Black Heart Love By Abdul Ahad Butt NovelR504882 Black Heart Love (Episode - 23)
No Download Link
Rate this Novel
Black Heart Love (Episode - 23)
Black Heart Love By Abdul Ahad Butt
یارش شاہ کی وہ محبت۔۔۔۔۔! وہ احساس۔۔۔۔! وہ اپنائیت۔۔۔۔۔! وہ فکر مندی۔۔۔۔! سب جھوٹ۔۔۔۔ صرف اور صرف جھوٹ بس ایک دھوکا تھا۔۔۔۔۔
یمن کی آنکھ سے ایک آنسو آنکھ سے الگ ہوتے ہوئے اس کے گال پر آیا۔۔۔!! وہ اس حقیقت کو کیسے مانتی کہ اس کی دوست اور اس کے شوہر کے درمیان محبت کا رشتہ تھا۔۔۔۔۔؟؟؟
یمن کی زندگی میں بہت بڑا موڑ آیا تھا۔۔۔۔ اسے بہت بڑا دھوکا ملا تھا۔۔۔۔۔ اسے یارش کی طرف سے جو اس کے لیے نا قابلِ قبول تھا۔۔۔۔“
یارش اس کی طرف بڑھا تھا۔۔۔۔۔ جب ہی وہ اندر کی طرف بھاگ گئی۔۔…!!! یارش نے ایک سرد نگاہ امبر پر ڈالی۔۔۔۔
” یارش شاہ۔۔۔۔!! یہ بہت ہی زیادہ اچھا ہوا ہے۔۔۔۔ جو یمن کے سامنے تمھاری حقیقت کھل گئی ہے۔۔۔۔ اب وہ تمھارے ہاتھوں کٹ پتلی نہیں بنے گی۔۔۔۔۔!!”
امبر نے مسکراتے ہوئے یارش کو کہا۔۔۔۔۔ جبکہ وہ ایک سرد نگاہ اس پر ڈالتا اندر کی طرف بڑھ گیا۔۔۔۔۔!! وہ بنا بنایا کھیل برباد نہیں کرسکتا تھا۔۔۔۔!!
اندر پہنچا تو صرف اور صرف اس کی دادی بیٹھی ہوئی تھی۔۔۔۔۔!! یمن اس کے گھر والے کوئی بھی وہاں موجود نہیں تھا۔۔۔۔۔“
” دادی۔۔۔۔۔!! یمن اور اس نے گھر والے کہاں ہیں۔۔۔۔۔؟”
یارش نے ان کے پاس آتے ہوئے ان سے سوال کیا۔۔۔۔۔!! جس پر وہ ہلکی سی مسکراہٹ چہرے پر لائی۔۔۔۔۔!!
” بیٹا۔۔۔۔! وہ تو چلے گئے ہیں۔۔۔۔ یمن نے تمھیں بتایا نہیں کیا۔۔۔۔۔؟ میں نے اسے تمھارے پاس بھیجا بھی تھا کہ وہ تمھیں خدا خافظ کہہ دے۔۔۔۔!! وہ نہیں آئی کیا۔۔۔۔؟ “
دادی نے اس کی بات کا جواب دیتے ہوئے اسے بتایا کہ انھوں نے یمن کو اس کے پاس بھیجا تھا اور وہ آئی بھی۔۔۔۔
” نہیں۔۔۔۔۔! شائید میں کال میں بیزی تھا۔۔۔۔۔ اسی وجہ سے اس نے ڈسٹرب نہیں کیا ہوگا۔۔۔۔۔!!”
یارش نے صاف صاف اپنی دادی سے جھوٹ بول دیا تھا۔۔۔۔۔!
” اچھا ٹھیک ہے۔۔۔۔۔!! تم بھی جا کر اب آرام کر لو۔۔۔۔۔۔!!”
دادی نے اسے آرام کرنے کی تلقین کی تھی۔۔۔۔۔۔!! لیکن وہ کیا جانتی تھی۔۔۔۔ کہ یمن گئی تھی اس کے پاس اور اس نے یارش شاہ کی حقیقت کو جان لیا تھا۔۔۔۔۔!!
یارش کمرے میں پہنچا تھا اس کا دل کر رہا تھا کہ کمرے کا خشر بگاڑ دے۔۔۔۔۔!! اس کا سارا پلین سارا کام سب پر پانی پھر گیا تھا۔۔۔۔۔۔“
وہ امبر سے اس کی بے وفائی کا یمن کے ذریعے بدلہ لینا چاہتا تھا۔۔۔۔۔ لیکن اس کے یہ ضروری تھا یمن کو اس پر یقین ہو۔۔۔۔!!!
لیکن یہاں۔۔۔۔۔۔!! یہاں سارا پاسا پلٹ چکا تھا۔۔۔۔۔! یمن کو ساری حقیقت معلوم ہو چکی تھی۔۔۔۔۔ اب اس کا بدلہ پورا کیسے ہونا تھا۔۔۔۔۔؟
وہ جیسے ہی گھر پہنچے تو یمن سیدھا اپنے کمرے میں آگئی تھی۔۔۔۔۔!! چینج وہ پہلے ہی کر چکی تھی۔۔۔۔۔!
اسے اپنے ہی کانوں سے سنی ہوئی باتوں پر اعتبار نہیں آرہا تھا۔۔۔۔۔۔!! یارش کی وہ باتیں اسے اندر ہی اندر سے کھائے جا رہی تھی۔۔۔۔۔!
(” اگر میں تمھیں کہتا کہ مجھ سے شادی کرو تو تم نہیں کرتی کیونکہ تم تو مجھے جانتی ہو کہ مجھے اب تم سے وہ پیار کہاں رہا جو تین سال پہلے تھا۔۔۔۔۔!!
اسی وجہ سے میں نے یمن کو مہرہ بناتے ہوئے اس سے شادی کی اور اسے مسسز یارش شاہ بنایا۔۔۔۔۔!!”)
یہ الفاظ کو یارش کے منھ سے ادا ہوئے تھے۔۔۔۔ جس کے متعلق یمن شاہ کبھی سوچ بھی نہیں سکتی کہ وہ اسے اتنا بڑا دھوکا دے گا۔۔۔۔۔۔!!
امبر کا اسے یارش سے شادی منع کرنا اسی وجہ سے تھا کہ وہ اس کے ارادے جانتی تھی۔۔۔۔۔۔! اسی وجہ سے وہ اس شادی سے نا خوش تھی۔۔۔۔۔!!
یارش کا اسے پہلے دن سے لے کر اب تک ملنا سب ایک پلین کے ذریعے کیا جا رہا تھا۔۔۔۔۔!! جو وہ کبھی سوچ بھی نہیں سکی تھی۔۔۔۔۔۔!”
وہ شیشے کے سامنے کھڑی تھی۔۔۔۔۔ فون بار بار رنگ ہو رہا تھا۔۔۔۔ کبھی اسے یارش فون کر رہا تھا تو کبھی اسے امبر فون کر رہی تھی۔۔۔۔
اس نے امبر کا فون اٹھایا۔۔۔۔۔!!
” ہاں بولو امبر۔۔۔۔۔۔!! اب کیا ہے۔۔۔۔۔؟ کیوں فون کر رہی ہو تم مجھے۔۔۔۔۔؟ “
وہ غصے سے بولی تھی۔۔۔۔۔!! جس پر امبر کو اپنی غلطی پر مزید شرمندگی ہوئی۔۔۔۔۔!!
” یمن پلیز ایک مرتبہ میری بات سن لو۔۔۔۔۔! “
امبر التجائیہ بولی تھی۔۔۔۔۔!!
” امبر میں کوئی بھی صفائی نہیں سننا چاہتی بس تم مجھے میری ایک بات کا جواب دو گی۔۔۔۔۔ یہ جو کچھ بھی اس شخص نے کہا تھا۔ کیو وہ سچ تھا۔۔۔۔۔؟”
یمن نے اس سے کہا وہ صرف اس کے اس بات کا جواب دے گی کہ جو کچھ بھی یارش شاہ نے اس سے کہا تھا کہا وہ حقیقت تھی۔۔۔۔۔؟؟
” ہاں یمن وہ جو کچھ بھی یارش نے کہا وہ سب کچھ حقیقت ہے۔۔۔۔۔! لیکن میری غلطی یہ ہے کہ میں نے تمھیں پہلے ہی حقیقت سے آگاہ نہیں کیا۔۔۔۔
جو مجھے کردیا چاہیے تھا۔۔۔۔۔!!”
امبر نے اسے بتایا کہ جو کچھ بھی یارش نے کہا وہ سب کچھ حقیقت ہے۔۔۔۔ لیکن اس کی غلطی یہ بھی ہے کہ اس نے یمن کو حقیقت سے آگاہ نہیں کیا تھا۔۔۔۔؟
” امبر اب کچھ نہیں ہو سکتا ہے۔۔۔۔۔!!”
یہ کہتے ہوئے وہ فون بند کر گئی تھی۔۔۔۔ جبکہ یارش کا نمبر ابھی بھی موبائل سکرین پر شو ہو رہا تھا۔۔۔۔ جسے اس نے بلوک لسٹ میں ڈال دیا۔۔۔۔!!
اس کی آنکھوں سے آنسو نہیں بہے تھے۔۔۔۔ کیونکہ وہ ایک سیراب کے پیچھے آنسو نہیں بہانا چاہتی تھی۔۔۔۔۔!!
” مجھے کچھ نا کچھ کرنا ہوگا۔۔۔۔! میں یوں ہاتھ پر ہاتھ دھر کر اگر بیٹھ گئی۔۔۔۔ تو ذیشان سمجھ جائے گا کہ میں ہار مان چکی ہوں۔۔۔۔۔!! میں ایسا بالکل بھی نہیں ہونے دے سکتی ہوں۔۔۔۔۔!!
وہ شخص نا جانے کیا کیا خیالات لیے بیٹھا ہے اپنے ذہن میں وہ میرے مما بابا کو بھی نقصان پہنچا سکتا ہے۔۔۔۔۔
مجھے جلد از جلد اپنے مما بابا کے پاس جانا ہوگا۔۔۔۔۔!! لیکن کیسے جاؤ۔۔۔۔؟ سامنے سے بھی دروازہ بند ہے۔۔۔۔۔میں۔۔۔!”
وہ خود سے ہی باتیں کیے جارہی تھی جب ہی اس کی نظر سامنے کھڑکی پر پڑی۔۔۔۔ وہ اس وقت گراؤنڈ فلور پر تھی۔۔۔۔
وہ کھڑکی کے ذریعے پہلے بھی ذیشان سے بچ کر بھاگ چکی ہے۔۔۔۔۔ اس کے ذہن میں سب سے پہلا خیال یہی سے بھاگنے کا آیا تھا۔۔۔۔۔۔ اور اس کا ارادہ بھی یہی تھا۔۔۔۔۔!!
اس نے ایک کاغذ اور ایک پن پکڑا اور کاغذ پر کچھ لکھنے لگی۔۔۔۔۔۔!!”
جیا اس وقت کمرے میں پاغل ہونے کو تھی۔۔۔۔۔۔!! وہ سب کچھ کر چکی تھی۔۔۔۔ ماحد کو عشاء کی دوسرے لڑکوں کے ساتھ جھوٹی تصویریں بھی دکھا چکی تھی۔۔۔۔
لیکن وہ کچھ بھی کر نہیں پا رہی تھی۔۔۔۔۔ ماحد نے اس کا رتی برابر بھی یقین نہیں کیا اور اس کی انسلٹ کی۔۔۔۔۔ جیا کے ذہن میں بس اب ایک ہی خیال بچتا تھا۔۔۔۔
ان دونوں میں جدائیاں پیدا کرنے کا۔۔۔۔۔!! اور وہ تھی عشاء کا کڈنیپ ہونا۔۔۔۔ اور اس کا سارا کا سارا الزام ماحد پر آ جانا۔۔۔۔۔“
” ہیلو۔۔۔۔۔!! میں نے جو کام تم لوگوں سے کہا ہے نا۔۔۔۔۔ اس پر جلد از جلد عمل کرو۔۔۔۔۔ اور مجھے جتنی جلدی ہو سکے فون کرو۔۔۔۔ سمجھے۔۔۔۔۔۔!!”
جیا نے کسی کو فون ملاتے ہوئے کہا تھا۔۔۔۔۔!!
کاغز ہر ایک نوٹ لکھتے ہوئے اسے ٹیبل پر رکھتے ہوئے اس نے اپنا دوپٹہ اٹھایا اور کھڑکی سے باہر کی طرف نکلتے ہوئے گیٹ کی طرف بھاگی۔۔۔۔۔
اس وقت رات کے تقریباً گیارہ بج رہے تھے۔۔۔۔۔! آیت گیٹ کے پاس پہنچی تو راستے صاف تھا۔۔۔۔۔ کیونکہ گارڈ گہری نیند میں سویا ہوا تھا۔۔۔۔
وہ آہستگی سے بنا آواز کیے ہوئے گھر سے نکل گئی۔۔۔۔۔ اور گارڈ یا کسی بھی گھر والے کو کچھ بھی معلوم نہیں ہوا تھا۔۔۔۔۔
وہ بھاگتے بھاگتے کسی اور کی راستے پر پہنچ گئی تھی۔۔۔۔۔۔ جہاں صرف اور صرف اندھیرا تھا۔۔۔۔
اس کے سوا کچھ بھی نہیں تھا۔۔۔۔۔۔ آیت چلتی جا رہی تھی اور اپنے قدم آگے کی طرف بڑھا رہی تھی۔۔۔۔۔ وہ ایک لمحے کے لیے پیچھے مڑی کہ کہیں کوئی اس کا پیچھا تو نہیں کر رہا۔۔۔۔؟؟
اسی وقت اچانک سامنے سے ایک تیز رفتار گاڑی آئی۔۔۔۔۔ جس کی لائٹس آن تھی۔۔۔۔ لائٹس اس کی آنکھوں میں پڑی آیت نے آنکھیں فوراً سے بند کر لی۔۔۔۔۔!!
اور ایک بلند چیخ وقوع پذیر ہوئی۔۔۔۔۔!!
ذیشان شاہ اس وقت گھر پہنچا تھا۔۔۔۔۔ اس کا غصہ کافی حد تک ٹھنڈا ہو چکا تھا۔۔۔۔۔!! اسے اپنے اوپر شدید غصہ آرہا تھا۔۔۔۔!!
آیت نے یہی تو کہا تھا کہ اسے اپنے مما بابا کے پاس جانا ہے اس میں برائی ہی کیا تھی۔۔۔۔۔؟ اگر وہ اپنے باپ کے پاس جا ا چاہتی تھی۔۔۔۔
اس نے تو اس یہ بات تک چھپا رکھی ہے کہ اس کی ماں کو گزرے ہوئے دو ماہ ہو چکے ہیں۔۔۔۔ اور آیت اس بات سے اب تک لاعلم ہے۔۔۔۔۔!!
وہ کمرے میں پہنچا تو کمرے کو خالی پایا۔۔۔۔ اس کا دل زور سے دھڑکا۔۔۔۔ پہلے اسے لگا کہ آیت واش روم میں ہے۔۔۔۔
اس نے چیک کیا لیکن وہ وہاں بھی نہیں تھی۔۔۔۔۔ اچانک ہی ذیشان کی نظر سامنے ٹیبل پر پڑی اور وہاں پر موجود کاغذ اور پنسل پر بھی گئی۔۔۔۔!!
وہ اس کی طرف بڑھا اور اس کا کاغذ کا اٹھایا اور پڑھنا شروع کیا۔۔۔۔۔!!
” اسلام علیکم!
ذیشان آج میں آپ کو چھوڑ کر اس گھر کو چھوڑ کر جا رہی ہوں۔۔۔۔ اپنے بابا شاہ نواز اور اپنی مما نجمہ شاہ کے پاس۔۔۔۔ کیونکہ میں مزید آپ کے ساتھ نہیں رہ سکتی ہوں۔۔۔۔
آپ میرے والدین کو غلط سمجھتے ہیں۔۔۔۔ اور میں اس شخص کے ساتھ نہیں سکتی ہوں۔۔۔ جو میرے والدین کو نقصان پہنچانے کے ارادے رکھتا ہوں۔۔۔۔ آپ نے مجھ سے زبردستی نکاح کیا تھا جس کا انجام یہی تھا۔۔۔۔
ہمارا ساتھ یہی تک تھا۔۔۔۔
اس لیے میں آج جا رہی ہوں۔۔۔۔۔ اس کمرے سے اس گھر سے آپ کی زندگی سے ہمیشہ کے لیے۔۔۔۔ ہو سکے تو آپ میرے پیچھے مت آئیے گا اور نا ہی مجھے تلاش کیجئے گا۔۔۔۔
یہی سمجھیے گا کہ آیت شاہ آپ کی زندگی کا ایک برا خواب تھی۔۔۔۔ اور اب آپ خواب سے بیدار ہو گئے ہیں۔۔۔۔۔!!
شکریہ
آیت شاہ “
آیت کا یہ مسیج پڑھتے ہوئے وہ مکمل پر سرخ پر چکا وہ غصے اس کاغذ کو لپیٹتا مٹھیاں بھینج گیا۔۔۔۔ اور اس کاغذ کو وہی پھینکتا ہوا باہر کی طرف بڑھا۔۔۔۔۔
” مس آیت ذیشان شاہ۔۔۔۔۔!! ہمارا ساتھ یہی تک نہیں تھا۔۔۔۔۔ تم نے یہ اچھا نہیں کیا۔۔۔۔ مجھ سے تم بچ نہیں سکتی ہو۔۔۔۔۔!
تم ذیشان شاہ کی ہو صرف۔۔۔۔۔۔!! صرف میری۔۔۔۔۔ یہ ساتھ میرے یا تمھارے مرنے کے بعد بھی ختم نہیں ہوگا۔۔۔۔۔”
وہ غصے میں خود سے ہی کہتا ہوا۔۔۔۔ گاڑی نکالتے ہوئے اسے ڈھونڈنے نکل پڑا تھا۔۔۔۔۔
