Rate this Novel
Episode 19
پاشا مخصوص سٹائل میں پینٹ کی پاکٹوں میں ہاتھ ڈالے ہوسپیٹل کے کوریڈور میں دیوار سے ٹیک لگائے.. سر ٹکائے آنکھیں موندے کھڑا تھا.
یہ تو وہ اور سوہم خان جان چکے تھے کے بادشاہ بزدل کا نشانہ کم از کم سوہم جیسا نہیں…. اور چوک گیا ہے.. جس سے گردن کا زیادہ نقصان نہیں ہوا.. بس جلد میں سے آر پار نکلی گولی.
مگر ڈاکٹرز نے کہا تھا کہ خون کافی بہہ چکا تھا.. اسی لئے خطرہ تھا..
سوہم icu کے باہر کھڑا دروازے کو گھور رہا تھا.
بی جان اور بڑی ماں بلکل سلامت تھیں..ابھی کسی کے باپ میں بھی اتنی جرات نہیں تھی. کہ سوہم خان کی آبائی حویلی میں گھس پیٹھ کر سکے…
یہ محض ایک چال تھی.. رحاب نے روحا کی خاطر خود کو اتنے بڑے خطرے کی آگ میں جھونک دیا تھا..
یہی بات سوہم کو بے چین کر رہی تھی..
ڈاکٹر باہر آئے اور یہ نوید سنائی کہ وہ ٹھیک ہے اور خطرہ سے باہر ہے..
ڈاکٹر کے اشارہ کرنے پر سوہم ان کے کیبن میں گیا تھا..
Yes doctor….
سوہم نے بیٹھتے پوچھا.
سوہم خان کیا پیشنٹ بول نہیں سکتی
Yes doctor…سوہم کو دکھ ہوا
مگر وہcongenital dumbness نہیں ہے.. ان کے واکل کورڈ کسی ذخم کی وجہ سے ڈیمج ہوا تھا.. آپریشن سے ٹھیک ہو سکتا تھا.. یم نے کر دیا ہے آپریشن.. اب وہ بول پائیں گی.. کونگریٹس….
ڈاکٹر نے سوہم کو ایک انوکھی خوشخبری سنائی…
Thanks doctor… Thank you so much..
It’s my pleasure…. Soham
تم جیسے مسیحاؤں کے لئے کچھ بھی کرنے کو تیار ہیں ہم…
سویم گہرا سا مسکرایا… اور باہر آیا.. سامنے پاشا
جسے زندگی کے بھیانک حادثوں نے deadly Pasha بنا دیا تھا.. ٹوٹی بکھری حالت میں کبیر کے ساتھ کھڑا تھا.
راسم کرسی پر بیٹھا تھا…
کیا تھی ان چاروں کی زندگی.امن و شانتی کا گہوارہ
سسٹم، ظلم، جبر،مایوسی، ناکامی اپنے خاندانوں کو اپنی آنکھوں کے سامنے ختم ہونے کے پہاڑ جتنے غموں نے کیا بنا دی تھی..
سوہم نے دیوار سے سر ٹکایا اور دور کہیں اپنے ماضی میں کھو گیا..
بھرا پڑا خاندان تھا… وہ ان دنوں سترہ سال کا تھا.. اور پاشا انیس…
وہ سب کراچی میں ہی رہتے تھے.
پاشا کے بابا ابراہیم سوہم کے بابا کامران خان کے جگری دوست تھے انھیں کے کہنے پر وہ فیصل آباد سے کراچی شفٹ کر گئے تھے..
ان کے خاندانوں میں آپس میں بہت گہری دوستی تھی..
سوہم کے بابا،مما…… چھوٹی دو بہنیں، روح کے پیرنٹس چچا، چچی… اس کے تین بھائی
روح کی مما سوہم کی سگی خالی بھی تھی..
پھر پاشا کا پورا خاندان… مما بابا تین بہنیں، کبیر دادا دادی
سب پے پناہ خوش تھے..
سوہم کی روحا کے لئے بچپن سے ہی شدت پسندی اور محبت دیکھتے ہوئے اس کے بابا نے ان دونوں کا نکاح کر دیا تھا..
سوہم بے تحاشا خوش تھا
سوہم اور پاشا بچپن سے ہی گہرے دوست تھے..
پھر ایک دن وہ قیامت آئی جو سب کچھ برباد کر گئی تھی.
سوہم، پاشا اور کبیر تینوں کالج میں تھے..
روح بیمار تھی.. بڑی ماں اور بی جان کے ساتھ فیصل آباد گئی ہوئی تھی…
دونوں خاندان ایک ساتھ ایک ہوٹل میں تھے.. بزنس کی بڑی کامیابی پر ابراہیم نے دعوت دی تھی..
کچھ ہی دیر تک سوہم کبیر اور پاشا نے انھیں پیپر دے کر جوائن کرنا تھا…وہ آ بھی گئے تھے..
ہوٹل کے تھوڑی دور اپنی اپنی بائیکس پر تھے…
جب ہوٹل اور گردونواح میں ایک بڑا بم بلاسٹ ہوا اور سب کچھ راکھ ہو گیا…
بے یقینی سے بے یقینی تھی.
ان کی آنکھوں کے سامنے ان کے خاندان تباہ و برباد ہو چکے تھے…
چند گٹھڑیاں تھیں جو لپیٹ کر انھیں میتوں کے نام پر دے دی گئیں تھیں..
ابراہیم ہاؤس میں بی جان اور بڑی ماں کےماتم، آہیں اور سسکیاں گونج رہیں تھیں…
روحا کو اس سب سے بے خبر رکھا گیا تھا وہ تو پہلے ہی بیمار تھی..
وہ تینوں بلکل نہیں روئے تھے… کس کس کو روتے… اور کیوں روتے اپنے خاندانوں کا بدلہ جو لینا تھا..
انھوں نے executioners جو بننا تھا.
انھیں دنوں کسی بھی طرح کراچی کے سب سے بڑے ڈان طیفے سے ملے …
ان کی آنکھوں کی وحشت اور درندگی طیفے کو پسند آئی.
اتنی سی عمروں میں طیفے نے انھیں گنز تھما دیں..
مگر پاشا نے وہ استرا تھاما جس سے وہ شیو کر رہا تھا..
طیفے کے آدمی انھیں ان لوگوں تک لے کر گئے تھے.. جنھوں نے اپنے کسی مقصد کے حصول کے لیے ہوٹل اڑایا تھا..
وہ قریباً دس غنڈے تھے.. جنھوں نے سپاری لے کر ہوٹل آنے والی ایک ہستی کو مارنا تھا مگر ان کی درندگی کئی خاندانوں کو نگل گئی تھی.
ان تینوں نے کچھ ہی دیر میں لاشوں کے ڈھیر بچھا دئیے تھے…
اسی طرح خون میں رنگے ہاتھوں اور اپنے کپڑوں کو لے کر وہ گھر واپس لوٹے تھے.
جب صدمے سے نڈھال بی جان کی بوڑھی آنکھوں نے خون میں نہائے اپنے پوتے اور اس کے دوستوں کو دیکھا
تو صدمے سے نڈھال ہو گئی..
سوہم خان یہ کیا کر کے آرہے ہو… بی جان چلائیں
اپنے خاندانوں کی موت کا بدلہ لے کر آ رہے ہیں بی جان.. وہ اطمینان سے بولا..
بی جان نے نے بہت واویلا مچایا.. سوہم اور پاشا کو دو چار تھپڑ بھی جڑے.. مگر وہ اطمینان سے کھڑے رہے..
کیونکہ بدلہ لے کر سکون محسوس کر رہے تھے.
پھر پولیس ان تک بہت جلد پہنچ گئی..
بی جان صدمے سے نڈھال بڑی ماں کے ساتھ روحا کو لے کر فیصل آباد اپنی حویلی آ گئیں..
وہ پوچھتی رہتی کہ سب کہاں چلے گئے.. مگر بی جان کہ پاس اسے بتانے کو کچھ بھی نہیں تھا..
ادھر وہ تینوں جیل میں تھے جب انھیں دنوں کچھ ضروری کام سے میجر عاصم حسین اپنے کسی کام سے جیل ائے اور ان تینوں اتنے کم عمر لڑکوں کو جیل میں دیکھ کر اور ان کی ہسٹری سن کر حیران ہوئے..
میجر عاصم نے ان کا کیس اپنے ہاتھوں میں لیا تھا..
میجر عاصم کا بھی خاندان ایک دہشتگردی کے واقعہ میں ختم ہو چکا تھا..
اانھیں دنیا کی نظر سے چھپانا ضروری تھا سو میجر نے انھیں ایک مہربان سی ہستی ریشماں کے پاس بھیجا تھا.
جو تھی تو ایک خواجہ سرا مگر دنیا کی ٹھوکروں نے اسے بے سہارا اور زمانے کے ستائے لوگوں کے لئے سہارا بنا دیا تھا…
وہ میجر عاصم کے کہنے پر ایسے بچوں کی اپنے پاس رکھتی تھی….
پھر ایک دن سوہم حویلی چلا آیا.
بی جان حیران ہوئیں.. اور یہ سوچ کر کہ وہ جیل سے بھاگ آیا ہے انھیں اور طیش آیا
بی جان نے اس کی بات سنے بغیر اس سے اپنا ہر تعلق توڑ لیا…. اور اسے حویلی سے نکل جانے کو کہا..
وہ بھی انھیں کا پوتا تھا… تن فن کرتا بغیر اپنی بات سنائے ہر تعلق توڑتا وہاں سےچلا آیا..
پھر ریشماں تھی.. اور وہ..
میجر عاصم اور ریشماں نے مل کر ان کی تعلیم و تربیت کا خیال رکھا..
راسم ان کے پاس تب آیا.. جب وہ بیس سال کا تھا.
مان باپ نے چاؤ میں جلدی شادی کر دی.
.. جب اسی کی بیوی نے دولت کے حصول کے لئے اس کے پورےخاندان کو زہر دے کر مار ڈالا تھا..
تب راسم کے ہاتھ سے پہلا قتل اس کی اپنی بیوی کا ہوا تھا…
بے تحاشا نفرت تھی اسے عورت ذات سے..بے اعتباری اور بد اعتمادی تھی.
مگر فانیہ کے پہلے دن کے بولے گئے چند جملے اسے حیوان سے انسان بنا گئے تھے
اس کے جزبات جگا گئے تھے
ایک چھوٹی سی لڑکی نے اس کی دنیا تہہ وبالا کر دی تھی..
اسے بھی میجر عاصم جیل سے نکال کر ریشماں کے پاس لائے.
کومل ریما اور رجا ریڈ لائٹ ایریے سے ادھڑی ہوئی حالت میں بھاگ کر ریشماں کے پاس پہنچیں تھیں جنھیں ان کے اکثر اپنے ہی انھیں وہاں تک پہنچانے کا سبب بنے تھے..
کوڑے کے ڈھیروں سے ان کی لاشیں ملتیں اگر ریشماں کے آدمی بروقت ان کی مدد نا کرتے..
وہ ریشماں نہیں ماں تھیں.. ان سب کی پرورش کرنے والی ماں.
جس کے پاس زمانے کے ستایے ٹھکرائے خواجہ سرا سمیت لوگ اکٹھے ہوتے رہے اور قافلہ بنتا چلا گیا.
وقت کب کسی کے لئے رکتا ہے.. سات سال گزر گئے.
اور اب وہ executioners بن چکے تھے..
مضبوط، طاقتور چٹانی اعصاب کے مالک
یہی نہیں… ڈگریاں ان کے پاس تھیں تو وہ میجر عاصم کے لئے پرائیویٹ ڈیڈیکٹیوز کا کام کرتے تھے..
باقاعدہ کوئی فیلڈ جوائن نہیں کی..
کرتے تو قانون کے پابند ہو جاتے… جو وہ ہر گز نہیں چاہتے تھے..
مگر ان کے ایک ایک قدم سے میجر عاصم باخبر رہتے..
پاشا نے تو اپنا قانون بنانا تھا.. جس میں جب ظلم کرنے والا ہر حد پار کرتا تو اس کی موت طے ہوتی..
یہ میجر کی ہی سپورٹ تھی کہ ان کا نام کہیں بھی نہیں آتا تھا..وہ ہر جگہ اطمینان سے ا جا سکتے تھے.
نیٹ ورک بہت مضبوط تھا ان کا.
جس مجرم، درندے، دہشت گرد، ظالم جابر کے آگے قانون بے بس ہوتا
میجر اس کا نام پاشا کی ڈیتھ بک میں ڈال دیتے تھے..
پھر نا کوئی عدالت، نا کاروائی.. نا گواہ نا ثبوت
نا وکیل نا جج
پاشا کی عدالت میں ہر درندے کو بس سزائے موت ملتی تھی….
بس سزائے موت…..
مگر پاشا نے ہی ان تینوں سمیت خود سے یہ وعدہ کیا تھا کہ ساری زندگی خود کو یونہی معاشرے کی ان کے اپنے طریقے سے صفائی میں وقف کر دیں گے
کبھی خاندان نہیں بنائیں گے…
مگر یہ سالہ Bloody Love تھا…
خونی عشق……. … جو ان executioners کہ رگوں میں خون بن کر دوڑنے لگا تھا
جس سے نجات ممکن نہیں تھا..
اور تو اور deadly Pasha بھی اس عذاب کی لپیٹ میں خود کو آنے سے نہیں روک پایا تھا…
سوہم خان تو بچپن سے روحا کے لئے شدت پسند تھا..
کبیر بھی نا بچا…
سوہم خان… کیا کہا ڈاکٹر نے….
پاشا کی کرب میں ڈوبی آواز سن کر سوہم ماضی کے جھروکوں سے نکل کر حال میں واپس آیا…
کچھ خاص نہیں… بلکل ٹھیک ہیں بھابھی….
وہ اطمینان سے بولا…. رحاب بول پائے گی یہ سرپرائز ہی رکھا.
تبھی پاشاکا فون رنگ ہوا..
ٹونی کا نمبر دیکھ کر ماتھے پر بل آئے..
مگر فون یس کر کے کان کو لگایا..
یس بولو ٹونی….
سر زمل میم….. ہوسٹل سے اپنی کسی دوست کے گھر جانے کی پلاننگ کر رہی ہیں.. طلاق کے پیپر دوبارہ بنوائیں ہیں..
اس طلاق کے بعد شاید وہ اپنے دوست کے بھائی سے شادی کا ارادہ رکھتی ہیں.
پاشا کو آگ لگی..فائن میں آ رہا ہوں.. زمل میم کی لگتا ہے ٹانگیں ٹوٹیں گی میرے ہاتھوں سے…پاشا نے انگارے چبائے
کبیر زمل کے نام پہ بے تحاشا چونکا.. مگر اس بپھرے شیر کو کچھ کہنے یا اسے روکنے کی ہمت تو کسی میں بھی نہیں تھی..
ویسے بھی جب سے زمل کا معاملہ پاشا کے سپرد ہوا تھا کبیر نے تو مکمل لاتعلقی ہی اختیار کر لی تھی..سو چپ چاپ بیٹھا رہا
پاشا بھناتا اٹھا.
سوہم خان میں اسے اس حالت میں نہیں دیکھنا چاہتا. خیال رکھنا اس کا… میں زمل کو لینے جا رہا ہوں..
یہ کہتا وہ کچھ بھی سنے بغیر لمبے لمبے ڈگ بھرتا وہاں سے جا چکا تھا…
سوہم خان نے افسوس میں سر ہلایا..
کیونکہ اب زمل میڈم تو گئیں تھیں کام سے
🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺
زمل اپنا گھر چھوڑ کر ہوسٹل آئی تھی
اپنی دانست میں وہ دنیا سے اور کبیر ابراہیم سے چھپ گئی تھی
نہیں جانتی تھی اب اس کے پل پل کا پاشا نے حساب رکھا ہوا ہے
بڑی چھپ کر پھر پیپر بنوائے تھے
اور اب عمل کرنے کی باری تھی.
مگر نہیں جانتی تھی.. اس سے پہلے deadly Pasha کا عتاب سہنا ہوگا اسے….
🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺
