Rate this Novel
Episode 6
زمل سکول سے واپس لوٹ رہی تھی.سادہ سے اورنج سوٹ کے اوپر بلیک بڑی سی شال اوڑھے ہوئے تھی. جب خود پر کسی کی گہری پرتپش نظریں محسوس ہو رہی تھیں.
اور ایسا مسلسل دو تین دن سے ہو رہا تھا.
اس نے یونہی ادھر ادھر دیکھا.
گھر میں داخل ہونے لگی تو سامنے والے گھر کے گیٹ میں گاڑی سے ٹیک لگائے وہ غنڈہ سا بڑی بے نیازی سے کھڑا تھا..
چہرے پر سن گلاسز تھے.. جس سے وہ اندازہ نہیں لگا پائی کہ وہی اسے دیکھ رہا ہے یا نہیں..
وہ چھپاک سے فوراً اندر داخل ہو گئی.
کبیر نے سن گلاسز اتاریں.. افضل یہ کون تھی…
سر یہ سامنے گھر میں رہتی ہیں ٹیچر ہیں.. ہمارے پاس جو نیا کم عمر لڑکا سیف آیا ہے وہ انھیں کا بھائی ہے.. باپ معزور ہیں…
سہی چلو… وہ ایک نظر بند گیٹ پر ڈالتا وہاں سے نکلا…
🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺
زمل جلے پیر کی بلی بنی پورے گھر میں بابا سے چھپتی پھر رہی تھی.
دو دن ہو گئے تھے سیفی گھر نہیں لوٹا تھا… اور اس کو ہول پڑ رہے تھے
بابا سے چھپا رکھا تھا کہ سیفی دو دن سے گھر نہیں آیا تھا.
سب دوستوں سے پتا کروا چکی تھی…سب ٹھکانے کنگھال چکی تھی
کہیں بھی نام و نشان نہی ملا.
اب تو سامنے والا گھر تھا جسے آتی جاتی نفرت سے گھور رہی تھی.
پڑوسن سے پوچھا… مگر اس نے بتایا کہ وہاں تو دو اور بڑے غنڈوں کو آتے دیکھا ہے محلے والوں نے کہ سامنے والے گھر کے غنڈے بھی ان کے سامنے سر جھکائے گھوم رہے تھے.
وہاں جانے کے خیال سے اسے جھرجھری محسوس ہوئی.
سیفی کے لئے تڑپتی وہ خود بھی دروازے میں جھانک کر ان غنڈوں کو آتے جاتے دیکھ چکی تھی..
مگر جب سیفی کے دوست نومی سے پتا چلا کہ آخری مرتبہ سیفی کو اسی گھر میں جاتے دیکھا تو وہ جھنجھنا اٹھی…
اب کیا کروں… وہاں جاؤں کے نہیں مگر سیفی..
نہیں.. کچھ بھی ہو جائے مجھے جانا ہوگا..
🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺
یو باسٹرڈز…. یہ کیا کارنامہ کر کہ آئے ہو…؟ تم لوگوں کی ایک بے وقوفی کی وجہ سے ہمارا سارا مال بادشاہ کے آدمیوں کے ہاتھ لگ گیا… کیسے ہوا.
کبیر دھاڑا…
سر انھوں نے فائرنگ کر دی.. اور سیف نے سارا معاملہ بگاڑ دیا.. اسے مال کی حفاظت کے لیے کھڑا کیا تھا.. مگر یہ بھاگ نکلا.. اور مال ان کے ہاتھ لگ گیا…
واٹ ربش… پاشا کو جانتے ہو ناں… ہڈیوں کا سرمہ بنا دے گا.. اور اس کی سزا یہ ہے کہ تین دن تک اسے تہہ خانے میں ڈال دو.. بزدلی کا انعام بھی تو ملنا چاہیے.. کبیر پھنکارا.
سیف جو سر جھکائے کھڑا تھا.. ہراساں ہوا
سوری سر… آئندہ ایسی غلطی نہیں ہو گی..
آئندہ کے لیے ہی تمھارا دماغ ٹھکانے پر لگانے کے لئے بے حد ضروری ہے یہ سزا…. سمجھے اور اب دفاع ہو جاؤ تم لوگ کھڑے منہ کیا دیکھ رہے ہو.. لے جاؤ اسے.
وہ سوری سوری کرتا رہا مگر وہ دیوہیکل اسے اٹھا کر تہہ خانے میں پھینک آئے تھے..
ایک دن ہو گیا تھا اسے تہہ خانے میں…
🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺
پاشا اسے بازو سے گھسیٹ کر اندر لایا تھا.. تواتر سے اس کے گرتے آنسو دیکھ کر پاشا مزید طیش میں آیا.
ابھی تو خود نہیں جانتا تھا کہ کیا کر رہا ہے کیا چاہتا ہے.
جیسی ان کی زندگی تھی.
جیسے بنا دی گئی تھی.
وہ کن کن حالاتوں سے ھزرے تھے.
کس اندھیروں کی دنیا کے میں پھنسے تھے..
ان چاروں نے تو قسم کھائی تھی کہ کبھی ان بکھیڑوں میں نہیں پڑے گے.
مگر پہلے راسم پھر سوہم اور اب وہ خود کس عذاب میں پھنس گیا تھا.
اسے کمرہ کھول کر اندر دھکیلا…… کمرہ لاک کیا اور باہر نکلا…
گاڑی میں ڈرائیونگ سیٹ پر بیٹھ کر رئیس کو اشارہ کیا.
یس سر..
ایک ایڈریس میسج کر رہا ہوں… آدھے گھنٹے کے اندر اندر اس گھر کے رہائشیوں کی ڈیٹیلز اٹھنا بیٹھنا مزاج سب کچھ مجھے پتہ کر کے بتاؤ…
پر سر یہ تو لاہور کا ایڈریس ہے…
ہاں تو لاہور کا دیا ہے.. پاتال کا نہیں جو ناممکن ہے. اب کام پہ لگو… گیٹ لاسٹ.. وہ غرایا.
یہ کہہ کر زن سے گاڑی بھگائی.
اس کا ہینڈ بیگ اب بھی گاڑی میں موجود تھا.. اور آئی ڈی کارڈ پاشا کہ ہاتھ میں..
رحاب عزیز…….وہ زیرِ لب بڑبڑایا..
کیوں میرا سکون برباد کر دیا ہے.. اس نے ڈیش بورڈ پہ مکا رسید کیا.. مگر تمھاری دی گئی یہ بے چینی اور بے سکونی
یا جو بھی ہے
(وہ اب محبت کا نام نہیں لے رہا تھا) میرے سینے میں موجود دہشت اور درندگی کو کم نہیں کر سکتی.. سمجھیں…
وہ آئی ڈی کارڈ میں موجود پاگلوں کی طرح اس کی تصویر سے مخاطب تھا..
🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺
کبیر ریلیکس سا صوفے پر بیٹھا تھا. رجا پیچھے کھڑی اس کا سر سہلا رہی تھی..
پاس ہی اس کے آدمی کھڑے اسے آج کی بریفنگ دے رہے تھے.
زمل کی جب برداشت جواب دے گئی تو وہ تن فن کرتی چادر میں خود کو لپیٹے اس گھر میں داخل ہوئی تھی.
چوکیدار اسے اور اس کے بھائی کو جانتا تھا اسے لئے منع نہیں کر سکا..
وہ دھاڑ سے دروازہ کھولتی لاؤنج میں داخل ہوئی تھی.
کبیر اس دیکھ کر سیدھا ہوا..
لیکن اس کے انداز سے کبیر کو آگ لگی..
کہاں ہے میرا بھائی چھوڑ دو اسے…. فوراً….. نہیں تو اچھا نہیں ہو گا… وہ چلائی
وہ ضدی اور اکھڑ تو سدا کی ہی تھی..
مگر اب شاید بھول گئی تھی کہ وہ کہاں، کیوں اور کس کے سامنے کھڑی ہے
سامنے والے کی سرد بے تاثر اور خونخوار نظریں محسوس کر کے ایک پل کو تو روح فنا ہوئی تھی.
مگر زمل ڈھیٹ بنی رہی…
چھوڑ دو میرے بھائی کو… وہ دھاڑی..
کبیر بھسم کر دینے والے انداز میں صوفے سے اٹھا پینٹ کی پاکٹوں میں ہاتھ ڈالے اس کی جانب آہستگی سے قدم بڑھائے..
رجا دلچسپی سے یہ تماشہ دیکھنے لگی..
سب آدمی سر جھکائے کھڑے تھے.
ہوش میں تو ہو… ٹیچر صاحبہ جانتی ہو کہاں اور کس کے سامنے کھڑی ہو..
کبیر کا سرسراتا لہجہ.
زمل کی ریڑھ کی ہڈی میں سنسناہٹ ہوئی.. سہم کر چند قدم پیچھے ہٹی..
وہ ٹھیک اس کے سامنے آ کر کھڑا ہوا..
خدا کے سامنے نہیں کھڑی… انسان ہی ہو…. چھوڑ دو میرے بھائی کو…وہ بزدل نہیں تھی.. مگر لرزتے ہاتھوں سے اپنی چادر بھی مٹھی میں زور سے دبوچ رکھی تھی.
تمھارا بھائی میرا کروڑوں کا نقصان کر چکا ہے… وہ کون بھرے گا؟
اب کی بار زمل کی بولتی بند ہوئی تھی…
وہ بغور سامنے کھڑی لڑکی کی اٹھتی گرتی گھنی پلکیں دیکھ رہا تھا..
خدا کے لئے چھوڑ دو اسے..
کتنی محبت کرتی ہو اپنے بھائی سے،؟ وہ اچانک پوچھ بیٹھا..
خود سے بھی زیادہ.. اس نے بھی تڑخ کر جواب دیا.
اس کی جان بچانے کے لئے اپنی جان دو گی؟
زمل نے حیرت اور صدمے سے سامنے کھڑے بے رحم شخص کو دیکھا مگر
ہاں…….
تو ٹھیک ہے… مجھے یہ ڈیتھ گیم بہت پسند ہے.. اگر بچ گئیں تو اپنے بھائی کو لے جانا.. ورنہ میں تمھاری ڈیڈ باڈی سامنے گھر میں پہنچا دوں گا.. وہ اسے ڈرا رہا تھا.
مگر تین دن کی سیفی کی ٹینشن بابا کے آنسو وہ پتھر بن گئی.
کبیر نے اپنی پاکٹ سے وہ پرانی طرز کی بنی پسٹل نکالی اس میں ایک گولی ڈالی اور اس کا برسٹ گھمایا..
مگر وہ تیزی سے برسٹ بند کرتے ہوئے وہ گولی اپنے کوٹ کے بازو میں گرا چکا تھا.
یعنی پسٹل خالی ہو چکی تھی.
مگر زمل کے فرشتے بھی نہیں دیکھ پائے وہ تو سہمی سی اس کی ساری کاروائی دیکھ رہی تھی..
یہ لو تین چانس دئے تمھاری ڈیتھ کو… اس نے پسٹل آگے بڑھائی.. جو کہ زمل نے کانپتے ہاتھوں سے پکڑ لی..
پھر پھنکاری… یہ تین ڈیتھ چانس میں تمھاری لائف کے بھی تو لے سکتی ہوں.. زمل نے پسٹل کبیر کی طرف تانی.
وہ تمسخرانہ سا ہنسا..
لیکن اگر سوال میرے بھائی کی زندگی کا ہے تو… ٹھیک ہے.. زمل کو سامنے کھڑا وہ لمبا چوڑا مرد آج موت کا فرشتہ لگا. مگر وہ پسٹل اپنی کنپٹی پر رکھ چکی تھی.
اس نے آنکھیں بند کیں
کبیر کی نظریں اس کی لرزتی پلکوں اور کپکپاتے سرخ ہونٹوں میں الجھیں…
زمل نے تین مرتبہ ٹریگر دبایا.. اور اٹکی ہوئی سانس بحال کی.
آنکھیں کھولیں تو وہ سامنے کھڑا پر تپش نگاہوں سے اسے دیکھ رہا تھا.
زمل نے پسٹل اس کے پیروں میں پھینکی….. اب چھوڑ دو میرے بھائی کو…
ایک مرتبہ وہ سیفی کو لے کر اس جہنم سے نکلے گی تو دوبارہ کبھی اس آدمی کی منحوس شکل نہیں دیکھے گی.. جو ہلکی داڑی مونچھ اور گلے میں پڑی چین سے کوئی شیطان صفت غنڈہ موالی ہی دکھتا تھا..
وہ دل میں ارادے کر رہی تھی.. مگر قسمت کا کھیل نہیں جانتی تھی.
نادر… لے آؤ اسے…. اس نے رعب دار آواز میں کہا مگر زمل کے سامنے سے نہیں ہٹا.. وہ اب بھی بڑی فرصت میں اسے بغور دیکھنے میں مصروف تھا.
آج تک یہ ڈیتھ گیم اس نے جس کے ساتھ بھی کھیلی تھی.اس نے یہ جانے بغیر کے پسٹل خالی ہے کبیر کی جانب ہی پسٹل کا رخ کر کے فائر کر کے اپنی جان بچانے کی کوشش کی تھی..
جس کی وجہ سے کبیر نے ہر مرتبہ سامنے والے کو دردناک سزا دی تھی.
مگر آج یہ نازک سی لڑکی اپنے بھائی کے لیے بظاہر اپنی زندگی داؤ پر لگا بیٹھی تھی..
حیرت انگیز
نادر نڈھال سے سیفی کو لے کر آیا.. وہ تڑپ کر اس کی جانب لپکی..
آپی…. سیفی کو بھی اپنی غلطیوں کا احساس ہو چکا تھا.. اسی لئے پھوٹ پھوٹ کر رو دیا.
مگر زمل جلد از جلد اس آدمی کی دہکتی نگاہوں سے دور جانا چاہتی تھی..
اسی لئے سیفی کو لیے وہاں سے نکلتی چلی گئ… مگر دو بے قرار سی نگاہوں نے اوجھل ہونے تک اس کا پیچھا کیا…
گھر آ کر اس نے سیفی کو ایک تھپڑ جڑا… مگر وہ پہلے ہی احساس ندامت سے نڈھال اس کے پیروں میں گر کر معافی مانگ رہا تھا..ااور آئندہ کے لئے توبہ کر رہا تھا.پھر زمل بھی اسے گلے سے لگا کربے تحاشا رو دی…
سکون ملا
تسلی ہوئی…
کہ اب سیفی سدھر جائے گا
یہ جانے بغیر کہ اگلے چند دن اس کی زندگی میں کیا طوفان لانے والے ہیں..
🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺
راسم جارحانہ تیور لئے فانیہ کی جانب بڑھا تھا..
وہ گھبرا کر بیڈ پہ پیچھے کی جانب کھسکی.. جب وہ پورے حق سے اس کے اوپر جھکا تھا.
فانیہ نے دونوں ہاتھ اس کے سینے پر رکھ کر دور ہٹانے کی کوشش کی.. مگر راسم اس کے دونوں ہاتھ پکڑ کر بیڈ سے لگا چکا تھا…
چچ…… چھوڑیں مجھے… پپ.. پلیز
راسم نے اس کی گردن پر دہکتے لب رکھے..
فانیہ کی روح فنا ہوئی.
رگ و پہ میں سکون دوڑا….اتنے دن کے بے چین دل کو قرار آیا.
فانیہ مچلی.
مگر گرفت بہت آہنی تھی. وہ گردن سے اس کے گال تک آیا.
اور زرا سا سر اٹھا کر اس کے چہرے اور پھر کپکپاتے لبوں کو دیکھا.
خوف سے آنکھیں بند کر رکھیں تھیں..
کیا چیز تھی.
خون بن کر رگوں میں دوڑنے لگی تھی.
اتنے قریب جانا چاہتا تھا کہ ہر حد پار کردے
مگر ماضی کی وجہ سے ابھی خود سے جنگ جاری تھی..
اسی لئے فورا اٹھا
فانیہ راسم حفیظ فوراً دوسرے کمرے میں دفعہ ہو جاؤ.. وہ دھاڑا…
وہ اپنی خلاصی ہوتی دیکھ دوسرے کمرے میں بند ہو گئی..
رویہ سمجھ سے بالاتر تھا.
مگر اب وہ اچھی طرح سمجھ گئی تھی. کہ اسے اس شخص کے سر پر مسلط کیا گیا ہے..
خود اذیتی ہی خود اذیتی تھی.
شروع سے اس کا وجود دوسروں کے لئے بوجھ اور آزار ہی بنا ہوا تھا.
اسے خود سے نفرت محسوس ہوئی.
پھوٹ پھوٹ کر رو دی.
نہیں میں اب اور انکے سر پر سوار نہیں رہوں گی.. اپنا یہ بوجھ ان کے سر پر نہیں ڈالوں گی.. وہ کہتے ہیں دور رہو مجھ سے… تو ٹھیک میں ہر پہرہ توڑ دوں گی بہت دور چلی جاؤں گی ان سے..
وہ بلکل غلط تہیہ کرتی اپنے آپ کو یہ کر گزرنے کے لیے تیار کر رہی تھی.
🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺
تمام ڈیٹیلز پاشا کے پاس تھیں اور اب وہ چند گھنٹوں میں لاہور کی اس چھوٹی سی بستی میں چھوٹے سے گھر میں بنے ڈرائنگ روم میں ٹانگ پر ٹانگ جمائے رعب سے بیٹھا تھا
اور جانچتی نگاہوں سے سامنے بیٹھی عورت کو دیکھ رہا تھا
جو اس کے حلیے بڑی گاڑی ہاتھ پر بندھی ہیروں جڑی گھڑی کو دیکھ کر سخت مرعوب سی بیٹھی تھی..
کون ہیں آپ… میں نے آپ کو پہچانا نہیں؟
اسے چھوڑو یہ بتاؤ رحاب عزیز کو جانتی ہو..
اس نام پر سامنے والی نے کڑوا سا منہ بنایا.. ہاں نند تھی میری… پکنک پر گئی تھی.. وہاں ایک بم بلاسٹ میں مر گئی… اس کی دوست اور میرے شوہر نے تو بڑا شور مچایا مگر اب مرنے والوں کو کون واپس لا سکتا ہے. شاہینہ اطمینان سے بولی
وہ مری نہیں… میرے پاس ہے.. پاشا نے شاہینہ کے سر پر بم پھوڑا..
وہ کچھ کہنے لگی اس سے پہلے پاشا بول پڑا..
وقت نہیں میرے پاس ..مجھے پتہ ہے تمھیں اس سے کوئی دلچسپی نہیں سوائے اس کے کہ تم اسے اپنے پھٹو بھائی کے گلے باندھنا چاہتی ہو… ایک بے دام غلام کے طور پر……….
اب جو کہوں گا غور سے سننا اور سوچ کر جواب دینا. وہ مجھے چاہیے.. میں اسے اپنے پاس رکھنا چاہتا ہوں… مگر وہ واپس آنے کی ضد کر رہی ہے… میں چاہتا ہوں کہ وسیم اسے خود میرے پاس چھوڑنے آئے..
اور اس سے مجھے کیا ملے گا… شاہینہ کی لالچ سے جِیب لپلپائی.
قیمت بولو…؟
دس لاکھ…… شاہینہ بولی..اس بے حس لالچی اور ظالم عورت نے یہ تک پوچھنا گوارا نہیں کیا تھا کہ وہ کس تعلق سے اسے اپنے پاس رکھنا چاہتا ہے.. کیا وہ نکاح کرے گا اس سے.
. پاشا نے افسوس سے اسے دیکھا
تیس لاکھ دوں گا….. یہ فون ایڈوانس سمجھو… پاشا نے ایک انتہائی قیمتی موبائل کو ڈبہ چھوٹے سے ٹیبل پر اچھالا… شاہینہ کی تو آنکھیں پھٹی کی پھٹی رہ گئیں..
میں کل اسے یہاں چھوڑ جاؤں گا… وسیم سے کہنا انھیں پیروں اسے میرے پاس اس ہوٹل میں چھوڑ جائے…..
پاشا نے ایک کارڈ ٹیبل پر رکھا.. اور باہر نکلتا چلا گیا.
🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺
