Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Black Heart Love (Episode - 19)

Black Heart Love By Abdul Ahad Butt

” اور اگر میں یہ کہوں کہ تم یہ شادی نہ کرو تو پھر۔۔۔۔!”

امبر کی یہ بات یمن کو کافی حد تک حیران کر گئی تھی۔۔۔۔!” اسے سمجھ ہی نہیں آیا کہ امبر نے ایسا کیوں کہا۔۔۔!

” امبر یہ تم کیسی باتیں کر رہی ہو۔۔۔۔؟”

یمن نے اس سے سوال کیا وہ یہ باتیں کیوں کر رہی ہے اور ان کا مقصد کیا ہے۔۔۔۔؟

” کیسی باتیں کر رہی ہوں کیا مطلب ہے اس بات کا۔۔۔؟ میں نے بس ایک جنرل بات کی ہے۔۔۔۔!”

امبر نے اپنی بات کی کلیریفیکشن دی۔۔۔۔! جس ہر یمن بولی۔۔۔۔!

” جنرل بات تو ہے لیکن ہر بات کے پیچھے کوئی نا کوئی وجہ ضرور ہوتی ہے۔۔۔۔! تمھاری بات کے پیچھے بھی کچھ نا کچھ وجہ ضرور ہوگی۔۔۔۔!”

یمن نے اسے بتایا کہ ہر بات کے پیچھے کوئی نا کوئی وجہ ضرور ہوتی ہے اور اس سے پوچھا کہ وہ بات کا بنا پر کر ہی ہے۔۔۔۔؟

” یمن۔۔۔۔۔! تمھیں نہیں لگتا ہے کیا کہ یارش بہت ہی زیادہ ایاز قسم کا شخص ہے۔۔۔۔ امیر ماں باپ کی اولاد ہے۔۔۔۔

بگڑی ہوئی بھی تو ہو سکتی ہے۔۔۔۔۔! اور نا جانے اس کے کتنی ہی لڑکیوں کے ساتھ افئیر ہوں گے۔۔۔۔! اللہ جانے اس بات کو۔۔۔۔!”

وہ بولتی ہوئی رک گئی جب ہی یمن نے اسے حیرانگی سے دیکھا۔۔۔!

” امبر تم ہی اچھا مزاق کر لیتی ہو۔۔۔۔۔۔ اور مجھے معلوم ہے کہ تم مجھ سے مزاق کر رہی یوں۔۔۔۔

لیکن اگر یہ حقیقت بھی ہے تو ایسا کچھ بھی نہیں ہے۔۔۔۔ سمجھ لو یہ بات۔۔۔۔!”

یمن نے امبر کی بات کو مکمل طور پر مزاق میں لیا تھا۔۔۔ اور مسکراتے ہوئے ہی اس نے اسے یارش کی کردار کے متعلق بتایا جس ہر امبر چپ کر گئی۔۔۔۔!

جب ہی کمرے کی کھڑکی سے دیکھتے ہوئے شخص نے کسی کو ملایا۔۔۔۔!



جیسے ہی یکن گھر پہنچی تو اسے بہت ہی بڑی خبر ملی کی اس کی شادی جو دو ماہ بعد طہ پائی تھی وہ اسی مہینے کے آخر میں ہو گی۔۔۔۔

لیکن ایسا کیوں تھا۔۔۔۔۔؟ یہ سن کر اسے بہت زیادہ جھٹکا لگا تھا۔۔۔۔۔” پہلے پہل تو اسے یوں لگا کہ۔اس کے گھر والے جلدی کر رہیں ہیں۔۔۔۔۔

پر معلوم کرنے پر پتہ چلا کہ۔یہ سب کچھ کوئی اور نہیں بلکہ یارش کے گھر والوں کی طرف سے تھا۔۔۔۔!

وہ ہی یہ شادی جلد از جلد کرنا چاہ رہے تھے۔۔۔۔۔!” لیکن ایسا کیوں تھا۔۔۔۔۔؟ ایک طرف امبر اسے یارش سے شادی سے منع کر رہی تھی اور دوسری طرف یارش کے گھر والے شادی کے لیے جلدی کر رہے تھے۔۔۔۔!

آخر یہ ماجرہ کیا ہے۔۔۔۔؟



دن سے رات اور رات سے دن یوں کرتے ہوئے تین گزر چکے تھے۔۔۔۔! لیکن اس دوران ذیشان گھر نہیں آیا تھا۔۔۔۔۔!

پہلے اس کا نا آنا آیت کے لیے خوشی کا باعث تھا لیکن اب یہ سب کچھ اس کے لیے بے چینی کا ہے۔۔۔۔!

کیونکہ جو بات وہ اسے کہہ گیا تھا۔۔۔۔! وہ نا قابلِ قبول تھی۔۔۔۔!” کہ اس کے باپ شاہ نواز نے ذیشان کے والدین کو مارا تھا۔۔۔۔!”

آیت اس بات کو بالکل بھی ماننے کے لیے تیار نہیں تھی۔۔۔۔۔! لیکن اسے ایک بات اور سمجھ نہیں آرہی تھی کہ ذیشان نے ایسا کہا ہی کیوں تھا۔۔۔۔!”

یقیناً اسے کوئی بہت بڑی غلط فہمی ہوئی تھی۔۔۔۔!!!!”

وہ اس وقت بھی کمرے میں بیٹھی ہوئی تھی۔۔۔۔۔! جب ہی کمرے کا دروازا کھلا اور وہ ستم گر کمرے میں داخل ہوا۔۔۔۔!

آیت کو پہلے یقین نہ آیا کہ وہ ہے لیکن پھر وہ اٹھی اور اس کی طرف بڑھ گئی۔۔۔۔ جو اسے مکمل طور پر اگنور کیے ہوئے واش روم میں چلا گیا۔۔۔۔!

جیسے ہی وہ باہر نکلا آیت اس کے سامنے تھی۔۔۔۔۔! وہ اسے اگنور کرتا ہوا پیچھے ہوا۔۔۔۔!

” ذیشان میری بات سنیں۔۔۔۔۔!”

اس کے بازو تھامتے ہوئے آیت نے اسے روک کر کہا تھا۔۔۔۔۔!” اس کی بات سنتے ہوئے ذیشان نہ چاہتے ہوئے بھی رک گیا۔۔۔۔!

” کہو کیا ہے۔۔۔۔۔؟”

نہایت ہی سرد لہجے میں اسے وہ کہہ گیا۔۔۔۔! اس کا سخت لہجہ ٹھیک آیت کے سینے پر جا لگا۔۔۔۔

” ذیشان آپ کو کوئی غلط فہمی ہوئی ہے۔۔۔۔۔ میرے بابا نے کچھ۔۔۔۔!”

” شٹ اپ۔۔۔۔ جسٹ شٹ اپ۔۔۔۔۔!”

وہ بول ہی رہی تھی جب وہ اس پر غرایا۔۔۔۔ اسے دیکھ کر وہ سہم سی گئی۔۔۔۔!”

” مجھے تم سے زیادہ پتہ ہے۔۔۔۔ یہ واقع اس وقت کا ہے جب تم پیدا بھی نہیں ہوئی تھی۔۔۔۔۔

مجھے تم سے زیادہ معلوم ہے اور اگر تم نے اپنی باپ کی کفالت کرنے کی کوشش کی تو قسم سے مجھ سے برا کوئی نہیں ہو گا۔۔۔۔!”

وہ غصے سے کہتا کمرے سے نکل گیا جبکہ وہ صوفے پر بیٹھ گئی اسے اس کے ماں باپ کی یاد ستانے لگی۔۔۔۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *