Rate this Novel
Episode 22
پاشا آدھی رات کے وقت اطمینان سے بیسمنٹ کی سیڑھیاں اتر کر نیچے آیا تھا….
گارڈز ساتھ تھے اس کے
نیچے آکر ایک کمرے میں داخل ہوا… سامنے ہی کرسی پر بندھے رسیوں سے جکڑے وجود کے پاشا کو دیکھ کر رونگٹے کھڑے ہوئے تھے…
پاشا قدم قدم چلتا اس کے سامنے گارڈ کی رکھی کرسی پر بیٹھا..
وہ چند لمحے اسے غور سے دیکھتا رہا اور وہ تیز دھار آلہ اپنی انگلیوں میں گھماتا رہا
بادشاؤ گھگھیا گیا… پاشا مجھے معاف کردو.. اب کبھی کسی پر ظلم نہیں کروں گا.. کبھی
کوئی آخری خواہش؟ پاشا نے اس کی بات پوری ہونے سے پہلے اس سے مخصوص سوال پوچھا..
نن نہیں مجھے معاف کر دو.. مم میں اپنی کی گئی ہر غلطی کی تلافی کروں گا….
سیف کو واپس لا سکتے ہو… اور جس لڑکی کو تم نے گردن پر گولی مارنے کی کوشش کی بیوی ہے وہ پاشا ابراہیم کی. اسے جو تکلیف ہوئی اس کا مداوا کیسے کرو گے..
تمھیں یہ دو کام نہیں کرنے چاہئیں تھے… پاشا کا سرسراتا لہجہ بادشاہ کو اپنی دردناک موت سامنے نظر آئی..
اور پھر ہوا بھی یہی… بادشاہ کے جسم پر رینگتا وہ تیز دھار آلہ….. اس کی دلدوز چیخیں بیسمنٹ کی ساؤنڈ پروف دیواروں سے ٹکرا کر واپس آتی رہیں..
چند منٹوں میں وہ جہنم رسید ہو چکا تھا..
وہ سکون سے چلتا بیسمنٹ سے باہر آیا..
🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺
سوہم روم میں داخل ہوا تو تیوری پر بے شمار بل نمودار ہوئے..
کیونکہ روح میڈم بیڈ پر موجود نہیں تھی.. جو اپنے نرم وجود میں اس کی ساری تھکن سمیٹ لیتی..
وہ سخت تلملایا..
الٹے قدموں واپس ہوا..
سب سے پہلے تو ریشماں سے پوچھنا تھا کہ کہاں ہے وہ..
ریشماں کے روم میں ہلکی دستک دی… اور اندر داخل ہوا..
ریشماں قرآن پاک کی تلاوت کر رہی تھی.
جب بیڈ پر نظر پڑی اور وہ بھنا گیا…
روحا جسے بلکل بھی نیند نہیں آ رہی تھی.. سخت جھنجھلائی.. مگر اس کی آہٹ پاتے ہی سانس اٹک گئی..
وہ کمفرٹر میں منہ دئیے سوتی بنی رہی….
کیا بات ہے سوہم خان کچھ چاہیے…؟ریشماں کو اس کا سرخ غصیل چہرہ دیکھ کر ہنسی ضبط کرنا مشکل امر لگ رہا تھا.
آپ جانتی ہیں ریشماں اچھی طرح مجھے کیا چاہیے … سوہم نے دانت پیسے
روح نے کہا وہ ناراض ہے تم سے.. تمھارے ساتھ نہیں جائے گی..
روح کے تو اچھے اچھے بھی جائیں گے میرے ساتھ.. وہ تن فن کرتا آگے بڑھا اور اس پر سے کمفرٹر گھسیٹا…
وہ بوکھلائی مگر وہ اسے بانہوں میں بھر چکا تھا..
اییہہہہ… سوہم خان نیچے اتاریں ہمیں..نازک ہاتھوں سے اس کے سینے پر مکے برسائے..
اتار دوں گا.. اپنے روم میں بیڈ پر جا کر.. وہ اطمینان سے بولا.. جبکہ ریشماں کے سامنے ایسے فرمان سننے پر روحا کا دل کیا زمین پھٹے اور وہ اس میں سما جائے.
ریشماں نے دوسری جانب رخ کر کے ہنسی دبائی.
افف سوہم خان آپ سب لوگ اتنے بولڈ، بے شرم اور بدتمیز کیوں ہیں… وہ سخت جھنجھلائی..
جس کا جب دل کیا…. اٹھایا اور سب کے سامنے روم میں لے گیا..
تھے تو نہیں…. تم لوگ جب سے ملی ہو… اس bloody Love نے ہمیں بنا دیا ہے بے شرم… اطمینان قابلِ دید تھا..
سوہم خان چھوڑیں ہمیں..
روح چپ چاپ چلو روم میں … یا چاہتی ہو یہیں شروع ہو جاؤں..سوہم نے دانتوں تلے لب دبایا.
ریشماں قہقہہ لگا کر ہنسی.. کتنا ضبط کرتی.
روح نے اپنا دونوں ہاتھ اس کے لبوں پر سختی سے رکھ کر اس کا بے شرمی سے چلتا منہ بند کیا.
وہ آنکھوں میں شرارت لئے اسے اپنے روم میں لے جانے لگا جب سامنے سے پاشا آتا دکھائی دیا..
روح کا دل کیا ڈوب مرے… مگر پاشا نے دانتوں تلے لب دبا کر چہرہ نیچے جھکا لیا..
وہ اسے لئے روم میں آیا.. اور اسے نیچے اتارا..
وہ سخت چھٹپائی.. مگر سوہم کو اس کے اسی روپ سے تو عشق تھا.. تبھی ہر مرتبہ اسے جھٹپٹانے پر مجبور کر دیتا..
سوہم ہمیں آپ سے بات نہیں کرنی… وہ ٹھینگا دکھا کر جانے لگی جب سوہم نے دوبارہ اس کی کمر میں ہاتھ ڈال کر خود میں بھینچا تھا..
نا کرو… بس پیار کر لو.. یہ کہہ کر وہ اس کے لبوں پر جھکا تھا…
روحا ہمیشہ ہی اس کی شدت سے بوکھلا جایا کرتی تھی.. اب بھی شرٹ بری طرح مٹھیوں میں جکڑ کر مزاحمت کی.
مگر وہ اسے بازوؤں میں بھر کر بیڈ پر لٹا کر خود اس پر جھک چکا تھا..
🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺
ابھی ابھی جو پاشا سوہم کی حالت سے حظ اٹھا رہا تھا روم میں داخل ہوا تو اپنا دماغ ہی کھول گیا..
رحاب میڈم بھی کمرے سے غائب تھی..
افففف میری پاگل بیوی یقیناً اپنے کمرے میں چلی گئی ہو گی..
وہ سخت جھنجھلایا اس کے کمرے کی جانب بڑھا.
ریشماں ان کے تماشے دیکھ رہی تھی اور بری طرح ہنس رہی تھی جو رات کے اس پہر وائٹ پیلس میں بدروحوں کی طرح ادھر ادھر بھٹکتے پھر رہے تھے…
پاشا جارحانہ تیور لئے رحاب والے روم میں داخل ہوا تھا اور وہ سچ مچ اپنے بیڈ میں گھسی خوابِ خرگوش کے مزے لے رہی تھی.
مگر کب تک.
پاشا نے روم لاک کیا.. اور بیڈ تک آیا.. شرٹ اتار کر سائیڈ پر رکھی..
بیڈ پر نیم دراز ہوا..
بہت جلد ہی اس کی کمر میں ہاتھ ڈال کر اسے اپنے سینے پر گرایا… وہ کسمسائی…
نیند تو بھک سے تب اڑی جب ایک کمر سہلاتا ہاتھ کے لمس میں شدت آئی..
وہ بوکھلا کر اٹھی
اور شرٹ لیس غصے سے اسے خود کو گھورتا پا کر رہے سہے اوسان بھی خطا ہوئے..
کیونکہ اپنی شامت اس کے ہاتھ اس نے خود بلائی تھی.
اسے بیڈ پر گرا کر خود اس پر حاوی ہوا..
اس گستاخی کا مطلب جانِ پاشا.. لب سہلاتے بھاری بوجھل آواز سے پوچھا گیا.،
مم میں نے کیا کیا؟
میں نے پہلے بھی کہا تھا کہ مجھ سے دور ہونے کا سوچنا بھی مت… اور تم اپنے بیڈروم سے یہاں چلی آئیں.. وجہ پوچھ سکتا ہوں،؟
وہ. مم. مجھے نیند نہیں آ رہی تھی اسی لئے…
گڈ…. اب بھی نہیں آنی چاہیے.. یہ کہہ کر پاشا نے اس کی بیوٹی بون پر اپنے لب رکھے تھے.. وہ مچلی…
پاشا.. رات بھی میں نہیں سوئی تھی ناں… معصومیت سے کہا گیا..
اب محبت کی ہے تو بھگتو میری جان..
پاشا نے اس کا کوئی بہانہ نہیں سنا تھا.
🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺
راسم روم میں آیا..
وہ جاگ رہی تھی.. راسم کو غصہ آیا..
فانیہ یہ کیا طریقہ ہے یار… اپنی صحت کا خیال کیوں نہیں رکھ رہی ہو.. تمھیں اب تک سو جانا چاہیے تھا.. کیوں نہیں سوئیں.. راسم نے جھڑکا.
اس کی آنکھیں ڈبڈبائیں.. جب اچانک لیٹ کر ناراضگی سے سر تک کمفرٹر تانا تھا..
کمفرٹر میں سے سوں سوں کی آوازیں آنے لگیں..
وہ گہرا مسکرایا… فریش ہو کر آیا..
بیڈ پر نیم دراز ہوا…
وہ غصے میں دور کھسکی.. جب کمفرٹر کے اندر اس کے پیٹ پر کوئی چیز رینگی.. وہ بوکھلائی کر اچھلی..
مگر راسم کی گرفت مضبوط تھی.. بہت مضبوط…
وہ مچلی اور خود سے اس کا آہنی ہاتھ ہٹانے کی کوشش کی مگر بے سود.. چند پلوں میں ہی نڈھال سی ہو گئی
راسم کا قہقہہ بلند ہوا…. جب پتہ ہے مجھ سے جیت نہیں پاؤ گی تو پنگے کیوں لیتی ہو جان… کہتے اسے خود میں سمیٹا..
چھوڑیں مجھے راسم… وہ بری طرح کسمسائی
کیوں؟ پوچھا گیا..
کیونکہ آپ بہت برے ہیں.. جب آپ کو پتہ ہے مجھے آپ کے بغیر نیند نہیں آتی تو پھر کیوں ڈانٹا.. وہ سسکی.
راسم نے اس کے آنسو اپنے لبوں سے چنے تھے..
مجھے سمجھ نہیں رہی ہو جان…. تمھاری طرف سے بہت ڈرا ہوا ہوں میں.. اتنی چھوٹی سی عمر میں اتنی بڑی زمہ داری ڈال دی میں نے تمھارے اوپر..
اور…. بس تم اپنا خیال رکھا کرو جان… وہ بھی جھنجھلایا ہوا سا تھا..
اور اگر مجھے کچھ…….. فانیہ نے بول کر اپنی ڈانٹ کا بدلہ چکانا چاہا… مگر راسم نے اس کی بات مکمل نہیں ہونے دی تھی..
جب اس کی بولتی بند کی..
پر شدت سے لمس سے اسے سزا دی… وہ چند پلوں میں اسے نڈھال کر گیا تھا..
سرخ چہرہ لئے وہ تڑپی
راسم نے نرمی سے اسے چھوڑا…
راسم بہت برے ہیں آپ…. برا سا منہ بنایا.اور اسی کے سینے میں منہ دے لیا..
🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺
کبیر روم میں آیا تو وہ بیڈ پر کمفرٹر میں منہ دئیے لیٹی تھی.. وہ دھیمے انداز میں میں چلتا ڈریسنگ کی طرف گیا کہ اس کی نیند خراب نہ ہو
یہ جانے بغیر کہ وہ سوتی بنی ہوئی ہے.. سو نہیں رہی..
جانے کیوں مگر اسے نیند نہیں آ رہی تھی.
لاشعوری طور پر ہی سہی وہ اس کا انتظار کر رہی تھی.. مگر خود یہ بات ماننے سے انکاری تھی..
وہ فریش ہو کر باہر آیا…..
گھنے سیاہ بالوں میں ہاتھ پھیرتا موبائل میں مصروف سا بیڈ تک آیا…
بیڈ پر نیم دراز ہوا تو ساتھ لیٹے وجود کا سانس سینے میں الجھا تھا کبیر کی خوشبو اپنے اتنے قریب محسوس کر کے
کبیر نے ایک بھرپور نظر اس سوتے بنتے وجود پر ڈالی اور مبہم سا مسکرایا.
پھر فون میں بزی ہو گیا.
وہ جانے کیوں سخت تلملائی.
اونہہہ… کچھ زیادہ ہی شرافت کا مظاہرہ ہو رہا ہے مگر کب تک…
وہ جھنجھناتی اٹھ بیٹھی….
مگر کبیر لاپرواہ سا بیٹھا رہا..
وہ قریب آنا چاہتا تھا تو تب پرابلم تھی اب اگنور کر رہا تھا تو مسئلہ…
وہ بھی غلط ارادے باندھتی اتن فن کرتی اٹھی اور واش روم گھس گئی.
اونہہ دیکھتی ہوں کب تک مومن بنے بیٹھے گے..
وہ باہر آئی تو کبیر شاکڈ رہ گیا کیونکہ وہ ریڈ کلر کے سلیولیس نائٹ گاؤن میں تھی..
اطمینان سے آ کر بیڈ پر لیٹ گئی..
کبیر کی بیک بون میں سرسراہٹ ہوئی.. فوراً ایک ہاتھ کمر میں ڈال کر اسے اپنے سینے میں بھینچا.
وہ بوکھلائی….
اس گستاخی کا مطلب ڈئیر مسز کبیر ابراہیم…… چاہتی کیا ہو آخر؟ وہ غور سے اس کے چہرے کو دیکھتا پوچھ بیٹھا
ابھی وہ جو بے وجہ جھنجھلا رہی تھی.. اب اس کہ دہکتی قربت میں بے حد گھبرائی..
اس کی پر تپش نگاہوں کی لپک سے ماتھے پر پسینے کے ننھے قطرے نمودار ہوئے
کک.. کچھ نہیں.. چھوڑیں مجھے…
کبیر نے نوٹ کیا اس نے ابھی تک ہاتھوں سے مزاحمت کر کے اسے دور کرنے یا کبیر کو دھتکارنے کی ہر گز کوشش نہیں کی تھی.
(اوو.. تو یہ بات ہے… مگر ابھی نہیں ڈئیر وائفی.. میری محبت کی قدر سہی طرح جانو پھر)
چھوڑ دیا… یہ کہہ کر کبیر اس سے دور ہوا… اور کروٹ بدل کر لیٹ گیا…
زمل نے خونخوار نظروں سے اس کی پشت کو گھورا.
اور جھلاتی کروٹ بدل کر سو گئی..
🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺
چھ ماہ گزر گئے تھے.. کبیر نے پل پل زمل کا اس کی ہر چھوٹی سی چھوٹی بات کا بے حد خیال رکھا.
کبھی کبھی وہ اس کی اتنی محبت پر خود ہی حیران ہو ہو جاتی.. کہ وہ کیوں اس سے اتنی محبت کرتا تھا.
بدلے میں کچھ چاہتا بھی نہیں تھا کوئی تقاضا کوئی ڈیمانڈ نہیں.
دوریاں ہنوز برقرار تھی.. کبیر نے اس کے قریب آنے کی کوشش ہی نہیں کی.
کرتا تو جان لیتا کہ اب تو وہ بھی اسے چاہنے لگی تھی.. پل پل اس کا انتظار کرتی تھی
وہ جب نا دکھائی دیتا تو بے قرار ہو جاتی تھی..
سوہم نے ان چھ ماہ میں روحا کو اتنی محبت دی تھی کہ پچھلے چند سالوں کا مداوا ہو چکا تھا.. سوہم نے اسے دنیا بھلا دی تھی.
پاشا کی محبت اور پاگل پن میں بھی دن با دن اضافہ ہی ہوا تھا..
روح اور رحاب بھی کنسیو کر چکی تھیں.
سب پے پناہ خوش تھے…
🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺
