Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Episode 17


صبح رحاب کی آنکھ کھلی…
جان لیوا سی انگڑائی لے کر بیدار ہوئی.

سرخ میکسی اب تک جسم پر موجود تھی… وہ تو پاشا کی اتنی سی ہی پر شدت جسارتوں سے نڈھال ہو گئی تھی.. کہ اس کے جانے کے بعد یونہی چینج کیے بغیر ہی سو گئی تھی…

پاشا کے اور رات کے بارے میں سوچ کر شرمیلی سی مسکان نے چہرے کا احاطہ کیا…

دروازے پر ہلکی سی دستک ہوئی تو اٹھی… اور دوپٹہ اٹھا کر اپنے وجود کے گرد اچھے سے لپٹایا..
دروازہ کھولا تو سامنے ریشماں تھی..

رحاب نے نظریں جھکائیں….
ریشما نے مسکرا کر اس کا شرمایا روپ دیکھا..

پاشا کہاں ہے… بچی…… رحاب نے اندر آنے کا اشارہ کیا..

ریشماں اندر آئی…
وہ تو رات ہی کہیں چلے گئے تھے.. رحاب نے اشارہ کیا.. ریشماں کا صدمہ لگا..

یقیناً کوئی غیر معمولی بات ہوگی جو وہ اپنی رحاب کو اپنے جنون اور ارمانوں کو ادھورا چھوڑ کر چلا گیا تھا..
ریشماں پریشان ہوئی پر رحاب پر ظاہر نہ ہونے دیا.

اپنا خیال رکھو بچی… تمھیں ایک کھروچ بھی آئی تو وہ آ کر وائٹ پیلس جلا دے گا..
وہ شرم سے دوہری ہوئی..
ریشماں اسے پیار کرتی کمرے سے نکلی..

فوراً راسم کو بیسمنٹ بلایا..

جی حکم ریشماں… ؟

پاشا کی کیا خبر ہے..

ٹونی آیا تھا ریشماں… بادشاہ کے پیچھے گیا ہے… مجھے ایک جگہ بلایا ہے جانے لگا ہوں.. وہ اس وقت گھمبیر سنجیدگی سے بولا..

ٹھیک ہے جاؤ….

🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺

پاشا بادشاہ کے اڈے سے نکل کر اس کے تعاقب میں تھے..
پوری رات گزر چکی تھی..

وہ اپنی مخصوص جگہ گئے تھے.. جب فون رنگ ہوا

رسیو کر کے کان کو لگایا.
یس…….

سر بری خبر ہے… بادشاہ نے انٹرنیشنل کریمینل جیک کو ساتھ ملایا ہے جس کا نیٹ ورک اس پچھلے مہینے میں سوہم خان نے تباہ کیا… اور اب اس نے کچھ بڑا پلان کیا ہے…شاید سوہم خان کا ہی پیچھا کر رہا ہے وہ…

سوہم خان پر اٹیک ہونے والا ہے سر..

ٹھیک ہے… اور کوئی خاص بات…

یہی تھی سر….
پاشا نے فون بند کیا…

ایوری تھنگ اوکے سر… ٹونی نے پاشا کی خون میں نہائی آنکھیں دیکھی…

سوہم پر اٹیک ہونے والا ہے… میں نے ریڈ سگنل بھیج دیا ہے…. اکیلا ہوتا تو جیک کا باپ بھی ہوتا وہ آسانی سے ہینڈل کر لیتا..پر اب اس کے ساتھ اس کی وائف ہے..
پتا نہیں ہم ان جھنجھٹوں میں کیوں پڑے…

پاشا کے اعصاب چٹخے
سخت جھنجھلایا…..

تبھی کبیر کا فون آیا…
رسیو کر کے کان کو لگایا…

بھائی…. پکار میں صدیوں کا درد تھا.. کبیر خاموش ہو گیا.
پاشا بے تحاشا چونکا..

کیا ہوا کبیر….. بولو…. جلدی کرو.. میں نے تمھیں executioner بنایا…. اس لئے نہیں کہ کمزور پڑو..
پاشا نے دانت پیسے

بھائی وہ زمل… کبیر کی رگیں تنیں ہوئی تھی.. چہرہ لال انگارہ ….. وہاں پہنچ کر وہ ہر ممکنہ جگہ اسے تلاش کر چکا تھا… مگر وہ کہیں نہیں تھی…

جانتا ہوں…. .خبر ہے مجھے… . آگے بولو….. . نہیں ملی..؟
پاشا پھنکارا

نہیں….. کبیر کا لہجہ شکست خوردہ تھا…

گدھوں کی فوج پال رکھی ہے کبیر تم نے… جو ایک کام ڈھنگ سے نہیں کر سکے.اس کی حفاظت کا بول کر گئے تھے ناں……. کی انھوں نے…؟ اب ہٹاؤ ان سب کو اپنے ارد گرد سے…
.. مگر میرے آدمی گدھے نہیں ہیں …. پتہ ہے مجھے وہ کہاں ہے…

کہاں ہے بھائی… کبیر بے قرار ہوا..اسے پتا تھا اس کی مشکل کا حل صرف Deadly Pasha کے پاس ہی ہو سکتا ہے..

جہاں بھی ہے… خیرت سے ہے اور محفوظ ہے… فی الحال ایک ایڈرس بھیج رہا ہوں وہاں جا کر بادشاہ کی موجودگی کا پتہ لگاؤ……. وہ خود نا بھی ہوا تو بھی آگ لگا کہ بھسم کر دینا ہر چیز…

مگر بھائی.. وہ زمل…. اس کی سوئی زمل پر اٹکی ہوئی تھی..

شٹ اپ کبیر… اب تڑپ رہے ہو اتنے گٹس ہونے چاہیں تھے کہ سوہم کی طرح پہلے ہی اٹھا لاتے… اور رہی زمل کبیر ابراہیم کی بات تو اب اسے پاشا ابراہیم خود وائٹ پیلس لا کر تمھارے کمرے میں پٹخے گا… اب خوش… اب اپنے کام پر دھیان دو.. پاشا غرایا..

وہ بھائی.
نو مور آرگیو……. کبیر ابراہیم.. پاشا دھاڑا اور فون بند کر دیا.. مگر کبیر کے چہرے پر اتنی دیر میں پہلی مرتبہ مسکراہٹ کھلی تھی..

مگر پھر اعصاب چٹخے
کہہ تو بھائی سہی رہے ہیں… گدھے پال رکھے ہیں میں نے..
اس نے دانت کچکچائے..

🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺

سوہم بہت دیر سے اس کے سینے پر سر رکھے گہری نیند سوئی روح کو مسکراتے دیکھے جا رہا تھا..
وہ دایاں ہاتھ نرمی سے اس کے بالوں میں پھیر رہا تھا.

کیا تھا وہ اور اس نازک سی جان نے عاشق ہی بنا دیا تھا اسے تو…..

وہ اس کی شدتوں سے نڈھال.. تھکی ٹوٹی گہری نیند میں تھی..
فریش ہو کر سوہم کی ہی وائٹ ٹی شرٹ پہن آئی تھی..
اور اب وائٹ پری لگ رہی تھی..

سوہم کا دل پھر بے ایمان ہوا…. چیختے چنگھاڑتے دل کی فرمائش پر پھر اسے سینے میں بھینچا…
وہ ٹس سے مس نا ہوئی.

اسے سیدھا کر کے ماتھے سے شہادت کی انگلی چن تک لایا.
نیند میں روحا کو چہرے پر کوئی چیز رینگتی محسوس ہوئی…
چن سے انگلی بیوٹی بون تک آئی…اس سے آگے کی گستاخی کرنے سے پہلے پٹ سے آنکھیں کھلیں تھی روحا کی

بوکھلا کر سوہم خان کا ہاتھ روکا…. وہ گہرا مسکرایا..
روحا جھنجھلائی..
سوہم پلیز سونے دیں ہمیں….. اس کے سینے میں منہ دے لیا..

ابھی وہ اس کی ادائیں انجوائے کرتا کہ فون پر بجنے والی بیل نے سوہم خان کے تاثرات سیکنڈوں میں بدلے تھے…

اسے تو پہلے ہی چھٹی حس کچھ غلط ہونے کا سگنل دے رہی تھی.. مگر وہ روح کے وجود میں ایسا گم ہوا کہ دنیا بھلا گیا..

بجلی کی سی تیزی سے وہ روحا کے خود سے لپٹائے بیڈ سے نیچے گرا تھا..
تبھی ریزورٹ پر گولیوں کی برسات ہوئی تھی.
لکڑی کے بنے ریزورٹ کی دیواریں ان گولیوں کے آگے ریت کی دیوریں ثابت ہوئیں تھیں..

گولیوں کی بوچھاڑ سے بیڈ کے گدے اور تکیوں کے پرخچے اڑ رہے تھے…..
روحا چیخی….

بیڈ کے نیچے سے سوہم نے اپنی گنز نکالیں..
دشمن کی اتنی بڑی جرات پر ایک غم و غصے کا طوفان سا اٹھا تھا سینے میں جو بہت جلد اسے executioner سے بھی کچھ برا بنا گیا تھا…

دشمن نے سمجھا وہ اپنا کام تمام کر چکے ہیں… نہیں جانتے تھے کس طوفان سے الجھے ہیں..

پھر سوہم خان کی گنز نے آگ اگلی تھی… اور اس کا نشانہ کبھی چوکتا نہیں تھا.
روحا نے صدمے سے گنگ اسے دیکھا..
یہ اس کا کچھ دیر پہلے والا… مہربان سی مسکان والا سوہم خان تو نہیں تھا..

سوہم نے اس کی کمر میں ہاتھ ڈال کر اسے خود میں بھینچا.. اور سیکرٹ رستے سے باہر نکل کر موت کا فرشتہ بن گیا…

وہ…… آج سوہم خان کا وہ روپ دیکھ رہی تھی جو اسے ہر گز نہیں دیکھنا چاہیے تھا..
خوف سے وہ لٹھے کی طرح سفید پڑ چکی تھی.

اور یہ خوف کسی اور کا نہیں سوہم خان کی دہشت اور درندگی کا تھا جو اس کے دل میں بیٹھ رہا تھا..

وہ اسے بازو سے گھسیٹتا جہاں سے گزر رہا تھا لاشوں کا ڈھیر لگا رہا تھا..
شہہ رگوں پر بجتی سوہم خان کی گن کی گولیاں سامنے والے کی گردنیں کمروں سے لٹکا رہی تھی..

وہ تیزی سے اپنا بچاؤ کرتا.. مقابل کو موت کے گھاٹ اتار رہا تھا..

اور وہ بے تحاشا روتی یہ سب دیکھ رہی تھی.
اب تک وہ درجنوں خون کر چکا تھا وہ بھی اس کی آنکھوں کے سامنے..
کاش وہ یہ سب دیکھنے سے پہلے مر گئی ہوتی….

ہر طرف فائرنگ کی آواز تھی.. وہ دونوں خون میں نہا گئے تھے..
ریزورٹ سے تو کب سے نکلے اب ناریل کے درختوں کے بیچ وہ اسے سینے سے لگائے ہر طرف دیکھ رہا تھا..
جو سوہم کی ہی گھٹنوں تک آتی وائٹ ٹی شرٹ اور وائٹ ٹراؤزر میں تھی.. سفید کپڑوں پر سرخ خون کے دھبے..
وہ بے تحاشا رو رہی تھی.

اششش روح کچھ نہیں ہوگا… رونا بند کرو… میں کچھ نہیں ہونے دوں گا تم…………..

ابھی وہ کچھ اور کہتا کہ
جب ایک شعلہ سا سوہم خان کے کندھے سے نکلا تھا اور خون کے چھنٹے روحا کے اوپر گرے…

صرف چہرہ سرخ ہوا سوہم خان کا.. جگہ سے تو وہ ایک انچ بھی نا ہلا…

سس.. سوہم کہہ دیں کے یہ خون آپ کا نہیں … آپ. کک… کو گولی لگی….؟
روحا کے اب خوف ودہشت سے حواس سلب ہونے کو تھے.

نہیں جان یہ خون میرا نہیں… میں ٹھیک ہوں… گھبراؤ نہیں…. وہ سکون سے کہتا اسے بازو سے پکڑے پھر تیزی سے لاشیں بچھاتا وہاں سے نکلا

سوہم آپ انھیں کیوں مار رہے ہیں.. وہ چلائی.

یہ ہمیں مارنے آئے ہیں تو کیا پھولوں کے ہار پہناؤں انھیں.. وہ غصے سے کہتا اسے ساتھ گھسیٹے تیزی سے فائرنگ کرتے چل رہا تھا..

آئی ہیٹ یو سوہم… ہمیں آپ جیسے قاتل اور خونی کے ساتھ نہیں جانا.. چھوڑیں ہمیں…… وہ بے تحاشا روئی.. اور مچلی..

روح پاگل مت بنو… چلو..مجھ سے دور جانے کا سوچا بھی تو سانسیں چھین لوں گا تمھاری.. وہ غرایا..

ایک تو کندھے پہ لگی گولی اوپر سے اس کی باتیں سوہم کا دماغ گھمانے کو کافی تھی..

ایک چھپی ہوئی جگہ اس نے لا کر روحا کو گاڑی میں دھکیلا… خود بہت تیزی سے گاڑی میں بیٹھ کر گاڑی سٹارٹ کی…

وہ مسلسل شور مچا رہی تھی..

میری سلیپنگ بیوٹی.. تم سوتے ہوئے ہی اچھی لگتی ہو.. یہ کہہ کر سوہم نے روحا کی گردن پر ایک نازک سی جگہ دباؤ ڈالا… تو وہ بے ہوش ہو کر فرنٹ سیٹ پر اس کے کندھے پر لڑھک گئی..

اتنی ٹینشن میں بھی وہ مبہم سا مسکرایا…

🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺

سوہم نے حملہ آوروں کو ٹکھانے لگا دیا تھا
انھیں آسانی سے چکما دے کر نکل آیا تھا
اسے لئے اپنے بندوں کے بیچ محفوظ مقام تک پہنچا تھا…

اسے اپنے بیڈروم میں پہنچا کر زخم پر توجہ دی..
گہرا نہیں تھا مگر کافی خون بہہ گیا تھا. ڈاکٹر کو بلوایا مرحم پٹی کروائی..

پاشا کا فون آیا…
ٹھیک ہو؟ روحا محفوظ ہے؟

بلکل پاشا کسی کے باپ میں بھی اتنی ہمت نہیں کہ ہماری فیملی تک پہنچے..

اور جو تمھیں گولی لگی ہے….

میں ٹھیک ہوں… مگر اب جیک نے اتنی ہمت کی ہے تو اس کو انعام دینا تو بنتا ہے.

سوہم ابھی آرام کرو… روحا کو سنبھالو.. وہ ڈر گئی ہو گی..
اسے لے کر واپس آؤ…

لیکن…

دس از مائی آرڈرز…… نو آرگیو… ناؤ ڈو واٹ آئی سے…

اوکے…… ایک حرفی بات کر کے اس نے فون رکھا دیا.

اور بیڈ روم میں آیا…
روح میری جان… وہ شرٹ لیس….. کندھا پٹیوں میں جکڑا اس کے اوپر جھکا تھا..

جب بے حد درد محسوس ہوا تو اس کے ساتھ ہی اس کے پہلو میں لیٹ گیا..
روحا نے دھیمے سے آنکھیں کھولیں.. خوف سے زرد پڑتی فورا اٹھ بیٹھی…پاس ہی وہ پٹیوں میں جکڑا لیٹا تھا…
اور خوفزدہ ہوئی..

روح…… سوہم نے پکارا…

یہ… یہ . ہم نے کہا تھا ناں آپ کو گولی لگی… جھوٹے ہیں آپ… وہ اسے اس حالت میں دیکھ کر پھر پھوٹ پھوٹ کر روئی.

سوہم نے جان نثار کرنے والے انداز میں اسے دیکھا.. کھینچ کر اسے سینے پر گرایا..
روتی بسورتی سینے پر بکھرے اس کے بال وہ سیدھا اس کے دل میں اتر رہی تھی..

مجھے گولی لگی ہے… علاج صرف تمھارے پاس ہے… میری زندگی… جزبات سے بوجھل گھمبیر آواز.. سوہم نے پھر اس کے لب سہلائے..

کیا. ہم…. کیا کر سکتے ہیں.. وہ سوں سوں کرتی بولی..

مجھے اتنا پیار دو کہ میں یہ درد بھول جاؤں… مجھے ادھر کس چاہیے… سوہم نے کندھے پر اشارہ کیا..

نہیں… ہم. نہیں کریں گے.. آپ کو درد ہوگا… وہ سسکی..

سوہم کے سینے پر گرتے اس کے آنسو اب سوہم کو تکلیف دے رہے تھے..
اسے نیچے گرا کر اس پر حاوی ہوا…

مسز سوہم خان… فوراً سے پہلے رونا بند کرو… سوہم نے وہ آنسو لبوں سے چنے..اتنی تو مجھے گولی سے تکلیف نہیں ہوئی جتنی یہ آنسو دے رہے ہیں..

جلدی کرو یار… سوہم نے اسے اکسایا…. پیار کرو مجھے… وہ اسے خود میں الجھانا چاہتا تھا
تاکہ وہ سب بھول جائے..
کچھ ہی دیر میں سوہم نے اسے پور پور محبت کی بارش میں بھگو ڈالا..

سوہم اتنے درد میں بھی بے خود سا ہو کر اس کے نرم و نازک لبوں پر جھکا تھا..

واقعی کچھ دیر میں سوہم خان نے اسے دنیا بھلا دی تھی..

🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺