Black Heart Love By Abdul Ahad Butt NovelR504882
Last updated: 25 July 2026
Black Heart Love
Author: Abdul Ahad Butt
Novel code: NovelR504882
" صادق۔۔۔۔! مجھے وہ لڑکی چاہئیے ہے۔۔۔۔! ہر حال میں ہر قیمت پر۔۔۔۔! تم چاہے اس کے لیے اسے اغواہ کرو۔۔۔۔!
چاہے جو مرضی کرو لیکن مجھے آیت چاہئیے یہاں اس کمرے میں موجود صحیح سلامت اسے ایک بھی کھروچ نہ آئے۔۔۔۔۔!
میری بات غور سے سنو۔۔۔۔۔ تمھارے پاس صرف اور صرف تین دن ہی باقی ہیں۔۔۔۔!
اگر ان تین دنوں کے دوران مجھے وہ لڑکی نہ ملی تو تم اپنی نوکری سمیت زندگی سے بھی ہاتھ دھو بیٹھو گے۔۔۔۔"
اسے کمرے میں بلاتے ہوئے ذیشان نے صاف طور پر اس سے کہہ دیا۔۔۔۔! جس پر صادق پھٹی پھٹی نگاہوں سے اسے دیکھنے لگا۔۔۔۔"
" پر سر۔۔۔۔!"
" کیا سر۔۔۔۔۔؟ کیا تمھیں اس کام سے کوئی اعتراض ہے صادق بولو۔۔۔۔! یا تمھیں کوئی مسئلہ ہے۔۔۔۔ تو مجھے بتا دو۔۔۔۔!"
وہ کچھ بولنے ہی لگا تھا۔۔۔۔! جب کہ ذیشان کی بات کو سن کر وہ مکمل طور پر خاموش ہو گیا۔۔۔۔!
اس کی بات میں ہی اس کی دھمکی واضح تھی۔۔۔۔!
" کچھ نہیں سر۔۔۔۔! میں تو بس یہ کہہ رہا تھا کہ آج کل ان کے رشتہ دار کی شادی ہے۔۔۔۔! تو ایسے میں انھیں کیسے یہاں لائے۔۔۔۔!"
صادق نے بات کو فوراً بدل دیا۔۔۔۔! اس کی آنکھوں میں اتر ہوا خون وہ دیکھ چکا تھا۔۔۔۔!
" صادق آئی ڈونٹ کئیر۔۔۔۔! واٹ اویر اس نے جہاں بھی جانا ہو وہ جائے۔۔۔۔!
لیکن مجھے ٹھیک تین دن بعد وہ اس کمرے میں جائیے تو اس کا مطلب ہے کہ وہ مجھے چاہئیے۔۔۔۔۔!"
اس کے سر پر اپنے بدلے کا جنون سوار تھا۔۔۔۔۔! شاہ نواز سے بدلہ لینا اس کی ضد بن چکا تھا۔۔۔۔!
جبکہ اس کی بات کو سنتے ہوئے صادق سر ہاں میں ہلاتے ہوئے کمرے سے باہر نکل گیا۔۔۔۔!
" شاہ نواز۔۔۔۔! مکافات عمل کا وقت آگیا ہے۔۔۔۔! جو آپ نے بویا ہے اسے کاٹنے کا وقت بھی آن پہنچا ہے۔۔۔۔۔!
چوبیس سال پورے چوبیس سال انتظار کیا ہے میں نے اس وقت کا۔۔۔۔۔!
لیکن میں تمھیں اور تمھاری فیملی کو مار کر اتنی آسان سزا تو نہیں دو گا۔۔۔۔!
پہلے تمھاری بیٹی کی زندگی برباد کرو گا میں۔۔۔۔!
اس کے بعد تمھیں بہت زیادہ تر پاؤ گا۔۔۔۔ اور اس میں کوئی شک بھی نہیں کہ بیٹی کا یہ حال دیکھ کر تم تڑپو کے بھی بہت۔۔۔۔!
جو میرے لیے زندگی کی سب سے بڑی خوشی ہو گی۔۔۔۔!
اور پھر پہلے تم سے تمھاری فیملی کو دور کرو گا میں جس سے تم بہت محبت کرتے ہو۔۔۔۔!
تا کہ تمھیں احساس تو ہو کہ اپنوں کو کھونے کا غم کیسا ہوتا ہے۔۔۔۔؟
اور پھر کہیں جا کر میں تمھیں اور تمھاری پوری فیملی کو ختم کر دو گا۔۔۔۔! جس سے مجھے بہت خوشی ہو گی۔۔۔۔
اور میرے ماں باپ کی روح جو سکون ملے گا۔۔۔۔"
صادق کے جانے کے بعد وہ بولنا شروع ہوا تو بولتا چلا گیا۔۔۔۔!
اور اس کمرے میں اکیلے بیٹھے ہوئے خود سے ہی وہ ساری باتیں کیے جا رہا تھا۔۔۔۔!
اپنے ہی خیالات کو اپنے ہی منھ سے سن کر اس نے ایک بلند قہقہ سا لگایا تھا۔۔
