خیریت معلوم کر کے چلا جاتا.

اس کی حالت کے پیشِ نظر کبیر نے ایک فل ٹائم ملازمہ رکھ دی تھی جو سارے کام کرتی بابا کی دیکھ بھال کرتی.

زمل کے پاس کھانا لے جاتی تو وہ نس زندہ رہنے کے لئے یا بابا کو دکھانے کے لئے چند نوالے زہر مار کر لیتی.

سارا سارا دن پڑی چھت کو گھورتی رہتی.
عجیب ابتر حالت ہو گئی تھی اس کی..

کبیر بے آب مچھلی کی طرح تڑپ رہا تھا.. مگر کچھ کر نہیں سکتا تھا..
کیسے سامنا کرتا اس کا…
خود کو اس کا مجرم سمجھ رہا تھا..
مگر بے بس تھا.

لیکن بادشاہ کو ڈھونڈنے میں وہ سر دھڑ کی بازی ضرور لگا رہا تھا.

اس نے اندرون ملک اور سوہم نے بیرون ممالک میں کئی جگہوں کو چھلنی کی طرح چھانا تھا..

مگر وہ بزدل جانے کدھر دم دبا کر دبکا بیٹھا تھا.

🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺

پورے ایک ماہ……. تیس دن
بہہہہہہہہہہہہہہہہہہہہہہہہہت تھے..
پل پل اذیت سے دوچار ہوتے.پل پل تڑپتے

آج خود بخود رات کے اس پہر تقریباً ایک بجے کے قریب پاشا اپنے قدموں کو وائٹ پیلس میں آنے سے بلکل نہیں روک پایا تھا.
وہ دھیمے قدموں سے بلکل خاموشی سے وائٹ پیلس میں داخل ہوا.

طویل کوریڈور سے گزرتے اس کی منزل اوپر کے پورشن پر تھی…

ادھر رحاب اپنی کیفیت سے فل بیزار تھی.
بے چینی ہی بے چینی تھی.. کسی کروٹ نیند نہیں آ رہی تھی.. تیس دن ہو گئے تھے چھوٹی سی جان کو سولی پر لٹکے..
آخر جھنجھلا کر اٹھی..

سکون کہاں تھا.
ریشماں کے کمرے…… ایک تصویر تھی.. شاید اس تصویر میں..
رحاب خود سے جھنجھلاتی دبے قدموں سے اٹھی سیڑھیاں اتر کر نیچے آئی. ریشماں کے کمرے میں آئی.. خاموشی سے تصویر دیوار سے اتاری اور اتنی ہی خاموشی سے واپس پلٹی..
جبکہ ریشماں اسے یہ حرکت کرتے دیکھ چکی تھی..
مگر سوتی بنی رہی.

ابھی دروازہ کھول کر باہر راہداری میں نکلی ہی تھی کہ کسی کے چوڑے چٹانی سینے سے بری طرح ٹکرائی..
اگر مقابل کمر سے تھام کر خود سے نا لگاتا تو فرش پر ڈھیر ہو چکی ہوتی.

ملگجے اندھیرے میں سر اٹھا کر دیکھا اور خو کو جس کی بانہوں میں پایا تو حلق خشک ہو گیا.
جلدی سے تصویر والا ہاتھ کمر کے پیچھے چھپایا.

دل کی مراد یوں بر آئے گی پاشا نے سوچا بھی نا تھا.. رگ و پہ میں سکون اترا. بیک بون میں سرسراہٹ ہوئی..نظر نے بے قراری سے معصوم چہرے کاطواف کیا. دل چھوٹی سی ناک کے چھوٹے سے چمکتے لونگ میں اٹکا..

اتنی رات کو ریشماں کے کمرے میں اس طرح کیوں گئیں تھیں.. اس نے سنجیدگی سے پوچھا.. مگر چھوڑا نہیں..

اس نے زور سے نفی میں سر ہلایا…
ہاتھ میں کیا چھپایا..دکھاؤ مجھے…؟

وہ بےتحاشا گھبرائی.. زور سے نہیں میں سر ہلایا..
پاشا نے جو کمر کے گرد ہاتھ لپیٹے ہوئے تھے.. ایک ہاتھ سے چھپایا گیا ہاتھ پکڑ کر سامنے کرنے لگا.

جب وہ چوری پکڑے جانے کے ڈر سے مچلی..
پاشا کو پیچھے دھکیل کر بھاگنے لگی..جب اچانک پاشا نے اس کے بازو کو گرفت میں لے کر اپنی جانب کینچھا تھا.
وہ توازن برقرار نہیں رکھ سکی..

ایک مرتبہ پھر خوشبوؤں میں بھرا نرم و نازک گداز وجود پاشا کے وجود میں سمٹا..
پاشا کا بھی توازن بگڑا.. اور دیوار سے لگا..
رحاب کے ہاتھ سے تصویر چھوٹی..

وہ پھر مچلی.. اور تیزی سے تصویر اٹھا کر اپنے کمرے میں بھاگ گئی..

پاشا شل ہوئے وجود کے ساتھ وہیں کھڑا رہا جیسے وہ اس چھو کر پتھر کا بنا گئی تھی..
اس کے ہاتھ میں موجود وہ چیز بھی اچھی طرح دیکھ چکا تھا..

وہ بے تحاشا چونکا تھا.. اس کا چھپ چھپ کر دیکھنا تو اگنور کر چکا تھا.
مگر اتنی رات کو اس کا یوں پاشا کی تصویر چرانا معنی رکھتا تھا..یعنی
دونوں طرف آتشِ عشق برابر بھڑکی ہوئی تھی..

لبوں پر مبہم سی مسکان سجی.
فوراً واپسی کے لیے قدم بڑھائے…

ریشماں جو یہ ساری کاروائی دیکھ رہی تھی.. مبہم سا مسکرائی..

تو پلین پر عمل کرنے کا وقت آن پہنچا ہے…

پاشا اپنے اسی منہ سے چیخ چیخ کر بتاؤ گے کہ
ہاں پاشا ابراہیم کو محبت ہے.
وہ با آواز بلند کہتی اپنے کمرے میں جا چکی تھیں

رحاب کمرے میں آ کر بیڈ پر اوندھے منہ گری تھی..
اب بھی پوری جان سے لرز رہی تھی..
پہلے تو اس ستمگر کی لو دیتی آنکھیں، پھر پر حدت پگھلاتا لمس اور پھر اس کے پکڑے جانے کو خوف.

اسے جھر جھری آئی..
لال ٹماٹر چہرہ تکیہ میں دیا.
افففف. آج تو مر ہی جاتی اگر وہ دیکھ لیتے…
اپنے آپ کو اور اپنی بے اختیاری کو کوسا..

🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺

فانیہ بے چینی سے کروٹیں بدل رہی تھی نیند آنکھوں سے کوسوں دور تھی.
جانے وہ کہاں تھا.

ادھر راسم کو جب پورا یقین ہو گیا کہ فانیہ سو چکی ہو گی..
تب خون سے لت پت شرٹ کے ساتھ دبے قدموں کمرے میں داخل ہوا تھا.
آج بادشاہ کے کچھ آدمیوں سے نمٹ کر آیا تھا.

انھیں دردناک موت دہ کر آ رہا تھا… چاہتا تو بیسمنٹ جا سکتا تھا یا کہیں اور…
مگر سکون حاصل کرنے اپنے کمرے میں آیا تھا..
یہ جانے بغیر کہ آج پیروں نیچے سے زمین کھسک جائے گی.

کیونکہ فانیہ اسے ایسی حالت میں دیکھ لے گی..
آہٹ پاتے ہی فانیہ اٹھ کر بیٹھی تھی
اور اسے اس حالت میں دیکھ کر شدید ہراساں ہوئی تھی

بیڈ سے اتر کر اس کی جانب لپکی

یہ… یہ… کک.. کیا ہوا ہے آپ کو… آپ ٹھیک ےو ہیں ناں.. یہ اتنا سارا خون

فانیہ.. میں بلکل ٹھیک ہوں.. کچھ نہیں ہوا ہے… وہ گڑبڑایا اور فوراً واش روم گھس گیا…

فریش ہو کر باہر نکلا.ٹراؤزر اور بنیان پہن رکھی تھی.. وہ کپڑے فولڈ کر کے باہر لایا…

یہ کیا… آپ میری بات کا جواب کیوں نہیں دے رہے… فانیہ کے اب بھی اوسان خطا تھے.

میں ابھی آیا.. راسم نے پھر اسے اگنور کیا.. باہر گیا.. اور مخصوص جگہ وہ کپڑے پھینک آیا..
کمرے میں داخل ہوا تو اب بھی بت بنی کھڑی تھی

راسم یہ سب کیا ہے… جلدی بتائیں مجھے..

کچھ نہیں جان… آرام کرو تم بس

نہیں وہ ہتھے سے اکھڑی.. مجھے….. مجھے حقیقت جاننی ہے راسم.. مجھے بتائیں آپ کیا کام کرتے ہیں؟

اب راسم کے ماتھے پر بل پڑے تھے… فانیہ آرام کرو… اس نے سنجیدگی سے کہتے دوسرے کمرے میں جانا چاہا جب وہ دیوار بنی سامنے آئی تھی

راسم میں نے پوچھا آپ کیا کام کرتے ہیں…فانیہ سسکی

فانیہ اپنے کام سے کام رکھو . یہ جاننا تمھارے لئے ضروری نہیں.. راسم نے اسے سمجھانے کی کوشش کی

نہیں مجھے جاننا ہے…وہ ضدی ہوئی..
بزنس کرتا ہوں…
کون سا………

امپورٹ ایکسپورٹ کا….
کیا امپورٹ ایکسپورٹ کرتے ہیں؟

فانیہ ہٹو راستے سے.. زیادہ انویسٹیگیشن کی ضرورت نہیں.. راسم نے دانت پیسے…اسے پیچھے دھکیلا

راسم آپ میری آنکھوں میں دھول نہیں جھونک سکتے..فانیہ نے پھر اس کا بازو دبوچا.. آپ کی خون میں لت پت شرٹ تو کوئی اور کہانی بیان کر رہی ہے…
کون ہیں آپ…

فانیہ میرا ضبط مت آزماؤ… ہٹ جاؤ سامنے سے

کیوں نہیں تو مجھے بھی مار ڈالے گے؟ قتل کریں گے مجھے بھی… وہ بپھری

چٹاخ……..
ایک زناٹے دار تھپڑ پڑا تھا فانیہ کو… وہ تیورا کر بیڈ پر گری..
راسم بغیر دیکھے دوسرے کمرے میں گیا تھا.
جبکہ فانیہ بے ہوش ہو چکی تھی.

کافی دیر تک بالوں کو مٹھیوں میں جکڑے اشتعال کا طوفان ضبط کرتا ادھر ادھر چکر لگاتا رہا.
مگر جب دل کو سکون نا آیا اور اپنی فاش غلطی کا احساس ہوا تو کمرے میں آیا.

وہ اسی طرح اوندھے منہ بیڈ پر گری ہوئی تھی…
وہ سمجھا رو رہی ہے.
فانیہ دیکھو…. پلیز میری جان مجھے سمجھو… فانیہ

کچھ غیر معمولی لگا تو راسم نے اس کا کندھا ہلایا..
پھر اس نے اسے سیدھا کیا.. وہ کٹی پتنگ کی طرح اس کے بازوؤں میں جھول گئی..
پھٹے نازک لب سے خون کی بوند نکل کر لکیر سی بن گئی تھی..

راسم کے پیروں نیچے سے زمین کھسکی… فانیہ…. فانیہ… میری جان اٹھو…
مگر وہ ٹس سے مس نا ہوئی..
راسم کی جان پر بن آئی یوں بھی ریشماں یا کوئی اعر اسے اس حالت میں دیکھ لیتا تو جو زلالت ہوتی وہ الگ

نرمی سے بازوؤں میں بھرا.
باہر آ کر گاڑی میں لٹایا..
رومال سے چہرہ صاف کیا..

زن سے گاڑی بھگائی…
وائٹ پیلس میں اتنی رات کو آنا جانا ایک نارمل بات تھی. سو اس طرف سے اسے کوئی ٹینشن نہیں تھی.
مگر فانیہ کی حالت دیکھ کر دل بیٹھا جا رہا تھا.

ہوسپیٹل پہنچا… فورا چیک اپ کروایا…..
کافی دیر انتظار کرتا رہا…

ڈاکٹر باہر آئیں… بے چینی سے ڈاکٹر کی جانب لپکا.

ڈاکٹر کیا ہوا میری مسز ٹھیک تو ہیں ناں.. اسے ہوش کیوں نہیں آ رہا..

اٹس اوکے مسٹر راسم ایسی حالت میں ایسا ہو جاتا ہے.. گھبرانے کی بات نہیں…
کیسی حالت میں ڈاکٹر… راسم الجھا ڈاکٹر مسکرائی.

آپ پاپا بننے والے ہیں مسٹر راسم… شی از اسپیکٹنگ….
کونگریٹس…
راسم کے چہرے پر گہری مسکان نے احاطہ کیا.

تھینکس ڈاکٹر…. اسے ہوش آیا.

یس آ گیا ہے.. مگر وہ کم عمر ہیں ویک ہیں.. زیادہ خیال رکھنا ہوگا..
جی ڈاکٹر… شیور…

وہ کمرے میں آیا تھا مگر فانیہ نے اسے دیکھا تک نہیں.. راسم کے دل میں سوئی سی چبھی.. وہ خاموشی سے اٹھی
آہستگی سے قدم اٹھاتی باہر آئی اور چپ چاپ گاڑی میں بیٹھ کر آنکھیں موند لیں
راسم نے بھی نا چھیڑا
پتہ تھا ہاتھ اٹھا کر سنگین غلطی کر بیٹھا تھا اور اب اسے بھگتنا تھا.
وائٹ پیلس آ کر وہ خاموشی سے اپنے کمرے میں آئی..
راسم بھی اس کے پیچھے آیا…

🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺