Rate this Novel
Episode 16
سوہم کمرے میں داخل ہوا تو گہرا سا مسکرایا..
باہر وہ کیسے پہلو بدل رہی تھی..
وہ تو اس کی ایک ایک حرکت اور تاثر نوٹ کر چکا تھا..
میڈ کے ہاتھ جوس کا گلاس اس نے خود بھجوایا تھا جس میں نشہ آور گولی تھی..
اور اب وہ اس کے پلین کے مطابق ہوش و خرد سے بیگانہ بیڈ پر آڑھی ترچھی لیٹی تھی.
وہ جھکا.. اسے سیدھا کیا.. کھلے کرل بنائے گئے براؤن بال آبشار کی طرح بیڈ پر بکھرے ہوئے تھے.
وائٹ ٹائٹ میکسی میں ساری رعنائیاں جھلک رہی تھیں..
ہلکا میک اپ.. سرخ لپ اسٹک
بے لگام جزبات…..
افففففففف…….
My little sleeping beauty…..
سوہم نے نرمی سے اسے بازوؤں میں بھرا..
اور اس کا متوقع ردعمل سوچ کر خود بخود ہی مسکرا دیا..
میری جند جان جب تم little caty کی طرح جھٹپٹاؤ گی تو مجھے بڑا مزا آئے گا… تمھارا وہ روپ دیکھنے کے لیے یہ ساری گستاخیاں کرنے کے لیے میں خود کو انعام دیتا ہوں.
تمھارا وجود…. خود کو
وہ اسے لئے باہر نکلا گاڑی میں بیٹھ کر مخصوص اڈے پر آئے وہاں سے ہیلی میں بیٹھے.. وہ مسلسل اس کے ملیح معصوم چہرے کا دیدار کیے جا رہا تھا..
مگر نظر ہٹ نہیں رہی تھی..
اب صبح ہی جاگو گی میری سلیپنگ بیوٹی… اور پھر تمھارے لئے ایک اور سرپرائز ریڈی رہے گا….
🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺
اگلے دن قریباً بارہ بجے کے قریب روحا کی آنکھ کھلی تھی.
سر بہت بھاری ہو رہا تھا..
غائب دماغی سے پڑی یونہی چھت کو گھورتی رہی
پھر آہستہ آہستہ سب یاد آتا گیا.
سوہم خان کی بے وفائی یاد کر کے پھر سے رونا آیا.
مندی مندی سی آنکھیں کھولیں… حیرت سے پھٹ پڑیں..یہ اس کا کمرہ تو نہیں تھا.
وہ کہاں تھی.
وہ اس بات سے بے خبر تھی کے وہ اس وقت کیپ ٹاؤن کے بیچ پر بنے ایک ریزورٹ میں موجود ہے..
باہر سناٹے کو چیرتا سمندر کی لہروں کا شور سنائی دے رہا تھا..
ایییییییییییییہہہ…. غصے سے مٹھیاں بھینچیں….
Soham khan…. I will kill you….
کمرے میں گھوم کر نظر کھڑکی کے باہر گئی تو تلوؤں پہ لگی اور سر پر بجھی
لارڈ صاحب سمندر کنارے پینٹ کی پاکٹوں میں ہاتھ ڈالے کھڑے تھے..
روحا کی طرف سوہم کی پیٹھ تھی… اور سوہم کے انتہائی قریب ایک حسینہ زلفیں بکھرائے پینٹ شرٹ میں اس کے اونچے لمبے کندھے سے سر ٹکائے کھڑی تھی.
یقیناً کومل ہوگی…
اونہہہ… ان سے تو اچھی ہماری جوتی ہے… اور ہم جل کیوں رہے ہیں….. جلے ہماری جوتی …….
(مگر روحا سوہم خان اس وقت تو آپ کی جوتی نہیں آپ خود ہی جل رہی ہیں.. اندر سے کسی نے مزاق اڑایا..)
بھنا کر اٹھی…. سوہم خان یا تو آج آپ نہیں…. یا ہم نہیں…… یا پھر یہ پر کٹی کبوتری نہیں… دانت کچکچائے..
ججھنجھنا کر باہر لپکی…
رستے میں ہی کھانے کے ٹیبل کے درمیان ایک کیک رکھا تھا.. وہ اٹھایا…
تن فن کرتی باہر آئی… اور ایک جھٹکے سے اس لڑکی کو اپنی جانب گھما کر پٹاخ سے اس کے چہرے پر کیک پوتھ دیا…
آییییییہہہہہ… خود بھی چیخی.. کیونکہ سامنے کومل نہیں کوئی لمبی زلفوں والا لڑکا تھا..
آئم سوری… آئی ریلی ویری سوری..
سوہم روحا کی یہ درگت بنتے دیکھ ہنسی ضبط کرنے کے چکروں میں سرخ ہو گیا تھا.. آخر اسے پٹانے جھٹپٹانے کا پلان اسی کا تو تھا.
وہ لڑکا وہاں سے کیک سے بھرا منہ لیے فوراً جا چکا تھا. کیونکہ اس کا کام صرف اتنا ہی تھا…
سوہم نے دانتوں تلے لب دبایا.
How dare you… Soham khan…
آپ کی ہمت کیسے ہوئی ہمیں یہاں لانے کی.. خفت چھپانے کو اس کا گریباں پکڑ کر دانت کچکچائے..
I dared to bring you the white palase from Hweeli….you know how beautiful you look when you sleep… My little sleeping beauty
وہ اطمینان سے بولا… اور اس کے ہاتھ پکڑ کر لبوں سے لگائے.
روحا گھبرائی.. اب اپنی سچویشن پر غور فرمایا تو پیروں نیچے سے زمین کھسکی.. وائٹ میکسی میں بغیر دوپٹہ کے وہ اس کے روبرو تھی.
یہ مناظر … سمندر کا کنارہ، ناریل کے درختوں سے گھرا.. پاس ریزورٹ…. تنہائی.. لہروں کا شور.
اور اس کا خود کا حلیہ..
اس سب پر متضاد اس کی جسم پگھلاتی نگاہیں.. روحا کو جھرجھری آئی…
وہ گھبرا کر واپس بھاگنے کو تھی…
مگر ناکام وہ اس کی کمر میں ہاتھ ڈال کر اس خود میں بھینچ چکا تھا…
سس… سوہم… ہمارا دوپٹہ کک.. کوئی آ جائے گا…. اس نے بھاگنے کے لیے بہانا گھڑا
میرے علاوہ کوئی نہیں ہے میری جان یہاں جو تمھیں دیکھے… سو بی ریلیکس… اور کسی میں اتنی جرات نہیں جو آج سوہم خان کو ڈسٹرب کرے…
اس کے کمر سہلاتے ہاتھ اور کندھے پر دہکتے سوہم کے لمس چھوڑتے لب وہ جی جان سے لرزی.. اس کی کمر کے گرد بازو لپیٹ کے سوہم نے اسے زرا سا اوپر اٹھا رکھا تھا..
وہ بمشکل ہی اپنے پیروں پر کھڑی تھی..
ہٹیے….. ہمیں کوئی بات نہیں کرنی آپ سے… جائیے اس کومل کے پاس….. اسے لے کر آتے یہاں ہمیں کیوں لائے… روحا نے دانت پیسے اور دوسرا پتہ پھینکا..
سوہم نے دلچسپی سے اس کا پھولا منہ دیکھا… بےبی کل سے مجھے جلنے کی بو آ رہی ہے… کیا تمھیں بھی آ رہی ہے؟ سوہم نے چھیڑا…
اونہہہہ…. جلے ہماری جوتی… وہ…. وہ پر کٹی کبوتری اس کا اور ہمارا کیا مقابلہ…. برابری کی بھی ہوتی تو ہمیں صبر آ جاتا….جلدی سے بول کر اس نے دانت تلے لب کچلا… اور اپنی جلد بازی کو کوسا..
وہ اس کے اتنے قریب اس کی بانہوں یہ کیا بول گئ تھی.
سوہم قہقہ لگا کر ہنس پڑا…. یعنی میری بےبی کی نازک سی جان کو صبر نہیں آ رہا…سوہم نے اسے بازوؤں میں اٹھایا..
روحا نے گھبرا کر اسی کے سینے میں منہ دیا.. وہ اسے لئے اندر آیا..
کھانے کی ٹیبل تک آیا..
مگر وہ ٹس سے مس نا ہوئی..اور منہ باہر نا نکالا
سوہم مبہم سا مسکرایا..
روح بھوک لگی ہوگی میری جان.. .. نیچے اترو..کہ میری بانہوں میں رہنا میری جان کو اتنا اچھا لگ رہا ہے.. اسی لئے مجھ سے الگ ہونے کو تیار نہیں… پھر بیڈ روم میں چلیں؟
گھمبیر لہجے کی وہ سرگوشی…
روحا بوکھلا کر پیچھے ہٹی..
سوہم نے اسے نیچے اتارا… مگر وہ نروس ہوتی انگلیاں چٹخانے بیٹھ گئی..
ہم فریش ہو کر آتے ہیں.
صرف پانچ منٹ جان… فوراً باہر آؤ.. نہیں تو میں اندر آ جاؤں گا. ..
وہ اندر بھاگی..
مگر اس کی دھمکی سے ڈر کر کچھ دیر بعد ہی باہر آ گئی..
چہرے پہ پھسلتے پانی کے قطرے چاندی کی طرح دمک رہے تھے.
وہ سر جھکائے بیٹھ گئی..
سوہم نے چھوٹے چھوٹے نوالے اسے کھلانے شروع کردیئے جو وہ شرافت سے کھاتی رہی…..
ہمارا پیٹ بھر گیا.. کچھ دیر بعد ہی وہ سوہم خان کی ایکسرے مشین جیسی نگاہوں سے شرم سے دوہری ہوتی منمنائی..
یہ کیا جان…. تم سے زیادہ تو ایک چوزہ کھا لیتا ہوگا.. سوہم مسکرایا…
ہم نے چینج کرنا ہے.. وہ اٹھ کر بھاگنے لگی..
جب سوہم نے اس کی کلائی تھامی..
میں ہیلپ کروں.. وہ شوخ ہوا.. روحا کی جان پر بنی..
سوہم نے ایک جھٹکے سے پھر اسے بازوؤں میں بھرا..
سس.. سوہم…..وہ گھبرائی.
مگر وہ اسے بیڈ روم میں لا کر ڈور لاک کر چکا تھا..
Yes my sleeping beauty.. Say I’m listening..
اب وہ اسے جس روم میں لایا تھا وہ مکمل مختلف قسم کے پھولوں سے سجا ہوا تھا..
اسے بیڈ پر لٹا کر وہ اس پر جھکا..
سوہم……
جی میری جان… سوہم نے ہلکے سے اس کے بالوں میں انگلیاں پھنسائیں..
ہم آپ سے ناراض ہیں.. روحا کا لہجہ اور آنکھیں بھیگیں..
میں مناؤں گا؟ وہ اطمینان سے بولا..اور اس کے گرتے آنسو اپنے لبوں سے چنے..
اگر میری جان کو ان سات سالوں کا حساب چاہیے جو میرے بغیر گزرے تو جان لو کہ ان سات سالوں میں، میں ایک پل بھی اپنی جان سے غافل نہیں رہا.. مجھے تم لوگوں کہ پل پل کی خبر تھی..
روح کی آنکھیں تحیر سے پھیلیں.. آپ جھوٹ بول رہے ہیں.. وہ مچلی..
ہر گز نہیں.. میری دھڑکن…..وہ غنڈہ یاد ہے جس نے تمھیں پیپرز کے دوران دو دن پریشان کیا اور تیسرے دن وہ غائب ہو گیا.. اسے میں نے ہی ہٹوایا تھا.. (دنیا سے اٹھا کے)
وہ دھیمے لہجے میں کہتا اس پر آگاہی کا عزاب نازل کر رہا تھا.. شدید حیرت زدہ سی وہ اسے دیکھے گئی..
سوہم نے ہاتھ کے انگوٹھے سے اس کے گداز لب سہلائے..
کیا دیکھ رہی ہو جان…
سوہم…….. بی جان… آ…. آپ سے کیوں ناراض تھیں.. کک. کیا. کیا تھا آپ نے…
تمھارے ہر سوال سر آنکھوں پر جان ہر سوال کا جواب دوں گا وقت آنے پر.. ابھی نہیں.. ابھی مجھے خود کو محسوس کرنے دو… سب بھول جاؤ.. صرف میرے بارے میں سوچو.. میری بے پناہ محبت محسوس کرو…
وہ کہتا اس کے گداز لبوں پر جھک چکا تھا.. پر حدت لمس.. سوہم کے عمل میں آج پھر شدت تھی..
روحا بری طرح کسمسائی..
وہ پیچھے ہٹا… برداشت کرو….. میری جان میری محبت کی شدت.. تمھیں کرنا پڑے گا… کہتا وہ شرٹ اتار کر دور اچھال چکا تھا..
کمرے میں ملگجا اندھیرا تھا..
روحا نے گھبرا کر اس کے سینے میں پھر منہ چھپایا..مگر کمر پہ کھلتی زپ لمحہ بہ لمحہ کھسکتی میکسی نے اس کی روح فنا کی.. وہ مچلی…
مگر آج سوہم خان کی جنونی اور دیوانگی بھری گرفت سے نکل پانا نا ممکن تھا…
سو چپ چاپ خود کو اس کے سپرد کر دیا…
🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺
پاشا خفیہ رستوں سے چھپ چھپا کر ٹونی کے ساتھ بادشاہ کی موجودہ لوکیشن پر پہنچا تھا
مگر بے سود
وہ بزدل وہاں سے بھی بھاگ چکا تھا..
وہاں پر موجود اس کے کتوں کو ابدی نیند سلانے کے بعد ایک خاص آدمی ہاتھ لگا…
ٹونی نے اس کو گھٹنوں کے بل پاشا کے آگے جھکایا..
اگر موت آسان چاہتے ہو تو بادشاہ کہاں ہے بتا دو…… پاشا کا سرسراتا لہجہ…
وہ تو پہلے ہی خود کو پاشا کہ ہتھے چڑھتا دیکھ تھر تھر کانپ رہا تھا..
مم.. مجھے نن. نہیں معلوم پاشا… مجھے چھوڑ دو…
چھوڑ دیا… تیز دھار آلے نے اس کی گردن دھڑ سے اکھاڑی تھی..
خون کے فوارے پاشا کی شرٹ پر گرے.
سر یہ….. ٹونی بوکھلایا.
اسے کچھ بھی معلوم نہیں تھا.. اس لئے میرے کسی کام کا نہیں تھا..
پاشا نے اسے پاؤں سے ٹھوکر لگائی..
اور وہاں سے نکلے فون بجا…
پاشا نے تیزی سے وہاں سے نکلتے فون یس کر کے کان کو لگایا.
مگر آگے سے جو خبر ملی ایک مرتبہ تو پاشا بھی ہل گیا تھا..
🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺
کبیر واپس جانے کی تیاری کر رہا تھا
جب فون رنگ ہوا…یس کر کے کان کو لگایا
بولو قدیر.. گاڑی میں بیٹھتے مصروف سا انداز تھا.
سر بہت بری خبر ہے…….. قدیر گھبرایا سا تھا…
اگر تو وہ تمھاری میم کے مطلق ہے تو زندہ گاڑھ دوں گا قدیر.. کیونکہ میں اسے تمھاری زمہ داری پر چھوڑ کر آیا تھا…. تمھیں اس کی حفاظت کرنی تھی..
سوری سر وہ…….. وہ گھگھیا گیا..
بولو قدیر… کیا ہوا؟ وہ دھاڑا..
سس… سر وہ بابا آئے تھے.. میم رات کو پتہ نہیں کہاں چلی گئیں… ایک نوٹ لکھ کر گئیں… کہ وہ کہیں ایسی جگہ جا رہی ہیں جہاں آپ کا سایہ تک نہ پڑے ان پر…
بابا کو بھی سب بتا دیا مگر وہ آپ سے ہی مدد مانگنے ائے تھے..
اور تم کہاں مرے ہوئے تھے…… کبیر کا دل کیا اسے فون میں سے ہی شوٹ کر دے..
سر…… کل میری بیوی بیمار تھی میں گھر چلا گیا.. اس نے شرمندگی سے حقیقت بتا دی…
ڈھونڈو اسے… آ رہا ہوں میں… مگر یاد رکھنا.. اسے کچھ ہوا.. یا بادشاہ کے ہاتھ لگ گئی…. یاپھر نا ملی تو پورا شہر جلے گا…
یا تمھیں زندہ جلا دوں گا… کبیر کا دل کیا دنیا تہس نہس کر دے..
زمل کبیر ابراہیم یہ تم نے اچھا نہیں کیا… مرو گی میرے ہاتھوں.. کبیر نے دانت کچکچائے.
اور آگ کا گولہ بنا گاڑی میں بیٹھا….
🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺
