Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Episode 21

اگلا دن کافی روشن اور خوبصورت طلوع ہوا تھا..
پاشا کی فون کی رنگ سے آنکھ کھلی تھی..

زرا سا جھک کر دیکھا تو اس کے کشادہ سینے پر رحاب گہری نیند میں سوئی ہوئی تھی.

ہاتھ دراز کر کے فون اٹھایا تو ریشماں کا نمبر تھا.. بہت نرمی سے رحاب کو تکیے پر شفٹ کیا اور فون لئے ڈریسنگ روم میں آ کر یس کر کہ کان کو لگایا..

جی ریشماں…

ایمرجنسی میٹنگ… سب بیسمنٹ میں پہنچو.. ریشماں نے دو حرفی بات کی.

جو حکم… کہہ کر فون رکھا.. اب کیا ہو گیا… یقیناً کوئی غیر معمولی بات تھی…
کمرے میں آیا… رحاب کو اکیلا یہاں نہیں چھوڑ سکتا تھا..
بیشک نوکروں کی فوج تھی..
مگر وہ اس کی وائٹ پیلس موجودگی سے ہی مطمئن ہو سکتا تھا.

سو بیڈ پر اس کے قریب گیا..

رحاب…. اٹھو جان…

جھک کر عقیدت سے ماتھے پر بوسہ لیا… وہ ساری رات کے اس کے پاگل پن اور شدتوں سے چور گہری نیند میں تھی..

پاشا گہرا سا مسکرایا…
دوبارہ جھک کر اس کی کان کی لو کو لبوں سے کاٹا.. وہ کسمسائی…
مگر کروٹ بدل کر سونے کے چکروں میں تھی..

جب پاشا نے اس کی کمر میں ہاتھ ڈال کر اسے اٹھا کر بٹھایا اور خود میں بھینچا.

وہ گڑبڑا کر اٹھی… مگر سامنے اسے آنکھوں میں پھر شرارت کا ایک جہان لئے مسکراتے دیکھ برا سا منہ بنایا…
وہ یوں بھی کھلے بالوں.. ڈھیلی سی ٹی شرٹ اور ٹراؤزر میں اس کا ضبط آزمانے پر تلی بیٹھی تھی..

پاشا میں نے سونا ہے.. نیند سے بوجھل خمار آلود نگاہوں سے اس نے التجا کی.

اور مجھے تمھیں جگانا ہے ہر صورت.. پاشا نے جھک کر اس کے کندھے پر ہلکے سے دانت گاڑھے..
وہ مچلی…

آپ بہت برے ہیں…

اور غصے والا بھی ہوں.. پاشا نے لب دانت تلے دبایا

وہ تو کچھ زیادہ ہی.. رحاب نے منہ بنا کے شکایت لگائی..

اور پیار کرنے میں بھی سب سے آگے ہوں… رات ثابت کر چکا ہوں… اور ثبوت دوں.. پاشا نے کہتے اس کی کمر میں انگلیاں پیوست کر کے اسے اور خود میں بھینچا..

خفت سے سرخ چہرہ لئے اس کی نیند بھک سے اڑی تھی.. اسے رات والے جنونی روپ میں واپس آتا دیکھ..

میں اٹھ گئی.. معصومیت سے آنکھیں جھپک جھپک کر اسے کہا…
پاشا نے بے ساختہ قہقہہ لگایا تھا… وہ مبہوت سی اسے ہنستے دیکھے گئی.. بلکل بے اختیاری اس کے گال پر ہاتھ رکھ کر جیسے وہ خوبصورت ہنسی محسوس کرنے کی کوشش کی….

پاشا نے چونک کر اسے دیکھا.. اس نے جلدی سے ہاتھ ہٹایا..

میں تو سمجھا میں ہی چالاک ہوں پر میری وائفی تو مجھ سے بھی دو قدم آگے نکلی… رات اشاروں میں ہی ٹرخا دیا.. مگر اب منہ سے بولے گی میری جان کہ اسے مجھ سے کتنی محبت ہے ..
پاشا نے سکون سے بول کر رحاب کو بے سکون کیا..

آپ سے کس نے کہا کہ مجھے آپ سے محبت ہے.. رحاب نے چالاک بننے کی کوشش کی..
مگر سامنے پاشا تھا..

اچھا… ایسے تو مت بولو جان.. کچھ لوگوں کو تو میری محبت نے چور تک بنا دیا تھا.آدھی آدھی رات کو چوری کرتے پھرے کچھ لوگ ..
پاشا نے اس کی محبت کی ہانڈی بیچ چوراہے پھوڑی…
اور اسے لگ رہا تھا اس رات پاشا نے اس کے ہاتھ میں موجود اس کی تصویر نہیں دیکھی تھی..

پاشا پلیز…. شرم سے دوہری ہوئی اس نے پاشا کے سینے میں منہ دیا.. پاشا پھر ہنستا چلا گیا..اور اسے بھر پور طریقے سے خود میں سمیٹا.

پاشا تو چاہتا تھا یہ میجیکل پل کبھی ختم ناں ہو.. پر مجبوری تھی..
اٹھو جان فریش ہو کر جلدی سے چینج کرو.. ہمیں وائٹ پیلس جانا ہے..

اندھے کو کیا چاہیے تھا دو نین… فوراً اس کی پناہوں سے نکل کر بھاگی..

🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺

پاشا رحاب کی سنگت میں وائٹ پیلس داخل ہوا تھا اس کے پیچھے سوہم اور کبیر اندت داخل ہوئے تھے.

سوہم خان کو دیکھ کر روحا نے منہ پھلایا….
سوہم کے دل کی دھڑکن اس دشمن جاں کو دیکھ کر بے ترتیب ہوئیں.. بے قرار نگاہیں بس دیدار کرنا چاہتی تھیں
مگر اس ظالم لڑکی نے زیادہ موقع دیا نہیں..
فورا منظر سے غائب ہوئی.

سوہم نے دانت پیسے..
ضروری میٹنگ نا ہوتی تو ابھی اٹھا کر… لے جا کر بیڈ پر پٹختا…
مگر ابھی انھیں بیسمنٹ جانا تھا.

کبیر کو دیکھ کر زمل نے پہلو بدلا.. اور فوراً وہاں سے کھسک گئی..
جو کہ کبیر نے مبہم سی مسکان کے ساتھ نوٹ کیا…

رحاب کا شرمایا لجایا روپ دیکھنے کے قابل تھا وہ بھی فورا اپنے روم میں بھاگ گئی

وہ سب بیسمنٹ کی طرف آئے..

🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺

بیسمنٹ میں پاشا سربراہی کرسی پر بیٹھا تھا. اس کے پیچھے سوہم خان اطمینان سے کھڑا تھا.. جیسے اس کا دایاں بازو ہو..

سامنے ریشماں تھی.
جی ریشماں حکم.. پاشانے بات کا آغاز کیا.

تم سے کوئی ملنا چاہتا ہے پاشا…
کون پاشا بے تھاشا چونکا.

ہم نے بہت کہا کہ وہ ہمیں اپنا مسئلہ بتا دے مگر ایک ہی ضد کے اسے تم سے ملنا ہے…

بلائیں… پاشا نے سنجیدگی سے کہا.. جب ایک عمر رسیدہ عورت جھکے کندھوں آنسوؤں سے تر چہرہ لئے سامنے آئی

کرسی پر بٹھائیں انھیں.. پاشا نے کہا..
جلدی بولیں اماں.. کیا مسئلہ ہے.. پاشا نے بے چینی سے پوچھا..

بیٹا ظلم ہو گیا.. مجھے انصاف چاہیے.. میری بچی کی زندگی برباد کر دی ظالم نے..

تفصیل بتائیں مائی… یقیناً انصاف ہوگا..

سندھی کے چھوٹے سے گوٹھ میں رہتی ہوں.. ایک بیٹی ہے. میرا شوہر میں اور میری بیٹی جاگیر دار کے گھر کام کرتے تھے.. میری بیٹی پر گندی نظر تھی اس کی.. شادی کے دن رکھے تو گھر سے اٹھا کر لے گیا.. کہتا ہے شادی تک یہ میری بیوی بن کر رہے گی.. پھر رخصت کر دینا.. روز درندگی کرتا ہے میری بیٹی کے ساتھ.. پولیس کے پاس گئی تو میرے شوہر کی ٹانگیں توڑ دیں..ہر طرف سے مایوس ہونے کے بعد ہی یہاں آئی ہوں..
مائی سینا کوبی کرتی پھوٹ پھوٹ کر رو رہی تھی..
وہاں پر موجود ہر فرد کی آنکھوں میں خون اترا..

تمھاری بیٹی آج رات بازیاب کروا لی جائے گی سہی سلامت مگر. کیسا انصاف چاہیے مائی… کیا سزا طے کی ہے اس درندے کے لیے .. پاشا کا سرسراتا لہجہ…..
مائی چونکی…

گوٹھ کی کوئی بھی بچی محفوظ نہیں اس درندے سے.. اور ایسے درندے کے لیے دردناک موت کی سزا ہی ہونی چاہیے…

ریشماں… پاشا نے پکارا

اجازت ہے.. ریشماں نے اطمینان سے کہا.

نام پتہ لکھوا دو مائی.. آج رات کو انتطار کرنا… بیٹی پہنچ جائے گی گھر… اور صبح اس درندے کی موت کی خبر پر جشن منانا.. اب جا سکتی ہیں آپ.. وہ اطمینان سے بولا.

مائی نے ایک پوٹلی نما رومال سامنے میز پر رکھا…

یہ کیا ہے اماں… راسم نے پوچھا..

سپاری کے لئے پیسے نہیں تھے.. تو بیٹی کا زیور لے آئی…
اس بات پر وہاں موجود سب کہ چہرے پر مبہم سی مسکان آئی.
لے جاؤ مائی اسے… بیٹی کو ہماری طرف سے شادی کا تحفہ دے دینا…
وہ بہت طاقتور ہے بیٹا.. مائی کو پتہ نہیں کون کون سے خدشہ ستا رہے تھے..

فکر مت کرو مائی… یہ جو میرے پیچھے کھڑا ہے.. یہ جلاد ہے.. اس درندے کے لیے یہی کافی ہے.. پاشا نے سوہم کی طرف اشارہ کیا..
مائی دعائیں دیتی جا چکی تھی….

وہ چاروں طیش کے عالم میں اٹھے تھے… ریما ساتھ چلو.. پاشا نے حکم دیا..
حویلی کے سارے کیمرے فون ہیک کرنے ہوں گے.. وہ سر ہلاتی ساتھ چل دی..

کیا سزا دو گے پاشا اس درندے کو… ریشماں نے پوچھا..

میجر عاصم کا میسج آیا ہے…. ڈیتھ بک میں نام چلا گیا ہے.. اب دنیا سے ایک شیطان کا بوجھ کم ہو جائے گا..
یہ کہہ کر وہ نکلے تھے.

🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺

رات کے بارہ بجے کے قریب وہ چاروں اس درندے کے فارم ہاوس کے باہر کھڑے تھے.
منہ پر رومال باندھ کر کور کر رکھا تھا…..
انفارمیشن کے مطابق آج پھر وہ حویلی جانے کی بجائے اس فارم ہاؤس میں موجود تھا.

مائی کی بیٹی بھی یہیں تھی…
یہ اس درندے کا اوور کونفیڈینس تھا جو گارڈز کے نام پہ صرف آٹھ دس لوگ ہی پہرے پر تھے.

جنھیں بڑی آسانی سے وہ قابو کر چکے تھے…
اطمینان سے اندر داخل ہوئے… گھوم پھر کر ہر جگہ دیکھ لیا..

بیڈ روم سے چیخ و پکار کی آوازیں آ رہی تھیں.. یقیناً وہ اپنی درندگی کا مظاہرہ کر رہا ہوگا..

پاشا اس کمرے کی جانب خونخوار انداز میں بڑھا تھا… پاؤں کی ایک زور دار ضرب ہی کافی تھی… دروازہ دھاڑ سے کھلا.

اندر مکروہ قہقہہ لگاتا.. ایک چھوٹی سی لڑکی سے دست درازی کی کوشش کرتا وہ بری طرح چونکا تھا..

کون ہو تم.. وہ دھاڑا …. اتنی جرات………
اس سے پہلے کہ وہ کچھ اور کہتا پاشا کے تیز دھار آلے نے اس کہ اس ہاتھ پر کٹ لگایا تھا.. جس میں لڑکی کا دوپٹہ تھا..
وہ چنگھاڑا مگر بجلی کی سی تیزی سے دراز سے گن نکالی
پاشا اطمینان سے کھڑا رہا….

اس سے پہلے کہ وہ پاشا پر فائر کرتا.. سوہم نے اس کے ہاتھ کا نشانہ لیا تھا…. اور سوہم خان کا نشانہ کبھی چوکتا نہیں تھا.
اس کے ہاتھ کے پرخچے اڑے تھے..
پاشا اطمینان سے آگے بڑھا اور اس کے ہاتھ سے دوپٹہ لے کر بغیر دیکھے لڑکی کی طرف اچھالا

وہ جاگیر دار موت سامنے دیکھ کر اب چنگھاڑ رہا تھا.. لڑکی اطمینان سے اس درندے کا وہ حشر دیکھ رہی تھی جو اس نے پل پل اذیت سے گزرتے دعا کی تھی کہ اس کے مجرم کو بدترین موت نصیب ہو….

راسم اور کبیر بھی کمرے میں آ کر اس کے ارد گرد کھڑے تھے..

سوہم نے اسے پاشا کے سامنے گھٹنوں کے بل جھکایا..

کوئی آخری خواہش؟پاشا نے عادت کے مطابق پوچھا

کون ہوتم لوگ… اور میری جاگیر میں گھسنے کی جرات پر تمھارے پورے خاندانوں کو موت کے گھاٹ اتار دیا جائے گا.. اس کی اکڑ اب بھی جون کی توں برقرار تھی..

موت کہ فرشتے کہہ لو یا جلاد… دونوں کا ایک ہی کام ہوتا ہے….. شیطانوں کو اس دنیا سے رخصت کرنے کا… یہ کہہ کر پاشا کا تیز دھار آلہ اس کے جسم پر سانپ کی طرح رینگا تھا..
اور جسم کی حساس نسیں کاٹتا چلا گیا…
وہ بری طرح چنگھاڑ رہا تھا…

مگر موت اس کے تعاقب میں تھی..کب تک چنگھاڑتا..
اگر پاشا چاہتا تو ایک ہی وار سے گلا کاٹ کر اسے موت کے گھاٹ اتار سکتا تھا..
مگر وہ چاہتا تھا کہ وہ تل تل مرے کیونکہ وہ محسوس کر سکتا تھا کہ پیچھے کھڑی لڑکی بڑی دلچسپی سے یہ نظارہ ریکھ رہی تھی…

وہ لڑکی کو لے کر وہاں سے نکلے تھے..
ریما اور کبیر اسے گھر چھوڑ آئے تھے.

اور اب وہ بڑی شان اور سکون سے وائٹ پیلس داخل ہوئے تھے

🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺

کبیر اپنے کمرے کی جانب جاتا اس ظالم لڑکی کے بارے میں ہی سوچ رہا تھا.. جو اس کو سمجھنے کی کوشش ہی نہیں کر رہی تھی…

کبیر کے خوف و دہشت سے وہ بے حد خوفزدہ تھی… نیند آنکھوں سے کوسوں دور تھی…
کروٹیں بدل بدل کر ہلکان ہو چکی تھی.. مگر نیند نے نہیں آنا تھا نا آئی

دروازہ کا لاک پھر دروازہ کھلنے کی آواز پر جی جان سے لرزی..
آہٹ پر وہ بری طرح بوکھلائی تھی.
اتنے دنوں سے سکون تھا..

کبیر سے ڈر بھی رہی تھی.. گھر سے چلے جانے پر وہ اس کا کیا حشر کرنے والا تھا یہ سوچ سوچ کر تو اس کی راتوں کی نیندیں اڑی ہوئیں تھیں..

سامنے بیڈ پر لیٹی زور سے آنکھیں بند کر کے سوتی بن گئیں….
مگر جب وہ بیڈ کے قریب آیا… اور اپنی پینٹ میں سے بیلٹ نکالی تو وہ ہڑبڑا کر اٹھی تھر تھر کانپنے لگی..

ماریں گے مجھے… سہم کر پوچھا..بیڈ سے نیچے اتر کر دیوار سے لگی..

نہیں آرتی اتاروں گا…. ظاہر ہے تمھاری حرکت کا انعام بھی تو دینا ہے تمھیں…

اس نے کہتے ہاتھ پر بیلٹ لپٹی… اس کی اڑی رنگت دیکھ کر کبیر کو بے تحاشا ہنسی آئی مگر ضبط کر گیا..

وہ سسک پڑی… اور کرنا بھی.. کک………… فوراً دانتوں تلے لب دبا کر منہ میں آئی بات روکی..کیونکہ وہ پہلے زمل کے پوچھنے پر اچھی طرح بتا چکا تھا کہ اسے اور کرنا کیا آتا ہے..

کبیر دوسری جانب منہ کر کے مبہم سا مسکرایا…مگر پھر فضا میں ہاتھ لہرایا
اس نے ہلکی سی چیخ مار کر آنکھیں بند کیں..
کبیر بے حد قریب گیا…

نرمی سے پینڈینٹ گلے میں پہنائی… ماتھے پر دہکتے لب رکھے.. اس نے گھبرا کا آنکھیں کھولیں..

اونہوں…. بند ہی رکھو یہ آنکھیں کیونکہ اب جو کروں گا سہہ نہیں پاؤ گی..
کبیر نے اسے تھام کر دیوار سے لگایا.. اور اس کے گداز لبوں پر جھکا…

زمل نے تڑپ کر اس کی شرٹ کالر سے دبوچی.
لمحے کافی فسوں خیز تھے..
چند لمحوں میں ہی زمل سرخ پڑ چکی تھی.
وہ نرمی سے پیچھے ہٹا..
ماتھا اس کے ماتھے سے ٹکایا..

میری جان….میری بے پناہ محبت ابھی بھی محسوس نہیں کی تم نے..
میں کوئی زبردستی نہیں کروں گا.. تمھیں خود ہی سمجھنا ہوگا مجھے.. میری محبت کو.. جو میری رگوں میں خون بن کر دوڑ رہی ہے…

یہ کہہ کر وہ دور ہوا ڈریسنگ سے کپڑے نکالےاور واش روم چلا گیا…

زمل نے رکی سانس بحال کی اور اس کی پشت کو گھورا.
کیا تھا یہ بندہ اسے لگا تھا…
وہ اسے مارے گا یا زور زبردستی کرے گا اس سے
مگر وہ تو……

اففف میں کیوں اس ان پڑھ جاہل غنڈے کے بارے میں سوچ رہی ہوں
اس نے بری طرح سر جھٹکا……

🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌹🌹🌹🌹🌹