Black Heart Love By Abdul Ahad Butt NovelR504882 Black Heart Love (Episode - 10)
No Download Link
Rate this Novel
Black Heart Love (Episode - 10)
Black Heart Love By Abdul Ahad Butt
اس شدید ہونے والے عمل سے وہ توازن کو برقرار نہ رکھ پائی اور اس کے سینے سے جا ٹکرائی۔۔۔۔! ماحد نے اس کی کمر کے گرد بازو حائل کرتے ہوئے اسے خود میں بھینجا۔۔۔۔”
” ی۔۔۔ یہ کیا ک۔۔۔ ر رہ۔۔۔ے ہیں آپ ک۔۔۔وئی آ۔۔۔جائے گا۔۔۔۔”
اس کے حائل ہوئے بازوؤں سے نکلنے کے لیے وہ مچلنے لگی جبکہ وہ مسکرایا۔۔۔۔۔!
” میری جان مجھے یہاں آنے سے کوئی بھی روک نہیں سکتا ہے۔۔۔۔! سمجھی۔۔۔۔! تم شائید کچھ بھول رہی ہو۔۔۔۔۔
کہ اب ہم منگیتر نہیں رہے بلکہ ہمارا نکاح ہوچکا ہے اور ہم میاں بیوی ہیں۔۔۔۔!
تو مجھے نہیں لگتا کہ تمھیں بھی اور مجھے بھی کسی سے ڈرامے کی ضرورت ہے۔۔۔! “
اس کے ماتھے پر آتے بالوں کو اس نے پیچھے کرتے ہوئے کہا۔۔۔۔”
” آپ کو ڈر نہیں لگتا تو اس میں کیا کرو۔۔۔۔؟ مجھے تو ڈر لگتا ہے۔۔۔۔ پلیز آپ جائے یہاں سے۔۔۔۔! “
اسے خود سے دور کرتے ہوئے عشاء نے نظریں جھکائے ہوئے معصومیت سے بھرے لہجے میں کہا۔۔۔ جس پر ماحد ہلکا سا مسکرایا۔۔۔۔”
” جب تمھارے شوہر کو ڈر نہیں لگتا کسی سءلے تو تم کیوں ڈر رہی ہو۔۔۔۔؟ مجھے نہیں لگتا کہ میری پناہوں میں آنے کے لیے تمھیں کسی کی بھی ضرورت ہے۔۔۔۔!”
مینی خیز مسکراہٹ چہرے لیے ہوئے اس نے کہا جس پر عشاء کا چہرہ لال پڑ گیا۔۔۔۔
” جو بھی ہے آپ پلیز یہاں سے جائے۔۔۔۔! مجھے نہیں پتا ورنہ میں شور مچا دو گی۔۔۔۔!”
اس کے ذہن میں جب کچھ بھی نہ آیا تو جلد بازی میں یہ سب کہہ گئی۔۔۔۔ جس ہر ماحد نے قہقہ لگایا۔۔۔۔!
” کیا کہہ کر شورچاؤ گی۔۔۔؟ کہ تمھارا شوہر تمھیں اپنے قریب کر رہا ہے۔۔۔۔ یہ کہہ کر۔۔۔”
اس کی ٹھوڑی کے نیچے انگلی رکھتے ہوئے اس کے جھکے چہرے کو اوپر کرتے ہوئے اس نے شوخ لہجے میں کہا۔۔۔
ایک پل کے لیے تو عشاء خود ہی اپنے کہے پر مسکرا گئی۔۔۔۔! لیکن اگلے ہی لمحے وہ اس کے گالوں کو چومتا مسکراتے ہوئے کمرے سے نکل گیا۔۔۔۔”
جبکہ اس ہونے والے عمل سے وہ گھبرا گئی اور ایک ہی جگہ پر منجمند ہو گئی۔۔۔۔! کچھ دیر بعد بعد حال میں لوٹی تو دیکھا کہ وہ کمرے میں موجود نہیں ہے۔۔۔۔!
.
” ذیشان بیٹا۔۔۔۔۔! میں تمھیں پچھلے دو سالوں سے کہہ رہی ہو کہ شادی کر لو شادی کر لو میری بڑی ہی خوائش ہے کہ تمھارے اور یارش کے بچے کھلاؤ۔۔۔۔!
پر تم دونوں بھائی تو میری سنتے ہی کہاں ہو۔۔۔۔؟ نہ وہ میری بات مانتا ہے اور نہ ہی تم میری بات مانتے ہوئے۔۔۔۔۔ میں چاہتی ہوں کہ میری زندگی میں ہی تم لوگوں کی شادی ہو جائے۔
عمر کا کیا بھروسہ ہے کل کلا کو مجھے کچھ ہو جائے تو میری یہ خوائش دھری کی دھری رہ جائے گی۔۔۔۔! “
ذیشان فون کان سے لگائے ہوئے ان کی بات سن رہا تھا۔۔۔۔ لیکن جب اپنی دادی کی اس نے آخری بات سنی تو گھبرا سا گیا۔۔۔
وہ زندگی میں کبھی ایسا کچھ سوچ بھی نہیں سکتا تھا۔۔۔۔! اس کی کل دنیا اس کی دادی اور اس کا بھائی ہے۔۔۔۔”
پہلے تو وہ ان کی شادی کہی ہوئی بات کو سنی ان سنی کر دیتا تھا۔۔۔۔ لیکن آج ان کی بات اسے کافی پریشان کر گئی تھی۔۔۔”
” دادو پلیز۔۔۔۔۔! آپ کیسی باتیں کر رہی ہیں۔۔۔۔؟ میں کر لو گا شادی اور جلد از جلد کر لو گا۔۔۔ لیکن آپ پلیز ایسی باتیں مت کریں۔۔۔۔”
اس نے انھیں سمجھاتے ہوئے کہا جس ہر وہ ہلکا سا مسکرائی۔۔۔۔!
” اچھا ٹھیک ہے۔۔۔۔ میں نہیں کہتی۔۔۔۔ پر مجھے جلد از جلد بہو چاہئیے۔۔۔۔!”
انھوں نے اسے تاکید کی جس پر وہ مسکرائی۔۔۔۔۔! اور اس سے حال احوال پوچھنے لگی اور وہ دونوں دادی پوتا ایک دوسرے سے باتیں کرنے لگے۔۔۔۔!
.
” ایسے کیسے ہو سکتا ہے۔۔۔۔۔؟ وہ میری بیٹی ہے سمجھے تم۔۔۔۔! مجھے ہر قیمت پر میری بیٹی چاہئیے۔۔۔۔!
کیسے وہ شخص اپنے پاس اسے رکھ سکتا ہے۔۔۔۔۔! میں نہیں مانتا۔۔۔۔ وہ تم سے جھوٹ بول رہا۔۔۔۔! سمجھے۔۔۔ مجھے میری بیٹی ہر قیمت پر چاہئیے۔۔۔۔۔”
شاہ نواز نے جب یہ سنا کہ جس شخص نے آیت کو قید کروایا ہے۔۔۔۔ وہ کوئی عام آدمی نہیں ہے۔۔۔۔!
اس کے علاؤہ اس نے یہ بھی کہا ہے کہ وہ آیت کا رشتے دار ہے تو وہ اسے اپنے پاس ہی رکھے گا۔۔۔۔ تو ان کو شدید غصہ چڑھا۔۔۔
انھیں اپنی بیٹی اپنی جان سے بھی عزیز تھی۔۔۔۔۔ اس کے لیے وہ کسی سے بھی لڑ سکتے تھے۔۔۔۔ انھوں نے آج تک اسے غصے کی نگاہ سے بھی نہ دیکھا تھا۔۔۔
تو اب وہ یہ کیسے مان لیتے کہ ان کی بیٹی ان سے چھن جائے۔۔۔۔! نجمہ بیگم کو بھی اس کی فجر کھائی جا رہی تھی۔۔۔
وہ دو دفع بے ہوش بھی ہو چکی ہیں۔۔۔۔” انھیں یہی فکر کھا رہی ہے کہ ان کی بیٹی نے کچھ کھایا بھی ہو گا کہ نہیں۔۔۔۔؟
” سر دیکھے ہم آپ کے جذبات کو سمجھتے ہیں۔۔۔۔! لیکن ہم اس میں کچھ بھی نہیں کر سکتے ہیں۔۔۔۔!
آپ کی بیٹی کا نکاح ہو چکا ہے اس شخص سے۔۔۔۔۔ اب وہ قانوناً اس کی بیوی ہے۔۔۔۔! اس میں ہم زبردستی اسے آپ کے پاس نہیں لا سکتے ہیں۔۔۔۔”
پولیس آفیسر کی بات سنتے ہوئے وہ دنک رہ گئے۔۔۔۔! شاہ نواز یہ سنتے ہی ساکت پڑ گیا۔۔۔۔”
” آفیسر سوچ سمجھ کر بولو۔۔۔۔ تم کیا کہہ رہے ہو۔۔۔۔۔”
آیت کے کزن نے اس کا گریبان کو پکڑتے ہوئے جس پر وہ گھبرا گیا۔۔۔۔!
” سر اس میں ہم کچھ بھی نہیں کر سکتے ہیں۔۔۔۔ اگر ہم اسے یہاں لائے تو ذیشان شاہ اپنی بیوی کے اغواہ کے کیس میں ہمیں بھی پھنسوا سکتا ہے۔۔۔۔!”
” کیا۔۔۔۔؟ کیا۔۔۔۔؟ کیا نام لیا ہے تم نے۔۔۔۔۔!”
شاہ نواز نے ذیشان کا نام سنا تو اسے اپنے ہی کانوں پر بھروسہ نہ رہا۔۔۔۔۔! اس نے آفیسر سے دوبارہ پوچھا۔۔۔
” ذیشان شاہ۔۔۔۔۔”
پولیس آفیسر نے اس کی بات کو سنتے ہوئے اس کا جواب دیا۔۔۔۔! جس وہ ساکت پڑ گیا۔۔۔۔! وہ سمجھ گیا کہ وہ کون ہے اور وہ یہ کیوں کر رہا ہے۔۔۔۔؟
لیکن اب اس کی بیٹی کی زندگی تباہی ہو گئی تھی۔۔۔۔”
