Black Heart Love By Abdul Ahad Butt NovelR504882 Black Heart Love (Episode - 25)
No Download Link
Rate this Novel
Black Heart Love (Episode - 25)
Black Heart Love By Abdul Ahad Butt
“ایک دن انھیں انجئینا کا اٹیک ہوا پہلے تو ڈاکٹرز نے ہم سے کیا وہ ٹھیک ہو جائے گی۔۔۔۔ پر کچھ ہی دیر بعد ان کی طبعیت بگڑ گئی۔۔۔۔
اور وہ ہمیں تمھیں ہم سب کو چھوڑ کر اس دنیا سے چلی گئی تھی۔۔۔۔۔۔!!”
آنکھو میں آنسو لیے ہوئے انھوں نے آیت کو اپنے سامنے بیٹھتے ہوئے ساری حقیقت بتا دی تھی۔۔۔۔ جبکہ ذیشان کی حقیقت اس پر آشنا ہوئی تھی۔۔۔۔۔۔!!
وہ رونے لگی تھی۔۔۔۔۔۔!! اور کافی دیر تک روتی رہی۔۔۔۔۔ آنکھوں سے تو آنسو رکنے کا نام کی نہیں لے رہے تھے۔۔۔۔۔
کیسے رکتے آنسو اس کی آنکھوں سے۔۔۔۔۔ ماں کا دکھ کوئی عام یا کوئی چھوٹا دکھ نہیں تھا۔۔۔۔۔
اور سب سے بڑی بات یہ تھی کہ آیت کئی مہینوں تک ماں کی وفات کے بارے میں جان ہی نہیں پائی تھی۔۔۔۔۔
” بابا۔۔۔۔ آپ نے مجھے پہلے اس بارے میں کیوں نہیں بتایا کیوں نہیں آئے آپ میرے پاس۔۔۔۔۔؟ کیوں مجھے آگاہ نہیں مجھے۔۔۔۔۔ میں آخری مرتبہ اپنی ماں کو دیکھ بھی نا پائی۔۔۔۔۔!! “
آیت نے اپنے والد سے ماں کی وفات کے بارے میں نا بتانے کی وجہ دریافت کی تھی۔۔۔۔۔!! جس پر شاہ نواز نے اسے حیرانگی سے دیکھا۔۔۔۔۔!! کیا حقیقت میں ہی وہ اس سچ سے نا واقف تھی۔۔۔۔۔؟ کیا ذیشان شاہ نے اسے نجمہ بیگم کی وفات کے متعلق کچھ بھی نہیں بتایا تھا۔۔۔۔۔۔،!!
” آیت بچے۔۔۔۔۔۔!! میں تمھیں کیسے بتاتا۔۔۔۔؟ ذیشان نے ہم پر اپنے آدمی تک بیٹھا رکھے تھے۔۔۔۔۔ وہ کسی بھی قیمت پر ہمیں تم سے ملنے نہیں دے رہا تھا۔۔۔۔۔
لیکن مجھے ایک بات سمجھ نہیں آئی کہ ذیشان جب نجمہ بیگم کی وفات کے بارے میں اس نے تمھیں کیوں آگاہ نہیں کیا۔۔۔۔۔؟؟ “
شاہ نواز کی بات پر آیت نے انھیں حیران کن نظروں سے دیکھا۔۔۔۔ اسے سمجھ نہیں آیا کہ ذیشان کو اس کی والدہ کی وفات کے بارے میں پتہ تھا۔۔۔۔؟؟
” بابا۔۔۔۔! کیا ذیشان مما کے دیتھ کے بارے میں جانتے تھے۔۔۔۔۔؟؟ “
آیت نے حیرانگی سے اپنے باپ کو دیکھتے ہوئے آنکھوں میں لاکھ سوالات لیے ہوئے اس نے شاہ نواز سے بڑی ہمت کرتے ہوئے پوچھا تھا۔۔۔۔۔
” ہاں بالکل اسے پتا تھا۔۔۔۔۔!! اس نے میرے ایک ایک لمحے کی خبر لے رکھی تھی۔۔۔۔۔ تو اسے یہ بھی معلوم تھا۔۔۔۔۔!!”
شاہ نواز کی یہ بات سنتے ہی اس نے سختی سے آنکھیں بند کر لیں۔۔۔۔ وہ ایسا کچھ بھی ذیشان سے ایکسیپٹ نہیں کر رہی تھی۔۔۔۔
کہ وہ بدلے کی آگ میں اس قدر گر جائے گا کہ اسے اس کی ماں کی وفات کی خبر سے ہی دور رکھے گا۔۔۔۔
” میں گیا تھا اس کے پاس تا کہ میں تمھیں اپنے پاس لا سکوں۔۔۔۔ لیکن آیت بیٹا میں تمھیں بتا نہیں سکتا ہوں کہ اس نے تمھارے متعلق مجھے کیا کیا نہیں کہا۔۔۔۔؟ “
شاہ نواز نے اسے ایک اور حقیقت سے آگاہ کیا تھا۔۔۔۔!! وہ جیسے جیسے اس کی باتیں سن رہی تھی۔۔۔۔
ذیشان اس کی نظروں سے گرتا جارہا تھا۔۔۔۔ وہ سمجھتی تھی کہ وہ صرف انھیں غلط سمجھتا ہے لیکن وہ تو ان کے ساتھ بہت کچھ غلط کر بھی چکا ہے۔۔۔۔۔!!
” بیٹا۔۔۔۔ تم ان باتوں کو فلحال چھوڑو۔۔۔۔۔!! ابھی جا کر آرام کر لو رات بھی کافی ہوگئی ہے۔۔۔ میرا بچہ تھک گئی ہو گی جاؤ جا کر آرام کر لو۔۔۔۔!! “
شاہ نواز نے آیت کو آرام کرنے کا مشورہ دیا تھا۔۔۔۔ جس پر وہ کمرے کی طرف بڑھ گئی تھی۔۔۔۔۔
وہ کمرے میں آئی اور بیڈ پر بیٹھ گئی۔۔۔۔۔ اس نے ذیشان کو کیا سمجھا ؟ اور وہ کیا نکلا ؟ اس نے کیا کچھ نہیں کیا تھا اس کے ساتھ۔۔۔۔؟
اس کی ماں کی ہی وفات سے اسے بے خبر رکھا۔۔۔۔۔؟ اتنا برا سلوک کیا اس کے گھر والوں کے ساتھ۔۔۔۔!!
اور اس نے یہ صرف اور صرف ایک خوش فہمی کے تحت کیا۔۔۔۔ کیونکہ آیت کو اپنے باپ پر پورا بھروسہ تھا۔۔۔۔۔!
وہ کبھی بھی ایسی حرکت نہیں کر سکتے تھے۔۔۔۔۔
” ذیشان شاہ یہ آپ نے یہ بالکل اچھا نہیں کیا۔۔۔۔۔!! مجھے آپ سے اس قسم کی حرکت کی بھی بالکل بھی امید نہیں تھی۔۔۔۔۔۔
میں نے کبھی سوچا بھی نہیں تھا کہ آپ ایسا کرے گے۔۔۔۔۔“
آیت کے دل کو شدید دکھ پہنچا تھا۔۔۔۔۔ وہ تو اسے پسند کرنے لگی تھی۔۔۔۔ اس کا خوف کم ہوتا جا رہا تھا۔۔۔۔
اپنائیت بڑھتی جا رہی تھی۔۔۔ لیکن ذیشان ان حرکات کی وجہ سے وہ اس کے سینے سے ٬ اس کے دل سے ٬ اس کی نظروں سے ٬ اس کے سوچوں سے ٬ اس کے خیالات سے ٬ ہو جگہ سے ذیشان شاہ اتر گیا۔۔۔۔
وہ آنکھوں میں آنسو لیے انھیں مونڈ گئی تھی۔۔۔۔ جبکہ نیند آنکھوں سے کوسوں دور تھی۔۔۔۔۔!!
پورے شہر کو چھان چکا تھا ذیشان شاہ۔۔۔۔ لیکن آیت کہیں بھی ملنے کا نام ہی نہیں کے رہی تھی۔۔۔۔۔
ذیشان نے اپنے آدمیوں کو شہر کے ہر حصے ہر کونے میں پھیلے ہوئے تھے۔۔۔۔ لیکن اسے کوئی بھی خبر نہیں مل رہی تھی۔۔۔۔
” او گوڈ۔۔۔۔۔!! ناجانے کہاں اور کس حال میں ہوگی یہ لڑکی۔۔۔۔؟”
گاڑی ایک جگہ ہر روکتے ہوئے۔۔۔۔ وہ گاڑی سے باہر نکلتا ہوا ادھر ادھر دیکھنے لگا۔۔۔ اس کے چہرے پر آیت کے لیے پریشانی صاف ظاہر ہو رہی تھی۔۔۔!!
” وہ کیوں اس کے لیے پریشان ہو رہا ہے۔۔۔۔۔؟ وہ تو بس اس کے لیے ایک مہرہ تھی۔۔۔۔۔؟ شاہ نواز سے انتقام لینے کے لیے۔۔۔۔
لیکن اس کا تو ابھی تک انتقام بھی پورا نہیں ہوا۔۔۔۔ شاہ نواز یا آیت ان دونوں میں سے تو کوئی بھی اس اذیت سے نہیں گزرے تھے۔۔۔۔
جس اذیت سے وہ اور اس کا بھائی یارش گزرے تھے۔۔۔۔۔
تو وہ اس کے لیے پریشان کیوں تھا۔۔۔۔؟؟” کیا تھا یہ احساس ؟ کیا یہ احساس محبت کا تھا۔۔۔۔؟
لیکن کیسے ابھی تو اسے اس کی زندگی میں آئے ہوئے کچھ ہی مہینے ہوئے تھے۔۔۔۔؟
پر وہ کہاں جانتا تھا کہ محبت ہونے کے لیے کوئی بھی وقت درکار نہیں ہوتا۔۔۔۔ اس کے لیے کسی بھی شخص کی ضرورت نہیں ہوتی۔۔۔۔
بلکہ یہ ہو جاتی ہے ٬ جو آپ کو پسند آ جائے__
وہ کھڑا ہوا گہری سوچ میں ڈوبا ہوا تھا جب ہی اس کے فون کی بیل بجی۔۔۔ اس نے جیب سے موبائل نکالا۔۔۔ اور اٹھاتے ہوئے کان سے لگایا۔۔۔۔۔۔۔۔٬
” ہیلو سر۔۔۔۔ میم کا کچھ پتا نہیں چل رہا ہے۔۔۔۔!! “
اس نے فون اٹھاتے ہوئے کہا جبکہ اس کی یہ بات سنتے ہوئے ذیشان کا سر گھوما۔۔۔۔
” تو کس چیز کے پیسے لیتے جو تم۔۔۔۔۔؟ بولو ؟ حرام کے پیسے نہیں دیتا ہو میں تم لوگوں کو۔۔۔۔۔
صرف اور صرف چوبیس گھنٹے ہیں تم لوگوں کے پاس ٬ مجھے آیت صحیح سلامت چاہئیے ورنہ تم لوگوں کو میں جان سے مار دو گا۔۔۔۔ سمجھے تم۔۔۔۔!! ”
وہ تو جیسے اس پر برس ہی پڑا تھا۔۔۔۔۔۔!!
” ج۔۔۔ ی سر۔۔۔۔۔۔”
اس کی تو جان جیسے حلق کو ہی آگئی تھی۔۔۔۔۔ وہ فوراً کہتا ہوا فون بند کر گیا۔۔۔۔
کیونکہ وہ جانتا تھا کہ اگر اس نے اپنا کام چوبیس گھنٹوں میں پورا نہیں کیا تو اس کے پاس موت کے سوا کوئی چارہ نا ہو گا٬٬٬__
فون رکھتے ہی ذیشان بھی گاڑی میں بیٹھتا ہوا سڑک چھاننے چلا گیا۔۔۔۔
لیکن اسے آیت ملنا اب مشکل ہی نہیں بلکہ نا ممکن ہوگیا ہے۔۔۔۔۔!!“
عشاء ابھی اس وقت یونیورسٹی میں پہنچی ہی تھی۔۔۔۔۔ جب ہی اس کا پاؤں ایک وٹے سے ٹکڑا گیا۔۔۔۔
جس کی وجہ سے وہ پیچھے کی طرف گرنے ہی والی تھی جب ہی اسے کسی نے اپنی باہوں میں بھر لیا۔۔۔۔
ڈر کے مارے اس نے آنکھیں بند کر لی تھی۔۔۔۔۔ لیکن خود کو کسی کی باہوں میں پاکر اس نے آنکھیں کھولیں تو سامنے کسی اور کو پا کر وہ فوراً کھڑی ہوگئی تھی۔۔۔۔۔
” عباس۔۔۔۔ تم یہاں۔۔۔۔۔۔”
عشاء نے حیرانگی سے سامنے کھڑے ہوئے عباس کو دیکھا۔۔۔۔۔
” وہ تم گرنے لگی تھی اس لیے تمھیں میں نے پکڑ لیا۔۔۔۔۔!!”
عباس نے مسکراتے ہوئے کہا۔۔۔۔
” شکریہ۔۔۔۔ لیکن اس طرح مجھے کوئی بھی شخص ہاتھ لگائے مجھے پسند نہیں ہے۔۔۔۔ تو آئندہ زرا احتیاط کرنا۔۔۔۔!!”
عشاء نے دوپٹہ سیٹ کیا اور اسے کہتے ہوئے چلی گئی۔۔۔۔۔ جبکہ عباس نے سر ہاں میں ہلایا۔۔۔
وہ اس بات کو پہلے ہی اچھے طریقے سے جانتا تھا۔۔۔۔ لیکن اسے تو اپنا کام کرنا تھا ٬ جس کے اسے پیسے مل رہے تھے۔۔۔۔!! جو کام اسے جیا نے سونپا تھا۔۔۔۔۔!!“
دادی جان ساری حقیقت کو با خوبی سمجھ گئی تھی۔۔۔۔۔ کہ ذیشان نے آیت سے نکاح کیوں کیا۔۔۔۔ ؟ کیا وجہ تھی۔۔۔۔۔ ؟
وہ سمجھ گئی تھی کہ شاہ نواز ی وجہ سے ہی آیت کے ساتھ ذیشان نے نکاح کیا اور باقی کی ساری حقیقت انھیں ذیشان کے سب سے قریبی آدمی شہیر نے بتا دی۔۔۔۔۔
وہ ذیشان پر بہت غصہ تھی۔۔۔۔
( فلیش بیک سین )
” اسلام علیکم دادی اماں کیسی ہیں آپ۔۔۔۔۔؟”
شہیر کچھ دیر پہلے ہی ڈرائنگ روم میں آکر بیٹھا ہی تھا۔۔۔ جب ہی دادی اس کے پاس آئی اور اس نے کھڑے ہوکر سلام کیا۔۔۔۔
” وعلیکم السلام۔۔۔۔۔!! بیٹھو شہر بیٹھو اور مجھے ایک بات تو بتاؤ زرا۔۔۔۔ اور اگر تمھاری نظر میں میری عزت واقع ہے تو حق اور سچ کی بات کرنا کیوں کہ آدھے سچ سے تو میں پہلے ہی آشنا ہوں تو سچ بولنا۔۔۔۔۔!!“
دادی اماں نے کڑے تیور لیے ہوئے کہا۔۔۔۔
” آپ پوچھیں دادی۔۔۔۔ کیا بات ہے آپ کو ویسے بھی پتہ ہے میں نے کبھی آپ سے جھوٹ نہیں بولا ہے۔۔۔۔۔!! “
شہیر کو کچھ عجیب سا لگا۔۔۔۔
” تو پھر بتاؤ ذیشان نے آیت سے نکاح کس وجہ سے کیا۔۔۔۔۔؟ اور میں صرف اور صرف سچ سننا چاہتی ہوں۔۔۔۔ اور مجھے لگتا ہے تمھیں نوکری پیاری ہوگی۔۔۔۔!!”
آج سے پہلے جو بھی ہو جائے انھوں نے کبھی بھی ایسی بات نہیں کی تھی۔۔۔۔ یعنی شہر کو سچ بولنا ہی تھا کیونکہ وہ اس کی بھی دادی کے برابر تھی یا اس سے بڑھ کر تھی۔۔۔۔۔
” ش۔۔۔اہ نواز سے بدلہ لینے کے لیے۔۔۔۔۔۔!!”
اس کی بات سنتے ہی دادی کو اس بات پر یقین ہو گیا۔۔۔۔۔!!
” کس بات کا بدلہ لینے کے لیے۔۔۔۔؟”
دادی اماں نے سوال کیا۔۔۔۔
” اپنے ماں باپ کے قتل کا بدلہ لینے کے لیے۔۔۔۔۔!!”
شہیر کی یہ بات ان پر پہاڑ توڑنے کے برابر ہی تھا۔۔۔۔ ان کے وہم و گمان میں یہ بات کبھی بھی نہیں آئی تھی۔۔۔۔
کہ ان کا بیٹا ان کے بیٹے اور بہو کو قتل کرے گا۔۔۔۔ کیونکہ ایسی کوئی حقیقت تھی ہی نہیں۔۔۔۔
” ٹھیک ہے تم جاؤ شہیر۔۔۔۔۔!!”
دادی نے شہیر کو جانے کا کہا۔۔۔۔ جس پر وہ سر اثبات میں ہلاتے ہوئے چلا گیا۔۔۔۔
جبکہ اب اس کی شامت آنے والی تھی۔۔۔۔
(حال)
” تم حقیقت سے کوسوں دور ہو ذیشان۔۔۔۔ یہ تم نے بہت غلط کیا ہے۔۔۔۔ آیت کے ساتھ۔۔۔۔“
یہ سوچتے ہوئے انھوں نے خود سے ہی کہا تھا۔۔۔۔ ذیشان کل رات کا گیا ابھی تک گھر واپس نہیں آیا تھا۔۔۔۔ دادی نے سے تین سے چار مرتبہ کالز کی تھی لیکن اس نے نہیں اٹھائی۔۔۔۔
اب کیا ہونا ان سب کی زندگی میں۔۔۔۔۔؟ ذیشان نے پورا شہر چھان مارا لیکن آیت نہیں ملی۔۔۔۔۔! کیونکہ وہ اس شہر میں تھی ہی نہیں۔۔۔۔ اب اس کا ارادہ شاہ نواز کی طرف جانے کا تھا۔۔۔۔
