Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Black Heart Love (Episode - 45)

Black Heart Love By Abdul Ahad Butt

 ” تھینک یو سو مچ آیت۔۔۔۔۔!! مجھے اس دنیا کی سب سے بڑی خوشی دینے کے لیے۔۔۔۔ “

ذیشان نے اسے خود میں سمیٹتے ہوئے کہا۔۔۔!! آیت ہنوز مسکراتی رہی۔۔۔۔!!!!

وہ دونوں بھی اب ماں باپ کے عہدے پر فائز ہونے جا رہے تھے!!

” ذیشان کیا لگتا ہے آپ کو بیٹا ہو گا یا بیٹی ؟ “

آیت نے اس کے سینے سے لگے ہوئے سوال کیا۔۔۔۔ کہنے کو تو ابھی ایک ہی دن ہوا تھا پر وہ جاننا چاہتی تھی کہ ذیشان کو کیا چاہئیے ؟

” بھئی مجھے تو بیٹی چاہئیے وہ بھی تمھارے جیسی کیوٹ سی۔۔۔۔!! “

ذیشان نے اسے خود سے جدا کرتے ہوئے کہا تو آیت کے لبوں پر مسکراہٹ بکھر گئی۔۔۔۔!!

” مجھے لگا آپ بھی باقی مردوں کی طرح بیٹے کو ہی پریفر کرے گے۔۔۔!!! “

آیت نے معصومیت سے کہا تو وہ مسکرا اٹھا۔۔۔۔

” بالکل بھی نہیں۔۔۔۔ کیونکہ یہ تو اللہ کی دین ہے۔۔۔ وہ ہمیں بیٹے سے نوازتا ہے یا بیٹی سے!! یہ اس کی مرضی ہے۔۔۔۔ ہماری مرضی تھوڑی نا چل سکتی ہے۔۔۔۔

بیٹا ہو یا بیٹی میرے لیے دونوں ہی میری اولاد ہو نگے۔۔۔۔ اور تم ان باتوں کو چھوڑ کر اپنا اور ہمارے بے بی کا دھیان رکھو۔۔۔۔!! “

ذیشان نے عقیدت سے اس کا ماتھا چوما اور پیار بھرے لہجے میں کہا تو وہ مسکرائی!!!

” ویسے ذیشان میں اس وقت تک کتنی موٹی ہو جاؤ گی نا ؟ “

آیت نے مستقبل کا خیال ذہن میں لاتے ہوئے کہا تو ذیشان ہلکا سا مسکرایا۔۔۔۔۔

” موٹی ہو کر تم مزید کیوٹ ہو جاؤ گی۔۔۔۔!! “

ذیشان نے اس کی کمر کے گرد بازو حائل کرتے ہوئے اسے اپنے قریب کر کے پیار سے کہا۔۔۔۔!! تو آیت سنجیدہ ہوئی۔۔۔۔

” جی نہیں جب میں موٹی ہو جاؤ گی نا تو اس وقت آپ میری طرف دیکھے گے بھی نہیں۔۔۔۔!! “

آیت نے سنجیدہ پڑتے ہوئے کہا تو ذیشان نے ایک بلند قہقہ لگایا۔۔۔۔۔

” یہ تمھاری بھول ہے آیت ذیشان شاہ کہ میں تمھاری طرف نہیں دیکھو گا۔۔۔۔ ذیشان شاہ سانس لینا بھول سکتا ہے لیکن تمھیں کبھی بھی نہیں بھول سکتا۔۔۔۔

اس کا دل دھڑکنا تو رک سکتا ہے لیکن اس دل بند ہوتے دل میں بھی صرف تم ہی ہو گی۔۔۔۔۔!! “

ذیشان نے اسے اپنے قریب کرتے ہوئے اس کے کان قریب سرگوشی کی تو آیت مسکرائی۔۔۔۔!!! اس کے سینے سے لگ گئی۔۔۔۔

چھ مہینے کیسے گزر گئے تھے!!! مہر فیملی کو پتہ بھی نہیں چلا تھا۔۔۔۔ وہ بہت بڑے ٹروما سے گزرے تھے۔۔۔۔!!

لیکن اب تو انھیں زندگی کی طرف واپس آنا ہی تھا۔۔۔۔ اب با مشکل ہی وہ لوگ زندگی کی طرف واپس آئے تھے۔۔۔۔

اور ان کی زندگیوں میں خوشیاں بڑھانے کے لیے ” ماحد اور عشاء ” کی شادی آ رہی تھی۔۔۔!

” سر!! ہم نے ساری معلومات نکلوا لی ہے۔۔۔۔!!! آپ اب بے فکر ہو جائیں۔۔۔۔ ذیشان کی بہت بڑی کمزوری آپ کے ہاتھ لگ سکتی ہے۔۔۔۔!!! اس کا اس دنیا میں آنے والا بچہ۔۔۔۔!!! “

جمال کے ایک سیکریٹ آدمی نے ذیشان شاہ کی ساری معلومات نکال لی تھی۔۔۔۔!!!

” ویری گڈ!!! یہ تو تم نے واقع ہی بہت اچھی خبر سنائی ہے۔۔۔۔۔!! اب بس جلدی میرے کہے ہوئے کام پر عمل کرو اور اس ذیشان اور اس کی بیوی کو میری قید خانے میں قید کر دو۔۔۔۔!! “

جمال نے شیطانی مسکراہٹ لیے ہوئے کہا۔۔۔۔

” آپ بالکل بے فکر رہے!!! ایسا ہی ہو گا۔۔۔۔!! “

اس کے آدمی نے کہا تو ان دونوں نے ایک شیطانی قہقہہ لگایا۔۔۔۔۔ آج بھی جمال کا وہی مقصد تھا جو آج سے بیس سال پہلے بھی تھا۔۔۔۔

حویلی اور ذیشان کے بابا کی ساری فیکٹری اور ان کے گھر کو اپنے نام لگوانا ہی اس کا مقصد تھا۔۔۔

وقت پر لگا کر اڑنے لگا تھا۔۔۔۔ آج مزید ایک ماہ گزر گیا تھا۔۔۔۔۔۔۔ آج صبح سے کی آیت کو اپنی طبعیت خراب محسوس ہو رہی تھی۔۔۔۔۔

ذیشان نے اسے ڈاکٹر کے پاس چلنے کے لیے کہا تو اس کے لاکھ منع کرنے کے باوجود بھی وہ اسے اپنے ساتھ لے گیا تھا۔۔۔۔۔!!!!”

” کچھ بھی تو نہیں ہوا مجھے۔۔۔۔!! “

آیت اور ذیشان ابھی ہی ہوسپٹل سے باہر نکلے تھے۔۔۔۔۔!!! جب ہی آیت نے اس سے کہا تو ذیشان نے اسے گھورا۔۔۔۔۔

” کیا کہا ؟ کچھ بھی نہیں ہوا،،،، ڈاکٹر نے کہا ہے کہ تمھیں ویکنس ہوئی ہے۔۔۔۔۔!!! اپنی صحت کا بالکل بھی خیال نہیں رکھتی ہو تم۔۔۔۔!!!

اب سے تمھارے کھانے پینے اور باقی ہر چیز کا دھیان میں خود رکھوں گا۔۔۔۔۔!! “

ذیشان نے غصے سے کہا۔۔۔۔۔ کہ وہ ویکنس کو بہت لائٹ لے رہی تھی۔۔۔۔۔ یہ محبت ہی تو تھی اس کی آیت کے لیے۔۔۔۔!!

” اچھا ٹھیک ہے لیکن ابھی گھر تو چلے ؟؟ “

آیت نے مسکرا کر کہا تو وہ سر اثبات میں ہلاتا ہوا اس کے لیے گاڑی کا دروازہ کھولتے ہوئے اسے فرنٹ سیٹ پر بیٹھا کر خود ڈرائیونگ سیٹ پر بیٹھ گیا اور گاڑی ڈرائیو کرنے لگا!!

وہ دونوں گاڑی میں تھے۔۔۔۔۔ اور گاڑی ایک سنسان راستے پر تھی۔۔۔۔۔!!! آیت خاموشی سی بیٹھی ہوئی تھی۔۔۔۔۔۔

ذیشان آہستگی سے گاڑی ڈرائیو کر رہا تھا!!! جب ہی دو سے تین گاڑیاں ان کے ارد گرد آ رکی تھی۔۔۔۔۔!!!!”

ذیشان نے یک دم گاڑی روکی تو وہ اور آیت آگے کی طرف جھکے پر سیٹ بیلٹ کی وجہ سے انھیں کوئی نقصان نہیں پہنچا تھا!!!

” تم گاڑی میں ہی بیٹھو میں انھیں دیکھتا ہوں۔۔۔۔۔”

وہ کڑے تیور لیے ہوئے بولتا گاڑی سے نکلا۔۔۔۔۔!!! آیت کا دل گھبرایا۔۔۔۔ اسے ذیشان کے ارادے اچھے نہیں لگ رہے تھے۔۔۔۔

” سنبھل کر ذیشان!! “

آیت نے گھبراتے ہوئے اسے تاکید کی تھی۔۔۔۔

ذیشان گاڑی سے نکلتا ہوا باہر کھڑا اور اسے دیکھ کر سامنے کھڑی تین گاڑیوں سے چھ آدمی نکل کر منظر عام پر آئے۔۔۔

” ہمارا راستہ کیوں روکا ہے ؟؟ ہٹو یہاں سے۔۔۔”

انھیں دیکھتے ہوئے ذیشان نے غصے سے بھرے لہجے میں کہا،،،، جس پر وہ لوگ مسکرائے۔۔۔۔۔

” پہلے وہ لڑکی ہمارے حوالے کرو!!! “

اس نے کہا تو ذیشان کا غصہ سوا نیزے کا جا چھوا۔۔۔۔۔

” تمھاری ہمت کیسے ہوئی مجھ سے یہ بات کرنے کی بھی ؟؟؟ تم جانتے بھی ہو کس سے بات کر رہے ہو ؟؟ “

ذیشان نے غصے سے کہا جب ہی ان میں سے ایک شخص اپنی باس کا کہا مانتے ہوئے ذیشان کی طرف اپنی طاقت آزمانے کے لیے بڑھا۔۔۔۔۔۔۔

ذیشان نے اس کی طرف بڑھتے ہوئے مکوں کی برسات اس پر کر دی۔۔۔۔!! اپنے ساتھی کو مرتا ہوا دیکھ باقی پانچ بھی ذیشان شاہ کی طرف بڑھے۔۔۔۔

ان سب کو ایک ایک کر کے اس نے مارا تھا۔۔۔۔!!!! آیت یہ سب منظر دیکھ کر بہت زیادہ گھبرا گئی تھی۔۔۔۔۔

وہ فوراً گاڑی سے اتری اور باہر نکل کر ایک جگہ منجمند ہوگئی۔۔۔۔ وہ بہت بری طرح سے سب کو مار رہا تھا!!!

آیت کو ان سب مار پٹائی سے بہت ڈر لگتا تھا۔۔۔۔۔!! وہ اس سب سے ڈر رہی تھی۔۔۔۔۔ جب ہی ایک شخص ایک ڈنڈا لیے ہوئے ذیشان کی پچھلی طرف سے اس کے جانب بڑھا۔۔۔۔۔

” ذیشان۔۔۔۔۔!! “

وہ زور سے چیخی تھی۔۔۔۔۔!!! جب ہی اس کی چیخ سنتے ہوئے ذیشان اس کی طرف متوجہ ہوا۔۔۔۔

اس سے پہلے کہ وہ اس کے اشارے کو سمجھ پاتا اس شخص نے پیچھے سے اس کے سر پر زور سے ٹھنڈا برسا دیا۔۔۔۔

وہ وار اس اتنی زور سے تھا کہ ذیشان کے سر سے خون بہہ گیا۔۔۔۔۔ آیت زور سے چلائی تھی۔۔۔۔ اور جیسے ہی اس کی جانب بڑھی اس کی طرف بڑھتے ہوئے شخص نے اس کے چہرے پر کیمیکل والا رومال رکھا۔۔۔۔

وہ کچھ دیر مچلتی رہی خود کو بچانے کے لیے لیکن یہ سب بے سود تھا وہ کچھ نہیں کر پائی۔۔۔۔ وہ بے ہوش ہو چکی تھی آنکھیں بند کرتے ہوئے اسے اپنے سامنے ذیشان کا بے ہوش وجود دکھائی دیا۔۔۔۔

مہر ہاؤس میں ہر طرف پھول ہی پھول بکھرے ہوئے تھے۔۔۔۔۔!!!! ہر طرف پھولوں کی دلفریب مہک پھیلی ہوئی تھی۔۔۔۔۔!!

کیونکہ آج ” عشاء اور ماحد مہر ” کی مہندی کا فنکشن تھا!!! ہر طرف خوشیاں بکھری ہوئی تھی۔۔۔۔

عشاء کمرے میں موجود تھی۔۔۔۔ وہ ابھی ہی مہندی کا ڈریس پہن کر واش روم سے نکلی تھی اسے تیار کرنے کے لیے بیوٹیشنز آئی تھی!!

مہمان آنا شروع ہو گئے تھے۔۔۔۔!!

عشاء شیشے کے سامنے آ کر کھڑی ہوگئی تھی اور اپنے بالوں کو سنوارنے لگی۔۔۔۔” جب ہی کمرے کا دروازہ ناک ہوا۔۔۔۔

عشاء کو یہی لگا کہ پارلر سے جو بیوٹیشنز آئی ہیں وہ اسے تیار کرنے کے لیے آئی ہیں تو اس نے اپنے ہی دھیان میں اندر آنے کا کہہ دیا۔۔۔۔

وہ اپنے بالوں سے چھیڑ چھاڑ کرنے میں مصروف تھی جب ہی اسے ماحد کا عکس اپنے پیچھے دکھائی دیا!!! وہ فوراً مڑی۔۔۔۔

” ماحد آپ یہاں ؟؟ “

اس نے حیرانگی و پریشانی سے کہا۔۔۔۔

” ہاں!! “

اس نے مسکرا کر کہا۔۔۔۔

” نہیں آپ یہاں نہیں ہوسکتے!! “

وہ پریشان ہوئی کہ کہیں کوئی اسے دیکھ ہی نا لے!!

” آپ کو کسی نے دیکھا تو نہیں ؟؟ “

عشاء نے ڈرتے ہوئے کہا۔۔۔

” ارے!! دیکھ بھی لیتا تو کیا ؟ مجھے تمھارے پاس آنے سے بھلا کوئی روک سکتا ہے کیا ؟؟ “

ماحد نے ڈھٹائی سے کہا۔۔۔۔

” نہیں۔۔۔۔ لیکن آپ کو یہ نہیں پتہ کیا کہ شادی سے پہلے لڑکا اور لڑکی یوں نہیں مل سکتے ہیں!! آپ پلیز جائے یہاں سے!!! “

عشاء نے اسے جانے کا کہا اور آہستگی سے دھکیلتے ہوئے اسے باہر کی طرف کیا۔۔۔۔ جس پر وہ مسکرایا۔۔۔۔

اور چپ چاپ وہاں سے نکل گیا وہ صرف اسے دیکھنے ہی آیا تھا جو اس نے دیکھ لیا تو چلا گیا۔۔۔۔ اس کے جاتے ہی عشاء نے سکھ کا سانس لیا۔۔۔۔۔۔!!!

ذیشان نے ہلکی ہلکی سی آنکھیں کھولیں تو آیت کا بے ہوش وجود دھندلا دھندلا سا دکھائی دیا۔۔۔۔

اسے اپنے سر میں سر کا درد شدید اٹھتا ہوا محسوس ہو رہا تھا۔۔۔۔!! اس نے سر کو ہاتھوں سے پکڑنے کی کوشش کی تا کہ اس کے سر میں درد آٹھ رہا تھا وہ اسے روک سکے۔۔۔۔

لیکن وہ اپنے ہاتھ ہلا ہی نہیں سکا۔۔۔۔ کیونکہ وہ رسیوں سے جھکڑا ہوا تھا۔۔۔۔ کچھ لمحات کے بعد وہ پوری طریقے سے ہوش میں آیا تو سامنے ہی آیت کو رسیوں سے جھکڑا ہوا پایا۔۔۔۔۔۔

وہ بے ہوش تھی۔۔۔۔۔!! ذیشان نے ہلنا چاہا مگر ہل نا سکا۔۔۔۔ آیت جو اس حال میں دیکھ کر وہ تڑپ اٹھا۔۔۔۔

” کوئی ہے۔۔۔۔۔ ؟؟؟ “

ذیشان چلایا مگر کوئی بھی جواب نہیں ملا۔۔۔۔ وہ دو سے تیں مرتبہ آیت کو بھی آواز دے چکا تھا۔۔۔۔۔

لیکن سب بے سود تھا وہ خود کو بہت بے بس سا محسوس کر رہا تھا۔۔۔۔!!

جب ہی اسے محسوس ہوا کہ اس کے ہاتھوں کی رسیاں ڈھیلی ہیں۔۔۔۔۔!!!! اس نے کوشش کی اور رسی کو ہاتھ سے اتار ہی لی۔۔۔ وہ کہتے ہیں نا کہ کوشش کرنے والوں کی کبھی ہار نہیں ہوتی۔۔۔۔۔!!”

ذیشان نے بھی کوشش کی اور رسی کھول ہی لی۔۔۔۔!! وہ اپنے پیروں سے رسیوں کو نکالتا ہوا اپنے جسم کو رسیوں سے آزاد کرتا ہوا آیت کی طرف بڑھا۔۔۔۔

اسے خود سے زیادہ آیت کی فکر تھی جو ابھی بھی بے ہوش تھی!!!

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *