Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Episode 3

ریحاب پھٹی پٹھی آنکھوں سے اپنی بھابھی شاہینہ کو دیکھ رہی تھی..
اور سوچ رہی تھی کہ ڈائن بھی سات گھر چھوڑ کر کھاتی ہے…

اے سنو… مجھے کوئی اعتراض نہیں چاہیے.. بس میرا آخری فیصلہ ہے اس مہینے کی تیس تاریخ کو تمھارا نکاح کرنے والی ہوں میں اپنے بھائی کے ساتھ…. وسیم کا بھی یہی فیصلہ ہے… تمھیں کچھ کرنے کی ضرورت نہیں میں خود ہی تیاری کر لوں گی.

لاپروائی سے کہتی شاہینہ اندر اپنے کمرے میں چلی گئی.
محلے کہ ایک دو معزز گھر سے اس خوبصورت بلا کے رشتے آئے تھے.. اور اس سے پہلے ک وہ ہاتھ سے نکلتی یا وسیم کا ضمیر بدلتا اس نے یہ کام نمٹانے کا بھی فیصلہ کر لیا تھا.

اور پیچھے رحاب اس بدقماش، آوارہ، نکمے اور نظر باز انسان کے ساتھ اپنی زندگی سوچنے لگی.
جس کی نظروں سے ہی اسے گھن آتی تھی.
پوری زندگی اس کے ساتھ… چھی…..
اسے کراہیت محسوس ہوئی.

بے تحاشا روتے اس نے کوئی معجزہ ہونے کی دعا کی.. اللہ تعالیٰ سے لو تو پہلے ہی لگا رکھی تھی یہ ظلم سننے کے بعد تو بس یہ دعا کی تھی کہ کوئی فرشتہ آئے اور اسے بچا لے..

اور شاید دعا قبولیت کا شرف حاصل کر چکی تھی..
مگر کیسے اسے معلوم نہیں تھا.
مگر دعا قبول کرنے والے نے خود ہی راستے نکال دئیے تھے.

اسی لیے اگلے دن ہی اس کی بیسٹ فرینڈ چلی آئی…

اور کالج کی طرف سے جہلم کے تاریخی مقام Rohtas fort آؤئٹنگ کے لئے جانے کا بتایا..

میری بھابھی کبھی نہیں مانے گی… رحاب نے اشارہ کیا..

اوں…. مجھے پتہ ہے اسے کونسی زبان میں منانا ہے. فضہ اسے لئے شاہینہ کے پاس گئی اورمدعا بیان کیا.

ارے واہ بھئی کھانے کے لالے پڑے ہیں اور میڈم کو سیر سپاٹوں کی پڑی ہے.. کہیں نہیں جا رہی یہ اور خرچہ کون کرے گا اس کا باپ… حسبِ معمول شاہینہ نے زہر پھونکا.

لیکن سامنے رحاب نہیں فضا تھی.

ارے میری پیاری بھابھی… دراصل یہ میری بیسٹ فرینڈ ہے میرا اس کے بغیر جانے کا دل نہیں کرے گا.ایک دن کی بات ہے صبح جانا ہے شام کو واپس. . اس کا سارا خرچہ میں اٹھاؤں گی… بلکہ آپ کو بھی دو ہزار دوں گی.. دیکھنا اس کی ٹینشن لے لے کر کیسا روکھا پھیکا ہو گیا ہے چہرہ آپ کا… آپ زبردست سا فیشل کرانا.. پھر یہ آ کر آپ کی ہر بات مانے گی… نکاح والی بھی.

فضا نے لالچ دیا اور پرس میں سے دو ہزار نکال کر ہاتھ میں تھامے…
شاہینہ کی رال ٹپکی..

ویسے وسیم تو نہیں مانتے مگر تم اتنا اصرار کر رہی ہو تو چلی جاؤ.. اور جانا کب ہے..

کل جانا ہے بھابھی.. گیشل کروا کر آپ کی خوبصورتی میں چار چاند لگ جائیں گے.. فضہ شاہینہ کی مٹھی میں پیسے دباتے بولی.

رحاب نے نم آنکھوں سے فضہ کو تشکر بھرے احساس سے دیکھا.
فضہ نے اسے آنکھوں سے اشارہ کر کے تسلی دی.

🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺

ساری بات سننے کے بعد ریشماں راسم کی طرف متوجہ ہوئی تھی.
سب موجود تھے.
وہ جو بے ہوش تھی

اب وہ بھی ہوش میں آنے کے بعد سہمی سی لاؤنج سے ملحقہ دروازے سے لگی کھڑی سب سن رہی تھی.

لاؤنج میں ریشماں کی بھاری مردانہ سی آواز گونجی.
راسم کیوں لائے ہو اسے یہاں… کس رشتے سے.. اور بقول تمھارے ہی وہ بول رہی تھی کہ وہ کسی غلط ہاتھوں میں نہیں جائے گی.. تو تم نے اسے کس حق سے اور کیوں ہاتھ لگایا..اور پھر بغیر اس کی مرضی کے اسے یہاں لے آئے،؟

راسم کے پاس کوئی جواب نہیں تھا.. یہ تو وہ بھی نہیں جانتا تھا کہ اس نے ایسا کیوں کیا تھا.

اب اگر ایسا تم نے کیا ہے تو تم ہی اس کی زمہ داری اٹھاؤ گے.. تمھیں ابھی اور اسی وقت اس سے نکاح کرنا ہوگا.

ریشماں جانتی تھی کہ وہ چاروں اپنی زندگیوں سے کھیل رہے ہیں. مگر وہ ان کو خوش دیکھنا چاہتی تھی. راسم پہلی مرتبہ کسی لڑکی کی جانب متوجہ ہوا تھا.

یہ معمولی بات ہر گز نہیں تھی..
.. راسم نے تو انھیں خود ہی موقع دے دیا تھا.. اب وہ اسے گنوانے کے موڈ میں ہر گز نہیں تھی.

اس بدکتے گھوڑے کو ایسے نکیل ڈالنا ہی بہتر تھا.

دروازے کے پاس وہ کھڑی ان اجنبیوں کو اپنی زندگی کا فیصلہ کرتے دیکھ جی جان سے لرزی.
ابھی عمر ہی کیا تھی.. اٹھارہ کی تو تھی..

مگر اب دنیا پر اس کا تھا ہی کون.جو اس کے لیے فیصلہ کرتا.

اور اگر وہ اس سے باز پرس کر رہی تھی تو کوئی نیک انسان ہی تھی.
اگر وہ نکاح کی بات کر رہے تھے تو وہ برے نہیں تھے.

ایک محفوظ ٹھکانہ
ایک محافظ ہی سہی.
یہ سوچ کر تسلی ہوئی اور خود کو اپنے رب کی رضا کے حوالے کر دیا..

ادھر ریشماں کی بات سن کر راسم کے سر پر وائٹ پیلس کی چھتیں گری تھی..

میں آپ کی بہت عزت کرتا ہوں ریشماں مگر ایسا کچھ بھی نہیں کروں گا… راسم نے سرد تاثر سے کہا.

راسم… ہاؤ ڈئیر یو…. ہمت بھی کیسے ہوئی تمھاری…. ریشماں کی حکم عدولی کی…اب اگر انھوں نے یہ فیصلہ کیا ہےکہ یہ نکاح ہو گا مطلب ابھی ہوگا…

سوہم جو کہ خاموشی سے یہ سب کاروائی دیکھ رہا تھا.. پاشا کے بولنے سے پہلے دھاڑا.. کیونکہ اس کی بات پر پاشا اور سوہم دونوں اپنی جگہ سے اٹھے تھے.

راسم کی زبان بند تھی.. کیونکہ اب کوئی چارا نہیں تھا.. خونخوار نظروں سے دروازے میں لہراتے سرمئی آنچل کو گھورا..
آپ سب لوگ مجھ سے ہی کہہ رہے ہیں ایک مرتبہ اس سے بھی پوچھ لیں.. جس کی زندگی کا فیصلہ کر رہے ہیں.

راسم نے آخری امید کے طور پر آخری پتہ پھینکا.. کیونکہ اس کے حساب سے وہ زناٹے دار تھپڑ کھانے کے بعد تو اسے صاف انکار کردینا چاہیے تھا..

مگر…
وہ سب سن رہی ہے اگر اعتراض ہوتا تو بیچ میں ہی بول پڑتی… اب اس کا دنیا میں کوئی نہیں.. تو تم اس کی زمہ داری اٹھاؤ گے..بہت کم عمر لگ رہی ہے….اسی لئے معصوم ہے… اور اگر اسے زرا بھی تکلیف دی تو میں سمجھوں گی تمھاری نظر میں میرے احسانوں کی کوئی اوقات نہیں..
راسم تڑپ گیا… مگر خاموش ہو گیا.

پاشا نے اپنے آدمیوں کو اشارہ کیا..
اور بھلا وائٹ پیلس میں کپڑوں، زیورات اور میک اپ کی کیا کمی تھی..
نا نا کرنے کے باوجود اسے بہت فینسی سا بلکل نیا شاکنگ کلر لہنگا پہنا دیا گئا تھا..
مگر ڈریس بے تحاشا بولڈ تھا. گہرا گلا… ہاف بلاؤز.. اور پیچھے بس ڈوریاں
اس نے صاف انکار کیا…. مگر ریما بولی

دیکھو یہاں سبھی فینسی اسی طرح کے ڈریس ہیں.میں، رجا اور کومل تو پینٹ شرٹس پہنتی ہیں…
. یہاں کوئی نہیں آئے گا.. باہر چادر لے لینا اور بس تمھیں تمھارا شوہر دیکھے گا…اسی لئے یہ دیکھو ان سب کی خوشی کے لئے پہن لو…

وہ جو ڈھیر سارے خواجہ سرا آج اپنے ہی گھر کے فنکشن کے لئے مرے جا رہے تھے. فانیہ نے ایک نظر ان کے تمتماتے چہرے پر ڈالی.. تو اسنے سر جھکا لیا.

ریما نے اسےکھانا بھی کھلایا تھا…
زندگی میں پل پل کی زلالت کے بعد اتنے پروٹوکول ملنے کے بعد وہ تو بچوں کی طرح خوش ہی ہو گئی تھی..
مگر نہیں جانتی تھی کس طوفان سے الجھنے چلی ہے.

جب تیار ہوئی تو ایک مرتبہ تو ریما بھی حیران پریشان سی ہو گئی.

ارے پنکی دیکھو تو زرا……. راسم تو آج گیا. دیکھتے ہی قدموں میں گر جائے گا. .. ریما نے ان سب کو بلا کر ان کی توجہ اس کی طرف دلائی اور ایک زور دار سیٹی بجائی..
وہ بھی لگے ناچنے گانے.. رجا اور کومل نے بھی ہوٹنگ شروع کر دی..
شاکنگ کلر میں اس کا گورا رنگ دمک رہا تھا.. میک اپ نے تیکھے نقوش اور دو آتشہ کر دئیے تھے..وہ تو کوئی اپسرہ ہی لگ رہی تھی..
وہ تو شرم سے دوہری ہی ہو گئی..

کچھ دیر بعد ہی مولوی صاحب آئے اور وائٹ پیلس میں پہلی مرتبہ نکاح جیسا مقدس بندھن باندھا گیا.

تیز میوزک ۔ ایک جشن تھا جو آج اس گھر میں جاری تھا
پنکی اور اس کی چیلیوں نے گئے رات تک ہنگامہ مچا کہ رکھا..
اور تو اور ریما کومل اور رجا نے بھی ان کا ساتھ دیا.
سوہم، پاشا اور کبیر نے خوب فائرنگ کی.. .

🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺

وہ ڈری سہمی سی اب اوپر والے پورشن پر موجود اس سجائے گئے کمرے میں بیٹھی جھلا رہی تھی.
بیگ اسی لاؤنج والے کمرے میں رہ گیا تھا.

ریما شرارت میں وہ چادر بھی جو اس نے لی ہوئی تھی اپنے ساتھ لے جا چکی تھی….
اور جو دوپٹہ تھا وہ بھی اتنا باریک تھا کہ جسم کی تمام رعنائیاں واضح ہو رہی تھیں..وہ دوپٹہ سر سے اتار کر اپنے جسم کے ارد گرد اچھے سے لپٹایا

اونہہ… یہ سب تو کتنے اچھے ہیں.. مگر میں ابھی اس شخص پر بھروسہ نہیں کر سکتی.. نہیں آنے دوں گی میں انھیں اپنے قریب….

اب کیا کروں.. اٹھ کر وارڈ روب میں دیکھا تمام مردانہ کپڑے… یقیناً اس کے بگڑے تیوروں والے مجازی خدا کے ہوں گے.. ابھی وہ جائزہ لے ہی رہی تھی.. کہ پیچھے دروازہ کھلنے اور بند ہونے کی آہٹ محسوس ہوئی.

وہ جی جان سے لرزی اور اس وقت کو کوسا جب وہ بستر سے اٹھی.. کم از کم کمفرٹر میں تو دبک ہی سکتی تھی..

ادھر وہ جلتا سلگتا اپنے کمرے میں داخل ہوا تھا.. سوہم اور کبیر نے زبردستی اسے بھیجا تھا..
مگر ڈور لاک کر کہ جوں ہی مڑا تو پہلے تو ہکا بکا رہ گیا پھر تن بدن میں آگ لگ گئی..

بھناتا اس کی جانب بڑھا..
یہ کیا بے ہودگی ہے….. وہ دھاڑا.
وہ جو اسے چادروں میں لپٹی ہوئی کو اٹھا کر لایا تھا.. ایسے بے ہودہ لباس میں دیکھ کر جل ہی تو گیا.
مگر شاید بھول گیا کہ وہ باہر چادر میں ہی تھی.. اور اب بس اپنے شوہر اپنے محرم کے سامنے ایسے تھی.

وہ… مم… میں نے. انکار کیا تھا.. مم. مگر ریما.. آپی. نن.

اس کی بات پوری نہیں ہوئی تھی کہ اس نے آ کر بازو سے اسے سختی سے دبوچا…ایک ہاتھ چہرہ سخت گرفت میں لیا….

آئندہ جتنا جسم کا حصہ کپڑے کے بغیر ہوا… اتنے حصے کو تیزاب ڈال کر جلا دوں گا سمجھیں..جیسے لایا تھا خود کو ویسے ڈھانپ کر نہیں رکھا تو جان لے لوں گا تمھاری.. وہ غرایا

چھوڑیں مجھے درد ہو رہا ہے.. مم میں نے کہا نا رر. ریما آ…. آپی نے. وہ مچلی
مگر راسم کے تو ہوش ہی اڑ چکے تھے…

اتنے قریب وہ نرم و نازک خوشبوؤں میں بسا وجود.اس کا دو آتشہ حسن اور چھلکتی رعنائیاں .. اور اس پر متضاد ملکیت کا احساس.. اسے بہت کچھ کرنے پر اکسا رہا تھا..

چھوڑیں… مم….. بلکل اچانک ہی راسم نے پورے حق سے جھک اس کی بولتی بند کی تھی.اور اس کی سانسیں اپنی سانسوں میں الجھائیں..کمر کو آہنی گرفت میں لے کر خود میں بھینچا…

لمس دہکتا، جان لیوا سا تھا… فانیہ تڑپی… ابھی اس ظالم کی قربت میں بھی جیسے وہ اسے اذیت ہی دے رہا تھا..
کچھ کمر میں کیلوں کی طرح چبھتی اس کی انگلیاں.

وہ بے تحاشا رو دی.

فانیہ کے آنسو جب اس کے گریبان میں گرے تو اسے ہوش آیا.
اسے پیچھے مڑ کر بیڈ پر پٹخا… کمفرٹر اٹھا کر اس کے اوپر گرایا پھر ایک ہاتھ سے اس کا منہ دبوچا.

میری بات غور سے سنو….. پہلی اور آخری مرتبہ بول رہا ہوں… جب بھی میں کمرے میں آؤں خود کو اس کمرے میں بند کر لینا.
راسم نے اس کمرے کے نلکل ساتھ والے ملحقہ کمرے کی طرف اشارہ کیا.. میرے سامنے مت آنا…. دور رہنا مجھ سے…. نہیں تو حشر بگاڑ دوں گا…. یا مر جاؤ گی میرے ہاتھوں..

وہ کیتا تن فن کرتا باہر نکلا تھا.
فانیہ نے سسکتے سکون کی سانس لی مگر کچھ ہی دیر میں وہ پھر دھاڑ سے دروازہ کھول کر اندر داخل ہوا.اور دروازہ لاک کیا.

فانیہ کی سانس ایک مرتبہ پھر اٹکی مگر وہ کمفرٹر میں دبکی رہی..

راسم نے لا کر اس کا بیگ بیڈ پر پھینکا..
اٹھ کر چینج کرو یہ بے ہودہ لباس… وہ دھاڑا.. مگر وہ کمفرٹر میں منہ دے گئی.

اب اٹھتی ہو کہ یہ کام بھی میں کروں…… وہ بوکھلا کر اٹھی.. اور بیگ اٹھایا.
راسم نے اس کی جانب سے رخ موڑ لیا..
مگر گھبراہٹ میں اس سے بیگ کی زپ بھی نہیں کھل رہی تھی..

چوڑیوں کی کھنکتی چھنکار نے پھر راسم کا دماغ گھمایا.

دوسرے کمرے میں دفاع ہو جاؤ… گیٹ لاسٹ… وہ پھر دھاڑا..
وہ بیگ اٹھا کر چھپاک سے دوسرے روم میں آئی پیچھے مڑ کر لاک لگایا اور لمبی سانس کھینچ کر وہیں بیٹھتی چلی گئ…
کھڑوس…. جلاد کہیں کے….. دل میں کوسا…

لیکن جب اپنے حلیے پر پھر نظر پڑی تو کانوں تک سرخ ہوئی…
اچھا ہے.. وہ غصہ نا ہوتے تو کیا کرتے… کتنا گندہ لباس ہے یہ…… اور شکر ہے کہ غیرت والے ہیں… میری حفاظت کریں گے.

وہ دل میں خوش ہی ہو رہی تھی.. اس کے ہر عمل سے…
اونہہ…. آرام سے نہیں بول سکتے تھے..تیزاب پھینک دوں گا.. مار دوں گا.. منہ بنا کر دل میں اس کی نقلیں اتاری.

وہ پھر جھلائی.
مگر خود ہی ہنس دی..

ادھر آج راسم کے بستر پر کانٹے سے اگ آئے تھے..بری طرح ڈسٹرب تھا… نیند تھی کہ آ کر نہیں دے رہی تھی..
رگوں میں خون کی بجائے جیسے دہکتا لاوا دوڑ رہا تھا..
دل تو کر رہا تھا ابھی اٹھے اور اس کا سکون برباد کرنے والی کا حشر بگاڑ دے.

ایسا کر بھی گزرتا. جتنا طیش میں تھا.
اگر ریشماں کا خیال نہیں ہوتا تو.

🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺

اگلے ایک دن میں انھوں نے اپنے ضروری کام نمٹائے تھے.
کل انھوں نے مختلف شہروں میں اپنے کام نمٹانے کے لئے جانا تھا..

اپنی ضروری تیاری کر رہے تھے.
کیونکہ کام ان کا تھا اور نظر دشمنوں کی تھی ان پر..

سوہم نے پیپر تیار کر لئے تھے… بظاہر وہ لاپرواہ سا اپنی جان چھڑانے چلا تھا.
مگر نہیں جانتا تھا کہ خود کو کس عذاب میں جھونکنے چلا تھا.

اگلے دن
پاشا اور کبیر، رجا اور ریما. جہلم جا رہے تھے.
راسم سوات
سوہم اور کومل فیصل آباد کے لئے روانہ ہوئے….

🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺

وہ لاش ایک بہت بڑے بیسمنٹ کے فرش پر پڑی تھی.
پاس ہی ایک سانڈ نما درندہ اور شیطانی خباثت لئے ایک شخص دوزانو اس کے پاس بیٹھا تھا.

آس پاس ہی ڈھیر سارے آدمی اسلحہ پکڑے کھڑے تھے. ان کے ماتھے اور ہتھیلیاں پسینے سے بھیگی ہوئیں تھیں..
کیونکہ سامنے جسکی لاش تھی.

وہ ایک بہت بڑے سیاسی لیڈر اور جرم کی دنیا کے بے تاج بادشاہ، بادشاہ دادا کا بھائی تھا

وزیر… میرے بھائی اٹھو… جو فرمائش کرو گے پوری کروں گا.. اب تمھیں منع نہیں کروں گا.

جب لاش میں سے کوئی آواز نہیں آئی تو وہ اٹھا اور ایک آدمی کے ہاتھ سے خنجر چھین کر اس کی جانب لپکا جسے اس نے وزیر کی حفاظت کے لئے رکھا تھا
اور سیکنڈوں میں اس کے پیٹ میں خنجر گھونپ گھونپ کر خون کی ندی بہا دی..

کتوں، حرام خوروں وہ آئے اور آ کر میرے بھائی کو مار کر چلے گئے..اور تم لوگ تماشا دیکھتے رہ گئے
تم سے اچھی تو وہ جلادوں کی ہیجڑوں کی فوج ہے..
جو اپنا کام تو ٹھیک سے کرتے ہیں…

میں بھی تم لوگوں کو جہنم رسید کر کے ہیجڑے ہی نا پال لوں…
وہ… سر……. بابا ہمیں بتایے بغیر اس ہوٹل میں گئے تھے.. ایک آدمی گھگھیاتے بولا.

اب حرامزادو.. میرا منہ کیا دیکھ رہے ہو زمین کھودو یا آسمان… مجھے پاشا کا اور اس کے کتوں کا سر چاہیے..
بہت ٹانگ اڑا لی اس نے میرے کاموں میں…. بہت برداشت کر لیا میں نے.
ان کی کمزوری ڈھونڈو.. گھر والے، بچے یا ان کی رکھیل کچھ بھی..

میں اب خود ان کا سر کچلوں گا… بادشاہ دادا سے الجھ کر بہت بڑی غلطی کر سی انھوں نے..
اب جاؤ ڈھونڈو انھیں….

🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺