Black Heart Love By Abdul Ahad Butt NovelR504882 Black Heart Love (Episode - 40)
No Download Link
Rate this Novel
Black Heart Love (Episode - 40)
Black Heart Love By Abdul Ahad Butt
یمن کچھ لڑکیوں اور آیت کے ہمراہ گاڑدن کا سفر طے کرتی ہوئی اسٹیج پر یارش کے پاس پہنچی۔۔۔۔۔!!
یارش پہلے ہی اسے دیکھتا ہوا مسکرا کر کھڑا ہو چکا تھا!! اور جیسے ہی وہ قریب پہنچی تو اس کا ہاتھ تھامتے ہوئے اسے اسٹیج پر بٹھایا۔۔۔۔
یارش کی نگاہیں اس سے ہٹنے کا نام ہی نہیں لے رہی تھی! کیونکہ حقیقتاً ہی وہ بہت زیادہ خوبصورت لگ رہی تھی!!!”
کچھ فوٹو شوٹ کے بعد مہندی کی رسومات کا آغاز کیا گیا۔۔۔۔!! ایک ایک کر کے سب نے مہندی کی رسومات میں حصہ لیا۔۔۔
آیت اور ذیشان کو ایک ساتھ خوش دیکھ کر دادی اور شاہ نواز دونوں کو ہی بہت اچھا لگا۔۔۔۔” دادی جان کے دل سے ان دونوں کے لیے دعائیں نکل رہی تھی۔۔۔۔”
مہندی کی رسم ہونے کے بعد ڈانس شروع کیا گیا!! جس میں لڑکیوں سمیت لڑکوں نے بھی خوب دھوم مچائی۔۔۔۔ سب بہت انجوائے کر رہے تھے!!
” ذیشان!! آیت!! تم دونوں بھی کرو ڈانس۔۔۔۔۔!! “
سب کو ڈانس کرتا ہوا دیکھ کر دادی اماں نے ذیشان اور آیت کو بھی کہا کہ وہ بھی کچھ ڈانس کر لیں۔۔۔۔۔”
” پر دادی۔۔۔۔!! “
” جی کیوں نہیں دادی !! چلو آیت۔۔۔۔۔ تمھیں پتہ ہے نا کہ بڑوں کی بات ماننی چاہئیے!!!! “
آیت کچھ کہنے ہی لگی تھی کہ جب ہی ذیشان نے اس کی بات کو کاٹتے ہوئے دادی کی بات پر سر ہاں میں ہلاتے ہوئے مسکرا کر کہا!!
جس پر آیت نے اسے گھور کر دیکھا۔۔۔۔!!”
اگلے ہی پل ذیشان نے اس کا ہاتھ تھاما اور اسے اپنے ساتھ اسٹیج پر لے گیا۔۔۔۔۔!!
اسٹیج پر پہنچ کر ذیشان نے ایک ہاتھ اس کی کمر پر رکھا پر اور ایک ہاتھ میں اس کا ہاتھ تھاما جبکہ آیت نے اپنا دوسرا ہاتھ اس کے کندھے پر رکھا۔۔۔۔ مگر فاصلہ برقرار رہا۔۔۔۔
جب ہی ذیشان نے اس کی کمر پر گرفت مظبوط کرتے ہوئے اسے اپنے قریب کیا۔۔۔۔۔”
اس عمل سے آیت اس کے قریب آگئی۔۔۔۔” چہرے پر شرم کے تاثرات بڑھے!!!”
” ذیش۔۔ان کیا کر رہے ہیں ؟ س۔۔۔سب د۔۔یکھ رہے ہیں!! “
آیت نے شرم سار لہجے میں کہا!!
” تو دیکھنے دو۔۔۔۔! دیکھو بھئی ہم میں بالکل بھی شرم نہیں ہے!!! کیونکہ جس نے کی شرم اس کے پھوٹے کرم۔۔۔۔!! “
وہ دونوں باقاعدہ ڈانس کا آغاز کر چکے تھے!! جب ہی ذیشان نے اسے گھوماتے ہوئے اس کی کمر کو اپنے سینے سے لگایا!!
اور اس کی بالوں کی مہک کو سونگھتے ہوئے مسکراہٹ دبائے شوخ لہجے میں کہا۔۔۔۔
” اور ویسے بھی اب تو تمھیں چاہئیے کہ میرے قریب سے قریب تر آؤ لیکن تم مجھ سے دور بھاگ رہی ہو ؟ “
لہجے میں سوال تھا!! جب ہی ذیشان نے اس کا رخ اپنی طرف کیا!!
” میں آپ کے قریب ہی ہوں!! “
آیت شرماتے ہوئے تھوڑا سا دور ہوئی۔۔۔۔۔ جب ہی اس کی شرماہٹ پر ذیشان کھلکھلا کر مسکرایا۔۔۔
اور اس کے ساتھ ڈانس کرتا رہا۔۔۔۔!! اس دوران وہ کئی بار اس کے نزدیک ہوئی اور سہمی کہ لوگ دیکھ رہے ہیں جس پر ذیشان کو مزہ آتا!!
” چلو ہم بھی ڈانس کرتے ہیں!! “
سب کو ڈانس کرتا ہوا دیکھ کر یارش کا دل چاہا کہ وہ اور یمن بھی اسی طرح ڈانس کرے تو اس نے یمن سے کہا!!
” یہ تم پوچھ رہے ہو کہ مجھے حکم دے رہے ہو ؟ “
جواب کی بجائے سوال کیا گیا!!
” دیکھو اگر تم ہاں کرو گی تو سوال ہے اور اگر ناں کرو گی تو یہی سمجھا حکم ہے تمھارے لیے!! “
یارش نے معصومیت بھرے لہجے میں کہا۔۔۔۔
” میری طرف سے صاف صاف انکار ہے۔۔۔!! اور یاد رکھنا تمھارے حکم کا کوئی بھی اثر نہیں ہے مجھ پر سمجھے مسٹر یارش شاہ۔۔۔!! اور ویسے بھی ابھی ہماری شادی نہیں ہوئی ہے۔۔۔
تو اس طرح سب کے سامنے ڈانس کرنا اچھا نہیں لگتا!! تمھیں شرم نہیں آئی گی ؟؟ “
یارش کو لگا تھا کہ وہ مان جائے گی لیکن ایسا کچھ بھی نہیں ہوا۔۔۔ یمن نے صاف طور پر انکار کر دیا۔۔۔۔
” دیکھو میں نے تم سے کہا ہے نا کہ ہم ڈانس کرے گے تو اس کا مطلب ہے کہ ہم ڈانس کرے گے اور میں بھی دیکھتا ہوں تم کیسے انکار کرتی ہوں ؟؟
ویسے بھی نکاح ہوا ہے ہمارا!! بیوی ہو تم میری۔۔۔۔ غیر محرم نہیں ہوں میں تمھارے لیے!! اور مجھے بالکل بھی شرم نہیں آئے گی!! “
یارش ضد پر اترا۔۔۔۔۔!! جب ہی یمن دادی جان سے مخاطب ہوئی۔۔۔
” دادی جان۔۔۔۔!! کیا میں کمرے میں چلی جاؤ پلیز ایک گھنٹہ ہو گیا ہے مجھے یونہی بیٹھے ہوئے!!
اور آپ کو تو معلوم ہے کہ میں اتنے ہیوی ڈریس نہیں پہنتی ہوں!!!
اور اب تو میری کمر بھی بہت درد کر رہی ہے۔۔۔۔۔!! “
یمن نے پاس بیٹھی ہوئی دادی سے معصومیت بھرے لہجے میں کہا۔۔۔۔” جس پر دادی نے اسے فکر مندی سے اور یارش نے حیرانگی سے دیکھا!!
” تو بیٹا پوچھنے کی کیا بات ہے ؟؟ ظاہر سی بات ہے نا تم تھک ہی جاؤ گی جاؤ شاباش جا کر چینج کر لو!! “
دادی جان نے پیار سے سر پر ہاتھ پھیرا اور اگلے ہی لمحے وہ دو لڑکیوں کے ساتھ اٹھتی ہوئی کمرے میں چلی گئی۔۔۔۔!!
جبکہ یارش کو مسکراہٹ دباتے ہوئے دیکھا تو وہ غصے سے لال انگارہ بن چکا تھا!!
مہندی کے فنکشن کے بعد شاہ نواز اپنے گھر چلا گیا۔۔۔! دادی نے اسے روکنے کی کوشش کی مگر اس نے یہ کہہ دیا کہ وہ کل پھر آ جائے گا اسے کچھ ضروری کام ہے۔۔۔۔!! “
لیکن آیت کافی دیر تک دادی کے ساتھ بیٹھ کر ڈھیروں باتیں کرتی رہی۔۔۔۔ آخر کار وہ بھی تو ان کی پوتی تھی نا۔۔۔۔!!
تقریباً رات کے ایک بجے دادی سے باتیں کرنے کے بعد وہ باقی کاموں سے فارغ ہوئی اور کمرے کی طرف بڑھی۔۔۔۔
اسے یہی لگ رہا تھا کہ ذیشان سو چکا ہو گا۔۔۔۔!! پر اسے یہ معلوم نہیں تھا کہ وہ اسی کی انتظار میں اب تک جاگ رہا ہو گا۔۔۔۔”
آیت کمرے میں پہنچی تو آہستگی سے کمرے کا دروازہ کھولا تا کہ شور پیدا نا ہو!! اور ذیشان کی نیند ڈسٹرب نا ہو!!
لیکن جیسے ہی آیت نے قدم کمرے میں رکھے تو سامنے ہی ذیشان کو موبائل یوز کرتا ہوا پایا۔۔۔۔ وہ چینج پر کر کے بیڈ پر لیٹا ہوا شائید اسی کا انتظار کر رہا تھا۔۔۔۔۔!!
ذیشان نے موبائل یوز کرتے ہوئے اسی پوزیشن میں ایک نظر اٹھا کر اس کی طرف دیکھا!
” آپ ابھی تک سوئے نہیں ؟؟ “
آیت نے حیرانگی سے سوال کیا۔۔۔
” تمھیں فرست مل گئی شوہر کے پاس آنے کی!! “
ذیشان خفگی سے بولا۔۔۔۔
” دراصل دادی کے پاس تھی لیکن آپ کیوں اتنے افسردہ ہیں ؟؟ “
آیت شیشے کے سامنے جا کر کھڑی ہوئی اور اپنے جیولری اتار کر ڈریسنگ ٹیبل پر رکھنے لگی۔۔۔۔!! جب ہی ذیشان بیڈ سے اٹھتا ہوا اس کے پاس آیا۔۔۔۔!!!
” آیت مجھے تم سے بالکل بھی یہ امید نہیں تھی!!! “
اس کے پاس بالکل اس کے دائیں کندھے کے قریب آکر کھڑے ہوتے ہوئے ذیشان نے ناراضگی سے کہا۔۔۔ لہجہ کافی سرد تھا۔۔۔۔
آیت نے خوف سے اسے دیکھا۔۔۔۔
” مجھے بالکل بھی امید نہیں تھی کہ تم یہ کرو گی!!! “
ذیشان نے ایک اور بات سرد لہجے میں کہی تھی۔۔۔۔”
” کیا ؟ کس بارے م۔۔یں آپ با۔۔۔ت کر رہے ہیں؟ “
ڈر کی وجہ اس کے الفاظ ٹکڑوں میں بکھرنا شروع ہوئے!
” آیت تم نے اس بچے کو کس کیا!!! “
ذیشان کا اصل شکوہ اس کی زبان پر جیسے ہی آیا تو آیت کی ڈر خوف سب ہوا ہو گیا۔۔۔۔ البتہ اسے ذیشان پر غصہ آیا کہ اس بات کے لیے وہ اتنے بڑے بڑے جملے بول رہا تھا!!!
” ذیشان۔۔۔۔۔!!!! “
آیت نے زور سے مکہ اس کے بازو پر مارا۔۔۔۔۔!! اور ہلکی سی مسکرا دی۔۔۔
” تم یہ بات مزاق میں لے رہی ہو؟؟ میں سریس ہوں۔۔۔۔۔”
وہ اب بھی سنجیدگی سے بول تو آیت نے مسکرانا بند کیا!! اور اسے حیرانگی سے دیکھا!
” ذیشان آپ کیا بات کر رہے ہیں مجھے کچھ بھی سمجھ نہیں آ رہی ہے!! مجھے سیدھے طریقے سے بتائیں کہ کیا بات ہے ؟؟ “
آیت نے اس سے وضاحت چاہی تھی۔۔۔۔۔”
” کیا بات مطلب ؟ آیت اس نے تمھیں روز کا فلاور دیا،،، تم نے وہ پکڑ لیا،،۔ وہاں تک تو بات ٹھیک تھی،،،
لیکن تم نے اسے کس بھی کیا!!
جو مجھے بالکل بھی اچھا نہیں لگا کیونکہ تمھارے لیے یہ حق صرف اور صرف ذیشان شاہ کو ہونا چاہئیے!!
تمھارے سے خوبصورت لب چھوئے تو صرف ذیشان کے لبوں کو!!! “
وہ پہلے اسے ساری بات سمجھتا آخری جملے میں اس کے لبوں کو نہارتا ہوا بولا تو آیت کا چہرہ سرخ پڑ گیا!
” ذیشان آپ ایک بچے سے جل رہے ہیں ؟؟؟ “
آیت کو جیسے یقین نہیں آیا۔۔۔” اور وہاں سے جانے کے لیے وہ مڑی تھی تھی ذیشان نے اس کا بازو تھامتے ہوئے اسے اپنی طرف کھینچا۔۔۔۔
جب ہی وہ اس کے قریب ہوئی،،،، آیت کے دل کی دھڑکنیں تیز ہوئی،،، جبکہ ذیشان کی لبوں پر مسکراہٹ بکھر گئی۔۔۔
وہ نے ایک ہی لمحے میں اس کی کمر کے گرد بازو حائل کرتے ہوئے اسے اپنی گرفت میں لیا،،،
آیت نے دور ہونا چاہا مگر اس کی گرفت بہت سخت تھی اس میں نکلنا اس کے بس کی بات نہیں تھی!!
” ذ۔۔۔یشان مجھے چ۔۔ھوڑیں مجھے کپڑے چی۔۔نج کرنے ہیں۔۔۔۔۔!! “
آیت ہچکچاتے ہوئے لہجے میں کہا تو وہ مسکرایا۔۔۔۔”
” دیکھو بیگم اگر تم اس گرفت سے نکلنا چاہتی ہو تو اس کا ایک ہی راستہ ہے کہ تمھیں مجھے کس کرنا ہو گا!!!!”
ذیشان کی بات پر وہ حیران ہوئی,,,
” میں کوئی کس نہیں کرنے والی ہوں آپ کو چپ چاپ مجھے چھوڑیں ورنہ!! “
وہ کہتے ہوئے ایک جگہ رک گئی۔۔۔۔
” ورنہ کیا ؟؟ میں بتاتا ہوں ورنہ میں تمھیں یہی کھڑا رکھوں گا پوری رات اپنے ساتھ۔۔۔ اور یو سکتا ہے کہ میں بھی تمھیں کس کر لوں تو۔۔۔۔!! “
وہ بول ہی رہا تھا جب ہی وہ قدم اٹھاتی اس کے چہرے کو اپنے ہاتھوں میں لیتی اپنے لب اس کی گال پر رکھ گئی۔۔۔۔!!
اس کے لبوں کا نرم و ملائم لمس محسوس کرتے ہوئے ذیشان کے چہرے کا رنگ گلابی پر گیا۔۔۔۔” جب ہی اس کی آیت پر گرفت ڈھیلی پڑ گئی!! “
موقع پاتے ہی آیت وہاں سے بھاگتی چینجگ روم میں چلی گئی!! جبکہ وہ پیچھے اپنے گالوں پر ہاتھ رکھتا ہوا مسکرا گیا۔۔۔
اور کچھ لمحات بعد کسی کام کے تحت کمرے سے باہر نکلا۔۔۔۔ آیت جیسے ہی چینج کر کے باہر نکلی تو وہ وہاں پر نہیں تھا۔۔۔۔!!
آیت بیڈ کی طرف بڑھی اور ایک سائیڈ پر لیٹتی خود پر کنفرٹر چڑھاتی ہوئی آنکھ موند گئی۔۔۔۔ وہ بہت زیادہ تھک گئی تھی۔۔۔۔!!
اس لیے فوراً نیند کی آغوش میں چلی گئی۔۔۔۔ ذیشان تقریباً دس منٹ بعد کمرے میں آیا تو دیکھا کہ وہ گہری نیند میں اس چکی ہے۔۔۔۔
اسے اپنے قریب پاتے ہوئے ذیشان نے آہستگی سے اس کے ماتھے پر اپنے لب رکھے اور انھیں چومتا ہوا خود بھی دوسری سائیڈ پر اس کی طرف منھ کرتا ہوا لیٹ گیا۔۔۔۔
کافی دیر تک اس کے خوبصورت چہرے کو دیکھتا رہا اور کب سو گیا اسے پتہ ہی نہیں چلا۔۔۔!!
