Rate this Novel
Episode 7
روحا نے مندی مندی آنکھیں کھولیں…
ایک مرتبہ تو سمجھ نہیں آئی کہاں ہے…
مگر جب حواس بحال ہوئے تو سوہم خان کی درندگی یاد آئی.
تڑپ کر اٹھی..
خود کو سوہم خان کے کمرے اور اس کے بیڈ پر پایا..
آنکھیں پھر ڈبڈبائیں…
کمرے کے دروازے میں دوپٹہ پڑا تھا.. اٹھ کر دوپٹہ اٹھایا اور اچھی طرح اوڑھ لیا.
واپس بیڈ پر آ کر بیٹھ گئی..
مگر اب مشکل تو یہ تھی کہ اب سوہم خان سے، اس کے غصے سے اس قدر خوف زدہ ہو چکی تھی.. کہ بیڈ سے اترنے تک کی جرات نہ کر سکی..
دھمکی بھی تو ملی تھی کہ اس کی اجازت کے بغیر ایک قدم بھی باہر نہیں نکالے.
سو گھٹنے فولڈ کیے بازو باندھے… سر گود میں دیا اور پھر رو دی.. علی کی فکر بے چین کر رہی تھی.
کتنا خون بہہ رہا تھا.. روحا نے تو کبھی اسے کھروچ بھی نہیں آنے دی تھی.
تبھی ہلکی دستک کے ساتھ دروازہ کھلا.. آہٹ پر سر اٹھا کر دیکھا
مگر اپنے سامنے علی کو دیکھ کر چہرہ خوف سے پھر لٹھے کی طرح سفید پڑ گیا..
وہیں ساکت بیٹھی رہی..
آخر وہ ہی قریب آیا..
آپو…. بیڈ پر بیٹھ کر گود میں سر رکھا.. وہ بوکھلائی.
علی… بچہ.. آپ یہاں کیوں آئے… انھوں نے دیکھ لیا تو پھر کچھ غلط نا سمجھیں.. آپ چلے جائیں.. وہ مار ڈالے گے آپ کو.. وہ سسک پڑی.
نہیں آپو… بھیا کی غلط فہمی دور ہو گئی.. وہی مجھے ہوسپیٹل سے ٹریٹمنٹ کروا کر آپ سے ملانے لے کر آئے. انھیں پتہ تھا آپ پریشان ہوں گی..آپ فکر نہ کریں .. میں ٹھیک ہوں…
علی نے عقیدت سے روحا کا ہاتھ تھاما..
میں دادو کے پاس جا رہا ہوں… چلیں آپ بھی..
نن….. نہیں آپ جائیں…آپ کو دیکھ لیا.. ہمیں تسلی ہو گئی.. اب ہم آرام کریں گے.. روحا نے بہانا گھڑا..
جی ٹھیک.. علی کہہ کر جانے لگا تبھی سوہم کمرے میں داخل ہوا تھا..
روحا سہمی..
بیٹھو علی.. اپنی آپی کے پاس کہاں چل دئیے..
بس بھیا.. دادو سے ملوں گا.. پھر واپس جانا ہے.. پیپرز کی تیاری کرنی ہے..
اوکے…
علی نے سوہم سے مصافحہ کیا اور باہر چلا گیا..
سوہم ڈریسنگ تک آیا.اور اپنی شرٹ کے بٹن کھولنے لگا. شیشے میں سے ایک نظر اسے دیکھا.
جو اپنے گھٹنوں میں دوبارہ منہ چھپا گئی تھی.. بچپن میں بھی تو یہی کرتی تھی..
اور اس کی دھمکی کے مطابق بیڈ سے بھی نہیں اتری تھی.. کمرے سے باہر جانا تو دور کی بات.
آخر کار اتنے سالوں بعد executioner سوہم نے دانتوں تلے لب دبا کر ہنسی کنٹرول کی.اور اس دشمن جاں پر ٹوٹ کر پیار آیا..
روح….. آخر اس نے جزبوں سے بوجھل لہجے میں پکارا…
I hate you Soham khan…..
وہ سسک پڑی…..
It’s ok jan…
اب بلکل ایسا کروں گا کہ سب سے زیادہ محبت بھی مجھ سے ہی کرو گی تم..
کیا کریں گے آپ.. اس نے سر اٹھایا اور سہم کر سوہم کو اپنی شرٹ کے بٹن کھولتے دیکھا…
سوہم کا ہنسی ضبط کرنے کے چکر میں چہرہ سرخ ہو گیا..
آگے بڑھ کر الماری سے اپنا نائٹ سوٹ نکالا..
فی الحال تو کچھ نہیں جان… کیونکہ ابھی اس میں وقت ہے..
سوہم کی بات پر روحا کانوں تک سرخ ہوئی..اایسے بے ہودہ سوال پوچھنے پر خود پر ہی دو حرف بھیجے.
مگر میں اپنی ہر غلطی ہر کوتاہی کا ازالہ کروں گا…
نہیں کر پائیں گے آپ…… وہ پھر رو دی.. سوہم کے دل کو کچھ ہوا.. مگر اس کے قریب جانے کی غلطی دوبارہ نہیں کر سکتا تھا..
روح……..
سوہم خان ہم آپ کے ساتھ کہیں نہیں جائیں گے… وہ روتی التجائیہ سی بولی..
سوہم کے تاثرات بدلے.. جانا تو تمھیں پڑے گا مسز سوہم خان.. کیونکہ ہر لڑکی کو ایک دن اپنا گھر چھوڑ کر اپنے شوہر کے پاس جانا پڑتا ہے…. وہ سنجیدگی سے بولا.
ہم نہیں جائیں گے… وہ ضدی ہوئی..
روح… پلیز زبردستی کرنے پر مجبور مت کرنا… کیونکہ میرا زرا موڈ نہیں آج کا واقع دہرانے کا… اٹھا کر لے جاؤں گا.. پھر تمھیں ہی شکایت ہوگی.. وہ بھی سوہم خان تھا.. اطمینان سے کہتا اسے بے سکون کر رہا تھا..
وہ بیڈ سے اتر کر اس کے سامنے آئی..
آ… آپ.. ہمارے.. ساتھ ایسا نہیں کر سکتے..
میں بہت کچھ کر سکتا ہوں جان… تمھیں آج بھی اندازہ نہیں ہوا.. وہ بہکا سا اس کے لبوں پر انگھوٹا پھیرتا بولا
روحا پیچھے ہٹنے لگی.. جب وہ بے خود سا اسے کھینچ کر اپنے شرٹ لیس سینے میں بھینچ چکا تھا..
اس کے بالوں میں منہ دئے سکون سے آنکھیں موندی.
وہ بری طرح مچلی..
سس….سوہم خان…
اشششش…دو منٹ خاموش رہو روح…برسوں کے پیاسے اس تن بدن کو اس تشنہ روح کو سیراب ہونے دو..
وہ بھر بہک چلا تھا..
روحا کے آنسواپنی گردن پر محسوس کر کہ اس سے الگ ہوا.
وہ اس کی شدت بھری دہکتی قربت سے تھر تھر کانپ رہی تھی..
روح… جاؤ اپنے کمرے میں… اس نے سنجیدگی سے کہا.وہ اپنے بے لگام جزبوں پر قابو نہیں کر پا رہا تھا..
. اس کی اجازت ملتے ہی وہ کمرے سے تیزی سے نکلی تھی..
پیچھے سوہم نے ٹھنڈی آہ بھری…
🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺
وسیم کمرے میں آیا تو وہ پلین کے مطابق جھوٹے ٹسوے بہا رہی تھی..
کیا ہوا شاہینہ؟ وہ گھبرایا.
کچھ نہیں.. اس بد زات پر رو رہی ہوں جس نے اتنی بڑی گیم کھیلی اپنے سگے بھائی کے ساتھ.. تمھیں حقیقت جان کر کتنا بڑا صدمہ ہوگا وسیم.. وہ پر پھپھک کر رو دی.
کیا ہوا رحاب کی بات کر رہی ہو.. بتاؤ مجھے کیا ہوا.. وسیم بے طرح پریشان ہوا..
ارے کیا بتاؤں.. پکنک پہ جانا تو ایک بہانہ تھا.. وہاں سے اپنے یار کے ساتھ بھاگی ہے.. نکاح کیا اس سے… مگر ہے تو میری ہی تربیت.. بعد میں پچھتائی اور کہنے لگی کہ میں نے واپس جانا ہے اور اپنے بھائی کے گھر سے رخصت ہونا ہے…
وسیم کا چہرہ صدمے اور غصے سے سرخ ہوا.
کیا بکواس کر رہی ہو شاہینہ.. تم اچھی طرح جانتی ہو وہ ایسی نہیں تھی.. اگر یہ سچ ہوا تو وہ غیرت کے نام پر قتل ہوگی مجھ سے….. اور اگر جھوٹ ہوا تو تم.
شاہینہ بازی الٹتی دیکھ گھبرائی مگر… وسیم میری بات ٹھنڈے دماغ سے سنو..غلطی تو چھوٹوں سے ہو ہی جاتی ہے… مگر اب وہ پچھتا بھی تو رہی ہے… اس کا شوہر آیا تھا آج.. بہت ہی زیادہ پیسے والا تھا.. کہہ رہا تھا کہ وہ رحاب سے بہت محبت کرتا ہے.. اور اس کے بغیر جی نہیں سکتا.. اگر وسیم اسے خود اس کے پاس چھوڑنے آتا ہے تو میں کاروبار کے لیے وسیم بھائی کو تیس لاکھ دوں گا..
وسیم چونکا… اور شاہینہ کو عجیب سی نظروں سے دیکھا.مگر اس کی خاموشی نے شاہینہ کو شہہ دی
دیکھو وسیم اس نے ہمھارے بارے میں نہیں سوچا تو ہم اس کے بارے میں کیوں سوچیں.. بس تمھارے ایک چھوٹے سے عمل سے ہماری اور ہماری بچیوں کی زندگی سنور سکتی ہے… وہ گونگی ہونے کہ باوجود خوش رہے گی اپنے شوہر کے ساتھ تو ہم کیوں سسک سسک کر زندگی گزاریں…تم بس اسے خود چھوڑ آنا..کون بیاہے گا اس گونگی کو.. بھائی بھی انکار کر چکا ہے…
وسیم……. کرو گے ناں ایسا….
ٹھیک ہے.. سہی کہا تم نے اس نے ہمارے بارے میں نہیں سوچا تو ہم کیوں سوچیں… چھوڑ آؤں گا میں..وہ کہتا دھواں دھواں چہرہ لئے باہر چلا گیا.
شاہینہ فاتحانہ اور تمسخرانہ سی ہنسی ہنس دی.
🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺
پاشا دروازے کے باہر سنجیدگی سے کھڑا تھا..
شاہینہ کو کال ملائی..
ہیلو.. اس نے بے صبری سے فون اٹھا کر بات کی.
میں لے کر آ رہا ہوں اسے… اور سنو مجھے پتہ ہے وسیم کو تم نے کوئی الٹی سیدھی پٹی ہی پڑھائی ہو گی اسی لئے وارننگ دے رہا ہوں.. اگر اسے ایک کھروچ بھی آئی تو ایک پھوٹی کوڑی نہیں ملے گی.. اور جو تمھارے گھر کو آگ لگواؤں گا وہ الگ سمجھیں.
ہاں ہاں سمجھ گئی.. شاہینہ نے بات سنبھالی.
اب ہم پہنچے گے تو کافی رات ہو جائے گی.. اسی لئے وسیم کو کہنا اسے صبح لے آئے.. وہ کہتا بغیر کچھ سنے فون بند کر چکا تھا…
ریما اس کے پیچھے آئی.
پاشا مت جاؤ اس کے پاس.یا اس کا نوخیز حسن دیکھ کر نیت خراب ہو گئی ہے. ایسا اس میں کیا ہے جو مجھ میں نہیں.
شٹ اپ یو بچ… کیا بکواس کر رہی ہو.. وہ دھاڑا.. گیٹ لاسٹ فرام ہیئر….
ریما لب بھینچتی وہاں سے چلی گئی.
جب ہلکی سی ناک کر کے اندر داخل ہوا.. سامنے ہی وہ صوفے پر بیٹھی آنسو بہا رہی تھی.. چادر اچھے سے خود سے لپٹائے ہوئے.. اسی نیلے لباس میں تھی.. رات کے سائے گہرے ہو رہے تھے..
پاشا کی آہٹ پر اس کی جانب دیکھا.. اور سہم کر خود میں سمٹی.
پاشا نے لب بھینچے..
چلو.. میں تمھیں تمھارے گھر چھوڑ کر آؤں..
وہ بے یقین سی تھی مگر گھر جانے کے نام پر فوراً اٹھی..
پاشا کی تقلید میں باہر تک آئی..
کھڑکی سے ریما خونخوار نظروں سے یہ منظر دیکھ رہی تھی..
ڈرائیور نے بھاگ کر رحاب کے لئے فرنٹ ڈور کھولا وہ چپ چاپ بیٹھ گئی.
تم رہنے دو گاڑی میں خود ڈرائیو کروں گا.. پاشا کی بات سن کر ڈرائیور نے اثبات میں سر ہلایا
اور کبیر سے کہنا تیار رہے.. کام مکمل ہو چکے ہیں صبح جب میں آؤں گا تو سندھ کے لئے نکلنا ہے.
جو حکم سر..
وہ گاڑی لے کر نکلا..
پاشا زیادہ گفتگو پسند نہیں کرتا تھا.. نا زیادہ بولنا.
مگر رات کے سناٹے میں طاری آج یہ خاموشی اسے بری طرح کھل رہی تھی.
شدت سے دل میں پاس پتھر بنی بیٹھی لڑکی کی آواز سننے کا دل کیا..
جو کہ ابھی تک نہیں سن پایا تھا.
بہانے سے کھانے کا بھی پوچھا .
مگر اس نے سر جھکائے نفی میں ہی جواب دیا..
وہ بری طرح جھنجھلایا.. مگر وہ ٹس سے مس نا ہوئی..
رات کے دو بجے وہ اسے لئے اس کے گھر کے دروازے کے باہر کھڑا تھا..
اس نے دروازہ ناک کیا.
شاہینہ تو جیسے انتظار میں ہی بیٹھی تھی.. جھٹ دروازہ کھولا.. شاہینہ کے پیچھے وسیم کو کھڑا دیکھ وہ لپک کر اندر گئی اور وسیم سے لپٹ کر رونے لگی.
شاہینہ نے وسیم کو سمجھایا بجھایا ہوا تو سو اس نے کوئی رد عمل ظاہر نہیں کیا..
وہ اب بھی کھڑا غور سے اسے دیکھ رہا تھا کہ شاید اب وہ کچھ بولے.. مگر اس کی حسرت حسرت ہی رہی..
وسیم اسے لئے اندر جا چکا تھا.
پاشا نے نوٹوں سے بھرا پیکٹ شاہینہ کو تھمایا.
بیس ہیں….. کل جب وہ سہی سلامت میرے پاس آ جائے گی تو باقی کے…. میرا آدمی اسی وقت وسیم کو پکڑا دے گا….
ٹھیک ہے ٹھیک ہے… ہمیں بھروسہ ہے… شاہینہ چمکتی آنکھوں سے بولی.
وہ واپس جانے لگا جب پھر مڑا.. سنو صبح کے بعد دوبارہ تم لوگوں نے اسے رابطے کی کوشش بھی کی تو اچھا نہیں ہو گا… میری طاقت کا اندازہ نہیں تمھیں… ڈیمو کے طور پر یہ ضرور بتا سکتا ہوں کہ اس وقت تمھارا بھائی کہاں ہے اور کیا کر رہا ہے..
شاہینہ کے چہرے پر سایہ سا لہرایا.
نن… نہیں ہم کیوں کرنے لگے اس بدزات سے رابطہ.. ویسے بھی اچار ڈالنا ہے اس گو……………….
زبان کو لگام دو….شاہینہ کی بات پوری ہونے سے پہلے وہ غرایا..
اور تن فن کرتا وہاں سے نکلا.
وہ جلتی کڑھتی اس گونگی کی قسمت پر حسد و رشک کرنے لگی جس کے پیچھے وہ امیر زادہ مرا جا رہا تھا….
🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺
سر پاشا کا سراغ ملا ہے.. مجھے لگتا ہے وہ اسی ہوٹل میں ٹھہرا ہے جہاں پر میں ہوں…
بادشاہ کے آدمی نے پاشا کو دیکھ لیا تھا اور اب بادشاہ کو اطلاع دے رہا تھا.
ٹھیک ہے وہیں ختم کر دو اسے.. سر کچل ڈالو اس کا… منہ مانگی قیمت دوں گا.. اگر اور بندے بھیجے تو وہ بہت چالاک ہے سمجھ جائے گا.. پھر اس کا بچ نکلنا ممکن ہے… بس تم ہی اس کا کام تمام کر دو…
ٹھیک ہے سر جو حکم
🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺
وہ ہوٹل آیا تھا…
پوری رات کانٹوں اور انگاروں پر بسر ہوئی..
سمجھ نہیں آ رہا تھا یہ سب کیوں کر رہا ہے.
بس جو دل میں آیا. کیے چلا جا رہا تھا..
ایک اور رات بے خوابی کی نظر ہو گئی
صبح اس کے آنے کا شدت سے انتظار تھا.
شاہینہ نے اس کا چھوٹا سا بیگ تیار کر دیا تھا..
تقریباً دس بجے کے قریب وسیم نے اسے ساتھ چلنے کو کہا.
کہاں… اس نے سوالیہ اشارہ کیا.
مگر وسیم نے نظر انداز کر دیا.. اونہہہ اتنا کچھ کرنے کے بعد بھی معصوم بن رہی ہے..
وہ اسے لئے نکلا…
اور مطلوبہ ہوٹل پہنچا..
رحاب کو حیرت ہوئی… طویل راہداریوں سے گزر کر وہ ایک کمرے کے باہر کھڑا تھا..
ہلکی دستک دی.. جاؤ رحاب اپنے شوہر کے پاس.. اب تمھارا ہم سے کوئی تعلق نہیں..
رحاب نے حیرت سے پھٹی آنکھوں سے وسیم کو دیکھا اور فورا نفی میں سر ہلایا..
وسیم جانے لگا مگر رحاب نے اسے بازو سے دبوچ لیا.
وسیم نے غصے سے دروازہ کھلتا دیکھ اسے پاشا کے پیچھے کمرے میں دھکا دیا..
اور باہر نکلتا چلا گیا…
وہ صدمے سے بے تحاشا روتے یہ سب دیکھ رہی تھی…
پاشا دروازہ لاک کر کے اطمینان سے اندر آیا اور بیڈ پر بیٹھ کر سگریٹ سلگائی..
وہ ہنوز زمین پر بیٹھی پھوٹ پھوٹ کر رو رہی تھی.. جب پاشا کی سرسراتی آواز نے روح فنا کی.
تمھاری بھابھی نے بیچا ہے تمھیں… قیمت لی ہے تمھاری مجھ سے…. اپنے سگے بھائی کو دیکھو.. کتنا بزدل اور کانوں کا کچا ہے کہ اس کی بیوی نے اسے کوئی بھی کہانی سنائی اور وہ تمھیں ایک اجنبی کے کمرے میں پھینک گیا.. بغیر اپنی بیوی کی باتوں کی تصدیق اور چھان بین کیے..کیونکہ تمھاری بھابھی نے وسیم سے کہا کہ تم نے مجھ سے بھاگ کر شادی کی ہے.
رحاب پر تو آج پہ در پہ صدموں کے گزرنے کا دن تھا.
وہ تڑپ تڑپ کر رو رہی تھی اور سامنے بیٹھے بندے کا دل کچل رہی تھی اسے آگ کی بھٹی میں جھونک رہی تھی.
کیوں رو رہی ہو ہاں… ان کے لئے جن کی نظر میں تمھاری کوئی حیثیت کوئی اوقات نہیں.. وہ دھاڑا.
رحاب اس کی آنکھوں کی دہشت اور وحشت سے سہمی..
اس کے خوف کے باعث پاشا نرم پڑا.
سنو… میں نے یہ سب اس لئے کیا.. اگر وہ لالچی عورت اب ایسا کر سکتی ہے تو تمھارے بھائی کی آنکھوں میں آسانی سے دھول جھونک کر کبھی بھی کچھ بھی کر سکتی ہے.. یا تو اپنے آوارہ نکمے، جواری بھائی سے تمھاری شادی کر دیتی.
مگر اب تم اپنی مرضی سے زندگی گزار سکتی ہو… میں تمھیں ایک محفوظ جگہ پر پہنچا دوں گا.. تم اپنی مرضی سے زندگی گزارنا.
رحاب نے بھیگی پلکیں اٹھا کر پاشا کو دیکھا…
اپنے تو دغا دے گئے تھے.
سامنے والے کی نگاہوں میں وحشت تھی مگر اس نے اب تک اس کا کوئی غلط ارادہ محسوس نہیں کیا تھا.
اور کبیر وہ بھی تو کتنی نرمی اور احترام سے بات کرتا تھا.
یوں بھی سامنے بیٹھے شخص پر اعتبار کرنے کے علاوہ اب نا اس کے پاس کوئی آپشن تھا.. نا چارہ
اور اس نے دعا کی تھی کہ کوئی فرشتہ آئے اور اسے اس عقوبت خانے سے بچا لے…
سامنے بیٹھا شخص شاید وہی فرشتہ تھا… رحاب نے اثبات میں سر ہلایا..
چلو پھر وقت نہیں ہے ہمارے پاس… ہمیں نکلنا ہوگا..
وہ کمرے سے نکلے….
وہ بہت زیادہ سہم گئی تھی مردہ قدموں سے اس ظالم شخص کے پیچھے اس راہداری میں چل رہی تھی.
جب اچانک ایک کمرے سے نکل کر ایک شخص نے پاشا کی پیٹھ پر خنجر سے حملہ کرنے کی کوشش کی..
رحاب نے دیکھا.. نازک معصوم جان…
اب اور تو کچھ کر نہیں سکتی تھی. رحاب نے اپنی پوری جان لگا کر اسے دھکا دیا تھا.. اور اپنا توازن بھی برقرار نہیں رکھ سکی اور بہت زور سے دیوار سے سر لگا.. ہلکی سی خون کی لکیر نمودار ہوئی.. وہ بیٹھتی چلی گئی
پاشا بجلی کی سی تیزی سے مڑا تھا اور اس کی درگت بنائی تھی.. وہ اس لڑکی کے سامنے حملہ آور کے بخیے نہیں ادھیڑنا چاہتا تھا.
اسی لئے جب وہ بھاگا تو پاشا نے اسے بھاگنے دیا
اور ایسا پہلی مرتبہ ہوا تھا.
پاشا پاگل ہونے کو تھا..
بھسم کر دینے والے انداز میں اس کے پاس دو زانو بیٹھا..
اس کے ماتھے سے نکلتا خون دیکھ کر اور طیش آیا.
بول نہیں سکتی تھیں کہ وہ حملہ کرنے والا ہے.. خود بیچ میں کیوں آئیں … گونگی ہو کیا…. وہ دھاڑا
رحاب بے بسی سے بے تحاشا رو دی.. پاشا نے دانتوں تلے لب کچلے
یہ رونے کے علاوہ دنیا میں اور کوئی کام نہیں ہے کیا تمھیں .. بولو… بولتی کیوں نہیں ….
وہ اب پاشا کا ضبط آزما رہی تھی.
پاشا نے اسے بازو سے دبوچا اور اپنے ساتھ گھسیٹ کر باہر کی طرف قدم بڑھائے..،
لا کر تقریباً گاڑی میں پٹخا… اور طیش میں خود ڈرائیونگ سیٹ پر بیٹھا..
ابھی فی الوقت اسے وہاں سے فورا نکلنا تھا..
پاشا نے گاڑی بھگائی…..
آخر اتنا غرور کیوں ہے اس لڑکی کو اپنے حسن پر..
کہ بولنا تک گوارا نہیں… وہ جی جان سے بس جلے جا رہا تھا…
🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺
