Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Episode 18

سر پاشا آپ کو ہر جگہ تلاش کر رہا ہے..
مگر آپ کراچی میں ہی ہیں اس بات کی بھنک نہیں لگی اسے
سارے اڈے تباہ کر دئیے ہیں.. وہ طوفان بنا تباہی مچاتا پھر رہا ہے.. آپ کے سارے بینک اکاؤنٹس بھی لاک کر دئیے..
میڈیا کو آپ کے کالے دھندوں کے سارے ثبوت ھی دے دئیے.

اور حرام خور تو بڑے فخر سے مجھے سب سنا رہا ہے….. کچھ کیا نہیں.. کہا تو تھا کہ ان کی کوئی کمزوری ڈھونڈ.
اسے میرے پاس لا… بادشاہ نے منہ سے جھاگ اڑائی

ان کی کمزوریاں تو کلفٹن میں بنے وائٹ پیلس میں ہی ہیں سر…

تو اٹھا لاؤ…

یہ تو کسی دیوانے کا خواب ہی ہو سکتا ہے سر…

کیوں ایسا کیا ہے؟ وائٹ پیلس کے باہر کیا جن پہرے دیتے ہیں.. یا پاکستان کی فوج کھڑی ہے.. جنھیں پار نہیں کیا جا سکتا.. بادشاہ نے تمسخر اڑایا.

وائٹ پیلس نہیں.. اس کے گرد پانچ کلو میٹر کے گھیرے میں کوئی غیر متعلقہ آدمی گھسے تو وہ دوبارہ نہیں دیکھائی دیتا..
پاشا کا علاقہ ہے وہ معمولی بات نہیں.. کوئی اس گھیرے میں اندر نہیں جا سکتا.

کوئی اندر نہیں جا سکتا.. مگر وہاں سے کوئی باہر تو آ سکتا ہے ناں خبیث… پاشا نامہ بند کر اور کوئی کام کی خبر سنا.. بادشاہ موت کے خوف سے پاگل ہو چکا تھا.. اسے لئے اپنے آدمیوں پر بھونک رہا تھا.

سر ایک لیڈ ہے.. پچھلے کچھ دن پہلے ہی سوہم نے ایک آدمی کا خون کروایا تھا.. اس کی بیوی کو پریشان کرتا تھا شاید… اس کا بھائی بدلہ لینا چاہتا ہے اس چھوکری سے اور اس سوہم سے..وہ ہمیں اس کی بیوی اور خاندان تک پہنچا سکتا ہے..

یہ ہوئی نا کرنے والی بات… اب جلدی سے کام پہ لگ جاؤ.. مجھے سوہم خان کی معشوقہ چاہیے.. ہر قیمت پر.. سنا تم نے……

جو حکم سر..

🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺

سوہم روحا کو لئے شام ڈھلے وائٹ پیلس پہنچ چکا تھا..

دونوں کمرے میں آئے… ابھی وہ کچھ اور کہتی سوہم اس کے قریب آیا.
مجھے ابھی جانا ہوگا جان… اپنا خیال رکھنا.. اوکے

کہہ کر اس کے ماتھے پر نرمی سے محبت کی مہر ثبت کی اور نکلتا چلا گیا..

پیچھے وہ جھنجھلائی… اففف طبیعت خراب ہے پھر بھی چین نہیں انھیں…
وہ ریشماں اور رحاب کے پاس چلی آئی.
فانیہ اور ریحاب اداس سی تھیں….

پورا دو دن ہو گئے تھے انھیں غائب ہوئے اور اب سوہم بھی کہیں چلا گیا تھا..

🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺

پاشا اور راسم ہر جگہ بادشاہ کو تلاش کر رہے تھے.
جب سوہم کی کال آئی ..

یس سوہم…..
میں پہنچ گیا… اور خبر ملی ہے کہ بادشاہ کراچی میں ہی ہے… اور جیک بھی…….. کبیر آیا؟

نہیں وہ وہاں پہ بادشاہ کہ تمام ٹھکانے جلا چکا ہے.. تم بھی پہنچو وہ بھی پہنچنے والا ہے… اب ہم چاروں کو فیس کرنا ہوگا دشمن کو…… پاشا اب وہ طوفان بن چکا تھا جسے روکنا ناممکن تھا.

کیونکہ ٹونی نے جو خبر سنائی تھی… وہ وائٹ پیلس پر حملہ کرنے کے پلین کی تھی… اور اب بادشاہ کو پاشا کے عتاب اور غیض و غضب سے کوئی نہیں بچا سکتا تھا..

🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺❤️

وہ تینوں مصروف سی لاؤنج میں بیٹھی تھیں جب فانیہ بوجھل طبیعت کی وجہ سے اپنے کمرے میں اور روحا بچوں کے بلانے سے دوسری طرف چلی گئی…

تبھی روحا کا موبائل بجا..
اور دس منٹ تک بجتا ہی چلا گیا.
پہلے تو روحاب دیکھتی رہی کہ روحا آ جائے… مگر فون کرنے والا بڑا بے صبرا تھا…

وہ گہری مسکرائی.. یقیناً سوہم خان ہوگا..
یہ سوچ کر کی سوہم کی بات سن کر وہ میسج ٹائپ کر کے جواب بھیج دے گی…
فون یس کر کے کان کو لگایا..
مگر

ہیلو… غور سے سنو تمھاری دادی اور نانی ہمارے قبضے میں ہیں.. اگر ان کی سلامتی چاہتی ہو تو وائٹ پیلس میں کسی کو بھی بھنک لگائے بغیر باہر آؤ…. دائیں طرف سے دو گلیاں چھوڑ کر ایک رکشے جسے عورت چلا رہی ہو گی اس میں بیٹھ جاؤ…. ہمیں ان بوڑھی جانوں سے کوئی لینا دینا نہیں

(پیچھے سے دو بوڑھی سی ضغیف سی چیخنے چلانے کی آوازیں بھی آ رہی تھیں..)

مگر ہمیں تم چاہیے ہو.. اب فون رکھے بغیر چپ چاپ اٹھ جاؤ… اور پانچ منٹ کے اندر باہر آؤ..فون رکھا تو ان کے بھیجے اڑا دوں گا
رحاب کی جان پر بن آئی نا کسی کو بتا سکتی تھی نا فون رکھ سکتی تھی.

وہ کچھ سوچنے سمجھنے کا موقع ہی نہیں دے رہے تھے..
ایک مرتبہ تو پاشا کہ الفاظ کانوں میں گونجے
مجھ سے دور مت جانا… کبھی نہیں..
پھر روحا کا خیال آیا.

پھر بغیر سوچے سمجھے چپکے سے اٹھی.
فون کرنے والے بھی لگتا ہے ایک ایک بات جانتے تھے
اس وقت گارڈز کی تبدیلی کا وقت تھا..

وہ آسانی سے کسی کی نظروں میں آئے بغیر وائٹ پیلس کا گیٹ پار کر گئی….

دو گلیاں چھوڑ کر بند رکشے میں چہرے پر خباثت سی لئے ایک عورت بیٹھی تھی
وہ رکشے میں بیٹھ گئی…

عورت نے پیچھے مڑ کر اس کے چہرے پر سپرے کیا.. وہ بے ہوش ہو کر وہیں لڑھک گئی…

🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺

سوہم پاشا، کبیر اور راسم مخصوص جگہ بیٹھے اگلا لائحہ عمل ترتیب دے رہے تھے..

جب ٹونی اور ریما. سخت طیش میں بغیر اجازت اندر داخل ہوئے تھے..
پاشا اور وہ سب بے تحاشا چونکے.

کیا بات ہے ٹونی، ریما اس گستاخی کا مطلب… پاشا سنجیدہ سا بولا
سر یہ..
اس نے ایک ریکارڈنگ سنائی…
ریکارڈنگ سننے کے ساتھ ہی وہاں موجود سب کے تاثرات خطرناک حد اختیار کر چکے تھے.

سوہم کی جان لبوں پر ائی.. وہ جو کوئی بھی تھا روحا کو وائٹ پیلس کے باہر آنے پر مجبور کر رہا تھا..
تمام گفتگو سن کر وہ اپنی جگہ سے کھڑے ہویے تھے.

امید ہے روحا وائٹ پیلس سے باہر نا نکلی ہو تمھیں انفارم کیے بغیر.. پاشا نے پریشانی سے کہا.

ریما نے پہلو بدلہ..

پاشا وہ ایسا کر چکی ہے فون کی لوکیشن اس وقت وائٹ پیلس کے باہر مسلسل چینج ہو رہی ہے…اور جیک کے اڈے کا پتا چلا ہے…. بادشاہ اور وہ دونوں الگ الگ رہ کر دو طرف سے حملہ کرنے والے ہیں..

سوہم تم روحا کی لوکیشن ٹریس کرتے ہوئے اس کے پیچھے جاؤ.. تمھارے ساتھ کبیر جائے گا .. مجھے یقین ہے بادشاہ اسے جہاں خود چھپا ہے وہاں پہ ہی لے کر جائے گا…

میں جیک کا سر کچل کر جلد از جلد تم تک پہنچنے کی کوشش کروں گا..

وہ خونی آندھی طوفان بنے سب کچھ تہس نہس کرنے کے ارادے سے وہاں سے نکلے تھے..

🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺

پاشا اور راسم جیک کے ٹھکانے پہنچے تھے.

مگر وہ پہلے سے تیار تھے مگر سامنے بھی پاشا تھا..
بہت جلد
بہت تیزی سے پاشا نے اس کے بندوں کا سر کچلا تھا..
جیک کے پسینے چھوٹے

جب پاشا نے اس پر گھیرا تنگ کیا تو اس نے بزدلوں کی طرح بھاگنے کی کوشش کی
مگر اب پاشا کی ڈیتھ بک میں اس کا اور بادشاہ کا نام ٹاپ آف دا لسٹ تھا.

سو اس کا بچ نکلنا ناممکن تھا.
ٹونی اور راسم نے بہت جلد اسے قابو کر کے پاشا کے سامنے گھٹنوں کے بل جھکایا تھا..

Any last wish……
پاشا پھنکارا..
You can’t beat me……….
جیک موت کے خوف سے چنگھاڑا..

Although I have done so……
پاشا کا ہاتھ تیز دھار آلہ لئے دائیں سے بائیں گھوما تھا.
اور جیک کی گردن پیچھے کمر سے جا لگی تھی..

جلا دو یہ جگہ… راکھ بھی نا بچے. پاشا دھاڑا
چھوٹے سے بم سے دشمن کو نیست و نا بود کرتے وہاں سے نکلے تھے.
جلدی چلو زرا بادشاہ کو بھی اسکی جرات کا انعام دیں..

🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺

سوہم بہت جلد ایک بہت پرانے فارم ہاؤس کی عمارت کے باہر پہنچ چکا تھا…

سوہم خان کے سیدھے دل پر وار کیا گیا تھا. وہ عمارت کے باہر کئی درندوں کو ابدی نیند سلا چکا تھا
اور یونہی موت کا فرشتہ بنا دھڑلے سے سامنے گیٹ سے اندر داخل ہوا..
مگر لاؤنج میں داخل ہوا تو بادشاہ کا مکروہ قہقہہ چاروں اور گونجا…

سوہم خان کے سر پر چاروں طرف سے گن تانی گئیں تھیں

مگر وہ اطمینان سے کھڑا تھا.. لیکن دل میں غم وغصے کے طوفان اٹھ رہے تھے…
وہ کوئی ایکشن نہیں لے رہا تھا..لے ہی نہیں سکتا تھا.
ان کے پاس اس کی روح تھی..
مگر سکون اس لئے بھی تھا کہ بہت جلد پاشا پہنچنے والا تھا یہاں..

وہ روح… جس میں اس کی خود کی روح اٹکی تھی..

ویلکم ویلکم executioner…میری توقع سے بہت جلد پہنچ گئے یہاں … تمھاری طرف تو پرانا حساب نکلتا ہے.. کالی کو مارا تم نے.. بھائی تھا وہ میرا…

اسے چھوڑ دو بادشاہ.. بزدلوں کی طرح عورتوں کو بیچ میں کیوں لا رہے ہو.. مرد کے بچے ہو تو مجھ سے مقابل کرو..

نہیں.. نہیں بننا مجھے مرد کا بچہ…. میں تو اتنا ہی کمینہ اور خبیث ہوں.
اے لاؤ اسے.. زرا اس کے یار کے سامنے اس کا تماشا دیکھیں..کیا پتا اپنے عاشق کے سامنے بولنے لگے..

سوہم کی رگوں میں خون لاوا بن کر دوڑا..
مگر اسے عجیب لگا..
روحا کے چیخنے چلانے کی آواز کیوں نہیں آ رہی تھی..
یہ راز بھی جلد ہی کھل گیا..

کیونکہ اس کا آدمی جس نازک سی جان کو بازو سے گھسیٹتا باہر لایا تھا.
وہ روحا نہیں…
رحاب تھی… Deadly Pasha کی رحاب..

سوہم چونکا…
مگر سوہم کو کچھ بھی سوچنے کو موقع دئیے بغیر…

بڑا شوق ہے تمھیں دوسروں کی شہہ رگ اڑانے کا لو آج اپنی معشوقہ کو ایسے مرتے دیکھو..

یہ کہہ کر بادشاہ نے فائر کیا تھا.. جو کہ رحاب کی گردن پر لگا ..
وہ کٹی پتنگ کی طرح فرش پر بے جان ہو کر گری…

طوفان کی طرح اندر آتے پاشا کے یہ قیامت خیز منظر دیکھ کر قدم وہیں تھمے تھے….

اب بادشاہ نے اپنی ہر حد پار کر دی تھی.. وہ سہی معنوں میں executioners بنے ان پر چھپٹے تھے..

اپنی پرواہ کیے بغیر…
کیڑے
مکوڑوں کی طرح اس کے کتے چاروں اور سے نکل کر ان پر حملہ کر رہے تھے..
مگر سوہم کی شہہ رگیں اڑاتی گولیاں.، پاشا کا جسموں کے ٹکڑے کرتا تیز دھار آلہ.

کبیر اور راسم کی ہڈیاں کڑکاتی جمناسٹکس سے بہت جلد وہاں لاشوں کے ڈھیر بچھ چکے تھے..

بادشاہ بھاگنے لگا.. راسم نے اسکی گردن دبوچی.. اور اس سے پہلے وہ اس کی گردن مروڑ دیتا…

راسم مجھے یہ زندہ چاہیے… پاشا دھاڑا اور رحاب کی جانب بڑھا..

نہیں نہیں.. دیکھو سوہم خان میں نے تمھاری معشوقہ کا کیا حال کیا… فورا میری شہہ رگ اڑا دو.. مار ڈالو مجھے.. وہ گھگھیا گیا..
پاشا کے ہاتھوں تل تل مرنے سے آسان اسے سوہم خان کی دی گئی موت لگی….

جاؤ… پاشا دھاڑا.. راسم اور کبیر نے اس کے سر پر ایک ضرب لگائی.. وہ بے ہوش ہوگیا.. اسے لئے چلے گیے.

سوہم اور پاشا رحاب کے قریب آیے…. گردن سے نکلتا تیزی سے خون…
پاشا کا چہرہ بھی برداشت کی شدت سے خون رنگ ہو چکا تھا…
اسے بازوؤں میں بھرا..

سوہم نے نبض ٹٹولی…… ہلکی سی زندگی کہ رمق تھی… جو وہ بجھنے نہیں دینے دینا چاہتا تھا..

پاشا بلکل ساکت ہو چکا تھا.. بلکل پتھر…
سنگلاخ چٹانی پتھر……

اس کے لاشعور کا ڈر اس کے سامنے آ چکا تھا…
سوہم نے رحاب کو اس کے بازوں سے لیا اور تیزی سے باہر نکلا.

اس کا رخ سیدھا ہوسپیٹل تھا.

🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺ت نکال رہی ہوں