Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Black Heart Love (Episode - 37)

Black Heart Love By Abdul Ahad Butt

 یمن یارش اور عالیار کے لیے کافی بنانے کے لیے کچن میں آگئی۔۔۔۔!! لیکن یارش اس سے بات کرنا چاہتا تھا۔۔۔۔

یارش اور عالیار کافی دیر تک باہر بیٹھے رہے۔۔۔۔ لیکن ان میں کوئی خاص بات چیت نا ہوئی۔۔۔۔!! عالیار کو کافی دیر تک گھورتے ہوئے یارش اٹھتا ہوا کچن کی طرف بڑھا۔۔۔۔

وہاں پر ان دونوں کے سوا کوئی بھی نہیں تھا!!! اور عالیار کام میں اتنا مگن تھا کہ اسے سوال کرنے کا ہوش نہیں تھا کہ وہ کہاں جا رہا ہے ؟

” یہ تم کیا کر رہی ہو ؟؟ “

کچن میں آتے ہوئے کسی بجلی طرح وہ اس پر برسا۔۔۔۔۔ یمن جو اپنے کام میں مصروف تھی اس کی ایک دم آواز سنتے ہوئے ڈر سی گئی۔۔۔۔

اس کی یارش کی طرف پشت تھی!!!

لیکن پھر اس کی آہٹ کو محسوس کرتے ہوئے وہ انجان بنی کھڑی رہی۔۔۔۔ اس نے یارش کو یہ بالکل بھی محسوس نہیں کروایا کہ وہ یہاں ہے بھی کہ نہیں ؟؟

” میں تم سے بات کر رہا ہوں۔۔۔۔۔!! “

غصے سے اس کا رخ اپنی طرف کرتے ہوئے ایک مرتبہ پھر سے وہ گویا ہوا۔۔۔!

” نظر نہیں آ رہا ؟؟ میں کافی بنا رہی ہوں!! “

یمن نے اس کے ذریعے مڑتے ہوئے اس سے کہا۔۔۔

” میں اس کے بارے میں نہیں پوچھ رہا تم سے!! میں پوچھ رہا ہوں کہ تم باہر کیا کر رہی تھی۔۔۔۔۔؟؟ “

یارش نے ایک مرتبہ پھر سے اس کا رخ اپنی طرف کیا۔۔۔۔۔!! اور سوالیہ لہجہ اپنایا۔۔۔!!!

یمن نے ہیزل نظروں سے اسے دیکھا۔۔۔۔۔

” کیا کر رہی تھی ؟؟ “

وہ ایک مرتبہ پھر سے انجام بنی!!

” تم کیوں بیٹھی تھی اس لڑکے کے ساتھ۔۔۔۔۔؟؟ اور کس قدر فری ہو تم اس کے ساتھ ؟ “

آخر کار وہ شکوہ اس کے لبوں پر آہی گیا۔۔۔۔۔! یمن نے کافی کپ میں ڈالی اور اس کے لیے وہ مڑی تو چہرے پر مصنوعی مسکراہٹ رونما ہوئی۔۔۔۔

جسے اس نے فوری طور پر غائب کردیا اپنے چہرے سے۔۔۔۔

” پہلی بات وہ لڑکا میرا کزن ہے!! اور مجھے نہیں لگتا کہ میں کوئی اس کے ساتھ اتنا بھی فری یوں کہ تمھیں برا لگے۔۔۔۔!! “

یمن نے جان بوجھ کر نظریں گھمائی۔۔۔۔”

” تمھیں جو بھی لگے۔۔۔۔!! پہلے تم اس کے یونی سے گھر آگئی وہ بھی میرے ہوتے ہوئے اور پھر باہر تم اس کے ساتھ جا کر بیٹھ گئی۔۔۔۔

میری بات کان کھول کر سن لو تم اس سے دور رہو گی۔۔۔۔ ڈیٹس اٹ۔۔۔۔!!”

یارش شاہ نے ضدی لہجہ اپنایا۔۔۔۔

” اوو تو مسٹر یارش شاہ کو جلن ہو رہی ہے۔۔۔۔۔!! “

یمن نے طنزیہ مسکراتے ہوئے کہا۔۔۔۔!

” ہاں بہت جلن ہو رہی ہے مجھے جل رہا ہوں میں۔۔۔۔۔!! کیونکہ میں تمھارا کسی بھی شخص کے ساتھ فری ہونا برداشت نہیں کر سکتا ہوں۔۔۔۔!! “

یارش نے اپنے جزبات کا اظہار کرتے ہوئے کہا۔۔۔۔ اس کے چہرے پر افسردگی کے تاثرات تھے۔۔۔۔

” ویسے کیوں جل رہے ہو تم ؟؟ جہاں تک مجھے یاد ہے مجھے نہیں لگتا کہ تمھیں مجھ سے محبت ہے!! تو پھر یہ جلن کیوں ؟؟ “

یمن نے سوچنے والے انداز میں کہا تو وہ اپنی مٹھیاں سختی سے بھینج گیا۔۔۔۔!

” جو بھی ہے تم باہر چل کر میرے ساتھ بیٹھو گی اور اگر تم نے میری بات نا مانی تو۔۔۔۔!! “

وہ بولتا ہوا ایک دم خاموش ہو گیا۔۔۔۔!!

” تو کیا ؟؟ “

یمن کے سوال پر وہ مسکرایا۔۔۔

” تو دیکھ لینا دس دن بعد میرے پاس ہی آنا ہے۔۔۔۔۔!! “

اسے شادی کے دن قریب آتے یاد کرواتا ہوا مسکرا کر کہتا ہوا وہ کچن سے باہر نکل گیا۔۔۔ جبکہ یمن نے اس کی پشت کو گھور کر دیکھا۔۔۔۔!!

یارش باہر پہنچا تو سامنے ہی عالیار اور یمن کی والدہ بیٹھے ہوئے باتیں کرنے میں مصروف تھے۔۔۔۔۔!!

یارش بھی اپنی پہلے والی جگہ پر بیٹھ گیا۔۔۔۔۔

اور یمن کی والدہ سے باتیں کرنے میں مصروف ہو گیا۔۔۔۔۔!! جب ہی یمن کافی لاتے ہوئے وہاں پر پہنچی۔۔۔۔۔!!

اور پہلے عالیار کو دیتی ہوئی یارش کہ طرف بڑھی۔۔۔۔۔

جب ہی وہ کافی کا کپ عالیار کے ہاتھ پر گر گیا۔۔۔۔۔!! جس وجہ سے اس کی چیخ بر آمد ہوئی۔۔۔۔

کافی ( coffee) بہت گرم تھی جس وجہ سے اس کا ہاتھ جل گیا۔۔۔۔

” آہ۔۔۔۔!! “

اس کی آواز سنتے ہی یمن جو یارش کو کافی دے چکی تھی پیچھے کی طرف مڑی!!

” ارے عالیار بیٹا یہ کیا کیا ؟؟ “

یمن کی والدہ نے پریشانی سے کہا۔۔۔۔!!

” یمن جاؤ فرسٹ ایڈ باکس کے کر آؤ!!! اور ٹیوب لگاؤ عالیار کے ہاتھ پر۔۔۔۔!! “

اس کی والدہ نے یمن کو ٹیوب لگانے کی تاکید کی۔۔۔۔

یارش نے سرخ پڑتی نگاہوں سے سے یمن کو دیکھا جسے عالیار کی فکر ہو رہی تھی۔۔۔۔!! جب ہی اس نے ہاتھ میں موجود اس کافی کے کپ سے سارے کی ساری کافی اپنے ہاتھ پر گرا دی!!!!

” یارش۔۔۔۔۔!! “

اس کو یہ حرکت کرتا ہوا دیکھ یمن نے پریشانی سے اسے دیکھتے ہوئے کہا۔۔۔۔!! جبکہ اس کی آواز سنتے ہوئے یارش نے ہاتھ کی طرف دیکھا تو اسے جلا ہوا پایا۔۔۔۔۔”

اسے ہاتھ پر جلن محسوس ہوئی!!!

” پاگل ہوگئے ہو کیا ؟؟ کیا کرتے ہو ؟؟ “

یمن نے غصے سے اس کا ہاتھ تھاما اور اسے کھڑا کرتے ہوئے اس کی فکر کرتے ہوئے کہا۔۔۔۔!

” غلطی سے ہو گیا۔۔۔۔۔۔!! “

اس کے چہرے پر عالیار کے لیے پریشانی کو ختم ہوتا ہوا دیکھ کر وہ آہستگی سے سرد نگاہوں سے عالیار کو نوازتا ہوا بولا۔۔۔۔

” کیا غلطی سے ہو گیا ؟؟ کتنا جل گیا ہے تمھارا ہاتھ!! آؤ میں اس پر دوائی لگا دو۔۔۔۔۔!! “

یمن نے پریشانی سے کہا اور اسے اپنے ساتھ لے کر جانے لگی۔۔۔۔ عالیار کا ہاتھ اتنا نہیں جلا تھا جتنا یارش کا جل گیا۔۔۔۔۔

لیکن اسے اصل جلن تو یمن کی عالیار کے لیے فکر سے ہو رہی تھی۔۔۔۔!! جب ہی یمن اسے اپنے ساتھ روم میں لے گئی اور فرسٹ ایڈ باکس نکالتے ہوئے اس کے زخم پر ٹیوب لگانا شروع کیا۔۔۔۔!!!

اسے اپنی پرواہ کرتا ہوا دیکھ کر یارش اتنا تو سمجھ ہی گیا تھا کہ وہ بھی اس سے محبت کرتی ہے!!! اسے تکلیف میں نہیں دیکھ سکتی وہ بھی جس طرح یارش اسے تکلیف میں نہیں دیکھ سکتا ہے۔۔۔۔!!”

” یہ لو اب جلدی ٹھیک ہو جائے گا ہاتھ۔۔۔۔ زیادہ جلن نہیں ہوگی اب اور ہاں دھیان رکھا کرو ہر بار مرہم لگانے کے لیے میں نہیں ہوں گی۔۔۔۔!! “

یمن نے اسے ٹیوب لگاتے ہوئے تاکید کی۔۔۔۔۔!! اور باورا کروایا کہ ہر دفعہ وہ مرہم پٹی کے لیے تھوڑی نا ہو گی تو اسے اپنا دھیان رکھنا چاہئیے۔۔۔۔۔!!

” ہوگیا ٹھیک ہاتھ۔۔۔۔!! “

چہرے پر نیم مسکراہٹ چھائی ہوئی تھی٬٬٬٬٬_ اسی دوران یارش نے آہستگی سے کہا۔۔۔۔

کیونکہ درد تو حقیقت میں ہی اسے اب نہیں ہو رہا تھا۔۔۔۔!!

یمن ہلکا سا مسکرائی اور اس کے ساتھ واپس ہال کی طرف بڑھی۔۔۔۔ جب وہ دونوں وہاں پر پہنچے تو عالیار کے ساتھ ایک لڑکی اسکے کافی بیٹھی ہوئی تھی۔۔۔۔

اور عالیار اور وہ مسکرا کر باتیں بھی کر رہے تھے۔۔۔۔ یارش نے حیرانگی سے اسے دیکھا!!

کیا یہ شخص ہر کسی لڑکی کے ساتھ اسی طرح فرینک ہوتا ہے ؟؟ یہ سوال اس کے ذہن میں گھوما۔۔۔۔۔

” یہ لڑکی کون ہے ؟؟ “

یارش نے یمن سے سوال کیا۔۔۔۔!!

” یہ لڑکی عالیار بھائی کی وائف ہے۔۔۔۔!! “

یمن نے مسکراہٹ دباتے ہوئے اسے بتایا کہ وہ لڑکی عالیار کی بیوی ہے۔۔۔۔!! جسے سن کر وہ مزید حیران ہوا کہ جس سے وہ کچھ دیر پہلے تک اتنا جل رہا تھا وہ شادی شدہ ہے۔۔۔۔!!

” واٹ!!! پر یہ شادی کب ہوئی ؟؟ “

یارش کے سوال پر یمن مسکرائی۔۔۔۔۔

” آج سے ٹھیک ایک سال پہلے۔۔۔۔! اور ان کا تو ایک بیٹا بھی ہے۔۔۔۔ پر وہ نہیں آیا ان کے ساتھ کیونکہ اس کی طبعیت تھوڑی خراب تھی۔۔۔۔!!! اللہ اسے صحت عطا فرمائے!! “

یمن نے منھ بسورتے ہوئے کہا جس پر یارش صاحب مزید حیرانگی کا شکار ہوئے۔۔۔۔!!

کہ وہ شخص نا صرف شادی شدہ تھا بلکہ ایک بچے کا باپ بھی تھا۔۔۔۔!! اور وہ فضول میں ہی اس سے جلن محسوس کر رہا تھا۔۔۔۔

اور اسی چکر میں اس نے اپنا ہاتھ بھی جلا لیا۔۔۔۔!!! یارش ہلکا سا مسکرایا اور ساتھ پڑے صوفے پر یمن کے ساتھ نیم دراز ہو گیا۔۔۔۔!!

” آنٹی میں کیا کہہ رہا تھا!! کہ میں اور یمن شاپنگ کر آتے ہیں۔۔۔۔!! اب دیکھے نا شادی میں دس دن باقی رہ گئے ہیں۔۔۔۔

اور اس نے کوئی بھی چیز اپنے لیے نہیں لی۔۔۔۔ بلکہ ایک کام کرے کہ آپ بھی ہمارے ساتھ چلیں۔۔۔۔

آپ بھی کر لیجئے گا شاپنگ۔۔۔۔!! “

کچھ دیر تک وہ یونہی باتیں کرنے میں مصروف رہے۔۔۔۔ کچھ لمحات بعد عالیار اور اس کی وائف انھیں خدا خافظ کہتے ہوئے وہاں سے چلے گئے۔۔۔۔!!

جب ہی یارش کے ذہن میں یہ بات گھومی تو اس نے یمن کی والدہ سے کہہ دیا۔۔۔

” بیٹا۔۔۔۔!! بات تو تمھاری ٹھیک ہے لیکن ایک کام کرو تم دونوں اکیلے ہی چلے جاؤ کیونکہ میری زرا طبیعت ٹھیک نہیں ہے۔۔۔۔

تو میں آرام کر لیتی ہوں۔۔۔۔

یمن بیٹا۔۔۔۔!! تم چلی جاؤ “

ان دونوں نے دو ٹوک الفاظوں میں خود ہی طہ کر لیا تھا کہ یمن یارش کے ساتھ جائے گی۔۔۔۔ لیکن اس سے ایک مرتبہ پوچھا تک نہیں گیا۔۔۔

یمن نے اعتراف کرنا چاہا لیکن اس کی امی نے اسے چپ کروا دیا یہ کہہ کر شوہر کی ہر بات ماننی چاہئیے۔۔۔۔!!!”

اور مجبوراً اسے اس کی ساتھ جانا ہی پڑا۔۔۔۔۔”

” سر ہم نے اس لڑکی کو مارنے کی پوری کوشش کی تھی۔۔۔۔!! پر درمیان میں اس لڑکے نے آکر اسے بچا لیا۔۔۔۔”

عاصم خان کے آدمی نے اسے چھ دن بعد رپورٹ دی کہ جیا والے واقع میں ان کے ساتھ کیا ہوا ؟؟ ابھی ہی ان کے زخم بھرے تھے۔۔۔۔۔!!

وہ تینوں اپنے سر یعنی عاصم خان جو جیا کا دوست تھا اس کے پاس آگئے۔۔۔۔”

” تم لوگوں نے جو کیا اس سے مجھے کوئی بھی مطلب نہیں ہے سمجھے!!!! مجھے مطلب ہے تو بس اس بات سے کہ تم لوگ جیا کا کام کیوں نہیں کر پائے ؟؟

تم لوگ جانتے ہو نا کہ وہ کتنی عزیز ہے میرے لیے۔۔۔۔۔!! جان بستی ہے اس میں میری۔۔۔۔

اور زندگی میں پہلی مرتبہ اس نے مجھ سے کوئی مدد مانگی اور تم لوگوں کی وجہ سے وہ موقع بھی ہمارے ہاتھ سے نکل گیا۔۔۔۔

نا جانے کیا سوچ رہی ہو گی وہ میرے بارے میں ؟؟ کہ کسی کام کا نہیں ہوں میں!! “

عاصم نے آہستگی سے ہی سہی لیکن انھیں اچھی خاصی سنا دی تھی۔۔۔۔!!! اس نے اپنے دل کے راز ان تین لڑکوں پر کھولے کہ وہ جیا سے محبت کرتا ہے”

” پر سر وہ تو کسی اور سے محبت!! “

” آئی ڈونٹ کئیر!! مجھے بس اتنا معلوم ہے کہ میں اس سے محبت کرتا ہوں اور وہ جیسی بھی ہے صرف اور صرف عاصم خان کی ہے۔۔۔۔!! “

عاصم نے انھیں باورا کروایا کہ وہ جیا سے محبت کرتا ہے اور جیا اس کے سوا کسی اور کی نہیں ہو سکتی۔۔۔۔ جبکہ اس شخص کی بات درمیان میں ہی رہ گئی۔۔۔۔

” اب جاؤ یہاں سے۔۔۔۔!! اور اگلے تین دن تک شکل نا دکھانا مجھے اپنی!! “

عاصم نے انھیں باہر کی راہ دکھاتے ہوئے کہا۔۔۔۔ جس پر وہ تینوں خاموشی سے سر ہلاتے ہوئے وہاں سے نکل گئے۔۔۔۔

اسی طرح دن گزرتے گئے اور آٹھ دن گزر گئے اب یارش اور یمن کی شادی سر پر تھی۔۔۔۔!! آج ان دونوں کی مہندی کا فنکشن تھا۔۔۔”

ذیشان نے شاہ نواز سے معافی مانگ لی تھی۔۔۔۔۔! شاہ نواز نے اسے معاف کردیا۔۔۔۔۔ وہ اسی کا خون تھا۔۔۔۔!!

کیسے ناراض رہ سکتا تھا وہ اس سے ؟؟ اس کے بھائی کی نشانی تھا وہ !!

شاہ نواز نے آیت کو بھی یہی تاکید کی وہ بھی ذیشان کو معاف کردے۔۔۔۔!!

اس نے جو بھی یہ سب کچھ کیا صرف اور صرف بدلے کی آگ میں کیا۔۔۔!! اور بدلہ میں لوگوں کا دل یہی کرتا ہے کہ وہ جس شخص سے بدلہ لے رہے ہیں اس کو صفا ہستی سے مٹا دے۔۔۔۔

کسی اور کا بدلہ لینے کا جنون بہت ہوتا ہے ایک شخص کو ختم کرنے کے لیے۔۔۔۔!! یہ تو پھر اس کے ماں باپ تھے جن کا وہ بدلہ لے رہا تھا۔۔۔۔!!!”

پر آیت ابھی اس بات پر راضی نہیں تھی۔۔۔۔!!“

وہ دونوں باپ بیٹی فلیٹ میں بیٹھے ہوئے چائے پی رہے تھے اور ایک دوسرے سے باتیں کرنے میں مصروف تھے۔۔۔۔۔

” بیٹا مجھے لگتا ہے کہ ذیشان والے معاملے میں تمھیں اپنے فیصلے پر غور۔۔۔۔!! “

” بابا پلیز آپ ان کی حمایت مت کریں مجھے معلوم ہے کہ ان کے ساتھ کیا کرنا ؟؟ “

شاہ نواز نے اسے سمجھانا چاہا لیکن آیت نے انھیں ٹوکتے ہوئے انھیں ہی چپ کروا دیا۔۔۔۔۔!! جب ہی دروازے کی بیل بجنے کی آواز دونوں کو سنائی دی۔۔۔۔!!

” میں دیکھتا ہوں!!!”

شاہ نواز یہ کہتے ہوئے اٹھا اور جا کر دروازہ کھولا تو سامنے دیکھا کہ صادق کھڑا تھا جس کے ہاتھ میں ایک پیپر بھی تھا۔۔۔۔۔”

شاہ نواز سے اندر آنے کی اجازت طلب کرنے کے بعد وہ اندر آیا۔۔۔۔” آیت اسے دیکھ کر حیران ہوئی کہ وہ یہاں کیا کر رہا ہے ؟؟؟

” صادق تم یہاں ؟؟ “

آیت نے اس سے سوال کیا۔۔۔۔!!

” یس میم یہ آپ کے لیے ذیشان سر نے ایک نوٹ بھجوایا ہے۔۔۔۔۔!! “

صادق کی بات پر وہ مزید حیران ہوئی۔۔۔۔!!

” میرے لیے ؟؟ لیکن مجھے کوئی نوٹ نہیں پڑھنا تم جاؤ یہاں سے!!! “

آیت نے پہلے حیرانگی سے سوال کیا اور پھر اسے وہاں سے جانے کا کہا اور یہ بھی کہا کہ وہ کوئی خط وغیرہ نہیں پڑھنا چاہتی ہے!!

” پلیز میم بس لاسٹ ٹائم!! “

اس نے ریکوئسٹ کی۔۔۔۔ جس پر آیت نے اس کے ہاتھ میں موجود نوٹ کو پکڑا۔۔۔۔!! اور اسے پڑھنا شروع کیا !!

” کیسی ہو آیت ؟؟ یقیناً ٹھیک ہو گی۔۔۔۔۔!! اور مجھے امید تم میرا لکھا ہوا یہ آخری خط پڑھ کر بہت خوش ہو گی کہ میں تمھاری زندگی سے جا رہا ہوں۔۔۔۔

اور ایسا جا رہا ہوں کہ کبھی بھی واپس نہیں آؤ گا۔۔۔۔!!

یہ سب پڑھتے ہوئے آیت کا سانس سوکھنے لگا۔۔۔۔!!

میں نے تمھارے ساتھ بہت زیادہ غلط کیا۔۔۔۔۔!! آئم رئیلی سوری !! شائید تم مجھے کبھی معاف نا کر پاؤ اور شائید تم میرے بغیر زندگی بھی گزار لو۔۔۔

لیکن میں تمھارے بغیر زندگی نہیں گزار سکتا۔۔۔۔!! کیونکہ میں تمھارے بغیر مر جاؤ گا۔۔۔۔ تم نے کہا کہ تم نا ہی کبھی مجھے معاف کرو گی اور نا ہی میرے ساتھ رہو گی تو اس زندگی کا کیا فایدہ ؟؟

میں اپنی جان دے رہا ہوں۔۔۔۔!! ہو سکے تو مجھے معاف کر دینا۔۔۔۔۔!! خدا خافظ۔۔

تمھاری معافی کا طلب گار

ذیشان شاہ!! “

یہ نوٹ پڑھتے ہوئے اس کی آنکھوں میں بے یقینی اتری اور وہ کاغذ کا ٹکڑا اس کے ہاتھوں سے زمین بوس ہو گیا۔۔۔۔

چہرے پر بے یقینی سی چھا گئی۔۔۔۔۔

” میم سر آپ کی بے رخی برداشت نہیں کر پائے اور انھوں نے اپنی جان دے دی۔۔۔۔!!! “

صادق نے مزید اسے کہا تا کہ وہ یقین کر لے کہ نوٹ والی بات سچ ہے!!

” کیا بکواس کر رہے ہو تم صادق ؟؟ ہوش میں تو ہو ؟؟ ایسا کیسے ہو سکتا ہے ؟؟ “

اسے روتا ہوا دیکھ کر آیت اس پر چلا اٹھی۔۔۔۔۔ جبکہ وہ چپ چاپ وہاں سے چلا گیا۔۔۔

کیا یہ سچ تھا ؟؟

کیا ذیشان شاہ واقع مر گیا ؟؟

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *