Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Black Heart Love (Episode - 34)

Black Heart Love By Abdul Ahad Butt

گاڑی منزل مقصود پر پہنچ گئی۔۔۔۔ ذیشان اور صادق کو یہاں تک پہنچنے میں تقریباً ایک گھنٹے سے زائد وقت لگ گیا تھا۔۔۔۔

شاہ نواز ابھی ہی ہوٹل سے نکلا تھا۔۔۔۔!! ذیشان نے اور صادق نے اسے جاتا ہوا دیکھ لیا تھا۔۔۔۔

لیکن وہ دونوں اس کی نظروں سے بچ گئے۔۔۔۔۔۔۔۔ اس کے جاتے ہی ذیشان شاہ اور صادق گاڑی سے اترتے ہوئے اس فلیٹ کی طرف بڑھے جو چوتھی منزل پر تھا۔۔۔۔!! جس میں آیت ہے۔۔۔۔“

” صادق پکا یہی ہے نا ؟؟ “

ذیشان نے اس سے کنفرم کرنا چاہا۔۔۔۔

” یس سر آئم ون ہینڈرڈ ون پرسنٹ شور

Yes sir I am one Hundred one percent sure”

صادق نے اس کہا کہ وہ ایک سو ایک فیصد شور ہے۔۔۔۔!!!! جب ہی انھوں نے بیل بجائی۔۔۔۔!!

” باہر کون ہے ؟؟ بابا ؟ لیکن وہ تو ابھی گئے تھے یہاں سے۔۔۔۔ !! “

بیل بجنے کی آواز آیت نے کھڑے ہوتے ہوئے باہر کی طرف دیکھا۔۔۔۔!! پھر اچانک اس کی نظر اس فائل پر پڑی جو اس کے بابا لائے تھے اور وہ یہی رہ گئی تھی۔۔۔۔

” ہو سکتا ہے بابا یہ فائنل لینے آئے ہوں۔۔۔۔!! “

وہ مسکراتے ہوئے باہر کی طرف بڑھی۔۔۔۔!!! اس کے اندر اب بالکل بھی ڈر نہیں رہا تھا۔۔۔۔! کہ کہیں ذیشان یہاں نا پہنچ جائے!!!

آیت نے اپنا دوپٹہ سیٹ کیا اور دروازے کی طرف بڑھی۔۔۔۔!! اور جا کر دروازہ کھولا۔۔۔۔

لیکن سامنے ہی ذیشان شاہ کو پاتے ہوئے اس کے چہرے کے رنگ اڑ گئے۔۔۔۔!! جبکہ آیت کو دیکھتے ہوئے ذیشان کی آنکھوں کو سکون ملا۔۔۔۔

” کیسی ہو آیت ؟؟؟ “

چہرے پر خوشی تھی۔۔۔۔ مسکراہٹ تھی۔۔۔۔ اس نے مسکراتے ہوئے سوال کیا۔۔۔۔!!

لیکن آیت تو جیسے ساکت ہر گئی تھی۔۔۔۔!! اس نے کبھی بھی امید نہیں کی تھی ذیشان اسے یہاں پر ڈھونڈ لے گا۔۔۔۔

” ذی۔۔۔شان۔۔۔۔!!! “

اسے دیکھتے ہوئے آیت کا لہجہ بھی کانپنے لگا۔۔۔۔!! وہ لرزتے ہوئے لہجے میں اس سے مخاطب ہوئی۔۔۔۔!! اس نے بے یقینی سے کہا۔۔۔۔!

” ہاں میں تمھیں کیا لگا کہ تم مجھ سے بچ جاؤ گی میں تمھیں نہیں ڈھونڈ نہیں پاؤ گا ؟ یہ غلط سوچا تم نے آیت۔۔۔!! “

وہ فلیٹ اندر آگیا۔۔۔۔۔! آیت وہی کھڑی اسے دیکھ رہی تھی۔۔۔۔۔ آج ایک ماہ بعد اس نے اس کی آواز سنی۔۔۔۔ جو اس کا کانوں میں رس گھول رہی تھی۔۔۔۔!!!

” آپ یہاں سے جائے۔۔۔۔!! “

کچھ لمحات وہ دونوں ایک دوسرے کو دیکھتے رہے لیکن پھر آیت نے غصے سے اس سے کہا۔۔۔!!

جس پر وہ چپ رہا چہرے پر کوئی تاثر نہیں تھا۔۔۔۔

” تو چلو تمھارے ساتھ ہی جاؤ گا میں۔۔۔۔!! “

ذیشان نے اس کی طرف بڑھتے ہوئے کہا۔۔۔۔

” خبردار جو ایک قدم بھی میری طرف بڑھایا آپ نے میں جان لے لوں گی آپ کی۔۔۔۔!! “

اسے اپنی طرف بڑھتا ہوا دیکھ کر آیت نے شدید غصے سے کہا۔۔۔۔ جس پر ذیشان نے ہاتھ سختی سے بھینج لیے۔۔۔۔

” دیکھو آیت میں تمھیں یہاں کوئی نقصان نہیں پہنچانے آیا ہوں۔۔۔۔!! اور نا ہی تم ہر کوئی زور زبردستی کرنے آیا ہوں۔۔۔

میں تم سے معافی مانگنے آیا ہوں۔۔۔۔ اور اگر جان بھی لے لوں گی نا تو اس وقت بھی میں تم سے کچھ بھی نہیں کہوں گا۔۔۔

کیونکہ میں تمھارا گنہگار ہوں۔۔۔۔“

ذیشان نے اس پر اپنے مقاصد آشنا کیے۔۔۔۔!!! جس پر آیت طنزیہ مسکرائی۔۔۔۔!!! اور دو قدم آگے بڑھی۔۔۔۔!!

” معافی ؟؟ کس چیز کی ؟؟ ذیشان شاہ کس کس چیز کی معافی مانگنے آئے ہیں آپ۔۔۔۔۔!!! “

آیت اس پر ایک لحاظ سے چیخی ہی تھی۔۔۔۔!! ذیشان شرمندگی کے مارے نظریں جھکا گیا۔۔۔۔

” اس ہر گناہ کی جو میں نے کیا ہے۔۔۔۔۔!! خدا کے لیے مجھے معاف کر دو۔۔۔۔!! “

ذیشان نے اس سے معافی مانگی۔۔۔۔۔۔!!! وہ گڑ گڑا کر معافی مانگ رہا تھا۔۔۔۔!!

” کتنے گناہوں کی معافی مانگے گے آپ ؟؟ بتائیں!!!

مجھ سے زبردستی نکاح کرنے کے لیے۔۔۔۔!! یا اس وجہ سے میرے ماں باپ کو تکلیف دینے کے لیے!!

اور وہ تکلیف جس کی وجہ سے میری ماں اس دنیا سے چلی گئی اس کی معافی!! “

یہ باتیں آیت کی آنکھوں کے کنارے نم کر گئی۔۔۔۔۔!!!!

” آپ ہیں۔۔۔۔ آپ ہیں میری ماں کے قا*تل آپ نے کیا ہے میری کا ق*تل۔۔۔۔!! “

وہ غصے سے اس پر چیخی۔۔۔۔۔ آنکھیں نم تھی۔۔۔۔ ذیشان ہنوز سر جھکائے کھڑا تھا اسے خود پر شدید ندامت تھی۔۔۔۔!!!

” آیت اس وقت میں انتقام کی آگ میں جل رہا تھا۔۔۔۔!! مجھے اس وقت صرف اور صرف شاہ نواز سے انتقام لینا تھا۔۔۔۔

اسے نقصان پہنچانا چاہتا تھا اور اس وقت تم سے بہتر ذریعہ مجھے کوئی بھی نہیں لگا۔۔۔۔

مجھے حقیقت سے آگاہ نہیں کیا گیا تھا۔۔۔!! کیا تمھیں لگتا ہے کہ مجھے اگر یہ سب کچھ معلوم ہوتا تو میں ایسا کچھ بھی کرتا ؟؟ “

ذیشان نے اسے اپنی صفائی پیش کی تھی۔۔۔۔ اور اپنی بات کو مکمل کرتے ہوئے اس سے ایک سوال کیا۔۔۔۔

” آپ کچھ بھی کر سکتے ہیں۔۔۔۔۔!! “

آیت نے طنزیہ لہجے میں کہا۔۔۔۔!

” آپ پلیز چلیں جائے یہاں سے ذیشان شاہ۔۔۔۔!!! “

آیت نے ایک طرح سے چیختے ہوئے ہی اسے وہاں سے چلے جانے کا کہا تھا۔۔۔۔۔!!! اور اشارہ دروازے کی طرف کیا۔۔۔۔!!

” میں تمھیں لینے آیا ہوں۔۔۔۔!! میں نہیں رہ سکتا تمھارے بغیر آیت آئی لو یو۔۔۔۔۔!!! تم پلیز میرے ساتھ چلو۔۔۔

اور مجھے معاف کر دو میں مر جاؤ گا!! اگر تم کہوں گی تو تمھارے سامنے ہاتھ بھی جوڑ لوں گا۔۔۔۔ اگر تم کہو گی تو تمھارے پیروں کا بھی چھو لوں گا۔۔۔۔

پلیز مجھے معاف کر دو۔۔۔۔۔“

ذیشان دو قدم آگے ہوتے ہوئے بولا۔۔۔۔ اسے آیت کی آنکھوں میں اپنے لیے محبت صاف دکھائی دی۔۔۔۔!!

جسے مد نظر رکھتے ہوئے اس نے اپنے پیار کا اظہار کیا۔۔۔۔

” آئی ہیٹ یو۔۔۔۔۔!! میں آپ کو کبھی بھی معاف نہیں کرو گی۔۔۔“

آیت کے الفاظ سن کر وہ نیم مسکان چہرے پر لایا۔۔۔۔!! آیت حیران ہوئی۔۔۔۔!!

” تم کہتی کچھ ہو۔۔۔۔۔!! تمھاری آنکھیں کچھ اور بیان کرتی ہیں۔۔۔۔ کم از کم سہی طریقے سے جھوٹ تو بول لو۔۔۔۔۔!!! “

ذیشان نے سی مسکان کو چہرے پر لیے ہوئے کہا۔۔۔۔!! آیت فوراً پیچھے کی طرف مڑ گئی۔۔۔۔۔!! اب ذیشان کی طرف آیت کی پشت تھی۔۔۔۔!!

آیت آنکھ سے ایک آنسو بہا۔۔۔ جسے اس نے فوراً صاف کردیا۔۔۔۔۔! یہ عمل بھی ذیشان کی آنکھوں سے بچ نہیں پایا۔۔۔۔

” میں جھوٹ نہیں بولتی۔۔۔۔!! ابھی آپ نے کیا کہا ؟؟ مجھ سے محبت کرتے ہیں۔۔۔۔۔ تو اس لحاظ سے آپ میری ہر بات مانے گے بھی۔۔۔!! میں جو کہوں گی وہ کریں گے ؟؟ “

آیت نے سوالیہ انداز میں اس سے کہا کہ کیا وہ اس کی ہر بات مانے گا ؟؟؟؟

” تم ایک بار حکم تو کرو۔۔۔۔۔!! “

ذیشان نے کہا۔۔۔

” بات سے پیچھے تو نہیں ہٹے گے ؟؟ “

آیت کو کچھ داؤٹ تھا شائید۔۔۔!

” آزما کر دیکھ لو۔۔۔۔!! “

ذیشان نے مسکرا کر اسے کہا۔۔۔ لیکن وہ نہیں جانتا تھا کہ اس کی یہی بات اسے کتنی بھاری پڑنے والی ہے۔۔۔۔!!

” آپ یہاں سے چلیں جائے۔۔۔۔۔!! “

آیت نے سنگدل بنتے ہوئے کہا۔۔۔۔ ذیشان ہلکا سا مسکرایا۔۔۔۔۔! وہ اپنی بات سے مڑا نہیں۔۔۔ نا ہی اس نے کوئی سوال جواب کیے بس چپ چاپ مڑ گیا۔۔۔!!

آیت کا دل ٹوٹ سا گیا۔۔۔۔۔!!!“

” رکیں!!! “

آیت کی آواز سنتے ہوئے ذیشان کے قدم وہی تھم سے گئے۔۔۔۔!! جب ہی وہ کمرے کی طرف بڑھی۔۔۔۔!

” یہ لیں۔۔۔۔!! ”

وہ کچھ لمحوں بعد کمرے سے نکلی تو ہاتھوں میں کچھ پیپرز تھے۔۔۔۔!! ان پیپرز کو اس نے ذیشان کے ہاتھوں میں تھمایا۔۔۔۔!! ذیشان نے ان پیپرز کو حیرانگی سے دیکھا!!!

” یہ کیا ہے ؟؟ “

سوال پوچھا گیا۔۔۔۔

” یہ طلاق کے کاغذات ہیں۔۔۔۔!! آپ ان پر سائن کردیں مجھے آپ کے ساتھ نہیں رہنا۔۔۔۔! “

آیت کا جواب سنتے ہوئے وہ غصے سے اسے دیکھنے لگا۔۔۔۔۔۔۔

” تو تم مجھ سے علیحدگی چاہتی ہو ؟؟ “

چہرے پر سنجیدگی لائے ہوئے آیت سے سوال کیا گیا۔۔۔۔۔!!

” جی۔۔۔۔!! “

اس کا مثبت جواب اسے مزید طیش دلا گیا۔۔۔۔۔ ذیشان با مشکل ہی غصے ہر قابو رکھ پا رہا تھا۔۔۔۔۔!!! اس نے سختی سے اپنے لب بھینج لیے۔۔۔۔۔

کچھ لمحات تک وہاں پر خاموشی چھا گئی تھی۔۔۔۔!! جب ہی ذیشان نے اپنی جیب سے ایک لائٹر نکالا اور ان پیپرز کو سائیڈ سے جلا دیا۔۔۔۔!!

” ذیشان!! “

آیت نے اسے روکنا چاہا لیکن اب بہت دیر ہو چکی تھی۔۔۔۔!!! وہ پیپرز آدھے سے زیادہ جل چکے تھے۔۔۔۔!!

” ہماری علیحدگی میرے مرنے کے بعد بھی نہیں ہوگی۔۔۔۔۔۔!!! میرے مرنے کے بعد بھی تم صرف میری ہی رہو گی۔۔۔۔ اور میں ہمیشہ تمھارا۔۔۔۔

یہ ذہن خیال سے نکال دو میں تمھاری ایسی کوئی بھی فضول بات کبھی بھی مانو گا!!!

اور تمھاری آنکھوں میں میرے لیے محبت صاف دکھائی دیتی ہے۔۔۔۔! تم مانو یا نا مانو تم مجھ سے محبت کرتی ہو۔۔۔۔!!

اور اس بات کا احساس تمھیں ایک نا ایک دن ضرور ہوگا۔۔۔۔

میں تم سے ہمیشہ معافی کا طلب گار رہوں گا۔۔۔۔!! اور مجھے امید ہے کہ تم مجھے معاف ضرور کرو گی۔۔۔۔!! “

وہ اسے آہستگی سے کہتا ہوا وہاں سے نکل گیا۔۔۔۔۔! اس کے جاتے ہی آیت ایک گہرے سوچ میں پڑ گئی۔۔۔!!

وہ بہت بدل گیا تھا۔۔۔۔ اس کی آنکھوں میں آیت کو درد صاف دکھائی دیا۔۔۔۔ وہ جانا چاہتی تھی اس کے ساتھ لیکن اسے کبھی معاف نہیں کر سکتی تھی!!

کچھ لمحات بعد وہ اٹھتی کمرے کی طرف بڑھ گئی۔۔۔۔

عشاء کی حالت پہلے سے بہتر تھی۔۔۔۔۔!! وہ ٹھنڈی ہوا کے لیے گاڑدن میں آئی۔۔۔۔!! جہاں پر ماحد کو کھڑا پایا۔۔۔۔ وہ اس کی طرف بڑھی۔۔۔۔!! وہ نہیں جانتی تھی کہ جیا بھی وہی سے گزر رہی تھی۔۔۔

لیکن انھیں دیکھ کر وہ وہی رک گئی اور ان کی باتیں سننے لگی۔۔۔۔!! کیونکہ وہ اپنی اگلی چال چل چکی تھی۔۔۔۔

” آپ کا شکریہ میری جان بچانے کے لیے۔۔۔۔۔۔!! ”

عشاء نے مسکراتے ہوئے ماحد کے کندھے پر ہاتھ رکھتے ہوئے اسے اپنی طرف متوجہ کیا۔۔۔۔

ماحد اس کی طرف مڑا آنکھیں سرخ تھی۔۔۔۔

” تمھارا بھی بہت شکریہ مجھے دھوکا دینے کے لیے۔۔۔۔۔!!! “

کڑے تیور لیے ہوئے ماحد نے کہا۔۔۔۔ اس کے لہجے میں طنز بھی تھا۔۔۔۔!!! یہ بات جیا کے چہرے پر مسکراہٹ لائی۔۔۔ لیکن عشاء کے ماتھے پر بل پڑے۔۔۔۔!

” واٹ ؟؟ “

وہ مزید حیران ہوئی کہ وہ کیا کہہ رہا تھا ؟؟

” ہاں اگر تم اپنے یونی کے لڑکے عباس کو ہی پسند کرتی تھی تو پھر مجھ سے نکاح کیوں ؟؟ مجھ سے یہ کیوں کہا کہ تم مجھ سے محبت کرتی ہوں!! “

ماحد نے غصے سے کہا۔۔۔۔ جبکہ انھیں لڑتا ہوا دیکھ کر جیا مسکراتے ہوئے وہاں سے چلی گئی کہ کہیں کوئی وہاں آ نا جائے اور اسے دیکھ بھی نا لے!!!!!

” نہیں نہیں ایسا کچھ بھی نہیں ہے میری بات!!! “

” اوو پلیز عشاء بس کر دو۔۔۔۔!! “

اس کی بات درمیان میں ہی کاٹتا ہوا غصے سے کہتا ہوا ماحد وہاں سے چلا گیا۔۔۔۔!!

یہ بات وہ سوچ بھی کیسے سکتا تھا کہ عشاء اسے دھوکا دے گی ؟؟  

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *