Black Heart Love By Abdul Ahad Butt NovelR504882 Black Heart Love (Episode - 46) 2nd Last Episode
No Download Link
Rate this Novel
Black Heart Love (Episode - 46) 2nd Last Episode
Black Heart Love By Abdul Ahad Butt
ذیشان نے کوشش کی اور رسی کھول ہی لی۔۔۔۔!! وہ اپنے پیروں سے رسیوں کو نکالتا ہوا اپنے جسم کو رسیوں سے آزاد کرتا ہوا آیت کی طرف بڑھا۔۔۔۔
اسے خود سے زیادہ آیت کی فکر تھی جو ابھی بھی بے ہوش تھی!!!
” آیت میری جان۔۔۔! آنکھیں کھولو۔۔۔۔۔!! “
ذیشان اس کی طرف بڑھتا ہوا اس کے جسم کو رسیوں سے آزاد کرواتا ہوا،،، اس کا سر اپنی گود میں رکھتا ہوا اس کی گال کو تھپتھپاتے ہوئے پریشانی سے کہہ گیا۔۔۔۔
اس نے چار سے پانچ مرتبہ یہی عمل دہرایا۔۔۔۔۔!! لیکن آیت نے آنکھیں نا کھولی۔۔۔۔۔!! ذیشان کا دل گھبرائے جا رہا تھا۔۔۔۔ اس کی تو جیسے جان ہی نکل گئی تھی۔۔۔۔۔!!! آخری مرتبہ آیت نے مندی مندی آنکھیں کھولی۔۔۔۔۔ ذیشان کی جان میں جان آئی۔۔۔۔
” ذ۔۔۔ی۔۔شان!!!! “‘
آیت نے آہستگی سے آنکھیں کھولتے ہوئے اسے اپنے سامنے پایا تو لبوں پر بے ساختہ اس کا نام آ ہی گیا۔۔۔۔
” بولو۔۔۔۔ ذیشان کی جان۔۔۔۔۔!! “
وہ اس کا سر اپنے سینے سے لگاتا ہوا اس کے ماتھے پر اپنے لب رکھتے ہوئے بولا۔۔۔۔ اس کے دل کو بہت خوشی ملی تھی۔۔۔۔۔!!
لیکن اب اسے جلد از جلد اسے اس جگہ سے نکلنا ہو گا۔۔۔۔۔ اسے کوئی نا کوئی راہ نکالنی تھی۔۔۔۔۔
کیونکہ یہ جگہ بند تھی۔۔۔۔۔ اسے کوئی نا کوئی راستہ نکالنا ہو گا۔۔۔۔ اور سب سے بڑھ کر یہ تھا کہ یہاں ہر اسے کوئی بھی شخص دیکھائی نہیں دے رہا تھا۔۔۔۔۔
” تم ٹھیک ہو نا ؟ “
ذیشان نے اسے کرسی پر بٹھایا اور اس کے چہرے کو اپنے ہاتھوں میں لیتے ہوئے کہا۔۔۔۔
” ذیشان میں ٹھیک ہوں ہر یہ آپ کے سر سے خون۔۔۔!! “
آیت نے تڑپ کر کہا۔۔۔۔
” میں بھی بالکل ٹھیک ہوں فکر مت کرو۔۔۔۔۔!!! تم یہاں بیٹھو میں یہاں سے نکلنے کے لیے راہ تلاش کرتا ہوں۔۔۔۔”
وہ آیت کو کرسی پر بیٹھاتا ہوا اس جگہ پر باہر نکلنے کے لیے راہ تلاش کرنے لگا۔۔۔۔۔!!!!” تا کہ آیت کو لے کر جلد از جلد وہاں سے نکل جائے۔۔۔۔
ذیشان کو کچھ بھی سمجھ نہیں آرہا تھا کہ وہ کون لوگ تھے ؟؟ انھوں نے آیت کو ساتھ لے کر جانے کی بات کیوں کی ؟؟
آخر کیا دشمنی ہیں ان کی اس کے ساتھ ؟؟ “
یہ سارے سوالات ذیشان کے ذہن میں کھلبلی مچا رہے تھے۔۔۔۔ پر ابھی ان سب خیالات کو جھٹکتے ہوئے وہ اس جگہ سے نکلنے کی راہ تلاش کرنے لگا۔۔۔۔!!!
کچھ دیر وہ ادھر ادھر بھٹکتا رہا۔۔۔۔ لیکن پھر اسے ایک بند دروازہ نظر آیا۔۔۔۔ جو اندر سے تو نہیں باہر سے لاک تھی۔۔۔۔۔!!!
آیت بھی اس کی مدد کرنے میں مصروف تھی اور وہاں سے نکلنے کی راہ تلاش کر رہی تھی۔۔۔۔۔ جب ہی اسے ایک کھڑکی نظر آئی۔۔۔۔
جو بظاہر بند تھی ہر اندر والی سائیڈ سے۔۔۔۔ وہ اس کھڑکی کی طرف بڑھی اور اسے کھولنے کی کوشش کی تو وہ کھل گئی۔۔۔۔
دوسری طرف ذیشان بھی دروازے کو زور زور سے دھکے لگانے میں مصروف تھا۔۔۔۔۔!!! لیکن دروازہ لاکھ کوششوں کے بعد بھی نہیں کھلا۔۔۔۔!!!
جب ہی آیت اس کے پاس آئی۔۔۔۔ اور اسے دروازے کو دھکا لگاتے ہوئے اسے اپنی طرف متوجہ کیا۔۔۔۔
” ذیشان اسے چھوڑیں۔۔۔۔ اس جگہ کی بیک سائیڈ پر میں نے یہاں سے نکلنے کی راہ تلاش کر لی ہے۔۔۔۔!! چلیں میرے ساتھ۔۔۔۔!! “
آیت کے کہنے پر وہ سر اثبات میں ہلاتا ہوا اس کے ساتھ چلنے کے لیے تیار ہو گیا۔۔۔۔۔ وہ دونوں اس کھڑکی کے پاس آئے اور وہاں سے پہلے ذیشان نکلا اور پھر اس نے آہستگی سے آیت کو وہاں سے نکالا۔۔۔۔
وہ ناجانے کونسی سی عجیب جگہ تھی۔۔۔۔۔ وہ کوئی راستہ تھا۔۔۔۔ جہاں پر کوئی بھی شخص موجود نہیں تھا۔۔۔
آیت اور ذیشان وہاں سے تیز تیز قدم لیے ہوئے نکلے۔۔۔۔۔ اس دوران انھیں کوئی آدمی نہیں ملا تھا۔۔۔۔۔ ذیشان کو بہت عجیب لگا کہ یہ جگہ اتنی بڑی تھی اور یہاں پر کوئی بھی نہیں تھا۔۔۔۔
وہ دونوں چلتے چلتے ایک کمرے میں آکر پہنچے جو اندھیرے میں ڈوبا ہوا تھا۔۔۔۔۔ جہاں سے باہر نکلنے کے لیے راستہ موجود تھا۔۔۔۔ باہر سے روشنی کی کرنیں اندر پڑ رہی تھی۔۔۔۔ جس سے انھیں یہ معلوم ہوا کہ وہ لوگ اس جگہ سے باہر نکل سکتے ہیں۔۔۔۔۔ ذیشان اور آیت وہاں سے باہر نکلنے کی بڑھے۔۔۔۔
وہ دونوں جیسے ہی باہر نکلنے کے لیے بڑھے کمرے کی لائٹس آن ہو گئی۔۔۔۔۔ اور ان دونوں کو اپنے ارد گرد کچھ آدمی محسوس ہوئے اور ان کے بیچ و بیچ ہی ایک شخص کھڑا تھا۔۔۔۔
ذیشان نے آیت کا ہاتھ تھامتے ہوئے اسے اپنے پیچھے چھپایا۔۔۔۔۔ اور خونی نگاہوں سے سامنے کھڑے شخص کو دیکھا۔۔۔۔۔۔
” ذیشان شاہ۔۔۔۔۔۔!! اتنی بھی کیا جلدی ہے یہاں سے نکلنے کی ؟؟ ابھی تو تمھیں یہاں آئے ہوئے کچھ وقت ہوا ہے اور تم یہاں سے جا رہے ہو ؟ میرا کام کیے بغیر۔۔۔۔!!!! “
سامنے کھڑے اس شخص نے مسکراتے ہوئے طنزیاتی لہجے میں کہا۔۔۔۔۔ وہ شخص کوئی اور نہیں بلکہ جمال ہی تھا۔۔۔۔ لیکن ذیشان اسے نہیں جانتا تھا کیونکہ اس نے صرف اس کے بارے میں سنا تھا اسے کبھی دیکھا نہیں تھا۔۔۔۔۔
” کون ہو تم ؟؟ اور ہمیں یہاں کیوں لائے ہو ؟؟ “
ذیشان نے قہر برساتی نگاہوں سے اسے دیکھتے ہوئے کہا،،،، اسے شدید غصہ آ رہا تھا لیکن اسے جاننا تھا کہ وہ کون ہے ؟
” مجھے نہیں پہنچانا ؟؟ واٹ آ جوک!!! چلو خیر میں پھر بھی تمھیں بتا دیتا ہوں کہ میں “جمال” ہوں۔۔۔۔۔!!! “
” ( جمال نے تمھارے ماں بابا کا قتل کیا ہے۔۔۔۔!!!!! ) “
جمال نام سنتے ہی ذیشان کے ذہن میں فوراً یہ بات گھومی۔۔۔۔۔!!! اس کی آنکھیں کھلی کی کھلی رہ گئی جبکہ دوسری طرف آیت کے حالات بھی کچھ ایسے ہی تھے۔۔۔۔۔” اسے جمال کے بارے میں شاہ نواز نے بتایا تھا۔۔۔
” تم جمال جس نے۔۔۔۔۔!! “
ذیشان کے الفاظ ابھی زبان سے ادا نہیں ہوئے تھے جب ہی جمال نے بولنا شروع کیا۔۔۔۔۔۔!!!
” بالکل ٹھیک پہنچانا تم نے ذیشان شاہ میں وہی والا جمال جس نے تمھارے ماں باپ کا قتل کیا تھا۔۔۔۔!!! “
اس نے شیطانی مسکراہٹ چہرے پر لیے ہوئے کہا تو ذیشان سکتے میں آ گیا۔۔۔۔ اس کے ماں باپ کا قاتل اس کے سامنے کھڑا تھا۔۔۔۔
” میں تمھیں ایک راز کی بات بتاتا ہوں کہ میں نے تمھارے ماں باپ کا قتل کیوں کیا ؟؟ دراصل میں نے تمھاری ماں کو بڑی ہی شدت سے چاہا۔۔۔۔ یعنی محبت کرتا تھا میں اس سے۔۔۔۔
یونیورسٹی سے لے کر آفس تک میں نے اس سے بے پناہ محبت کی۔۔۔۔۔ لیکن جب میں نے اسے اپنی فیلنگز بتانے کی کوشش کی تو تمھارا وہ باپ ہمارے درمیان آگیا۔۔۔۔
اور تمھاری ماں نے بھی اس سے شادی کر لی۔۔۔۔۔ جسے دیکھ مجھے بہت غصہ آیا اور میں یہاں سے چلا گیا۔۔۔۔
پر میرا غصہ ٹھنڈا ہونے کا نام ہی نہیں لے رہا تھا۔۔۔۔۔ اس لیے میں نے انھیں مارنے کا فیصلہ کیا۔۔۔۔۔!!!!
کچھ سالوں بعد میں واپس آیا تو تم اور تمھارا بھائی بھی اس دنیا میں آ چکے تھے۔۔۔۔!! لیکن مجھے کیا پرواہ تھی۔۔۔۔
میں نے بزنس میں ہار کو نشانہ بناتے ہوئے ان دونوں کو مار دیا اور اس قتل کا الزام میں نے آیت کے باپ شاہ نواز پر لگا دیا۔۔۔۔۔!!
اور یہاں سے چلا گیا۔۔۔۔۔!!! اب مجھے تمھاری ساری جائیداد چاہئیے۔۔۔۔۔ اسے لیے تمھارے لیے بہتر یہی ہے کہ اپنی ساری پڑاپڑٹی میرے نام اردو ورنہ اپنی بیوی کو مرتا۔۔۔۔۔!! “
” بکواس بند کرو۔۔۔۔!!! “
جمال نے ایک ایک کر کے ساری باتیں ذیشان اور آیت کے سامنے رکھی۔۔۔۔۔ آخر میں وہ کچھ کہہ ہی رہا تھا کہ ذیشان کا پارا ہائی ہوا۔۔۔۔ وہ غصے سے اس کی طرف بھاگا۔۔۔۔۔
آیت سہم گئی جب وہاں کھڑے جمال کے آدمی اس کی طرف بڑھے۔۔۔۔!! ذیشان نے انھیں اچھے طریقے سے دھو ڈالا۔۔۔۔۔ اور پھر جمال کی طرف بڑھا۔۔۔۔۔
” تم نے واپس آ کر بہت ہی بڑی غلطی کی ہے۔۔۔۔ تم نے اپنی موت کو گلے لگایا ہے۔۔۔!! ذیشان شاہ سے پنگا لے کر تم نے بالکل بھی اچھا نہیں کیا ہے۔۔۔۔۔ اب اس کی سزا تمھیں بھگتنی ہو گی۔۔۔۔!! “
ذیشان نے بغیر اپنی سر پر لگی چوٹ کی وجہ سے پیدا ہونے والی درد کی پرواہ کیے اسے کارلر سے تھاما اور مارنا شروع کیا۔۔۔۔
جمال اب بوڑھا ہو چکا تھا۔۔۔۔۔ اس کی ہڈیاں اس کا ساتھ نہیں دے سکتی تھی۔۔۔۔۔ اور وہاں پر موجود لوگ اس قدر زخمی تھے کہ دوبارہ پٹنے سے ڈر رہے تھے۔۔۔۔
جمال نے اپنے بچاؤ کے لیے ذیشان سر پر جس جگہ زخم تھا وہاں پر اپنی پستول ماری جس سے ذیشان کی درد میں اضافی ہوا اور وہ پیچھے کی جانب گرنے والے انداز میں ہوا۔۔۔۔
” ذیشان۔۔۔۔۔!! “
با مشکل ہی وہ اپنے پیروں پر آیت کے سہارے کھڑا ہوا۔۔۔۔ درد میں تھوڑی سی کمی آئی۔۔۔۔!! جب ہی اس نے ذیشان پر بندوق تانی۔۔۔۔ آیت مزید سہم گئی۔۔۔۔۔
” تو ان پیپرز پر سائن کرتا ہے کہ نہیں ؟؟ اگر نہیں تو میں تیرا سینا گولیوں سے چھلنی کر دوں گا۔۔۔۔!! “
وہ غصے سے بولا۔۔۔۔
” تم چاہے آج میری جان ہی کیوں نا لے لوں میں تمھیں تمھارے ارادوں میں کبھی بھی کامیاب نہیں ہونے دوں گا۔۔۔۔!!! “
ذیشان نے غصے سے کہا۔۔۔۔
” اگر تیری یہی خواہش ہے تو تیار ہو جا مرنے کے لیے۔۔۔۔۔!! “
جمال نے غصے سے کہا۔۔۔۔ اور اس جگہ ایک گولی چلی۔۔۔۔ آیت نے فوراً ڈر کر ذیشان کے سینے میں اپنا منھ چھپا لیا۔۔۔۔۔ ذیشان اسے خود میں سمیٹ گیا۔۔۔۔
آیت کو کہی بھی گولی نہیں لگی تھی۔۔۔۔ اسے یہ لگا کہ یہ گولی کہیں ذیشان کو تو نہیں ؟ وہ فوراً پیچھے ہوئی۔۔۔۔۔
” ذ۔۔یشان آپ ٹھیک ہیں ن۔۔ا ؟ “
آیت نے پریشانی سے سوال کیا۔۔۔۔
” میری جان میں بالکل ٹھیک ہوں۔۔۔۔!! “
ذیشان نے پیار سے کہا۔۔۔۔
” تو گولی کس کو لگی ؟؟؟ “
آیت کے ذہن میں سوال نے کھلبلی مچائی۔۔۔۔۔!! جب ہی ان دونوں نے سامنے جمال کو دیکھا جس کے ہاتھ سے بندوق نیچے گری اور اگلے ہی لمحے وہ خود بھی زمین بوس ہو گیا۔۔۔۔
اس کے گرتے ہی ذیشان اور آیت کو اس کے پیچھے کھڑے پولیس افسران نظر آئے۔۔۔۔ آیت ڈر گئی۔۔۔۔ اور فوراً ذیشان کے سینے سے لگ گئی۔۔۔۔ اس سے جمال کی یہ حالت دیکھی نہیں جا رہی تھی!!
” سر۔۔۔ یہ بہت بڑا کریمنل تھا۔۔۔۔۔ جس کو مارنے کا نوٹس کورٹ نے جاری کیا تھا۔۔۔۔ آپ لوگ بے فکر ہو کر گھر جائیں اب آپ لوگ محفوظ ہیں۔۔۔۔۔!! “
اس پولیس آفیسر نے ذیشان سے کہا تو وہ سر ہاں میں ہلا گیا۔۔۔۔
” اور یہ سب آپ کے چھوٹے بھائی کی بدولت ہی ہوا۔۔۔۔!! اگر وہ ہماری مدد نا کرتے تو ہم کبھی بھی اس مجرم کو ڈھونڈ نا پاتے۔۔۔۔!!! “
پولیس آفیسر نے کہا تو یارش سامنے آیا۔۔۔۔ اس نے انھیں آیت اور ذیشان کی لوکیشن ٹریک کر کے دی تھی۔۔۔۔!!!
اسے دیکھ کر ذیشان مسکرایا۔۔۔۔
” بھائی بھابھی آپ دونوں ٹھیک ہیں نا ؟؟ “
یارش نے پریشانی سے سوال کیا۔۔۔۔
” ہم ٹھیک ہیں۔۔۔۔۔ اور اب باقی سب بھی ٹھیک ہے۔۔۔۔ چلو گھر چلیں۔۔۔۔!! “
ذیشان نے آہستگی سے کہا۔۔۔۔ تو وہ تینوں باہر کی طرف بڑھ گئے۔۔۔۔!! جمال گولی کے وار نا سہہ پایا اور کچھ ہی لمحات میں اپنا دم اسی جگہ پر توڑ گیا۔۔۔۔
جمال کے باقی سارے ساتھیوں کو گرفتار کر لیا گیا تھا۔۔۔۔!! اب وہ سب جیل کی صلاحوں کے پیچھے تھے۔۔۔۔۔
” لالچ بری بلا ہے۔۔۔۔!! ” اگر جمال ایک مرتبہ زندہ بچ گیا تھا تو اس کا مطلب یہ تو نہیں تھا کہ وہ ہر دفعہ قانون سے بچ جائے گا۔۔۔۔ اللہ کی لاٹھی بے آواز ہے۔۔۔۔!!!
ہر ظلم کو ختم ہونا ہے۔۔۔۔۔!! جمال کا بھی مرنا لکھا تھا اسی وجہ سے تو وہ قتل کر کے بچ بھی گیا لیکن لالچ کے ہاتھوں مجبور ہو کر اپنی موت کے پاس واپس چلا آیا۔۔۔۔!!
مہر فیملی میں مہندی کا فنکشن دھوم دھام سے ہو گیا تھا۔۔۔۔۔!! اب آج رات بارات تھی۔۔۔۔” بارات کا فنکشن ایک خوبصورت میرج ہال میں رکھا گیا تھا۔۔۔۔۔!!!
ساری تیاریاں مکمل ہو گئی تھی۔۔۔۔۔ دلہن تیار تھی۔۔۔۔۔ دلہا تیار تھا۔۔۔۔ عشاء کو میرج حال کے برائیڈل روم میں بیٹھایا گیا تھا۔۔۔۔۔!!”
سارے مہمان آ چکے تھے۔۔۔۔!!! بارات بھی آ گئی تھی۔۔۔۔!!! فنکشن کو چار چاند لگانے کے لیے ڈانس کا انتظام کیا گیا تھا۔۔۔۔۔
سارے انتظامات اور رسومات کے بعد رخصتی کا وقت ہو گیا۔۔۔۔۔ عشاء اپنے والد کے ہمراہ ماحد کے پاس اسٹیج تک پہنچی۔۔۔۔۔!!
ماحد نے شیروانی جبکہ عشاء نے ایک بھاری لال رنگ کا لہنگا پہنا ہوا تھا۔۔۔۔۔ ماحد نے عشاء کا ہاتھ تھامتے ہوئے اسے اپنے ساتھ اسٹیج پر بیٹھایا۔۔۔۔۔
ان دونوں کی جوڑی چاند ، سورج کی جوڑی لگ رہی تھی۔۔۔۔۔۔” آج وہ دن آ ہی گیا تھا جس دن کا ماحد کا شدت کو انتظار تھا۔۔۔۔
” میری بیٹی کا خیال رکھنا!! “
امجد صاحب نے ماحد کو تاکید کی۔۔۔۔
” اپنی جان سے بھی زیادہ!! “
ماحد نے مسکرا کر کہا۔۔۔۔ تو سب مسکرا دیے۔۔۔۔ اس کے بعد عشاء اپنے والد کے زیرِ سایہ رخصت ہوئی۔۔۔
