Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Black Heart Love (Episode - 9)

Black Heart Love By Abdul Ahad Butt

” ذیشان۔۔۔۔۔! سر دراصل جس لڑکی کو آپ نے کس نیپ کیا ہے۔۔۔۔ وہ آئی جی صاحب کے دوست کی بیٹی ہے۔۔۔۔!

اور ہم پر آئی جی صاحب کے دوست کی طرف سے بہت دباؤ ڈالا جارہا ہے کہ اس کو ہر حال میں لائیں۔۔۔۔!

پلیز سر وہ آپ کے پاس ہے اور ایک لڑکی کا کیا کام آپ کے ساتھ پلیز اسے ہمارے حوالے کردے۔۔۔۔! ورنہ ہم سب کی نوکری کو خطرہ ہے۔۔۔۔!”

پولیس والے ذیشان کے گھر آ تو گئے لیکن ان میں بولنے کی ہمت ہی نہیں ہو رہی تھی۔۔۔۔ وہ بہت سارے ڈرے سے لگ رہے تھے۔۔۔۔!

” مجھے نہیں پرواہ کہ وہ کس کی بیٹی ہے۔۔۔۔؟ اور نہ ہی مجھے جاننا ہے کہ آئی جی کا اس سے کیا رشتہ ہے۔۔۔۔!

مجھے بس یہی معلوم ہے کہ وہ میری بیوی ہے۔۔۔۔! اور جب تم یہ اپنے آئی جی کو بتاؤ گے تو مجھے لگتا کہ اسے کوئی اعتراض ہوگا۔۔۔

میاں بیوی کے ساتھ رہنے میں۔۔۔”

ذیشان نے اس کی بات سنتے ہوئے نہایت ہی پر سکون سے لہجے میں کہا۔۔۔۔! پولیس یہ سن کر حیران رہ گئی۔۔۔۔”

” نکاح۔۔۔۔!!!”

ان میں سے ہی ایک چونک کر بولا۔۔۔۔۔

” ہاں نکاح۔۔۔۔! اور خبردار جو اسے یہاں سے لے کر جانے کا سوچا بھی تو۔۔۔۔!”

ذیشان نے اسے سب کچھ کلئیر کیا اور ایک نوٹوں کی تھدی اس کی طرف پھینکی۔۔۔۔!

وہ جانتا تھا کہ انھیں کیا چیز مات دے گی اور یہ پیسہ ہی تھا کو انھیں دے چکا تھا۔۔۔۔ نوٹ دیکھتے ہوئے ان کے اندر کی غیرت مر گئی۔۔۔۔”

” سر آپ کا کام ہو جائے گا۔۔۔۔ فکر مت کریں۔۔۔ ہم آئی کی کو سمجھا لے گے۔۔۔۔! بس آپ ہم پر یہی رحم و کرم کردیا کریں۔۔۔۔”

اس پولیس آفیسر نے لالچی لہجے میں کہا جا پر ذیشان نے بنا کچھ کہے انھیں باہر کا اشارہ کیا اور تینوں وہاں سے نکل گئے۔۔۔۔۔”

” چلو زرا بیگم کے پاس چلتے ہیں رات بھر میری بیگم نے میرا انتظار کیا ہے۔۔۔۔! اب اس انتظار کو ختم کرتے ہیں۔۔۔۔!”

وہ مسکراتے ہوئے خود سے ہی بولا۔۔۔۔” کیونکہ کل رات وہ بالکل بھی آیت کے پاس کمرے میں نا گیا۔۔۔۔

جبکہ وہ کافی ڈر اور سہم گئی تھی۔۔۔۔ اس کے ساتھ جو یہ سب ہوا اس کے لیے برداشت کرنا بھی بہت مشکل ہے۔۔۔۔”

لیکن رات کو رو رو کے اس نے اپنا برا حال کر لیا لیکن کچھ ہی دیر میں اس کی آنکھ لگ گئی۔۔۔۔!


🌹 🌹 🌹 🌹 🌹 🌹 🌹 🌹 🌹 🌹 🌹.

وہ کمرے میں داخل ہوا تو اسے روتا ہوا پایا۔۔۔! کل رات سے وہ رو ہی رہی تھی۔۔۔”

اسے شدید غصہ چڑھا اور اس کی طرف بڑھا۔۔۔۔۔! لیکن اسے اپنی طرف بڑھتا ہوا دیکھ کر وہ معصوم سی گئی۔۔۔۔

” یہ کیا رونا دھونا لگا رکھا ہے تم نے۔۔۔۔؟ مجھے روندھو لڑکیاں بالکل بھی پسند نہیں۔۔۔۔۔!

اور اب جو ہونا تھا وہ ہو گیا ہے۔۔۔۔ ہمارا نکاح ہو گیا ہے۔۔۔۔! اب اگر مجھے روتی ہوئی نظر آئی تو ایسا حال کرو گا کہ پوری زندگی یاد رکھو گی۔۔۔۔”

اسے دیکھتے ہی اس کی آنکھوں میں خون اتر آیا۔۔۔ اسے اس میں شاہ نواز کا عکس نظر آتا تھا۔۔۔

” نہیں مانتی میں اس نکاح۔۔۔۔!”

” خبردار جو یہ الفاظ زبان پر لانے کی کوشش بھی کی تو۔۔۔ ورنہ جسم سے جان نکال کر رکھ دو گا۔۔۔”

آیت جیسے ہی بولی۔۔۔۔ ذیشان کی آنکھوں میں خون ایک دفعہ پھر سے اترا اور اس کانھ دبوچتے ہوئے وہ انگاروں بھرے لہجے میں بولا۔۔۔۔۔!

” د۔۔۔۔یکھو پ۔۔۔۔ پلیز۔۔۔۔ مجھے ج۔۔۔۔انے دو۔۔۔۔۔ م۔۔۔ یں۔۔۔۔ ن۔۔۔۔ے تم۔۔۔ھارا کچھ نہیں بگاڑہ۔۔۔۔!”

جیسے ہی ذیشان نے اس کا چہرہ چھوڑا تو بکھرتے الفاظ کے ساتھ بول گئی۔۔۔”

جس پر ذیشان کے چہرے پر شیطانی مسکراہٹ چھا گئی۔۔۔۔۔! جبکہ آیت اسے دیکھتی ہی رہ گئی۔۔۔۔

” مجھے بھی معلوم ہے کہ تم نے کچھ بھی نہیں کیا ہے۔۔۔۔؟ لیکن تمھارے کسی بہت ہی عزیز نے میرا بہت کچھ بگاڑہ بھی ہے۔۔۔۔۔”

وہ بولا تو آیت ایک گہری سوچ میں پڑ گئی کہ وہ شخص کہہ۔کیا رہا تھا۔۔۔۔؟ کس کے لیے کی سزا بھگت رہی تھی وہ۔۔۔۔۔؟

کس کی بات کر رہا تھا ذیشان شاہ۔۔۔۔۔! وہ اپنی ہی سوچوں میں گم سم تھی جب وہ کمرے سے نکل گیا۔۔۔۔

اور دروازے کے بند ہونے کی وجہ سے کھڑاک کی آواز پیدا ہوئی جس سے وہ ہوش میں آئی۔۔۔۔”

ہوش میں آتے ہی وہ فوراً دروازے کی طرف بڑھی۔۔۔۔”

” پلیز مجھے جانے دو۔۔۔۔ پلیز مجھے جانے دو۔۔۔۔”

وہ دروازے کی طرف بڑھی اور دروازے پر زور زور سے ہاتھ مارتے ہوئے دھارے مار مار کر رونے لگی۔۔

لیکن اس شخص پر کسی بھی چیز کا اثر ہونے کا نام ہی نہیں لے رہا تھا۔۔۔۔۔

کالے دل کا انسان تھا نا تبھی تو یہ سب کچھ اس پر کوئی بھی اثر نہیں رکھتا تھا۔۔۔۔”


🌹 🌹 🌹 🌹 🌹 🌹 🌹 🌹 🌹 🌹 🌹.

آج یمن کی ٹرپ واپس چلی گئی۔۔۔۔۔! لیکن بہت یادیں چھوڑ گئی۔۔۔۔

یمن نے اپنی دوست امبر کے ساتھ بہت انجوائے کیا۔۔۔۔ کچھ لمحات کو اپنے پاس سیو بھی کر لیا۔۔۔۔۔”

لیکن یارش کو جب معلوم ہوا کہ وہ چلی گئی ہے تو اسے تھوڑا سا برا لگا۔۔۔۔

شائید وہ یہ نہیں چاہتا تھا کہ وہ چلی جائے۔۔۔۔؟ لیکن کیوں وہ یہ نہیں چاہتا کہ وہ اس سے دور جائے۔۔۔۔؟

کیوں وہ۔یہ چاہتا ہے کہ یمن اس کے قریب رہے اس کی نظروں کے سامنے۔۔۔۔؟

آخر کیوں کیا رشتہ تھا اس کا یمن سے۔۔۔۔۔۔؟ کیوں وہ ایسا چاہتا تھا۔۔۔۔

کیا اسے ایسا پہلے بھی کسی لڑکی کے لیے محسوس ہوا تھا۔۔۔۔؟ یا یہ پہلی مرتبہ تھا۔۔۔۔؟

اسے ایک عجیب سا احساس محسوس ہو رہا تھا۔۔۔۔کیا تھا وہ احساس کس چیز کی طرف وہ اشارہ کر رہا تھا۔۔۔۔۔”

کیا یہ احساس محبت کا تھا۔۔۔۔۔؟ یا کسی اور کا۔۔۔۔؟ لیکن اسے کیسے اس سے محبت ہو سکتی ہے۔۔۔۔؟

وہ تو اس کے ساتھ کچھ ہی لمحے رہا ہے۔۔۔۔۔! تو محبت کیسے۔۔۔۔۔؟ ایسا کچھ بھی نہیں ہے۔۔۔۔۔!

وہ خود کو سمجھاتا ہوا سوچ رہا تھا۔۔۔ لیکن اس کا خیال تھا کہ ذہن سے جانے کا نام ہی نہیں لے رہا تھا۔۔۔”


🌹 🌹 🌹 🌹 🌹 🌹 🌹 🌹 🌹 🌹 🌹.

ماحد اور عشاء کی رخصتی ابھی نہیں کی گئی تھی۔۔۔ کیونکہ ابھی بس سرپرائز نکاح ہوا تھا۔۔۔۔

جس سے سب شاکڈ تھے۔۔۔۔ حتی کہ خود عشاء بھی یہ سب سمجھ نہ پائی۔۔۔۔! یہ اب کب کیسے اور کیوں ہوا۔۔۔۔؟

اس کے بابا تو اس کی شادی کسی اور کے ساتھ کروانا چاہتے تھے۔۔۔۔؟ اور وہ کوئی اور نہیں بلکہ اس کا ہی کزن تھا۔۔۔۔؟

لیکن پھر اس کا یوں اچانک ماحد کے ساتھ نکاح سب کچھ اس کی سوچ سمجھ سے باہر تھا۔۔۔! اور کیا ماحد کو یہ سب معلوم تھا کہ نہیں۔۔۔!

وہ ابھی ابھی اپنے کمرے میں پہنچی۔۔۔۔۔ اور چینج کر کے جیسے ہی کمرے سے باہر نکلی تو سامنے ہی اسے کھڑا ہوا پایا۔۔۔۔!

” آپ۔۔۔۔۔!”

ایک لمحے کے لیے تو عشاء ڈر سی گئی۔۔۔۔ لیکن پھر اسے دیکھتے ہوئے اس نے ماتھے پر بل لیے ہوئے کہا۔۔۔۔۔!

” ہاں میں۔۔۔۔۔۔! تو بتاؤ پھر کون جیتا۔۔۔۔۔؟ تم نے تو کہا تھا کہ ہم کبھی بھی ایک نہیں ہونگے۔۔۔۔

اور میں نے تم سے یہ کہا تھا کہ تم صرف اور صرف میری ہو صرف مہر ماحد کی عشاء ماحد مہر۔۔۔۔

اور دیکھو تم اب میری ہو اور میرا تمھارے ساتھ ایسا تعلق بند چکا ہے۔۔۔۔۔ جس میں تمھیں مجھ سے لگ کرنے کی ہمت کسی کی بھی نہیں۔۔۔۔۔!

تو بولو پھر کیا میں درست تھا کہ تم میری ہو اور اب تو تمھارے بابا نے ہی ہمارا نکاح بھی کروا دیا ہے۔۔۔۔۔”

وہ اسے اپنی اور اس کے درمیان ہوئی ساری باتیں یاد کرواتا ہوا بولا۔۔۔۔۔” جبکہ وہ خاموش سی کھڑی رہی۔۔۔۔۔”

” وہ۔۔۔۔۔۔ وہ۔۔۔۔ ماحد۔۔۔۔”

وہ کچھ کہنے ہی لگی کہ جب ہی ماحد نے اس کا بازو پکڑتے ہوئے اسے اپنی طرف کھینچا۔۔۔۔

لیکن عشاء توازن نہ برقرار رکھ سکی اور اس کے سینے سے جا ٹکڑائی۔۔۔۔۔!

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *