Black Heart Love By Abdul Ahad Butt NovelR504882 Black Heart Love (Episode - 33)
No Download Link
Rate this Novel
Black Heart Love (Episode - 33)
Black Heart Love By Abdul Ahad Butt
” یس سر۔۔۔۔ میں آپ کو بتاتا ہوں کہ ہمیں کیسے معلوم ہوا یہ سب کچھ۔۔۔۔!!! “
صادق نے کہا۔۔۔۔۔ جس پر ذیشان اس کی طرف متوجہ ہوا۔۔۔۔۔ اس کے لیے اس خوشی سے بڑھ کر کوئی اور بھی خوشی نہیں تھی۔۔۔۔۔!!!! کہ اسے آیت کا معلوم ہو گیا ہے۔۔۔۔۔!“
” جلدی بتاؤ مجھے سب کچھ صادق۔۔۔۔!! “
ذیشان کے چہرے پر عجب سی ہی خوشی چھاگئی تھی یہ سب کچھ سننے کے بعد۔۔۔۔۔!!
” سر دراصل آپ کے کہنے پر ہی ہم نے شاہ نواز کے پیچھے اپنے کچھ آدمی لگائے تھے۔۔۔۔۔!!!
اور ان پر نظر رکھنے سے ہمیں یہ معلوم ہوا وہ روز صبح شام کسی سے ہوٹل ملنے جاتے ہے۔۔۔۔۔
لیکن کس سے ہمیں یہ معلوم نہیں ہوا تھا ؟؟ اس لیے میں نے اپنے دو سے تین خفیہ آدمی اسی ہوٹل میں رکھے۔۔۔۔!!!
جس سے ہمیں یہ معلوم ہوا کہ وہ دن رات اس ہوٹل میں کسی اور سے نہیں بلکہ صرف اور صرف آیت میڈم سے ملنے جاتے ہیں۔۔۔۔۔
اس رات سے آیت میڈم کہیں اور نہیں بلکہ اسی فلیٹ میں رہ رہی ہیں۔۔۔۔!!!
دن رات وہ آیت میم کو ہی ملنے جاتے تھے۔۔۔۔۔!! اور ہمیں ان کے بارے میں اس وجہ سے معلوم نہیں ہوا کیونکہ وہ ہوٹل وہ فلیٹ اس اس شہر سے باہر تھا۔۔۔۔۔!! “
صادق نے اس کے سامنے بیٹھتے ہوئے اسے ساری حقیقت سے آگاہ کیا۔۔۔۔ اس کی ایک ایک بات کو سنتے ہوئے ذیشان کے دل میں سکون اتر رہا تھا۔۔۔۔!!!
” تو پھر چلو ابھی چلتے ہیں وہاں پر کس بات کی دیری ہے ؟؟ مجھے لے کر چلو تم اس جگہ۔۔۔۔“
اس نے جیسے ہی صادق کی بات سنی تو اس کا بس نا چلا کہ وہ ایک لمحہ یا ایک پل بھی یہاں پر رکے۔۔۔۔۔۔!!!!
اس کا دل تو چاہ رہا تھا کہ جو وقت اسے گاڑی پر جانے سے لگنے تھی وہ بھی نا لگے۔۔۔۔۔!
بس کوئی معجزہ ہو جائے اور وہ فوراً وہاں پر پہنچ چائے۔۔۔۔!!! لیکن ایک ایسا حقیقت میں تو نہیں ہو سکتا تھا۔۔۔۔
اسے صبر کا دامن ہاتھ سے چھوٹنے نہیں دینا تھا۔۔۔۔۔
” جی سر۔۔۔۔!! چلیں ابھی چلتے ہیں کوئی مسئلہ نہیں ہے۔۔۔۔!!! “
صادق کو اس کی خوشی دیکھ کر بہت خوشی ہوئی تھی۔۔۔۔۔ یہ خوشی اسے کئی دنوں بعد دیکھنی نصیب ہوئی تھی۔۔۔۔۔
تقریباً ایک ماہ کے بعد وہ کھلکھلا کر مسکرایا تھا۔۔۔۔۔ وہ اس خوشی کو بالکل بھی برباد نہیں کر سکتا ہے۔۔۔۔
اس کی خوشی میں بھی ہر جگہ دکھ موجود تھا۔۔۔۔۔!! آیت کے ساتھ برے سلوک کی وجہ سے۔۔۔۔۔
” تو پھر چلو۔۔۔۔ !!! “
ذیشان اس کی بات سنتا ہوا ہنوز مسکراتے ہوئے کہہ کر باہر کی طرف بڑھا۔۔۔۔ صادق بھی اس کے پیچھے کی طرف بڑھا۔۔۔۔!!!
وہ دونوں باہر گاڑی میں بیٹھتے ہوئے اسے ہوٹل کی راہ پر ڈال گئے۔۔۔۔!!! جس میں آیت موجود ہے۔۔۔۔
” آیت آج تمھیں میں اپنے ساتھ لے ہی آؤ گا۔۔۔۔!!! میں تمھیں منا لوں گا۔۔۔ تم سے معافی مانگ لوں گا۔۔۔۔!!! اور مجھے یقین ہے تم مجھے معاف کر دو گی۔۔۔۔۔ ”
جاتے ہوئے ذیشان نے گاڑی کی کھڑکی کو کھول اس سے باہر کی طرف دیکھتے ہوئے دل ہی دل میں سوچا۔۔۔۔۔!! وہ بہت پر امید تھا کہ وہ آیت کو اپنے ساتھ لے آئے گا۔۔۔۔ پر کیا یہی حقیقت میں ہونے والا تھا جو وہ سوچ رہا تھا ؟؟؟
چوبیس گھٹنے گزر چکے تھے۔۔۔۔۔۔!! سب کے دلوں کی دھڑکنیں تیز سے تیز ہو رہی تھی۔۔۔۔ ماحد کا دل ڈوبتا جا رہا تھا۔۔۔۔۔۔ جبکہ عشاء کے بابا کی حالت بھی مزید خراب ہو رہی تھی۔۔۔۔!!!!
جیا جہاں پر عشاء کی یہ حالت دیکھ کر بہت خوش تھی کہ وہ مرنے کے دھانے پر ہے۔۔۔۔۔ وہی پر ماحد کی اس کی وجہ سے یہ حالت دیکھ کر اسے جلن بھی بہت ہو رہی تھی۔۔۔۔۔
” ایک دفعہ یہ عشاء مر جائے پھر ماحد تم دیکھنا کیسے میں تمھارے دل میں میں اپنی جگہ بناتی ہوں۔۔۔۔!!! “
اسے غصے کی نگاہ سے دیکھتے ہوئے جیا نے اتنی آہستگی سے کہا یہ آواز با مشکل ہی اس کے کانوں تک بھی پہنچی تھی۔۔۔۔۔!!!!
جب ہی اسے سامنے کمرے سے ڈاکٹر باہر نکلتے ہوئے دکھائی دیے۔۔۔۔۔!!!
” ( آؤ ڈاکٹر صاحب۔۔۔۔!!! اور بتا دو ان سب کو کہ مر گئی وہ منحوس۔۔۔۔۔!! نہیں بلکہ ایک کام کرو انھیں اس کی لاش ہی دکھا دو۔۔۔۔!!! کتنا اچھا ہو گا یہ۔۔۔) “
اسے دیکھتے ہوئے جیا نے نفرت کی انتہا کرتے ہوئے دل میں ہی سوچا۔۔۔۔!!!
جب ہی ڈاکٹر کو دیکھتے ہوئے ماحد اپنی جگہ سے اٹھ کھڑا ہوا۔۔۔۔
” مبارک ہو پیشنٹ ہوش میں آگئی ہیں۔۔۔۔۔۔!!! اللہ کا بڑا کرم ہوا ہے آپ پر۔۔۔۔!! اور سب سے بڑھ کر یہ کہ وہ اب خطرے سے بھی باہر ہیں۔۔۔۔!!!!
کچھ ہی دیر میں ہم انھیں روم میں شفٹ کردے گے تو پھر آپ ان سے مل بھی لیجئے گا۔۔۔۔!!! “
ڈاکٹر کی بات سنتے ہوئے جیا جو مسکرا کر اس کی طرف بڑھ رہی تھی۔۔۔۔ ساری مسکراہٹ ختم ہوگئی۔۔۔۔!!!
اور صدمہ چھا گیا۔۔۔۔ جبکہ باقی سارے خوش ہوگئے۔۔۔۔۔!!!
” یا اللہ تیرا لاکھ لاکھ شکریہ کہ تو نے میری بچی کو اپنے حفظ و امان میں رکھا۔۔۔۔۔۔!! “
عشاء کے بابا نے اللہ تعالیٰ کا شکر ادا کیا ہے۔۔۔۔ کچھ شک نہیں کہ وہ ذات باری تعالٰی نہایت ہی رحم کرنے والا ہے۔۔۔۔۔!!!
” اللہ تیرا شکر ہے الحمدللہ۔۔۔۔!!!! “
ماحد نے بھی اللہ کا شکر ادا کیا۔۔۔۔۔!!!
عشاء صدمے کے مارے چہرے پر مسکراہٹ بھی نا لا سکی تھی۔۔۔۔۔۔!!! اس کی سمجھ سے یہ بات باہر ہوگئی کہ مرنے کے دھانے پر جا کر بھی عشاء ماحد مہر بچ گئی۔۔۔۔۔!!!
اس کی گئی ساری کی ساری محنت۔۔۔۔۔!! ساری خوشیاں۔۔۔۔ سارے پلینز۔۔۔۔!! سب پر پانی پھر گیا تھا۔۔۔۔۔
وہ غصے میں وہاں سے مٹھیاں بھینجتی ہوئی چلی گئی۔۔۔۔۔!!!
وہاں پر موجود سب لوگ اس قدر خوش تھے کہ ان میں سے کسی کو بھی اس کی جلن یا اس کا غصہ نظر نہیں آیا۔۔۔۔۔!!
عشاء کو جب روم میں شفٹ کیا گیا تو سب سے پہلے اس کے جان سے پیارے بابا جان اس سے ملنے گئے۔۔۔۔۔!!!
کچھ دیر اپنی بیٹی سے باتیں کرنے کے بعد وہ باہر آئے اور پھر ماحد اندر کی طرف بڑھا۔۔۔۔
اندر پہنچا تو دیکھا جو پہلے مختلف الیکٹریکل وائرز اور مشینوں سے گری ہوئی تھی۔۔۔۔ اب اس کے ارد گرد گنی چنی مشینیں تھی۔۔۔۔۔!!
اب وہ سانس لے سکتی تھی۔۔۔۔۔ وہ بھی کسی آکسیجن ماسک کے بغیر۔۔۔۔۔!!!
” آپ ادھر مت بیٹھیں میرے پاس بیٹھیں یہاں پر میرے قریب۔۔۔۔!!“
وہ اس کے سامنے بیٹھنے ہی لگا کہ عشاء کی آواز پر رک گیا۔۔۔۔
عشاء نے ماحد کو اپنے کندھے کے ساتھ بیٹھنے کا اپنی آنکھوں سے اشارہ کیا۔۔۔۔۔
سر پر زخم لگنے کی وجہ سے اس کے سر پر پٹیاں بندھی ہوئی تھی۔۔۔۔!!!!
ہاتھ پر بھی اس کے کافی گہرا زخم تھا۔۔۔۔ یہ سب کچھ دیکھ کر ماحد کو خود پر غصہ آرہا تھا۔۔۔۔۔ اس کے ہوتے ہوئے اس کے ساتھ اتنا بڑا واقع پیش آگیا۔۔۔۔۔!!!
وہ اس قدر زخمی حالت میں تھی۔۔۔۔۔ اور وہ چاہ کر بھی اس کے لیے کچھ بھی نہیں سکتا تھا۔۔۔۔۔
اس کی بات سنتا چہرے پر ہلکی سی مسکان لیے اس کے کندھے کے ساتھ بیڈ پر تھوڑی سی بچی ہوئی جگہ جا کر بیٹھ گیا۔۔۔۔
عشاء نے ہلکا سا اٹھ کر بیٹھنا چاہا۔۔۔۔!! لیکن سر میں شدید درد کی لہر اٹھی۔۔۔۔
” کیا کر رہی ہو عشاء چپ چاپ لیٹی رہو۔۔۔۔۔ ورنہ درد ہو گا۔۔۔۔!! “
اسے اٹھتا ہوا اور اس کے درد کو فوری محسوس کرتا ہوا وہ بولا۔۔۔۔۔!!! جس پر عشاء بنا کچھ کہے وہی لیٹ گئی۔۔۔۔!!! کیونکہ وہ سہی ہی کہہ رہا ہے۔۔۔!!!
جب ہی اس نے جھکتے ہوئے عشاء کے ماتھے پر ہلکا سا بوسا دیا۔۔۔۔!!! جو عشاء کے لبوں پر مسکراہٹ بکھیر گئی۔۔۔۔۔
” آئم رئیلی سوری۔۔۔۔!!! “
اس کے معافی مانگنے پر عشاء کو کچھ بھی سمجھ نہیں آیا کہ وہ کس وجہ سے اس سے معافی مانگ رہا تھا ؟؟؟
” کیوں ؟؟ کس بات کے لیے سوری کہہ رہے ہیں آپ۔۔۔۔۔!!!! “
عشاء کی مسکراہٹ ختم ہوئی۔۔۔۔ اس نے سوالیہ نگاہوں سے اسے دیکھتے ہوئے اس سے سوال کیا۔۔۔۔
” سوری تو بہت چھوٹا لفظ ہے۔۔۔۔۔!! میں تمھارا شوہر ہوتے ہوئے تمھاری خفاظت نہیں کر سکا۔۔۔۔۔!!!
میرے ہوتے ہوئے تمھاری ساتھ اتنا بڑا حادثہ پیش آیا۔۔۔۔۔!! میرا ہونا یا نا ہونا ایک برابر ہی ہوا۔۔۔۔
اس سے اچھا میں م۔۔۔۔۔۔!! “
” خبردار جو ایسی بات بھی آپ اپنے ذہن میں بھی لائے تو۔۔۔۔۔!!! “
وہ بول ہی رہا تھا۔۔۔۔۔ جب ہی عشاء نے پریشان ہوتے ہوئے آہستگی سے اس کی ڈانٹ لگائی۔۔۔۔۔!!!!
جس پر ماحد ہلکا سا مسکرایا۔۔۔۔۔!!!
” ان باتوں کو چھوڑو۔۔۔۔ تم مجھے یہ بتاؤ کہ تمھاری طبعیت کیسی ہے۔۔۔۔؟؟؟ اب کیسا فیل کر رہی ہو ؟؟ “
ماحد نے ان باتوں کو اپنے ذہن سے نکالتے ہوئے مسکرا کر کہا۔۔۔۔۔!!! اور عشاء سے اس کا حال احوال پوچھا۔۔۔۔۔!!!
جس پر وہ بھی مسکرائی۔۔۔۔۔!!!
” اللہ کا شکر ہے کہ اب میں بہت ہی زیادہ بہتر فیل کر رہی ہوں۔۔۔۔۔۔!!! “
عشاء نے مسکرا کر جواب دیا۔۔۔۔ اور یونہی وہ دونوں کئی لمحوں تک ایک دوسرے سے باتیں کرتے رہے۔۔۔۔۔!!!
لیکن ماحد مہر اس واقع تہہ تک جانے کا ارادہ رکھتا ہے۔۔۔۔۔۔۔ اور اس کام پر اس نے پولیس کو پہلے ہی لگا دیا تھا۔۔۔۔
اب جیا کا راز سب پر کھلنے میں تھوڑا سا بھی وقت باقی نہیں تھا۔۔۔۔“
تقریباً تین سے چار دن کے بعد عشاء ڈسچارج ہوئی۔۔۔۔!!! اس دوران جیا اس سے ایک مرتبہ بھی ملنے نہیں آئی۔۔۔۔!!
لیکن ماحد اس کے قریب سے ہلا بھی نہیں۔۔۔۔ اگر وہاں سے جاتا بھی تو صرف اور صرف اسی کے کام جاتا۔۔۔۔
سب گھر والوں نے اس کا بہت زیادہ خیال رکھا۔۔۔۔۔۔ اور اللہ کے کرم سے وہ مکمل طور پر صحت یاب تو نہیں لیکن اس قدر بہتر ہوگئی کہ وہ خود چل پھر سکے۔۔۔۔
اور اپنا دھیان خود رکھ سکے۔۔۔۔۔!!
ڈسچارج ہونے کے بعد عشاء گھر آگئی تھی۔۔۔۔۔ ماحد بھی اس گھر میں ہی رہتا تھا بس بلڈنگز الگ الگ تھی۔۔۔۔!!! “
پر ماحد ابھی بھی اس کا پورا خیال رکھ رہا تھا۔۔۔۔
” یہ کیا چکر کاٹے جا رہی ہو جیا ؟؟ سکون سے بیٹھ بھی جاؤ میرا تو سر ہی چکرا گیا۔۔۔۔۔۔!!! “
وہ جب سے کمرے میں آئی تھی۔۔۔۔ وہ لڑکی اس وقت سے غصے سے ادھر ادھر چکر لگا کر اپنا غصہ ٹھنڈا کرنے کی کوشش کر رہی تھی۔۔۔۔ پر جیا تھی کہ رکنے کا نام ہی نہیں کے رہی تھی۔۔۔۔
دس منٹ تک نجمہ نے اسے ادھر ادھر چکر لگاتے ہوئے دیکھا۔۔۔۔ ان کی نگاہیں کبھی اس طرف ہوتی تو کبھی اس طرف ہوتی۔۔۔۔۔!!!
جیا کو مسلسل دیکھ کر نجمہ بیگم کا سر چکرانے لگا۔۔۔۔!!
نجمہ غصے سے اٹھتے ہوئے بولی۔۔۔۔۔!!! اور اسے ایک جگہ پر ہی روک دیا۔۔۔۔!!!! جیا سٹپٹا گئی۔۔۔۔
” امی مجھے بہت غصہ آرہا ہے اتنی محنت کرنے کے باوجود بھی وہ منحوس بچ کیسے گئی ؟؟؟ مجھے سمجھ نہیں آرہی۔۔۔۔۔!!!
اسے میں نے کڈ نیپ کروایا۔۔۔۔ اتنی گہرے زخم دیے پھر بھی مری نہیں ؟؟ “
جیا نے نجمہ کو بتا دیا تھا کہ اسی نے ہی عشاء کو کڈ نیپ کروایا۔۔۔۔!! نجمہ نے اسے ڈانٹا نہیں کہ اس نے ایسا کیوں کیا ؟
بلکہ اس کا ساتھ دیا کیوں کہ وہ تو جائیداد کے لالچ میں یہ سب کچھ کر رہی تھی۔۔۔۔!!!!
” بیٹا۔۔۔۔۔!! تم فکر مت کرو ابھی بھی ہم لوگ بہت کچھ کر سکتے ہیں۔۔۔۔!! مواقع تو بہت ہیں ابھی بھی ہمارے پاس۔۔۔۔۔
ابھی بھی ماحد اور یہ جائیداد تمھارے نام ہو سکتی ہے۔۔۔۔! بد دل مت ہو تم۔۔۔۔!!! “
نجمہ نے اسے حوصلہ دیا۔۔۔۔!!! جس پر وہ ماں کی طرف بڑھی۔۔۔۔!
” امی اگر کسی کو یہ بات پتا لگ گئی کہ اس گھر کی بیٹی میں نہیں ہوں۔۔۔۔۔ اور بس عشاء ہی اس گھر کی بیٹی ہے۔۔۔۔!!
تو پھر کیا ہو گا ؟؟ “
جیا کی بات نجمہ کو شدید غصہ دلا گئی۔۔۔۔۔ اس نے اپنے غصے پر با مشکل ہی قابو پایا۔۔۔۔!!!
” جیا میں نے تم سے کتنی مرتبہ کہا ہے کہ یہ بات زبان پر مت لایا کرو کہ تم امجد صاحب کی بیٹی نہیں ہو۔۔۔۔
آج سے بیس سال پہلے میں نے جھوٹ بولا تھا صرف اور صرف اس جائیداد کے لیے۔۔۔۔
اب میرا وہ خواب پورا ہو رہا ہے تو اپنے اس کانفڈنس میں میرا کام مت خراب کرنا۔۔۔۔۔!!! “
وہ تھوڑے تلخ لہجے میں کہہ گئی۔۔۔۔!!! جس پر جیا نے منھ کے زاویے بگاڑے اور کمرے سے باہر کچن کی طرف بڑھ گئی۔۔۔۔!!!
کیونکہ بھوک اس سے برداشت نہیں ہوتی تھی۔۔۔۔“ اور پریشانی میں مزید اسے بھوک لگتی تھی۔۔۔۔۔!!
