Rate this Novel
Episode 8
زمل کچن میں کھانا بنا رہی تھی کہ نومی افتاں خیزاں گھر میں داخل ہوا تھا.
آپی…. آپی… اس نے زور دار آوازوں سے پکارا..اس کا سانس پھولا ہوا تھا.
زمل گھبرائی.
کیا ہوا نومی…. کیا بات ہے.. اتنے گبھرائے ہوئے کیوں ہو…
وہ زمل آپی… سیفی کو کچھ غنڈے گن پوائنٹ پر زبردستی اپنے ساتھ گھسیٹ کر لے گئے..
کیا…زمل کو شاک لگا… غصے سے چہرہ لال ٹماٹر ہوا..
یہ یقیناً اس سامنے والے غنڈے موالی کا کام ہے.. اب تو میں پولیس اسٹیشن کمپلین کر کے ہی رہوں گی.. وہ غصے سے پھنکاری..
نہیں زمل آپی… کبیر بھائی کہ سب آدمیوں کو جانتا ہوں میں.. وہ نہیں تھے… وہ کوئی اور ہی تھے…
اب کیا کریں گے؟
ٹھیک ہے میں چادر لے کر آتی ہوں پولیس اسٹیشن کمپلین لکھاتے ہیں…
پولیس اسٹیشن گئے.. زمل نے زمین آسمان ایک کر دیا.. مگر کسی کے سر پر جوں تک نا رینگی..
کوئی بات سننے کو تیار ہی ناں تھا..
اوپر سے جو جیل میں آنے جانے والے غنڈے موالی تھے.. عجیب غلیظ نظروں سے اسے گھور رہے تھے.. آخر جب وہ ٹس سے مس نا ہوئی.. تو ایک لیڈی کانسٹیبل نے ہی اسے کہا کہ کیوں اپنی بھی عزت خراب کر رہی جاؤ اپنے گھر یہاں تمھاری کوئی نہیں سنے گا..
وہ گھر آئی..
پوری رات گزر گئی… جہاں ممکن ہوا وہاں ڈھونڈا… اب تو حوصلہ ہار چکی تھی.
کوئی مدد کرنے کو تیار نہیں تھا..
بابا بھی بار بار پوچھ رہے تھے..
ساری رات آنکھوں میں کاٹی برے برے خیال دل و دماغ پر حاوی تھے.. اور اعصاب چٹخا رہے تھے.
صنف نازک تھی
کب تک برداشت کرتی صبح ہونے تک ہار چکی تھی…
رو رو کر آنکھیں بھی خشک ہو چکی تھیں..
نومی پاس ہی تھا….
اور اب صبح کے دس بج چکے تھے..
نومی نے زمل کو ایک اور راستہ دکھایا…
آپی اب ہماری مدد صرف کبیر بھائی ہی کر سکتے ہیں… اگر اس نے حامی بھر لی تو وہ بہت طاقتور ہیں.. بڑی آسانی سے ہماری مشکل حل ہو جائے گی اور سیفی بھی مل جائے گا.
اور وہ غنڈہ موالی جس کے لئے پیسہ ہی سب کچھ ہے وہ ہماری مدد کیوں کرے گا… زمل تلخ ہوئی..
ہے تو ناممکن سی بات مگر آپی کوشش کرنے میں کیا حرج ہے…. نومی کہہ کر خاموش ہو گیا..
وہ دونوں چند گھنٹے اور خوار ہوئے… نومی پتہ نہیں کہاں تھا.. وہ ناکام لوٹ آئی… اب تو دل بھی بیٹھا جا رہا تھا.
آخر تھک گئی
ہار گئی
شکست تسلیم کر گئی..
وہ اتنے نازک کندھوں پر یہ بار اور نہیں سہہ پائی قدم خود بخود سامنے والے گھر کی طرف مڑے..
❤️🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺
پاشا اور رحاب شام ڈھلے گھر لوٹے تھے…
راستے بھر پھر پاشا نے اسے مخاطب کرنے کی کوشش نہیں کی تھی…
وہ باہر مناظر میں کھوئی ہوئی تھی..
اور بس پاس بیٹھے شخص کے بارے میں سوچے چلی جا رہی تھی..
گاڑی گیٹ سے اندر داخل ہوئی..تو رحاب کا سوچوں کا تسلسل ٹوٹا..
وہ دونوں گاڑی سے باہر آئے.. سامنے سے آتی ریما یہ منظر دیکھ کر جی جان سے جھلس گئی.. وہ تو سمجھی تھی ہمیشہ کے لئے اس سے جان چھوٹ گئی.
مگر وہ تو پاشا کے پیچھے پاشا کی پشت کو دیکھتی چھوٹے چھوٹے قدم اٹھاتی اندر کی جانب بڑھ رہی تھی..
پاشا نے زرا سا گھوم کر اسے کمرے میں جانے کا اشارہ کیا
وہ چپ چاپ اسی کمرے میں چلی گئی جہاں پہلے رہی تھی.
پاشا ریما کی طرف بڑھا.
ملا وہ آدمی…. اس نے ریما سے پوچھا.
بلکل پاشا پر حملہ کر کے جائے گا کدھر. ناصر نے لاہور سے تحفہ بھیجا ہے. ہوٹل سے نکلتے ہی ہماری گرفت میں تھا. ریما نفرت سے بولی.. بادشاہ کا ہی آدمی تھا.
تھا مطلب ٹھکانے لگا دیا.. وہ غصے سے پھنکارا.
ریما اچھلی… نہیں ابھی بیسمنٹ میں ہے.. مگر کیوں
جواب دینا ضروری نہیں سمجھتا..میرے پیچھے کوئی نا آئے. یہ کہہ کر پاشا پچھلی جانب سے بیسمنٹ میں گیا..
پچھلی دیوار میں بنے ایک ڈھلانی دروازے کو نادر نے کھولا وہ اطمینان سے نیچے کی سیڑھیاں اترا.
وہ کرسی پر رسیوں سے جکڑا بیٹھا تھا.. جس نے ہوٹل میں پاشا پر حملہ کیا تھا.. لائٹ آن ہوئی..
اور اس شخص نے اس لمبے قدوقامت کے حامل چوڑے کسرتی جسامت والے سرخ و سفید موت کے فرشتے کو سیڑھیاں اترتے دیکھا.
جو مخصوص سٹائل میں پینٹ کی پاکٹوں میں ہاتھ ڈالے سگریٹ منہ میں دبائے نیچے اترا تھا.
اس شخص کا چہرہ لٹھے کی طرح سفید ہوا… انڈر ورلڈ میں کون نہیں جانتا تھا کہ پاشا کی دی گئی موت کا درد تو مرنے کے بعد بھی ہوتا ہوگا..
وہ آ کر سامنے رکھی کرسی پر اطمینان سے بیٹھ گیا.
وہ… پپ.. پاشا… مم.. مجھے معاف کر دو… مجھے جانے دو.. میں بادشاہ کا سر تمھارے قدموں میں رکھ دوں گا…
تمھیں کیا لگتا ہے.. بادشاہ کا سر قلم کرنا میرے لیے مشکل ہے… پاشا کا لہجہ صاف تمسخرانہ ہے.. ابھی خود ہی اس کو ڈھیل دے رکھی ہے…
پاشا نے اپنی شرٹ کی سیکرٹ پاکٹ سے وہ تیز دھار آلہ نکالا جسے آپریشن کے دوران جسم چیرنے کے لئے استعمال کرتے ہیں.
وہ اس کے ہاتھ میں آلہ دیکھ کر گھگھیا گیا..
سنو.. میں تمھیں جانے دیتا.. مگر تمھاری وجہ سے اسے چوٹ پہنچی… اس کا خون بہا…جس سے مجھے پہلی مرتبہ تکلیف ہوئی… جو میں برداشت نہیں کر سکا..پاشا کا سرسراتا لہجہ.. موت جتنا سرد
یہ کہہ کر پاشا اس کی دونوں کلائیاں کاٹ چکا تھا..
وہ چنگھاڑا…
میں تو اسی وقت تمھاری کھال کھینچ لیتا.. مگر اس کی موجودگی نے تمھاری سانسیں چند گھنٹوں کے لئے بڑھا دیں.
وہ آلہ سانپ کی طرح اس شخص کے پورے جسم پہ رینگ رہا تھا… جلد ہی وہ ٹھنڈا پڑ گیا.. مگر پاشا کا ہاتھ رکنے کا نام نہیں لے رہا تھا.
ہر اس شخص کا یہی انجام ہوگا جو اسے تکلیف پہنچائے گا….. وہ پھنکارا.
اس وقت پاشا اپنے حواسوں میں نہیں لگ رہا تھا..
اس کا تو شاہینہ اور وسیم کو بھی اسی انجام تک پہنچانے کا دل بڑی شدت سے چاہا تھا..
وہ ایسا کر بھی گزرتا اگر وسیم رحاب کا سگا بھائی نا ہوتا.. وہ اس کی فیملی کا حصہ نا ہوتے..
پاشا نے اطمینان سے اب وہ آلہ اسی کی لاش سے صاف کیا اور مٹھی میں دبائے سیڑھیاں چڑھنے لگا..
🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺
زمل نے ایک مرتبہ پھر اسی دہلیز پر پاؤں رکھے.
مگر آج اس کے کندھے جھکے ہوئے تھے.. وہ ٹوٹی بکھری حالت میں تھی…
بڑی سی چادر سے خود کو چھپائے اس نے آدھا چہرہ بھی چھپا رکھا تھا.
لاؤنج میں آئی چند خوفناک سے آدمی اور وہ اس دن والی لڑکی وہیں تھیں…
کدھر…. کہاں منہ اٹھائے چلی آ رہی ہو… رجا کو غصہ آیا..
وہ ممم. مجھے کبیر سے ملنا ہے…
کیوں…. کیوں ملنا ہے کبیر سے….
وہ میں انھیں کو بتاؤں گی… پلیز ایک مرتبہ بلوا دیں.. وہ بے بسی سے بولی کچھ تو تھا اس کے لہجے میں جو رجا نے نادر کو اشارہ کیا..
نادر نے اوپر جا کر کبیر کا دروازہ کھٹکھٹایا…
ان لوگوں نے واپس جانے کی تیاری مکمل کر لی تھی ..
اور نکلنے ہی والے تھے.کیونکہ پاشا بھی آ چکا تھا..
دروازے تک آیا.. مگر نادر کی اگلی بات سن کر میٹر شارٹ ہوا..
چلو میں آتا ہوں…
اپنا والٹ موبائل اور گاڑی کی چابی اٹھائی…
اور تن فن کرتا نیچے اترا.
سامنے ہی وہ ٹوٹی بکھری حالت میں صوفے پر سر جھکائے بیٹھی تھی… کبیر کو اس کی یہ حالت دیکھ کر اور آگ لگی
وہ تو پہلے ہی اس آسیب سے جو اس کی جان کو چمٹا جا رہا تھا.. واپس بھاگنے کے چکروں میں تھا.
وہ پھر چلی آئی تھی اس کا سکون برباد کرنے..
اسے دیکھ کر زمل کھڑی ہوئی..
مگر
کیا بات ہے ٹیچر صاحبہ… کوئی پارک یا شاپنگ مال سمجھ رکھا ہے اس گھر کو جو جب جی چاہے منہ اٹھائے چلی آتی ہو…
آج اس کا جھکے کندھے کبیر کو تکلیف دے رہے تھے اسی لئے غصے سے پھنکارا.
وہ ممم… میں… اب آ تو گئی تھی مگر آنسوؤں کا پھندا سا تھا جو گلے میں اٹک گیا تھا.
کبیر نے وہاں سے سب کو جانے کا اشارہ کیا.. رجا کو بھی.
اب بولو وقت نہیں میرے پاس… ہمیں واپس جانا ہے.. کبیر نے اسے جھڑکا..
وہ سیفی کو کک… کچھ لوگ لے گئے.. مم.. میں نے بہت ڈھونڈا.. مم… مگر نہیں ملا… کیا آپ میری مدد..
نہیں… میں کچھ نہیں کر سکتا… جا رہا ہوں… ویسے بھی یہاں میں نے فلاحی ادارہ نہیں کھول رکھا.. جو دوسروں کی مدد کرنے کے لیے بیٹھا رہوں .. وہ بے رحم بنا..اور اس کی جانب سے رخ موڑا جیسے کہہ رہا ہو.
بول دیا.. اب جا سکتی ہو…….
وہ آخری امید ٹوٹتی دیکھ زمل بھی ٹوٹی تھی.. بکھری تھی.. اب تو اپنا بھی بوجھ اٹھانے کی سکت نا رہی تھی جیسے.. اسی لئے فرش پر بیٹھتی چلی گئی.
زمل اس کے قدموں کے قریب فرش پر دوزانوں بیٹھی ہاتھ باندھے لبوں پر رکھے.. پھوٹ پھوٹ کر رو دی تھی.
میری مدد کرو… پلیز ہیلپ می…اس کے آنسو اس کے قدموں کے قریب گر رہے تھے..
وہ جو دعوا کر کے گئی تھی کہ اب کبھی اس کی شکل نہیں دیکھے گی اب اسی کے قدموں میں بیٹھی تھی..
وہ پیٹھ موڑے کھڑا اپنا ضبط آزما رہا تھا.
کبیر کو لگا وہ آنسو نہیں….. اس کے دل کا خون نچڑ کر فرش پر گر رہا ہے.
بے بسی سے لب کچلے.. اقرار کر نہیں رہا تھا. اور دل انکار کرنے کی نیت پر ہی پھٹنے کو تھا..
مم.. میرے پاس یہ میری مما کی چین ہے.یہ تم لے لو.. مم… میں . اور بھی پیسے دوں گی پر میری مدد کرو… اس نے سسکتے بند مٹھی کبیر کی جانب بڑھائی.
کبیر axecutioner اور پتھر دل ہونے کے باوجود اب یوں لگ رہا تھا کہ اسکا دل شدت غم سے پھٹ جائے گا. اس لڑکی کے آنسو اور دکھ اسے اپنی رگوں میں دوڑتا محسوس ہوا..
دل کیا پیچھے مڑے جھک جائے.. سر تسلیم خم کر لے. اسے سینے میں بھینچ لے.. اس کے آنسو اپنے لبوں سے چن لے.. اس کا ہر غم مصیبت پریشانی اپنے سر لے لے…
کبیر نے بے بسی سے اس چھوٹی سی لڑکی کو دیکھا.پھر بے حد جھجھکتے اس کی جانب ہاتھ بڑھائے
. اور جھک کر اسے بازوؤں سے تھاما…
اٹھو.. اس نے بازوؤں سے کھڑا کر کے اسے جھنجھوڑا.. کبیر کو تو زمل کا اس دن والا روپ اچھا لگا تھا. جب وہ اس کی آنکھوں میں آنکھیں ڈالے پھنکاری تھی.
لیکن آج وہ اپنے ساتھ ساتھ کبیر کو بھی توڑنے پر تلی ہوئی تھی.. جس سے کبیر سخت جھنجھلایا.
بند کرو یہ میلو ڈرامہ… کروں گا ہیلپ… چپ بلکل چپ..وہ دھاڑا.. اب اگر ایک بھی آنسو گرا تو واپس چلا جاؤں گا.. پھر ڈھونڈ لینا خود ہی..
کبیر کی انگلیاں اس کے بازوں میں بے دردی سے گڑھی ہوئی تھی.
کبیر نے اسے چھو لیا تھا…
اور اس پل اسے لگا جیسے اسے چھونے سے وہ خون بن کر اس کی رگ رگ میں دوڑ گئی ہے دھڑکنوں میں سما گئی ہے.
اب کبیر اس سامنے کھڑی بلا سے کبھی دور نہیں جا پائے گا.. اس جادوگرنی کے جادو سے چھٹکارا ممکن ہی نہیں..جس نے اتنے دنوں سے اس کے دل و دماغ پر بری طرح اپنا قبضہ کر لیا تھا.
محبت الہام بن کر کبیر پر اتری تھی.. اس نے دل میں سر تسلیم خم کیا کہ اسے سامنے کھڑی لڑکی سے عشق ہے..
محبت سرور بن کر دل و دماغ پہ چھائی.
تو اسے اپنا بنانے کی قسم کھائی.
فیصلہ منٹوں سیکنڈوں میں کیا تھا…..
جس کے بغیر اب ایک پل بھی گزارہ نا ممکن تھا…… اسے بس اپنا بنانا تھا…
سادہ سے بلیک سوٹ کے اوپر بڑی سی میرون شال میں لپٹی وہ اس کی جان کا آزار بن گئی تھی.. کبیر کی آنکھیں بے چینی سے اتنے دنوں کی دیدار کی پیاس بجھا رہی تھی.
دل کیا اسے سینے میں بھینچ لے.
مگر ابھی اسے کوئی حق نہیں تھا اس کے قریب جانے کا.
وہ اب بھی کھڑی سوں سوں کر رہی تھی.. مگر اب چہرے پر سکون تھا.
وہ چونکی.. کیونکہ اب بازوؤں میں تکلیف ہونے لگی تھی.. مقابل کی گرفت میں بہت شدت تھی..وہ کسمسائی.
تو کبیر نے نرمی سے اسے چھوڑ دیا.اور. فون ملایا..
ہاں نادر سیف کے بارے میں کوئی خاص انفارمیشن..
یس سر. . اس کو اس دن بادشاہ کے آدمیوں نے دیکھ لیا تھا.. اسی لئے اٹھایا……. ہم تک پہنچنے کے لئے..
تو ٹھیک ہے ٹھکانے کا پتہ لگاؤ اسے جلد بازیاب کرانا ہے..
زمل کے دل کی دھڑکن بے ترتیب ہوئی..
کبیر نے فون بند کیا تو زمل نے بے چینی سے سوالیہ نگاہوں سے اسے دیکھا.
مل جائے گا… کبیر نے مختصر سا کہا..زمل کو تسلی ہوئی
ہے کہاں وہ؟
جہاں بھی ہوا.. میں تمھارے پاس اسے ڈھونڈ لاؤں گا..مگر اس سے مجھے کیا ملے گا..
زمل شرمندہ ہوئی اس کے پاس پیسے نہیں تھے… یہ… یہ چین اور میں اور بھی پپ… پیسے
نہیں چاہیں..کبیر اتنی معمولی چیزوں کے لئے کچھ نہیں کرتا….کبیر نے بغور اسے دیکھا
تت.. تو پھر… وہ شدید نروس ہوئی.
اپنے بھائی کے لیے…. اس دن کی طرح اپنی جان داؤ پہ لگاؤ… نکاح کر لو مجھ سے.ابھی اور اسی وقت . تو سوچ سکتا ہوں.. وہ اطمینان سے بولتا اس کے سر پر بم پھوڑ چکا تھا..
زمل نے پھٹی پھٹی آنکھوں سے اس بے حس اور خود غرض شخص کو دیکھا.. جو زمل کے مطابق اپنی نفسانی خواہشات پوری کرنے لیے اس کی مجبوری کا فائدہ اٹھا رہا تھا…..
مگر فی الحال وہ سیفی کو ڈھونڈنے کے لئے ہر حد پار کرنے کو تیار تھی. جاں سے گزرنے کے لئے تیار تھی.. اپنی جان سولی پر لٹکانے کو بھی تیار تھی.اسی لئے
مجھے منظور ہے…. بے بسی سے کہتی وہ سامنے والے کو دنیا کی سن سے بڑی خوشی دے چکی تھی..
🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺
اس نے ساری بات سامنے کھڑے پاشا کا بتائی تھی.
بھائی میں اس سے نکاح کرنا چاہتا ہوں.
سمجھو ہو گیا… پاشا نے اطمینان سے کہا.. کبیر کو لگا جو انھوں نے اپنے لئے اصول بنائے تھے پاشا سے ڈانٹ پڑے گی مگر.
بھائی.. وہ اس سے لپٹ گیا..
پانچ منٹ میں اسے لاؤنج میں لے کر آ جانا.. میں انتظام کرتا ہوں… پھر واپسی کے لیے نکلنا ہے..
ان تینوں کو بھی وہیں لے جانا… اور میں نے جو تمھارے لیے گھر خریدا تھا اس میں رہ لینا..
مگر سیف
مل جائے گا.. بھروسہ رکھو.. پاشا اطمینان سے بولا.
اور پھر ٹھیک پانچ منٹ بعد ہی وہ لاؤنج میں بیٹھی اپنی زندگی کا ایک اہم ترین بندھن ایک غلط ترین بندے کے ساتھ باندھ چکی تھی..
وہ بے بسی کے احساس سے پھوٹ پھوٹ کر رو دی…
ہر طرف مبارک باد کو شور اٹھا.
نادر اور اس کے بندوں نے فائرنگ کی.
ہلکی داڑھی اور تنی مونچھوں کے نیچے کبیر کے عنابی لبوں پر دلفریب سی مسکراہٹ تھی..
رجا اور ریما بھی اس کے پاس بیٹھی تھیں اور زبردستی مٹھائی اس کے منہ میں ٹھونس رہیں تھیں.
پاس بیٹھی زمل عجیب نظروں سے یہ سب دیکھ رہی تھی اور اپنی قسمت سے شکوہ کناں تھی.
🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺
رحاب کمرے میں بیٹھی تھی
باہر سے شور شرابے کی آوازیں آ رہی تھیں..
مگر وہ پاشا کی اجازت کے بغیر کمرے سے نہیں نکل سکتی تھی..
اسے کہا گیا تھا کہ کچھ ہی دیر میں انھیں کراچی کے لئے نکلنا ہے.. اور وہ تیار بیٹھی تھی.
وہ مسلسل اور بلکل بے اختیار پاشا کے بارے میں سوچ رہی تھی…
انھوں نے ایسا کیوں کیا؟
کیوں دلائی مجھے آزادی.؟
میری آزادی کی بھاری قیمت کیوں ادا کی؟
کیوں اتنا سب کچھ کیا میرے لئے…اور ان سب سوالوں کا دل جو جواب دے رہا تھا وہ کب سے اپنے منہ زور بدتمیز دل کو چپ کروا کر ڈپٹ رہی تھی
مگر اس کی ایک ہی گردان تھی کہ.
کیا وہ مجھ سے محبت….. شرمیلی سی مسکان خود سے ہی چھپانے کو اپنا چہرہ ہاتھوں میں چھپایا.
اور ہوٹل میں بھی تو میری چوٹ دیکھ کر کیسے تڑپ گئے تھے..
اففففففف
وہ سوچ کر ہی شرم سے دوہری ہو رہی تھی
چہرہ لال ٹماٹر ہو گیا…
اور میں…. اس نے اپنے دل کو ٹٹولا…
اس نے دل کو آزمانے کو زیرِ لب عقیدت سے نام دہرایا….اور صرف لب ہلا پائی.
پاشا….. دل نے بیٹ مس کی.. وہ خود سے ہی بوکھلائی.. دل ایک سو بیس کی رفتار پکڑ چکا تھا.
دل کے بلکل کورے کاغذ پر پہلا نام تحریر ہو چکا تھا…
خود سے ہی بے تحاشا گھبرا کر بیڈ میں کمفرٹر میں گھس گئی..
🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺
ریشماں سے پوچھ چکی تھی کہ کیا گھر کال کر سکتی ہے بس ماں کی خیریت معلوم کرنی ہے…..
ریشماں نے اجازت دے دی تھی… اب اسے اس کھڑوس کی اجازت کی ضرورت نہیں تھی.
کپکپاتے ہاتھوں سے نمبر ملایا.
ماں کا تو زبانی یاد تھا..
رسیو ہوا.. کمزور سی آواز میں بولا گیا… ہیلو کون…
مما… میں فانیہ بات کر رہی ہوں…. کیسی ہیں آپ؟بھیھا لہجہ ماں کو ہلا گیا
بچی میری بچی… نسیمہ تڑپی.. مجھے معاف کر دو میں نایاب کی باتوں میں آ گئی.. بغیر تصدیق کیے.. یہ جانتے ہوئے بھی کہ میری بیٹی ایسی نہیں ہے….
اور جانتی ہو اس نے میرے ساتھ کیا کیا…
پھر جو اس کی ماں نے بتایا اس کے پیروں کے نیچے سے زمین کھسکنے کو کافی تھا..
فانیہ واپس لوٹ آؤ.. میرا تمھارے علاوہ اس دنیا میں کوئی نہیں رہا.. نسیمہ رو رہی تھی
مما میں کراچی میں ہوں مگر محفوظ ہوں.. مگر آپ فکر مت کریں میں ابھی کہ ابھی آپ کے پاس آنے کے لئے نکلتی ہوں…
فون رکھا..
اس واقعے کے بعد بھی راسم سے چند دفعہ ڈانٹ پھٹکار کھا چکی تھی.
یقین پختہ ہو گیا کہ واقعی وہ زبردستی اس کے سر پر مسلط ہے
پلینگ تو پہلے ہی کر چکی تھی.
اب ماں کی بات سن کر بس عمل کرنا تھی.
پنکی اور اس کی چیلیاں. جا رہی تھیں اسلام آباد.. اسے انھیں کی گاڑی کی ڈگی میں چھپنا تھا..
ریشماں سے کہا لان میں جا رہی ہے..
لان میں آئی سب سے چھپ چھپا کر بظاہر پنکی نے جو بڑی گاڑی تیار کروا رکھی تھی.
اس کی ڈگی میں چھپ گئی.
چند لمحوں کا ہی انتظار کرنا پڑا… گاڑی گیٹ سے نکلتی محسوس ہوئی.
🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺
اسے بولا تھا کہ مجھ سے دور رہو مگر ہر رات اس کے سرہانے گھنٹوں بیٹھ کر اسے دیکھتا اور اس کے بالوں میں انگلیاں پھیر کر اسے محسوس کرتا تھا.
راسم دروازہ کھول کر اندر داخل ہوا…
سینے میں سانس اٹکی…خالی بیڈ دیکھ کر.
واش روم میں بھی نہیں تھی.
پاگلوں کی طرح پورا وائٹ پیلس کنگھال لیا…
مگر کہیں ہوتی تو دکھتی.
روح فنا ہوئی…. یہ سوچ ہی جان لیوا تھی کہ وہ اس روم میں موجود نہیں. وائٹ پیلس میں موجود نہیں…
اور پھر جو ریشماں نے بتایا وایٹ پیلس کی چھت اس کے سر پر گری تھی..
ریشماں پہلے ہی اس کی غیر موجودگی نوٹ کرتے ہوئے پور پیلس کنگھال چکی تھی..
لال انگارہ آنکھیں اور لہو ٹپکاتا چہرہ.. دل کیا دنیا تہس نہس کر دے..
فانیہ… یہ کیا کیا تم نے…فکر مت کرو چاہے زمیں کھودنی پڑے یا آسمان کنگھالنا پڑے.. ڈھونڈ ہی لوں گا تمھیں . اب اگر مل گئی تو میرے ہاتھ ہی مرو گی…
وہ ماہی بے آب کی طرح تڑپا.
🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺
