Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Episode 10

سر ایک بہت بری خبر ہے
وہ جنھوں نے نکاح کے فورا بعد اپنے بندے سیف کو ڈھونڈنے کے کام پر لگائے تھے ان میں سے ایک نے آ کر کہا.

کیا… جلدی بولو.. پاشا نے کہا .. کبیر اٹھ کر کھڑا ہوا..

بادشاہ کے بندے سیف کو لاہور بادشاہ کے ٹھکانے پر لے گئے ہیں.. وہ یہاں ان کے کسی اڈے پر نہیں ہے.

ٹھیک…. تو بادشاہ دادا…… پاشا کو اپنے دام میں پھنسانے کے لیے یہ ہتھکنڈے اپنا رہا ہے.. مگر وہ جانتا نہیں شاید کہ پاشا کی ڈیتھ بک میں اب اسی کا نام ٹاپ آف دی لسٹ ہے. چلو کبیر…

نہیں بھائی…. آپ ریحاب، ریما اور رجا کو لے کر واپس جائیں… سیف کو میں ڈھونڈ لوں گا. مگر بادشاہ کا سر کچلنے کے لیے باقاعدہ پلینگ اور شیر کی طرح شکار پر جھپٹنے کے لیے دو قدم پیچھے ہٹنے کی ضرورت ہے..

مگر کبیر

کیا آپ کو مجھ پر بھروسہ نہیں.. کبیر کی آنکھوں میں خون اترا ہوا تھا..

وہ تو ہے لیکن…

تو پھر بس مجھے جانے کی پرمیشن دیں…

ٹھیک ہے جاؤ..میں بھی نکلتا ہوں…

جاؤ رجا اسے بلا کر لاؤ.. ہمیں نکلنا ہے… پاشا نے رجا سے رحاب کو بلانے کا کہا.

ریما کا تو دل کیا اس لڑکی کو یہیں پھینک کر جاتے..
یہی سوچ دل کو کچلنے کے لیے کافی تھی کہ اگر ریشماں نے اس کے اور پاشا کے لئے بھی کوئی فیصلہ کر دیا تو..؟

رجا اسے بلا لائی..
آج وہ سفید فراک پاجامے میں سفید چادر لئے.. آسمان سے اتری کوئی نورانی مخلوق لگ رہی تھی.. وہ جو بیگ اپنے ساتھ لائی تھی وہ بھی تھا.

پاشا نے ایک نظر اسے دیکھا اور سن گلاسز لگا لیں.. اپنے ایک آدمی کو اشارہ کیا..
اس نے سامان اٹھا کر گاڑی میں رکھا.

پاشا نے چلنے کا اشارہ کیا.. وہ سب آکر گاڑی میں بیٹھے..
ڈرائیور کے ساتھ گارڈ،
اس سے پچھلی سیٹ پر پاشا اور ریما اور اس سے پچھلی پر ٹھیک پاشا کے پیچھے رحاب اور رجا تھیں..

رحاب نے سکون سے آنکھیں موند لیں..
اتنی آزادی اتنا سکون بغیر اپنے وجود کی تزلیل ہوئے یہ وقت بہت اچھا لگ رہا تھا..
کچھ ابھی ابھی جو ایک شخص کو ایک نظر دیکھ کر روح میں سکون کسی الہام کی طرح اترا تھا وہ الگ…

بیک ویو مرر سے پاشا کی نظر بار بار بھٹک رہی تھی.
پھر ایک مخصوص جگہ جا کر وہ گاڑی سے اترے.

ایک فارم ہاوس اور اس کے آگے ایک کھلا سا میدان تھا..
رحاب کو حیرت ہوئی.. کہ پہنچ بھی گئے مگر یہاں سے انھیں ہیلی میں جانا تھا.

جب ہیلی کی طرف بڑھے تو رحاب کا دل بچوں کی طرح خوش ہوا.. اسے لگا وہ کسی اور ہی دنیا میں آ گئی ہے..

پھر ہیلی کا وہ سفر بے حد دلفریب تھا..
جلد ہی وہ کراچی پہنچ چکے تھے..
وہاں سے پھر گاڑی میں بیٹھے…
اب وائٹ پیلس دور نہیں تھا

🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺

سیف کا کچھ پتہ چلا
زمل ابھی ابھی دوبارہ اس سے پوچھنے آئی تھی.

ہاں وہ لاہور میں ہے… میں جا رہا ہوں اسے لینے.. مصروف سا انداز تھا..

میں بھی جاؤں گی آپ کے ساتھ.. وہ مچلی

ڈارلنگ میں ہنی مون پر نہیں جا رہا.. جہاں تمھارا ساتھ جانا ناگزیر ہے… سامنے بھی کبیر تھا.. جیسا سوال ویسا جواب..
وہ خجل سی ہوئی مگر

پلیز مجھے سیفی سے ملنا ہے.. میں انتظار نہیں کر پاؤں گی.. وہ پھر مچلی.

پکنک پہ نہیں جا رہا میں.. ڈینجر ہو سکتا ہے وہاں.. وہ اب جھنجھلا گیا اسکی ضد سے.

مجھے جانا ہے.. وہ سسکی.. اور اس کے آنسوؤں سے ہی تو کبیر جھلا اٹھتا تھا.

بابا کو کیا کہو گی.. کبیر نے آخری کوشش کی..

میں نے انھیں سب بتا دیا ہے.. نکاح کے بارے میں بھی.. کہوں گی آپ کے ساتھ جا رہی ہوں..

کبیر نے بے یقینی اے اسے دیکھا..

میرے بابا کو مجھ پر بھروسہ ہے.. کہ اگر میں نے کوئی فیصلہ لیا ہوگا تو وہ سوچ سمجھ کر لیا ہوگا..قہ دھیمے سے بولی.

ٹھیک ہے انھیں انفارم کرو.. میں آتا ہوں.. ان سے بھی مل لوں گا..

وہ وہاں سے نکلی اور اپنے گھر گئی.
کچھ دیر بعد کبیر اندر آیا.. بابا سے ملا..

میری بیٹی کا خیال رکھنا… کہہ رہی ہے کہ جہاں سیفی ہے وہاں خطرہ ہے.ان کے کندھے جھکے ہوئے تھے.. مگر اتنے جواں مرد اور طاقتور داماد کو دیکھ کر جیسے بوڑھے وجود میں طاقت آئی تھی..
زمل نے نے انھیں یہی بتایا تھا کہ کبیر بزنس کرتا ہے.

میں نے منع کیا ہے.. مگر یہ ضد کر رہی آپ ہی اسے سمجھائیں. کبیر نے کہا

نہیں بیٹا.. لے جاؤ اسے ساتھ.. نہیں تو یہاں رو رو کر نڈھال کرے گی خود کو اور مجھے بھی پریشان کرے گی..

ٹھیک ہے.. کبیر نے ٹھنڈی آہ بھری
پھر وہ فوراً نکلے تھے وہاں سے.

🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺

راسم نے پورے وائٹ پیلس کے بیرونی اور اندرونی سی سی ٹی وی کیمرے کنگھالے تھے.

جس سے اسے پتہ چل چکا تھا کہ وہ پنکی لوگوں کی گاڑی میں چھپ کر نکلی ہوگی.

فون ریکارڈز نکلوائے تو اس کی ماں کا نمبر اور ایڈریس بھی مل گیا تھا.

وہ بھی راسم تھا اور یہ محض اس نے ایک دن میں کیا تھا.

سوہم بیسمنٹ میں اس کے سامنے تھا.
پاشا بھی پہنچ چکا تھا..
ریشماں نے ایمرجنسی میٹنگ رکھی تھی.

اور اب وہ بادشاہ دادا کی جرات پر ڈسکشن کر رہے تھے.

کبیر کو ہماری ضرورت پڑے گی.. سوہم فکر مند ہوا.

تو ٹھیک ہے… میں اور سوہم کبیر کے پیچھے جائیں گے.. راسم تم اپنی بیوی کو ڈھونڈو..

میں اسی لئے اس جھنجھٹ میں نہیں پڑنا چاہتا تھا.. اب میں اپنا کام چھوڑ کر عورتوں کے پیچھے بھاگوں….
راسم سخت جھنجھلایا

راسم… ریشماں نے وارننگ دی… وہ کوئی عام عورت نہیں بیوی ہے تمھاری.. اور تم کیا سمجھتے ہو.. ہاں… مجھے معلوم نہیں.. تمھارا رویہ کیسا تھا اس کے ساتھ.. تمھارے کمرے کے ساتھ والے کمرے میں رہ رہی تھی وہ….

پاشا سنجیدہ بیٹھا تھا.. مگر راسم کی درگت پر سوہم نے ضرور دانت تلے لب دبایا تھا.

راسم بوکھلایا… یہ… یہ اس نے بتایا آپ کو…

مطلب تکا ٹھیک تھا میرا.. یہ بال دھوپ میں سفید نہیں کیے راسم دنیا دیکھی ہے..اب جاؤ اسے ڈھونڈو.. اور اس بار سختی مت کرنا اس سے… محبت ہے تو بول بھی دینا اسے

راسم گڑبڑایا… مگر
پلیز ریشماں مجھے پتہ ہے وہ اپنی ماں کے پاس ہے تو محفوظ ہوگی.
یہ بھی پتہ ہے کہ گھر چینج کیا ہے.. اس کی ماں کرائے کے مکان میں رہ رہی ہے.. میرے آدمی کر رہے ہیں اس کی حفاظت.. اسی لئے بہتر نہیں ہم پہلے بادشاہ پر توجہ دیں.

ٹھیک ہے پھر تم بھی چلو لاہور ہی.. اور اس بار بادشاہ کی موت طے ہے..

پاشا نے کہا.اور اٹھا مگر..

پاشا بیٹھ جاؤ… مجھے وضاحت چاہیے…ریشماں نے سنجیدگی سے کہا.

میں نے بس اسے آزادی دلوائی.. باقی ساری بات اور صورتحال آپ کو بتا چکا ہوں .. آپ اسے کسی اچھے سے دارالامان بھجوا سکتی ہیں…
وہ بظاہر لاپرواہی سے بولا.
مگر وہ جانتا تھا کہ ریشماں ایسا کبھی نہیں کرے گی..

سچ میں… اور تو کوئی بات نہیں ناں…پاشا

نہیں ہے ریشماں…

ٹھیک ہے.. اب میں خود دیکھ لوں گی اسے.. ریشماں لاپرواہی سے بولی.

پاشا نے کہا.. اور تینوں اٹھ کر جانے لگے.

مگر پاشا اور سوہم اچانک مڑے مگر ان کے کچھ بولنے سے پہلے ہی

ہاں.. ہاں ٹھیک ہے رکھوں گی خیال.. تمھاری روح کا سوہم خان
اور تمھاری رحاب کا.
ریشماں کا لہجہ معنی خیز تھا.

پاشا پہلی مرتبہ اپنی بے اختیاری پر گڑ بڑایا.

اور فورا وہاں سے نکلا.. پیچھے ریشماں کھل کر مسکرا دی.
عشق مشک چھپائے نہیں چھپتے پاشا ابراہیم…

🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺

رجا اسے ایک کمرے میں لے کر آئی تھی جو وائٹ پیلس پر بنی دوسری اور بہت بڑی منزل کے پیچھے کی جانب تھا..

یہ آج سے تمھارا کمرہ ہے.. کسی بھی چیز کی ضرورت ہوئی تو وہ انٹر کام ہے.. نیچے اطلاع دے دینا.

اب رحاب اسے کیا بتاتی کہ وہ انٹر کام اس کے کسی کام کا نہیں.. مگر سر ہلا دیا.

رجا کو اس مغرور اور گھمنڈی لڑکی پر پھر غصہ آیا جس نے ان سے بات تک کرنا گوارا نہیں کیا تھا.. سو تن فن کرتی وہاں سے نکلی.

رحاب نے دروازہ لاک کیا..
سکون سے ایک گہری سانس لی..
اتنا بڑا اور بے تحاشا خوبصورتی سے سجایا گیا کمرہ.. جہازی سائز بیڈ..

بڑی سی بالکونی جس میں سے وائٹ پیلس کا اندرونی اور بیرونی منظر نظر آ رہا تھا.

گھوم پھر کر کمرہ دیکھا اور آ کر بازو پھیلا کر بیڈ پر گری…
واؤ.. چھت بھی بہت خوبصورت ہے..
اور اگر فضا کو پتہ چل جائے کہ میری ہر خواہش پوری ہو گئی.. مجھے آزادی مل گئی.. اور وہ مل گئے تو وہ کتنی خوش ہو.

وہ اپنی آخری بات پر چونکی.. چہرہ سرخ ہو گیا..دلفریب مسکان کے ساتھ دوپٹہ چہرے پر گرا لیا..

پاشا……. دل پھر زور سے دھڑکا…

یہ دارالامان ہی ہے کیا…
وہ کتنے اچھے ہیں..
یہاں بے سہارا اور زمانے کے ستائے ہوئے لڑکے لڑکیوں کو تو کیا.. خواجہ سراؤں کو بھی سہارا ملتا ہوگا.

وہ سب سے مل چکی تھی.. سوائے ریما کے سب اس سے بہت محبت سے پیش آئے تھے. وہ سمجھ گئی تھی کہ ریما اسے ناپسند کرتی ہے مگر کیوں یہ سمجھ نا آیا..

سب نے اس کا پرتپاک استقبال کیا تھا..

پاشا….اس نام سے پتا نہیں کیوں مگر عقیدت سی ہو گئی تھی اور اسے دوہرانا.. اس کے بارے میں سوچنا اسے دیکھنے سے پتہ نہیں کیوں مگر بے تحاشا سکون ملتا تھا.

وہ اتنے بریو .. نڈر اوربے خوف ہیں
سب ان سے ڈرتے ہیں … وہ کیا کرتے ہوں گے..
یقیناً یا پولیس آفیسر ہوں گے یا فورس میں…

ہاں ایسا ہی ہوگا..وہ بے وجہ مسکراتی بس خود سے پاشا کی ہی باتیں کیے جا رہی تھی.
کیا میں ان سے محبت کرنے لگی ہوں..

ہاں… بہہہہہہہہہہہہہہہہہہہہہہہہہت… دل نے جواب دیا.
شرم سے دہری ہو گئی.
چہرہ ہاتھوں سے چھپا لیا..

🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺

دونوں ماں بیٹی کافی دیر سے ایک دوسرے کے گلے لگے اپناغم غلط کرنے میں مصروف تھیں

مما…آپ نے اپنی بیٹی پہ کیوں بھروسہ نہیں کیا کبھی..

بس کرو فانیہ پہلے ہی ضمیر ہر روز مجھے کچوکے لگاتا ہے. اب بس اور شرمندہ مت کرو
پہلے ہی میں اپنی ہی نظروں میں گر چکی ہوں.. نایاب نے کیا نہیں کیا تمھارے ساتھ.. زندگی کے ہر قدم پر تمھیں نیچا دکھایا.. اور وہ خبیث آدمی نا شوہر کہلانے کے لائق تھا نہ باپ
کئی مرتبہ میں نے اسے تمھیں چھپ کر دیکھتے دیکھا.. مگر خاموش رہی مجھ جیسی بدنصیب بھی کوئی ماں ہو گی جو اپنی بیٹی کی حفاظت نا کر پائی
اور اب بھی تم زمانے کی ٹھوکروں پر ہو گی.

نہیں.. نہیں مما… میں محفوظ تھی بلکل… فانیہ پل بھر کو خاموش ہوئی.
وہ ستمگر بڑی شدت سے یاد آیا…

اور پھر اس نے خود پر بیتنے والا پل پل ماں کو بتا دیا
نکاح کے بارے میں بھی.ہر بات

فانیہ پاگل… تم اپنے شوہر کی اجازت کے بغیر کیوں آ گئیں پھر… نسیمہ بیگم کی صدمے سے آنکھیں پھٹیں..

مما… انھیں میرے ہونے نا ہونے سے کوئی فرق نہیں پڑے گا.
اور پلیز آپ کچھ دن مجھ سے اس بارے میں کوئی بات مت کیجیے گا…. وہ اداس ہوئی

لیکن..
مما پلیز..

اچھا ٹھیک ہے ادھر آؤ… نسیمہ نے اسے سینے میں بھینچا..

🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺