Rate this Novel
Episode 5
سوہم نرمی سے اسے بانہوں میں بھرے بیٹھا تھا.
جب فون رنگ ہوا.
قادر کا تھا..
اٹھا کر کان سے لگایا..
یس..
سر آپ نے علی کی ڈیٹیل مانگی تھی..
بولو… سوہم کا پھر موڈ خراب ہوا.
سر ہم سے غلطی ہوئی..
مطلب؟ پوری ڈیٹیل بتاؤ..
سر جب میم چودہ سال کی تھیں تو انھیں کوڑے کے ڈھیر سے ایک نو سالہ بے ہوش اور زخمی بچہ ملا.. وہ کسی طرح اسے حویلی لے آئیں.. اس کی دیکھ بھال کی.. یہ بھی کہہ سکتے ہیں کہ پالا اور پرورش کی کیوں کہ اس کی پہچان کے پیپرز میں گارڈین اور مدر کے نام پر میم کے نام ہے..
یہ تو اب اچانک اس نے قد نکال لیا.. ورنہ وہ پندرہ سال کا بچہ ہے اور میٹرک میں ہے..
اب آپ اچھی طرح سمجھ گئے ہوں گے کہ علی اور میم کا کیا رشتہ ہے اور وہ علی کے بارے میں اتنی حساس کیوں ہیں..
اور آج وہ دن تھا جب میم اسے لے کر آئیں تھیں وہ اسی دن اپنی برتھ ڈےمناتا ہے.. وہاں اس کے دوست اور میم کی فرینڈز بھی آنے والی تھیں..
سوہم کا دماغ جھنجھنایا.. قادر الو کے پٹھے.. پہلے نہیں نکال سکتے تھے ڈیٹیلز… اس لڑکے کو ہوسپیٹل لے کر گئے…
جی سر کروا دی ہے مرہم پٹی… ٹھیک ہے وہ..
سوہم کو پھر پچھتاوؤں کے ناگ نے ڈسا… افف یہ کیا کر دیا میں نے.. کچھ بھی سوچے اور سمجھے بغیر…
اور میں نے سوچ کیسے لیا میری روح ایسی ہو سکتی ہے کہ میری بیوی ہوتے ہوئے کسی اور میں دلچسپی لے..
سوہم نے گود میں ڈھلکے اس کے سر پر عقیدت سے بوسہ لیا…..
ضروری کال آئی.. تو نرمی سے اسے تکیے پر لٹایا.. کمفرٹر اوپر پھیلا کر باہر نکلتا چلا گیا…
🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺
کبیر رجا ریما اور پاشا شام ڈھلے تک وہاں پہنچے تھے..
پاشا کسی کام سے باہر گیا تھا.
اور ریما اور رجا کوبھی اس نے ایک کام سونپا تھا.
تو وہ بھی غائب تھیں…
جب کبیر کے آدمی اس کے پاس ایک ینگ سے لڑکے کو لے کر آئے..
سر یہ سیف ہے.. بلکل ہمارے جیسا.. آپ کے لیے کام کرنا چاہتا ہے
ہم پہلے ہی ایک دو کام کروا چکے ہیں اس سے.. کم عمر اور سٹوڈنٹ ہے اس لئے پولیس بھی شک نہیں کرتی..
ٹھیک ہے رکھ لو…
کنسائمنٹ کے لیے اسے ہی لے کرجانا..
ابھی فی الحال مجھے پاشا کے ساتھ جانا ہے
بعد میں دیکھتا ہوں..
یہ کہہ کر کبیر باہر نکلا تھا..
گاڑی میں بیٹھا.. خود ڈرائیونگ کر کے مطلوبہ جگہ پر پہنچا.
سامنے ہی پاشا اپنی گاڑی میں اس کا انتظار کر رہا تھا.
کوئی ضروری کام..؟ کبیر نے پوچھا،
ہاں.. بادشاہ کا بہت خاص…. سمجھو بایاں ہاتھ میرا سر کچلنے آیا ہے.. چلو جا کر اسے سرپرائز دیتے ہیں..
ہے کدھر وہ؟
فی الحال تو rohtas fort. میں چھپا بیٹھا ہے.. ہم بھی ٹورسٹ کے گیٹ اپ میں ہی جائیں گے..کیمرا لائے.
ہاں لایا ہوں… بھائی..
میں نے کتنی مرتبہ کہا ہے مجھے بھائی نا کہا کرو….
اب سگے بھائی کو بھائی نا کہوں؟ تو اور کیا کہوں.. یہاں ویسے بھی ہم دونوں بھائی ٹورسٹ ہیں.. Executioner نہیں.. کبیر پھیلتا پاشا کی گردن میں بازو حمائل کرتا بولا
اور انکھ ونک کی…
پاشا بھی مبہم سا مسکرایا… ایک یہی تو خون کا رشتہ بچا تھا دنیا پر اس کا… باقی سب تو……..
پھر وہ مکمل ٹورسٹ کا گیٹ اپ کر کے نکلے تھے وہاں سے..
🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺
رحاب ان آزاد فضاؤں میں آزاد پنچھی بنی فضا کے ساتھ گھوم رہی تھی..
قلعہ بہت خوبصورت تھا.. اور وہ شاید زندگی میں پہلی مرتبہ اتنا خوش ہو رہی تھی.
نیلی فراک کے نیچے نیلا پاجامہ اور نیلی بڑی سی شال میں وہ سادہ سے چہرے میں بھی ایسے لگ رہی تھی جیسے قلعہ کی شہزادی اپنی سلطنت میں گھوم رہی ہو..
فضا اسے اس قدر خوش دیکھ کر بول ہی پڑی.. رحاب اس جہنم میں واپس مت جانا یار بھاگ جاؤ کہیں..
رحاب پھر اداس ہوئی.. کہاں پر؟ وہ جیسی بھی ہے ایک محفوظ چھت تو ہے ناں… رحاب نے اشارہ کیا.. اور پھر اداس ہو گئی.
اچھا چھوڑو یہ سب….. مجھے بھوک لگی ہے.. مگر لنچ باکس بس میں ہی رہ گیا.. میں انعم کے ساتھ لینے جا رہی ہوں.. تم بے فکر ہو کر گھومو پھرو.. کافی سیکیورٹی ہے یہاں.. کوئی پریشانی نہیں..
فکر مت کرو.. میں ٹھیک ہوں.. رحاب نے اشارہ کیا..
فضا چلی گئی… وہ یونہی مسرور سی پچھلے زمانے میں جہاں شہزادیاں غسل کیا کرتی تھیں اس گھاٹ کی طرف گئی…
پاشا اور کبیر یونہی ادھر ادھر گھوم پھر کر جائزہ لے رہے تھے..
ٹورسٹ جو تھے. کافی سارے لوگوں کو روک کر ان کے امپورٹڈ کیمرے میں تصویر بنانے کو کہا..
کیمرا بہت ایکسپینسیو تھا….
لوگ پکڑتے اور بغیر پوچھے کے کیسے پک بنانی ہے اپنا رعب جھاڑنے اور یونہی کیمرا میں پنگے دے کر یہ جا وہ جا.
کبیر کو بے حد ہنسی آ رہی تھی.
مگر پاشا کہ سامنے ضبط کرتا رہا.
وہ اپنے ہدف کے قریب ترین تھے.. جب پاس سے ایک نیلے لباس میں شہزادی سی گزری..
ایکسکیوزمی میم…. کبیر نے پکارا.. ریحاب نے پیچھے مڑ کر دیکھا… کبیر کے دل میں شرارت تھی کیوں نا میم کی کھِلی اڑائی جائے..
پلیز ہماری ایک پک تو بنا دیں.. اس نے ریکویسٹ کی..اور کیمرہ آ گے بڑھایا….
پاشا بغور اس لڑکی کی جانب دیکھ رہا تھا..
رحاب نے کیمرا تھاما.. اور غور سے دیکھا..
پاشا نے نظریں ہٹائیں..
رحاب نے نے کبیر کی جانب دیکھ کر نفی میں گردن ہلائی..
او… کبیر کو حیرت ہوئی.. وہ پہلی تھی جو تسلیم کر رہی تھی کہ اسے وہ کیمرا چلانا نہیں آتا..
کبیر نے اسے ضروری سٹیپ بتائے
پاشا کی نظر جانے کیوں… مگر بار باربھٹک رہی تھی.
رحاب نے سمجھ کر اوکے کا اشارہ کیا..
وہ ایک طرف کھڑے ہوئے.. رحاب نے سمائل کا اشرہ کیا.. کبیر نے سمائل کیا.. مگر وہ دوسرا.
رحاب کی بیک بون میں سنسناہٹ ہوئی.. کتنی وحشت تھی ان نگاہوں میں اس نے جلدی سے پک بنائی.
کیمرے میں سے پک نکلی جو کہ بہت اچھی بنی تھی.
تھینکس.. کبیر نے شائستگی سے کہا..
وہ مسکرائی
پاشا نے بغور وہ گلابی لبوں کی مسکان دیکھی..
رحاب جلدی سے وہاں سے ہٹی.
وہ سر جھٹک کر وہاں سے آگے بڑھے..
کچھ دور جا کر پاشا نے کیمرے میں سے وہ بم نکالا..
مگر اس سے پہلے ہی.
پاشا میرا والٹ گر گیا.. کبیر نے پاشا کے سر پر بم پھوڑا.
واٹ… کبیر تم اتنی بڑی لاپرواہی کیسے کر سکتے ہو… پتہ ہے نا ہمارے والٹس میں کتنی ضروری انفارمیشن، مائیکرو چپس اور یو ایس بی ڈرائیوز ہوتی ہیں.. یو فول…
اگر وہ کسی دشمن کے ہاتھ لگ گیا تو وہ کتنی آسانی سے ہم تک پہنچ سکتے ہیں..
پاشا غرایا..
ائم سوری بھائی..
واٹ سوری اب ڈھونڈو.. وہ دھاڑا.
اس سے پہلے وہ کچھ اور کرتے.. فورٹ کے منیجمنٹ ہیڈ آفس سے اناؤنسمنٹ ہوئی کہ ایک والٹ ملا ہے جس کا ہے آ کر لے جائے.
وہ فوراً اس طرف گئے…
آفس داخل ہو کر پھر اسی شہزادی پر نظر پڑی. کبیر مسکرایا.
مگر پاشا جی جان سے جلا…
افف یہ لڑکی. پھر سامنے آ گئی… مرے گی میرے ہاتھوں.. وہ جھنجھلایا…
کبیر نے والٹ کا کلر وغیرہ بتایا اس نے مسکراکر والٹ کبیر کی جانب بڑھا دیا..
پہلے لیٹ ہو رہے تھے.. پاشا تن فن کرتا وہاں سے نکلا.
ادھر فضا کب سے رحاب کو ڈھونڈتی پھر رہی تھی.. اور وہ میڈم نکلی تھی سماج سیوا کرنے.
آفس سے نکل کر فضا کی تلاش میں بہت دور نکل آئی تھی.
اور پہاڑ کی کافی اونچائی تک آ گئی تھی
اب پریشان بھی ہو چکی تھی.
کہ تبھی ایک زور دار دھماکا ہوا.. وہ گھبرائی..
مگر ایک بڑا سا پتھر فضا میں بلند ہوا تھا جو اس کے سر پر بجا. اور وہ بے ہوش ہو کر وہیں گر پڑی.
🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺
ان کا کام ختم ہو چکا تھا..
وہ پاشا تھا….. پاشا… جسے جرم کی دنیا میں بھیڑیا، کہا اور مانا جاتا تھا.. ظالم، بے رحم اور سفاک..
وہ کوئی کام اپنے سر لیتا اور وہ مکمل نہ ہوتا.
ناممکن…
اپنے ٹارگٹ کو ایک چھوٹے مگر خطرناک بم سے اڑا چکے تھے
دشمن کا کام تمام ہو چکا تھا..
اور ان کے بخیے ادھڑ چکے تھے.
انھیں جلد از جلد وہاں سے نکلنا تھا. کیونکہ پبلک پلیس تھی سو کسی کی آنکھوں میں آنے کا خدشہ تھا.
مگر وہ کام اتنی صفائی سے کرتے تھے کہ دن دہاڑے بھی بھی نا کوئی گواہ نا ثبوت…. کچھ بھی نہیں
وہ تیزی سے پارکنگ کی طرف بڑھے.. جب پاشا کے تیزی سے چلتے قدم تھمے تھے…
نظر دائیں جانب اٹھی… اور اس نیلے آنچل پر ٹھہریں…
وہ شاید دھماکے سے زخمی ہوئی تھی اور اب گھاس پر ہوش وخرد سے بیگانہ بے ہوش پڑی تھی.
یہ وہی ہے ناں… جس نے والٹ واپس لوٹایا… پاشا نے پیچھے کھڑے کبیر سے پوچھا…
ہاں وہی ہے.. مگر تم کیوں رک گئے چلو… ہمارا یہاں رکنا ٹھیک نہیں… پاشا لیٹس گو…
اٹھاؤ اسے…. پاشا نے سنجیدگی سے کہا.
واٹ…. کبیر کو جھٹکا لگا.. غور سے پاشا کو دیکھا.. کیا واقعی یہ الفاظ اس نے پاشا کہ منہ سے سنے..
لیکن کیوں؟ کبیر نے پوچھا..
مجھے نہیں پتا.. لیکن اگر میں کہہ رہا ہوں کہ اٹھاؤ اسے تو مطلب اٹھاؤ. ..کبیر شاک کے عالم میں کھڑا ہی تھا کہ پاشا نے ایک خونخوار نظر کبیر پر ڈالی.
اب تو نہیں دیر ہو رہی.. وہ خود ہی آگے بڑھا اور سنجیدگی سے وہ نرم و نازک مومی گڑیا جیسا وجود بازوؤں میں اٹھا لیا..
اور اس افراتفری اور دھوئیں کے مرغولوں میں کسی کی نظروں میں آئے بغیر دھول اڑاتے وہاں سے غائب ہو گئے..
🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺
پاشا نے نرمی سے اسے پیچھے گاڑی میں لٹایا تھا…
فرنٹ سیٹ پر ایا..
چلو…
مگر………
شٹ اپ .. کبیر . لیٹس گو…
کبیر نے چپ چاپ گاڑی دوڑائی…. دو جگہ سے گاڑی بدلی اور پھر اپنے ٹھکانے پہنچے…
پاشا نے گاڑی سے اتر کر پھر اسے بازوؤں میں بھرا..
ڈاکٹر کو بلاؤ کبیر..
کبیر کو ایک مرتبہ پھر شاک لگا.
مگر عافیت اسی میں جانی کہ اپنے ایک بندے کو بھیج کر ڈاکٹر کو بلایا…
ریما اور رجا بھی حیرت سے پاشا کو دیکھ رہیں تھی
جب ریما تن فن کرتی پاشا کے پیچھے گئی..اس کے سینے پر سانپ لوٹے جس نے ایک عرصے سے پاشا کو دل کی اونچی مسند پر بٹھا رکھا تھا..
اب یہ بھی راسم کی طرح کسے اٹھا لایا تھا… وہ بھنائی
وہ رحاب کو بیڈ پر لٹا رہا تھا..
واٹ از دس؟ پاشا
واٹ…. وہ سرد سے لہجے میں بولا. کیونکہ آج تک اس سے سوال کرنے کی کسی کی جرات نہیں ہوئی تھی.
کسے اٹھا لائے ہو اور کیوں…؟
مائینڈ یور آن بزنس… ریما… اینڈ گیٹ لاسٹ…. کسی کو بھی جواب دینے کا پابند نہیں ہوں..
وہ اپنی ہی کیفیت سے جھنجھلا کر ریما پر ہی الٹ پڑا
دور رہو مجھ سے.. وہ پھر غرایا.
اسے تو بڑا قریب ہو کر اٹھا کر لائےہو… کیوں اور کس تعلق سے..
پاشا کے پاس جواب نہیں تھا سو بھسم کر دینے والے انداز میں ریما کی جانب بڑھا اور اسے بازو سے گھسیٹ کر کمرے سے باہر پھینکا.
خود بھی باہر آیا… وہاں رجا اور ان کے کچھ خاص آدمی بھی موجود تھے..
میری پرمیشن کے بغیر اس روم میں کوئی گیا… ٹانگوں کا قیمہ بنا کر چیل کووں کو کھلا دوں گا.. وہ دھاڑتا دوسرے روم میں بند ہو چکا تھا.
پھر اس کے آرڈر کے مطابق کسی میں بھی اتنی جرات نہیں ہوئی.. کہ اس روم میں جا سکے.
کبیر ڈاکٹر کو لے کر آیا.. ڈاکٹر نے چیک اپ کیا..
وہ باہر آئیں تو پاشا ان کے قریب آیا..
ڈاکٹر کیا ہوا اسے…
سر پر چوٹ لگنے سے بے ہوش ہیں.. مگر فکر کی بات نہیں.زخم نہیں ہوا.. میں نے انجکشن لگا دیا ہے کچھ ہی دیر میں ٹھیک ہو جائیں گی آپ کی مسز..
ڈاکٹر مصروف سے اندازہ میں میڈیسن لکھ رہی تھیں.. پاشا خاموشی سے کھڑا رہا.. اپنے کمرے سے یہ سب دیکھتی ریما جی جان سے جلی.. آخر پاشا نے ڈاکٹر کی غلط فہمی دور کیوں نہیں کی..
ڈاکٹر چلی گئیں…
پاشا نے کبیر کو اشارہ کیا…
وہ قریب آیا..
اسے ہوش آ جائے تو واپس وہیں چھوڑ آنا… فوراً
یہ کہہ کر وہ اپنے کمرے میں جا چکا تھا..
🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺
رحاب کو ہوش آیا تو خود کو بڑے سے بیڈ روم میں پایا..
وہ گھبرا کر اٹھی.
مجھے یہاں کون لایا… فضا لوگ مجھے ڈھونڈ رہے ہوں گے.
تبھی دروازہ ہلکا سا ناک کر کے کبیر اندر داخل ہوا..
رحاب حیران ہوئی.
گھبرانے کی کوئی بات نہیں…. آپ زخمی ہوئیں تو ہم آپ کو یہاں لے آئے اب کیسی طبیعت ہے آپ کی.. آپ کی طبیعت ٹھیک ہونے کے فوراً بعد میں آپ کو وہیں چھوڑ آؤں گا..
رحاب کو تسلی ہوئی..
میں بلکل ٹھیک ہوں… آپ مجھے چھوڑ آئیں… رحاب نے اشارہ کیا…
کبیر نے شدید صدمے سے اس چھوٹی سی پیاری سی معصوم لڑکی کو دیکھا..
آپ بول نہیں سکتیں؟
رحاب نے سر جھکا کر نفی میں سر ہلایا.. جیسے یہ اس کا قصور ہو..
او…. آئم سوری….. کبیر کو بے تحاشا شاک لگا.. فورٹ میں تو ان کو پتا ہی نہیں چلا تھا..
اوکے چلیں پھر… اس نے اثبات میں سر ہلایا. اور فوراً اٹھی…..
پاشا کھڑکی میں کھڑا تھا…
کبیر کو کہا اسے واپس چھوڑ آؤ.
مگر اب سینے میں سانس الجھ گئی تھی.
چہرہ لہو نچوڑنے کو تھا جب دیکھا وہ کبیر کے ساتھ چلتی اندر سے نکل کر پورچ میں کھڑی گاڑی کی جانب بڑھی ہے.
اس کے جاتے قدم جیسے اس کا دل و جاں کچل چلے تھے..
اس نے مٹھیوں میں اپنے بال جکڑے..
بھاڑ میں جائے ہر چیز… وہ بھسم کر دینے والے انداز میں باہر نکلا..
کبیر نے گاڑی کا دروازہ کھول رکھا تھا.. وہ آگے بڑھی اور گاڑی میں بیٹھنے لگی مگر اس سے پہلے ہی
پاشا نے آ کر ایک زور دار پاؤں کی کک سے دروازہ بند کیا تھا.
دھاڑ کی آواز سے دروازہ بند ہوا.
رحاب سہم کر پیچھے ہٹی.. اور کبیر کی جانب دیکھا..
کیا ہوا بھائی….
کہیں نہیں جائے گی یہ
لیکن..
میں نے کہا ناں کہیں نہیں جائے گی.. پاشا نے چبا چبا کر کہا
مگر کیوں آپ نے ہی تو کہا تھا..
اب میں ہی کہہ رہا ہوں.کہ یہ کہیں نہیں جا سکتی.. کھڑی منہ کیا دیکھ رہی ہو جاؤ اندر… وہ دھاڑا
رحاب پھٹی پھٹی آنکھوں سے اسے دیکھے گئی… جس کے دھواں دھواں چہرے سے اسے ڈر لگ رہا تھا.
وہ بے بس تھی بول نہیں سکتی تھی کہ اسے اس کی آنکھوں کی وحشت اور جنونیت سے خوف محسوس ہوتا ہے
انجانا سا ڈر لگتا ہے…
پاشا آگے بڑھا اور بازو سے پکڑ کر اسے لئے اندر کی جانب بڑھا.
یہ تو گئے کام سے.. کبیر نے پاشا کی پشت کو گھورا…
🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺
راسم بہت جلد اپنا کام مکمل کر کے لوٹا تھا.
اور اب اس کا رخ اپنے روم کی طرف تھا..
جانے روم کی لائٹ کو کیا ہوا تھا فانیہ بہت گھبرائی..
فانیہ اندھیرے میں آہستگی سے آگے بڑھ رہی تھی جب اچانک سامنے سے آنے والے کے چٹانی اور چوڑے سینے سے ٹکرائی..
اس کی خوشبو سے محسوس کر کے…… کہ وہ کون ہے اس کی روح فنا ہوئی..
جبکہ راسم کو آج بھی اس نرم و گداز سے وجود نے ہلا کر رکھ دیا تھا.. جس سے وہ اتنے دنوں سے کانٹوں پر گھسیٹ لیا گیا تھا. اور کافی ڈسٹرب تھا.. اسی لئے اب بھی سخت بھنایا..
وہ اس پاگل سے ڈر کر اس کے غصے سے بچنے کے لیے سیکنڈوں میں ریشماں کے پاس بھاگ جاتی مگر.
اس سے پہلے ہی راسم نے ایک ہاتھ سے اس کے بالوں اور دوسرے سے اس کی کمر کو سخت گرفت میں لیا تھا..
میں نے کہا تھا مجھ سے دور رہنا… میرے سامنے مت آنا..
مگر تم نے نہیں سنی..
اگر اس دن معلوم ہوتا کہ میرے ہی گلے پڑ جاؤ گی تو Anesthesia کی بجائے زہر کا انجیکشن لگاتا تمھیں میں..
وہ پھنکارا.
فانیہ کہ چیخ نکلی…
خبردار چیخیں تو… تمھاری چیخ ریشماں تک پہنچی تو ان کا لحاظ کیے بغیر ہی ادھیڑ کر رکھ دوں گا.. سمجھیں..
فانیہ کو آگ لگی.
چھوڑیں مجھے… مجھے بھی نہیں رہنا آپ کے ساتھ. جانے دیں مجھے.. اگر نہیں دیکھنا چاہتے میری شکل تو آخر جانے کیوں نہیں دیتے مجھے. کیوں پہرے بٹھا رکھے ہیں مجھ پر. کیوں.. وہ اس سب سے تنگ آ کر سسک پڑی.
کیوں…. کا مطلب ابھی سمجھاؤں کیا تمھیں.. وہ اسے بیڈ پر پٹخ کر بولا.. وہ جو نکاح ہوا.وہ رشتہ . وہ بھول گئی ہو.. یا یاد کرواؤں..
وہ جارحانہ تیور لئے اندھیرے میں بیڈ کی جانب بڑھا…
خود نہیں جانتا تھا کہ اس وقت آخر چاہتا کیا ہے….. مگر قدم خود بخود اس کانچ کی گڑیا کی جانب اٹھ رہے تھے.
فانیہ کی جان پر بن آئی..
🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺
