Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Black Heart Love (Episode - 47) Last Episode

Black Heart Love By Abdul Ahad Butt

 
گھر پہنچ کر سب لوگ کافی دیر تک ایک دوسرے کے ساتھ بیٹھے رہے۔۔۔۔۔ اور وہ چاروں کافی دیر تک ایک دوسرے سے باتیں کرتے رہے۔۔۔۔ ڈنر کرنے کے بعد وہ لوگ اپنے رومز میں گئے۔۔۔۔”

ذیشان کمرے میں آیا تو آیت پریشان بیٹھی ہوئی نظر آئی۔۔۔۔ ذیشان اس کی طرف بڑھا۔۔۔۔

” کیا ہوا کیوں پریشاں ہو ؟ اب سب ٹھیک ہو گیا ہے۔۔۔۔!! “

ذیشان نے پریشانی سے سوال کیا۔۔۔۔

” آپ کو چوٹیں لگی ہیں۔۔۔۔۔!! اور آپ لاپرواہ بنے گھوم رہے ہیں۔۔۔۔”

آیت نے پریشانی سے کہا۔۔۔

” میری جان میں ٹھیک۔۔۔۔۔!! “

” چپ کر کے بیٹھیں آپ۔۔۔۔!! آپ جو ٹھیک ہیں۔۔۔۔ میں فرسٹ ایڈ باکس لا رہی ہوں۔۔۔۔!!! یہاں بیٹھے رہیں چپ کر کے۔۔۔۔!! “

وہ کچھ کہنے ہی لگا کہ آیت نے اس کی بات درمیان میں ہی کاٹ دی تھی۔۔۔۔۔!! اور فرسٹ ایڈ باکس لینے کے لیے چلی گئی۔۔۔۔!!!

فرسٹ ایڈ باکس لاتے ہوئے آیت نے اس کے سر پر لگی ہوئی چوٹ کو صاف کرنا شروع کیا۔۔۔۔

” آہ۔۔۔۔۔!! “

زخم بہت گہرا تھا جس وجہ سے ذیشان کو درد ہوئی۔۔۔۔۔!!!! آیت نے زخم صاف کرتے ہوئے پھونک ماری تو ذیشان مسکرایا۔۔۔۔۔ اسے جیسے سکون ملتا ہوا محسوس ہوا۔۔۔۔

” یہاں پر بھی چوٹ لگی ہے آپ کو ؟ “

اس کی گردن پر پڑے ہوئے نشان کی طرف اشارہ کرتے ہوئے آیت کہا تو ذیشان نے سر ہاں میں ہلایا۔۔۔۔

جب ہی آیت اس کے اس زخم پر بھی مرہم لگائی۔۔۔۔!!!

” آیت یار کیا کر رہی ہو میں ٹھ۔۔۔۔!! “

وہ بول ہی رہا تھا جب ہی وہ اس کے شرٹ کے بٹن کھولنے لگی۔۔۔۔۔ تو ذیشان کے بقیہ الفاظ اس کے منھ میں ہی رہ گئے تھے۔۔۔۔

” ہاں یہ اچھا طریقہ ہے چپ کروانے کا۔۔۔۔۔!! “

ذیشان نے شوخ لہجے میں کہا تو ذیشان نے اسے گھور کر دیکھا۔۔۔۔۔!!!

” چپ کریں۔۔۔۔۔!! چوٹ لگی ہے آپ کو۔۔۔۔”

آیت نے سخت لہجے میں کہا تو ذیشان مسکرایا اور اگلے ہی لمحے اپنی شرٹ اپنے بدن سے الگ کرتے ہوئے بیڈ پر رکھی۔۔۔۔

” یہ لو آرام سے مرہم لگا دو۔۔۔۔!!! “

اس کا کسرتی جسم دیکھتے ہوئے آیت کا چہرہ سرخ پڑ گیا تھا۔۔۔۔۔!!! جب ہی ذیشان نے شوخ لہجے میں کہا تو آیت نے گھور کر اسے دیکھا۔۔۔۔

اسے اس کی فکر تھی جب ہی وہ ہر بات کو مکمل طور پر اگنور کرتی ہوئی اس کے زخم پر مرہم لگانے لگی۔۔۔۔!!!!

ذیشان لب دباتے ہوئے مسکراہٹ دبائی اور آہستگی سے اس کی کمر کے گرد بازو حائل کرتے ہوئے اسے بیڈ پر گراتا خود پر جھکا۔۔۔

” What is this?? “

آیت کے چہرے پر مسکراہٹ چھا گئی تھی۔۔۔۔۔!!! اس نے جھوٹے حیرانگی کے تاثرات چہرے پر لاتے ہوئے کہا تو ذیشان مسکرایا۔۔۔۔

” میرا مرہم تو یہی ہے۔۔۔ تمھارا لمس۔۔۔۔”

اس کے بے باک الفاظ پر آیت کا چہرہ سرخ پڑ گیا تھا۔۔۔۔ وہ با مشکل ہی اسے پیچھے کرتے ہوئے بیڈ سے اٹھی۔۔۔۔

جیسے ہی وہ بیڈ سے اٹھی تو ذیشان نے اٹھتے ہوئے اس کا ہاتھ تھاما۔۔۔۔ آیت کا دل زور و شور سے دھڑک اٹھا۔۔۔۔

جب ہی وہ اس کے پیچھے کھڑا ہوتا اس کی پشت اپنے کسرتی جسم کے ساتھ لگا گیا۔۔۔۔ اس کے بالوں کو پیچھے کرتے ہوئے ذیشان نے اس کے گردن پر اپنے دہکتے لب رکھ گیا۔۔۔۔

کچھ لمحات بعد ذیشان نے اس کا رخ اپنی طرف کیا۔۔۔۔۔!! اور اسے اپنے مزید قریب کیا۔۔۔۔۔!!

” پیچھے ہٹیں۔۔۔۔ آپ کے لیے ہلدی والا دودھ بنا کر لاتی ہوں۔۔۔۔”

ذیشان اس کے لبوں پر جھکنے ہی لگا کہ اس نے شرم سے اسے پیچھے کرتے ہوئے کہا اور کمرے سے باہر کی طرف بھاگی۔۔۔۔

اس کی شرماہٹ پر ذیشان کے چہرے پر گہری مسکراہٹ رونما ہوئی۔۔۔۔ آیت کے کمرے سے جاتے ہی اس نے شرٹ پہنی ہوئی اور وہی بیڈ پر بیٹھ گیا۔۔۔۔۔!!!

آیت کی شرماہٹ کو ایک مرتبہ ھر سے سوچتا ہوا وہ مسکرا گیا۔۔۔۔”

رات کا نا جانے کونسا پہر تھا۔۔۔۔ عشاء کی دل کی دھڑکنیں تیز سے تیز تر ہوتی جا رہی تھی۔۔۔۔۔ وہ شائید پچھلے دس منٹ سے بیٹھی ہوئی اس کا انتظار کر رہی تھی۔۔۔۔۔!!!

جب ہی ماحد چہرے پر مسکراہٹ لیے ہوئے کمرے میں داخل ہوا۔۔۔۔ اور جوں ہی نظر عشاء پر پڑی تو اس کے ساتھ گزرے ہوئے لمحات خود بخود کسی فلم کی طرح اس کی آنکھوں کے سامنے چلنے لگے۔۔۔۔

وہ مصنوعی مسکراہٹ لیے ہوئے دروازہ لاک کرتا ہوا قدم بیڈ کی طرف بڑھا گیا جہاں پر عشاء نظریں جھکائے ہوئے بیٹھی تھی۔۔۔۔

اس کے قریب جا کر بیٹھتا ہوا اپنی جسم سے نکلنے والی خوشبو سے اسے معطل کرنے لگا۔۔۔۔۔ عشاء نے نظر اٹھا کر اسے دیکھا تو وہ اسے ہی تاک رہا تھا۔۔۔۔ وہ فوراً نظریں جھکا گئی۔۔۔

اس کا یہ عمل ماحد کے لبوں پر مسکراہٹ مزید گہری کر گیا تھا۔۔۔۔

” آج وہ دن آ ہی گیا جس کا مجھے شدت سے انتظار تھا۔۔۔۔ آج تم ہمیشہ کے لیے میری ہو گئی ہو۔۔۔۔!!!!

اب ہمیں کوئی بھی الگ نہیں کر سکتا۔۔۔۔۔!! “

اس نے مسکرا کر اپنی خوشی کا اظہار کرتے ہوئے کہا تو عشاء بھی مسکرا گئی۔۔۔۔ جب ہی ماحد نے سائیڈ ٹیبل پر رکھے ہوئے سونے کے سیٹ کو اٹھایا اور عشاء کے ہاتھوں میں رکھا۔۔۔۔

” یہ آپ کی منھ دکھائی کا گفٹ ہے۔۔۔۔۔!!!! “

اس نے عشاء سے کہا تو وہ مسکرائی۔۔۔۔

” تھینک یو۔۔۔۔”

” تھینک یو سے تو کام نہیں چلے گا نا!! میرا من صرف تھینک یو کہنے سے تھوڑی بھر جائے۔۔۔۔۔!! “

اس نے ذو معنی لہجے میں مسکراہٹ دبائے کہا تو عشاء کی سانس پھول گئی۔۔۔۔ جسے دیکھ ماحد نے مزید مسکراہٹ دبائی۔۔۔

اور اگلے ہی لمحے آگے بڑھتا ہوا اس پر جھکتا اس کے لبوں کو اپنے لبوں کی قید میں لے گیا۔۔۔۔۔ کافی دیر تک خود کو سیراب کرنے کے بعد وہ اس کے لبوں کو آزادی بخشتا پیچھے ہوا۔۔۔۔

” مجھے نہیں لگتا کہ یہ میرے لیے کافی ہو گا۔۔۔۔”

ماحد نے مسکرا کر کہا اور اس کی گردن پر جھکتا اپنے پیار کے نشانات چھوڑنے لگا۔۔۔۔۔ عشاء نے آنکھیں بند کرتے ہوئے اپنے آپ کو اسے سونپ دیا۔۔۔۔ ماحد اس پر اپنی شدتیں نچھاور کرنے لگا۔۔۔۔۔”

دکھ ختم ہو گئے تھے۔۔۔۔ اب پیار کا موسم شروع کو گیا تھا۔۔۔۔!!!!!

( کچھ مہینے بعد )

” کتنی پیاری ہے نا یہ!!! بالکل تم ہر گئی ہے۔۔۔۔”

ذیشان اپنی اس ننھی پری جو اس دنیا میں چھ گھنٹے پہلے ہی آئی تھی کو دیکھتے ہوئے بولا۔۔۔ تو آیت جو بیڈ پر بیٹھنے والی پوزیشن میں لیٹی ہوئی تھی اسے دیکھ کر مسکرائی۔۔۔۔

” اس کی آنکھیں بالکل آپ پر گئی ہیں۔۔۔۔۔!!!! “

آیت نے مسکرا کر کہا تو ذیشان نے سر ہاں میں ہلایا۔۔۔۔”

” تمھیں معلوم ہے آیت میری ہمیشہ سے خوائش تھی کہ میری ایک بہن ہوتی۔۔۔۔ لیکن یہ ممکن نہیں تھا۔۔۔۔۔

پھر میں نے اپنے رب سے یہ دعا ما نگی تھی کہ یا اللہ اگر تو نے میری زندگی میں بہن کی خوشی نہیں لکھی تو یا اللہ مجھے بیٹی عطا فرمانا اور اللہ نے میری بات سن لی۔۔۔۔!!! “

ذیشان نے مسکرا کر اسے ساری باتیں بتائی۔۔۔۔ جسے سن آیت بھی مسکرا گئی۔۔۔

” اس کا نام کیا ہو گا ؟ “

ذیشان نے سوال کیا۔۔۔

” اس کا نام ہو گا ” انابیہ “۔۔۔۔ “

آیت نے مسکرا کر کہا تو ذیشان بھی مسکرایا۔۔۔۔

” ماشاءاللہ بہت پیارا نام ہے۔۔۔۔”

انابیہ نے آ کر ان دونوں کی زندگی کو مزید خوشگوار اور خوبصورت اور مکمل کر دیا تھا۔۔۔!!!

یارش کمرے میں آہستگی سے داخل ہوا۔۔۔۔ تو دیکھا کہ اس کا شیر سو رہا ہے۔۔۔۔ جو شائید ماں کا کافی دیر ستانے کے بعد سویا تھا۔۔۔۔!!!

” سادان شاہ ” یارش شاہ کے بیٹے کا نام تھا۔۔۔۔۔ جو تقریباً ڈیڑھ ماہ کا ہونے والا تھا۔۔۔۔ یمن سادان کے بالکل پاس کھڑی تھی۔۔۔۔

جب ہی یارش نے پیچھے سے آتے ہوئے اسے اپنے حصار میں لیا۔۔۔۔!!! یمن اس کے اچانک آنے سے ڈر سی گئی۔۔۔۔ وہ اپنے بیٹے میں اتنی مگن تھی کہ یارش نے آنے کا اسے کوئی علم ہی نہیں ہوا۔۔۔۔۔!!!

” ارے بیگم کیا کر رہی ہو بیگم ایک تو با مشکل وہ سوتا ہے۔۔۔۔۔ اور آج اگر ہمیں مدتوں بعد ساتھ وقت گزارنے کا موقع مل گیا کے تو تم خود اسے اٹھانے پر تلی ہوئی ہو!!! “

یارش نے آہستگی سے آگے بڑھتے ہوئے یمن کے کان میں سر گوشی کی۔۔۔۔۔!! تو وہ مسکرائی۔۔۔۔”

” یارش دور ہٹیں۔۔۔۔۔ اس سے پہلے کہ سادان اٹھ جائے۔۔۔۔!!!! “

یمن نے اس کی بے باک حرکتوں کو بڑھتا ہوا دیکھ کر اسے پیچھے کرنی کی کوشش کی اور بیڈ کی جانب بڑھی تو وہ اس کی طرف لپکا۔۔۔۔

” جان اتنی مشکلوں سے تو وہ سویا ہے۔۔۔۔۔ کباب میں ہڈی ہے وہ۔۔۔۔جب بھی میں تمھارے پاس آنے کی کوشش کرتا ہوں تو یہ اٹھ جاتا ہے یا رونے لگ جاتا ہے۔۔۔۔ آج موقع ہے ہمارے پاس۔۔۔۔”

یارش نے آہستگی سے اس کے کان میں سرگوشی کی اور اسے اپنے مزید قریب کر دیا۔۔۔۔۔ اگلے ہی لمحے وہ اس کے لبوں پر جھکنے لگا۔۔۔۔ لیکن سادان کے رونے کی آواز سے یمن اسے پیچھے ہٹاتی ہوئی اس معصوم جان کی طرف بڑھی۔۔۔۔

” ابھی یہ چھوٹا ہے اور تم مجھ پر بالکل دھیان نہیں دیتی۔۔۔۔ جب یہ بڑا ہو جائے گا تم تو مجھے بھول جاؤ گی۔۔۔۔۔!! “

کچھ لمحات کی خاموشی کے بعد ذیشان نے چڑ کر کہا۔۔۔۔

” ایسا کچھ بھی نہیں ہے۔۔۔۔”

یمن آہستگی سے کہتی ہوئی اس کے قریب آئی۔۔۔۔۔۔ وہ سادان کو سلا چکی تھی۔۔۔۔

” ویسے مبارک ہو آپ چاچو بن چکے ہیں۔۔۔۔”

یمن نے اسے چاچو بننے کی مبارک دی” جس پر وہ مسکرایا۔۔۔۔۔

” خیر مبارک آپ بھی چچی بن گئی ہیں۔۔۔۔ اب مبارک دینا تو بنتی ہے نا۔۔۔۔”

یارش نے مسکرا کر کہا اور اگلے ہی لمحے وہ یمن کے لبوں پر جھکتا ہوا انھیں اپنی قید میں لے گیا۔۔۔۔ اس کے اس عمل پر یمن کا چہرہ سرخ پڑ گیا۔۔۔۔

” مبارک ہو مسٹر ماحد آپ کی وائف پریگننٹ ہیں۔۔۔۔!!! “

وہ دونوں لیڈی ڈاکٹر کے سامنے بیٹھے ہوئے تھے۔۔۔۔!! جس نے انھیں یہ خوشخبری سنائی۔۔۔۔ کل رات سے عشاء کی طبعیت خراب تھی اب وو اسے ڈاکٹر کے پاس لے کر آیا تو انھیں یہ خوشخبری ملی۔۔۔

” آر یو سریس۔۔۔۔۔؟؟ “

ماحد کو جیسے اپنی سنی ہوئی بات پر یقین ہی نا آیا۔۔۔۔!! کیا وہ واقع باپ بننے والا تھا۔۔۔۔ عشاء بھی حیران ہوئی اور مسکرائی۔۔۔۔۔۔

” یس سر آپ بابا بننے والے ہیں۔۔۔۔۔!!! میں نے یہ کچھ میڈیسنز لکھ دی ہیں۔۔۔۔ آپ نے اپنی وائف کا پورا خیال رکھنا ہے۔۔۔۔۔۔۔!!! “

ڈاکٹر نے مسکرا کر اسے تاکید کی تو وہ سر ہاں میں ہلایا۔۔۔ وہ دونوں اٹھتے ہوئے وہاں سے باہر کی طرف بڑھ گئے۔۔۔۔

” تھینک یو مچ عشاء۔۔۔۔۔۔۔۔!!!! مجھے دنیا کی سب سے حسین اور خوبصورت خوشی دینے کے لیے!!!

تم نے سنا ہے نا کہ ڈاکٹر نے کیا کہا ہے ؟؟ کہ تمھیں اپنا بیت سارا خیال رکھنا ہے۔۔۔۔ روز رات کو تمھیں دودھ پینا ہے۔۔۔۔

اپنی ہر چیز کا خیال رکھنا ہے بیڈ ریسٹ لینا ہے اور خبردار جو بیڈ سے ایک قدم بھی اتارا تم نے۔۔۔۔!! “

اسے مسکراتے ہوئے وہ تاکید کیے جا رہا تھا۔۔۔۔۔ وہ بہت خوش تھا!!! اس کی خوشی کی کوئی انتہا نا دیکھتے ہوئے عشاء بھی مسکرا گئی۔۔۔

” ٹھیک ہے!! “

وہ مسکرا کر کہتی ہوئی اس کے گلے سے لگی۔۔۔۔۔۔!! ماحد بھی اسے خود میں سمیٹ گیا تھا۔۔۔۔۔ اس خوشی نے ان کی ادھوری زندگی جو بھی پورا کر دیا۔۔۔۔۔۔۔!!!!

پیار کا موسم ان پر محبت نچھاور کر گیا تھا۔۔۔

یہ کہانی تھی ذیشان شاہ کی جس نے بدلے کی وجہ سے اپنے دل کو کالا کر دیا اور اتنا سنگدل بن گیا۔۔۔۔

یہ کہانی تھی یارش شاہ کی جو محبت میں دھوکا کھا کر سنگدل بن گیا تھا۔۔۔۔ لیکن پھر انھیں معلوم ہوا ضروری نہیں کہ بدلہ ہی لیا جائے۔۔۔۔!!!!! ضروری نہیں کہ ہر کہی گئی بات حقیقت ہو۔۔۔”

لیکن اب سب ٹھیک ہو گیا تھا۔۔۔۔۔!!!! ان کی زندگیاں مکمل ہو گئی تھی۔۔۔۔۔!! سب ٹھیک ہو گیا ہے۔۔۔۔

❤️________( ختم شد )_________❤️

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *