Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Episode 2

بیسمنٹ میں بیٹھے سوہم نے پاشا کو کالی کے جہنم رسید کرنے کی اطلاع دی تھی..

سب موجود تھے.. سوائے کبیر، راسم ،ریما اور رجا کے. وہ پاشا کے ضروری کام سے دوسرے شہر گئے تھے.

اور وہ ضروری کام کسی کو دردناک موت دینے کا تھا جو راسم کے سپرد کیا تھا اس نے
اب تک تو اچھی روپوٹ تھی..

حال میں پاشا کی آواز گونجی..
دو تین دن تک بیرون ملک سے سمگل ہو کر ہماری اسلحے کی کھیپ پہنچ رہی ہے…
مگر مختلف بڑے شہروں میں… الگ الگ..
. سوات والے اڈے پر راسم جائے گا.. میں اور کبیر جہلم جائیں گے ٹورسٹ بن کر، اور سوہم تم نے کہا تھا کہ تم نے اپنے ضروری کام سے بھی جانا تھا اس لیے فیصل آباد چلے جانا…
مگر کام میں کوئی کوتاہی برداشت نہیں ہوگی.. پاشا نے سنجیدگی سے کہا.

نہیں ہو گی….فیصل آباد کے نام پر سوہم کے چہرے پر سایہ سا آ کر گزرا تھا جو کہ وہ بڑی آسانی سے چھپا گیا تھا..

مگر ریشماں کی نظروں سے چھپ نہیں پایا تھا.. آخر بیالیس سال کی عمر کا تجربہ تھا..
میٹنگ برخاست ہو چکی تھی..

پاشا کے جانے کے بعد سوہم جھٹکے سے اٹھ کر اوپر پورشن میں موجود اپنے بیڈ روم میں آیا تھا..

صوفے پر بیٹھ کر سگریٹ سلگائی اور اپنا ذہن پرسکون کرنے کی ناکام سی کوشش کی..

ریشماں روم میں داخل ہوئیں..
سوہم آنکھیں موندے صوفے پر نیم دراز تھا..

وہ آ کر قریب بیٹھ گئیں.. وہ احترامً سیدھا ہو گیا.

شادی کر لو سوہم خان.. تمھارے ڈھیر سارے بچے کھلانے ہیں میں نے… انھوں نے پیار سے کہا..

آپ کو پتہ ہے….. بی جان کبھی روح کو ایک قاتل اور خونی کے حوالے نہیں کریں گی.. اس کی آنکھیں لہو ٹپکا رہیں تھیں.

جبکہ اس کی بات پہ ریشم نزاکت سے مبہم سا مسکرائی..

میں نے اسُ کا تو نام بھی نہیں لیا بچے..
سوہم نے پہلو بدلہ… اور اٹھ کر کھڑکی میں کھڑا ہو گیا..

اسے ایک لڑکے کے ساتھ دیکھا گیا ہے.. ریشماں نے سرسری سا کہا..

تو ٹھیک ہے آپ طلاق کے پیپر بنوا دیں.. آزادی دے آؤں گا.. اسے… تاکہ اپنی مرضی کی زندگی گزار سکے.

ایک مرتبہ دیکھ لو کیا پتہ ارادہ بدل جائے.

نہیں بدلے گا… وہ ریشماں سے نظریں نہیں ملا رہا تھا..

.. اور تم نے تو قسم کھائی تھی.. کہ حویلی نہیں جاؤ گے..

میں نے کئی ایسے کام کیے ہیں جو نہیں کرنا چاہتا تھا.. ویسے بھی بی جان نے پیغام بھیجا ہے کہ ان کی پوتی کو آزادی کا پروانہ دے دوں.. اس کا تلخ اور سرسراتا لہجہ تھا…..

اسی لئے ایک مرتبہ جاؤں گا.. حویلی..ضرور جاؤں گا.

کیوں جانا چاہتے ہو.. طلاق کے پیپر تو سائن کر کے یہاں سے بھی بھیج سکتے ہو؟ ریشماں الجھی..

یہ بھی بی جان کا حکم ہے کہ ان کے سامنے بیٹھ کر سائن کروں… انھیں اپنے پوتے پر اعتبار نہیں…. لیکن مجھے زرا برابر بھی پرواہ نہیں.. کر آؤں گا سائن….

اگر پرواہ نہیں تو سات سال سے کیوں پل پل ان پر نظر رکھی.، کیوں ان کی حفاظت کی؟ کیوں پیسے بھیجتےہو؟

سوہم نے پہلو بدلا… یہ میری زمہ داری تھی…

تمھاری زمہ داریوں سے تو بی جان تمھیں سات سال پہلے ہی بری الزمہ کر چکیں تھیں سوہم خان… تو پھر

وہ دن یاد مت کروایا کریں ریشماں؟

کیوں ایک جلاد کو بھی تکلیف ہوتی ہے…؟

نہیں…. نہیں ہوتی.. نا کبھی کسی چیز سے ہوگی تکلیف
..اسی لئے خود کو executioner بنایا ہے تاکہ کسی چیز سے تکلیف نا ہو… بھاڑ میں جائے ہر چیز….

وہ کہتا… بغیر ریشماں کی آنکھوں میں دیکھے اپنی پسٹل اٹھائے.. وہاں سے جا چکا تھا..

🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺

سوہم باہر نکلا تو کوئی اس کے تعاقب میں تھا… جب وہ کوریڈور سے گز رہا تھا تو اچانک مڑ کر تعاقب کرنے والی کہ بھیجے پر پسٹل تانی..

وہ جی جان سے مسکرائی… اور اس کی گلے میں بانہوں کا ہار پہنایا…
طلاق دو گے اسے… تو کیا میں سمجھوں کہ پھر میرا چانس ہے…

سوہم نے اسے خود سے کھینچ کر دیوار میں دے مارا تھا..
دھواں دھواں چہرا لئے بھسم کرنے والا انداز تھا..

کومل کتنی مرتبہ کہا ہے کہ مجھ سے دو فٹ کے فاصلے پر رہا کرو… نہیں تو کسی دن تمھاری شہہ رگ نہیں بھیجا اڑا دوں گا……وہ غرایا

وہ جھٹکے سے پیچھے مڑی..چہرے پر خون کی لکیریں تھیں مگر وہ ڈھیٹ بنی مسکرا رہی تھی.بھیجا کیوں یہ دل اڑا دو سارا قصور جس کا ہے

Go to the he’ll you……….
سوہم نے گالی منہ میں روکی اور تن فن کرتا نکلا..
مگر
وہ پھر بیچ میں آئی…

اوکے مجھے پاشا نے بھیجا ہے یہ کہہ کر کہ میں تمھارے ساتھ جاؤں گی…

جب جانا ہوگا بتا دوں گا ابھی اپنی منحوس شکل گم کرو یہاں سے… وہ چبا چبا کر کہتا سگریٹ دو مرتبہ انگلیوں میں گھما چکا تھا…

اب کومل گبھرائی اور فوراً اس کے سامنے سے غائب ہوئی.. ریشماں اسے افسوس سے کھڑکی سے جاتا دیکھ رہی تھی..

🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺

وہ ایک نرم و نازک گداز وجود تھا…

مکمل ڈھانپا ہوا…

راسم اسے بازوؤں میں بھرے ان کی جانب انتہائی سنجیدگی سے آیا تو کبیر حیران ہوا..

یہ خود کشی کرنے لگی تھی.. مجھے کچھ سمجھ نا آیا تو بے ہوش کر دیا..

تو اب… ہمیں نکلنا ہے ابھی… ٹارگٹ کی لوکیشن پتا چل چکی ہے…پھینکو اس کو ادھر ہی ہمیں جانا ہوگا ؟ کبیر نے کہا.

اب جان بچائی ہی ہے تو پھر کیوں پھینکو گے….. جانے کن بھیڑیوں کے ہاتھ لگ جائے… فی الحال گاڑی کی ڈگی میں ڈالو اور کام پہ فوکس کرو.. بعد میں دیکھتے ہیں کیا کرنا ہے….ریما نے کہا

وہ جلدی سے اٹھے.. راسم نے اسی سنجیدگی سے اسے اس کے چھوٹے سے بیگ سمیت بڑی سی گاڑی کی ڈگی میں ڈالا

اور گاڑی میں بیٹھے…
گاڑی ایک چھوٹے سے ہوٹل کی بیک سائیڈ پر رکی تھی..
جس کے سارے سی سی ٹی وی کیمرے ہیک کر لئے گئے تھے..

راسم اور رجا اطمینان سے ہوٹل میں داخل ہوئے.
رجا کے ہاتھ میں ایک بڑی سی کون نما چیز تھی.

مطلوبہ کمرے کے باہر کھڑے ہو کر دستک دی.
دروازہ کھولنے والے کے منہ پر راسم کو دیکھ کر ہوائیاں اڑی تھیں.
جلدی سے دروازہ بند کرنا چاہا..
مگر وہ دروازہ کو ایک زور دار لات رسید کر کے اندر داخل ہو چکا تھا..
وہ دھاڑ سے پیچھا گرا..

راسم نے رجا کی جانب ہاتھ بڑھایا.. رجا نے اس کون نما چیز سے برف کا ایک بہت نوکیلا ٹکڑا نکال کر دیا..

جو کہ راسم نے اپنے پورے زور سے سامنے پڑے شخص کے دل میں گھونپ دیا تھا.. برف کا وہ نوکیلا ٹکڑا اس کے دل کے آر پار ہوا تھا.
وہ کٹے بکرے کی طرح تڑپ اور چنگھاڑ رہا تھا…

راسم دوزانو اس کے پاس بیٹھا اور سراسراتے لہجے میں بولا..

وزیر صاحب…….. تم جیسے دھرتی پہ پڑے بوجھ کے لئے ہم جیسے جلاد پیدا کیے گئے ہیں…جس کے بل پر تم اتنے اچھل رہے تھے پہلے تو وہ جب تک یہاں پہنچے گا تم کتے کی موت مر چکے ہو گے…

مجھ سے الجھ کر غلطی کی اس نے… میں چاہتا ہوں پہلے تو وہ تمھاری موت کی وجہ بننے والے ہتھیار کے بارے میں جاننے کی کوشش میں اپنا بھیجا فرائی کرے اس کے بعد مجھ سے نمٹنے…
یہ کہہ کر راسم نے اسے ایک ٹھوکر رسید کی اور وہاں سے نکلتے چلے گئے..

گاڑی میں بیٹھ کر گاڑی بھگائی.
اب ان کا یہاں کوئی کام نہیں تھا.
انھیں جلد اپنے ٹھکانے پہنچنا تھا.

پاشا نے آرڈر دیا تھا کہ کام پورا کر کے فوراً واپس پہنچو…
اس سب میں وہ لوگ……..
ڈگی میں موجود اس نازک سی جان کو بلکل فراموش کر بیٹھے تھے.. بلکل بھول چکے تھے..

مگر راسم نے اسے جو بے ہوشی کی ڈوز دی تھی وہ کافی ہیوی تھی.. اور منزل پر پہنچنے سے پہلے اس کے اٹھنے کے چانس بلکل نہیں تھے.

🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺

سیفی تم اتنے بے حس کیوں ہو،؟ زمل جھنجھلائی.. میں تمھیں سمجھا سمجھا کر تھک چکی ہوں یار کب سمجھو گے سترہ کے ہو چکے ہو بابا کا ہی کچھ خیال کر لو..اپنی زمہ داریوں کو سمجھو سیفی.. ہمارا آخری سہارا تو تم ہی ہو.. دل لگا کر کیوں نہیں پڑھ رہے کیوں غلط سنگت اختیار کر رہے ہو.. بابا بہت پریشان ہیں.. زمل کی آنکھیں نم ہوئیں..

اونہہ…. اتنی سی عمر میں آپ مجھ سے کون کون سی امیدیں لگا کر بیٹھی ہیں آپی….. ہے ہی کیا ہمارے پاس یہ تین کمروں والا گھر…. میری عمر کے لڑکوں کو نا کوئی فکر نہ پریشانی… عیش سے اپنے باپ کے پیسوں پر جی رہیں ہیں.. میرے ہر دوست کے پاس لیپ ٹاپ اور بائیک ہے میرے پاس کیا ہے بس یہ زمہ داریاں…
وہ تلخ ہوا اور پھر خود ترسی کا شکار ہوا

زمل نے بے بسی سے اسے دیکھا…..
سیفی احساس کمتری کو پالنے کی بجائے یار محنت نہیں کر سکتے… مجھے بھی تو د…………..

او….. کم آن آپی اب اپنی مثالیں مت دینے بیٹھ جانا….. میں نے اتنی محنت کی یہ وہ… مجھ سے نہیں ہو گا.. نا امید رکھیں.. میں تو کم وقت میں ڈھیر ساری دولت کمانا چاہتا ہوں… وہ بد تمیزی سے بولا

زمل ضبط کر گئی… میں تم پہ کوئی زمہ داری نہیں ڈال رہی سیفی…. بابا معذور ہوئے اس میں ان کی کوئی غلطی نہیں تھی… ان کے معذور ہونے کے بعد میں یہ زمہ داریاں اٹھا رہی ہوں.. تمھیں تو بس ایک اچھا انسان بننا ہے سیفی.بس غلط سنگت چھوڑ دو .. میں یہ تو نہیں…

آپی پلیز…..وہ تن فن کرتا جا چکا تھا زمل سر پکڑ کر بیٹھ گئی..
ماں تو کچھ سال پہلے ہی فوت ہو چکی تھی جب وہ Fsc میں تھی تو بابا فیکٹری میں کام کرتے ہوئے حادثے کا شکار ہوئے تھے جس کی وجہ سے سے ان کے پاؤں کاٹ دئیے گئے تب زمل نے بہت محنت سے زندگی کی گاڑی گھسیٹی تھی.

جیسے تیسے Msc کیا اور یہ اس کی محنتوں کا ہی نتیجہ تھا کہ اب گورنمنٹ سکول میں جاب لگ گئی تھی.
بائیس کی تھی.. بڑی چھوٹی عمر میں نازک کندھوں پر بوجھ آ پڑا تھا.

اب اگر سکون سے سانس لینے کا وقت آیا تھا تو سیفی جو ایک حساس اور احساس کمتری کا شکار ٹین ایج لڑکا تھا.. ہاتھوں سے نکلا جا رہا تھا..

ایک دو شکایتیں آ چکی تھی. نعیم صاحب کو کے لڑکے پر نظر رکھیں… غلط سنگت میں اٹھنا بیٹھنا ہو رہا ہے..
اور بد قسمتی سے ان کے گھر کے بلکل سامنے بنی کوٹھی میں عجیب وغریب قسم کے پر اسرار لوگ رہتے تھے.. نا کسی سے ملتے تھے..
نا محلے میں سے کوئی اس گھر میں جانا چاہتا تھا…
مگر سیفی کو دو تین مرتبہ وہاں جاتے دیکھا گیا تھا..

زمل نم آنکھیں لئے کچن میں آئی اور کھانا تیار کرنے لگی..

🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺

گاڑی پچھلے دروازے سے پورچ میں داخل ہوئی تھی.. راسم کبیر، ریما اور رجا گاڑی سے اترے ..

ریشماں کی شاگرد پنکی اور اس کی کچھ چیلیاں کسی خاص فنکشن کے لئے تیار ہو کر بڑے زرق برق لباس پہن کر جانے کے لئے پورچ میں داخل ہوئیں تھیں..

جب عجیب سی دھمک کی آواز آئی تھی..
وہ سب چونکے تھے..

جب انھیں یاد آیا کہ انھوں نے ایک جیتی جاگتی جان ڈگی میں بند کر رکھی ہے..
اری…. یہ کیسی آواز ہے.. پنکی بولی.

راسم سنجیدگی سے ڈگی کی جانب بڑھا اور اس کا لاک کھول دیا..
وہ ہرنی جیسی سہمی آنکھیں لئے ایک جست میں ڈگی سے باہر آئی تھی..
ڈگی میں مزاحمت کے دوران)چادر بھی سر سے سرک چکی تھی.

اور وہاں پر موجود ان لڑکے لڑکیوں کو دیکھ کر… ان خواجہ سراؤں ۔ ان کے لباس اور ماحول کو دیکھ کر بہت کچھ غلط سمجھی تھی…

وہ سب سوائے راسم اور کبیر کے مبہوت سے اس براؤن آنکھوں اور براؤن بالوں والی گڑیا کو دیکھ رہے تھے..
جس کا سنہری رنگ گرے کلر میں سونے کی طرح دمک رہا تھا.

کون ہو تم لوگ…. مجھے یہاں لانے کی جرات بھی کیسے کی.. اس نے فوراً بیگ ٹٹولا تھا.. جس میں اپنا چاقو نا پا کر خوف سے سفید پڑی تھی.
اگر تم لوگوں کو لگتا ہے کہ مجھ سے کوئی غلط کام کروا سکتے ہو تو یہ تمھاری غلط فہمی ہے.
فانیہ نے ایک ہنگامہ کھڑا کر دیا تھا..

پنکی اور اس کی چیلیاں بڑی دلچسپی سے اسے دیکھ رہیں تھیں جبکہ.

اف یہ لڑکی اور اس کی چلتی زبان.. راسم نے خونخوار نظروں سے ادے گھورا..

اتنے میں ہی وہاں ریشماں، پاشا اور سوہم آئے تھے.

اری کیا تماشہ ہے یہ.. کیوں ہنگامہ مچا رکھا ہے.. کیا ہو رہا ہے میرے گھر میں.. ریشماں ناگواری سے بولیں..

جبکہ فانیہ کی تو یہ ماحول دیکھ کر جان لبوں پر آ گئی تھی…
لپک کر گیٹ کی جانب بھاگنے کی کوشش کی.. ریما نے اس کا بازو پکڑا مگر وہ ہتھے سے اکھڑ رہی تھی..

راسم طیش میں اس کی جانب بڑھا اور بازو سے کھینچ کر رخ اپنی جانب کیا اور ایک زور دار تھپڑ رسید کیا.
وہ بھی تو نا کچھ سن رہی تھی نا سمجھنے کی کوشش کر رہی تھی.. بس ہنگامہ مچا رکھا تھا..

پورے دن کی بھوک، پیاس، غنودگی کمزوری ڈپریشن اور اس فولادی ہاتھ کا کمال تھا کہ وہ ایک مرتبہ پھر زمین بوس ہو چکی تھی.
راسم نے دانتوں تلے لب کچلے.

ایک سیکنڈ سے پہلے سب لاؤنج میں پہنچو.. کوئی کہیں نہیں جائے گا..
ریشماں نے حکم سنایا.

راسم کے سر پر خطرے کی گھنٹیاں بجیں..
کیونکہ اب ریشماں کی عدالت لگنی تھی
جس میں قصور وار راسم ٹھرایا جانے والا تھا.

کیونکہ یہ اس کی غلطی تھی کہ وہ انجان لڑکی ریشماں کی جاگیر میں داخل ہو چکی تھی…

🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺