Black Heart Love By Abdul Ahad Butt NovelR504882 Black Heart Love (Episode - 2)
No Download Link
Rate this Novel
Black Heart Love (Episode - 2)
Black Heart Love By Abdul Ahad Butt
وہ یہ سب کچھ دیکھ کر بہت خوش ہوئی تھی کہ اس کی ماں اور اس کے باپ کو اس کی سالگرہ یاد تھی۔۔۔۔!
یہاں تک کہ وہ خود بھوک چکی تھی کہ آج اس کی سالگرہ ہے۔۔۔۔۔! اس نے دور دور تک یہ سوچا نہیں تھا کہ اس کے ماں باپ اس کو اتنا پیارا تخفہ دے گے۔۔۔۔۔۔!
” تھینک یو سو مچ بابا جانی۔۔۔۔۔”
ان کے گلے لگتے ہوئے اس نے کہا جس پر انھوں نے مسکراتے ہوئے اپنی اس ننھی کلی کے ماتھے پر بوسہ دیا۔۔۔۔۔! باپ کے بعد وہ ماں کے گلے لگی تھی۔۔۔۔”
” اللہ تمھیں ہمیشہ خوش رکھے اور ہمیشہ تم یوں ہی ہنستی مسکراتی رہو۔۔۔۔”
آیت کی ماں نے اسے پیار سے گلے لگاتے ہوئے اس کے ماتھے پر بوسہ دیتے ہوئے انھوں نے اسے دعا دی۔۔۔۔۔۔۔! جس پر وہ مسکرائی۔۔۔۔۔”
” تھینک یو سو مچ مام ڈیڈ۔۔۔۔۔”
آیت نے پیار سے کہا۔۔۔۔۔” جبکہ اس کے بابا نے انھیں کیک کٹ کرنے کی طرف متوجہ کرایا۔۔۔۔” جس پر وہ کیک کی طرف بڑھ گئے۔۔۔۔۔۔”
ان کی دونوں کی آواز میں ہی اس نے کیک کٹ کیا۔۔۔۔۔” اس کے لیے اس کی ماں کی کل کائنات تھی۔۔۔۔۔۔” وہ شاہ نواز کی اک لوتی بیٹی تھی۔۔۔۔”
اس کا مان اس کی کمزوری سب کچھ وہی تھی۔۔۔۔۔ شاہ نواز کے لیے اس دنیا میں اس کی بیٹی سے بڑھ کر کچھ نہ تھا۔۔۔۔۔۔”
میک کٹ کرنے کے بعد انھوں نے ایک خوبصورت سا تخفہ اس کے ہاتھ میں تھمایا اس سونے کی بنی ہوئی چین کو دیکھتے ہوئے بہت مسکرائی۔۔۔۔” اور ان کا شکریہ ادا کیا۔۔۔۔۔”
.
” سر یہ لیں یہ کچھ تصویریں ہیں جیسا آپ نے کہا تھا۔۔۔۔۔” یہ آیت کی تصویریں ہیں۔۔۔۔۔”
اس کالے کمرے میں داخل ہوتے ہوئے اس کے سامنے پڑے ہوئے ٹیبل پر وہ تصویریں رکھتا اسے بتانے لگا۔۔۔۔” جس پر شازین ہلکا سا مسکرایا۔۔۔۔۔!
” یہ تو بہت ہی اچھا کام کیا ہے تم نے صادق۔۔۔مجھے امید تھی کہ تم یہ کام جلد نپٹا لو گے۔۔۔۔۔
اب کھیل کا اصل مزہ آئے گا نا شاہ نواز تم نے میرے ماں باپ کو مارا تھا اور میں بدلے میں زیادہ کچھ نہیں تو تمھاری بیٹی سے نکاح کر کے اس کی زندگی برباد کرو گا۔۔۔۔
یا جلد از جلد اسکا جنازہ اٹھوانے کے لیے میں تمھیں بلا لو گا۔۔۔۔۔۔۔۔! صادق۔۔۔۔! اگلے چھ دنوں میں مجھے وہ لڑکی چاہئیے ہر حال میں۔۔۔۔۔”
وہ ان تصویروں کو دیکھتے ہوئے طنزیہ مسکراہٹ چہرے پر لیے ہوئے صادق کو حکم دے گیا۔۔۔۔ جو صرف سر کو ہاں میں ہلا پایا۔۔۔۔”
یہ اس کے باس کا حکم تھا جو اسے ہر حال میں ہی ماننا تھا۔۔۔۔۔” انکار کر کے وہ جاتا تو کہاں جاتا۔۔۔۔۔”
لیکن اسے امید نہیں تھی کہ اس کا باس انتقام کی راہ میں اس حد تک بڑھ جائے گا وہ کسی کی زندگی برباد کرنے کے متعلق سوچے گا۔۔۔۔۔؟ یہی سوچتے ہوئے وہ کمرے سے نکل گیا۔۔۔۔” جبکہ ذیشان کے چہرے پر شیطانی مسکراہٹ چھا گئی تھی۔۔۔۔
.
کئی دنوں کے بعد ماحد گھر واپس لوٹا تھا۔۔۔۔۔۔! اس نے اپنے گھر والوں کے اس فیصلے کافی حد تک اعراض برتا تھا۔۔۔۔” وہ اس بات کو ماننے کے لیے تیار کی نہیں تھا کہ اس سے اس کی محبت بھینی گئی ہے۔۔۔۔”
جبکہ اس کی ماں نے بھی اس چیز سے اعراض کیا تھا کہ وہ دونوں پانچ سال سے ہی ایک دوسرے کے ساتھ منسلک ہیں تو اب اس طرح رشتہ کیوں توڑنا۔۔۔۔۔”
لیکن وہ عشاء کی سوتیلی ماں کی نیت سے نا واقف تھے۔۔۔۔۔” پہلے تو وہ اس رشتے پر چپ رہی لیکن پھر اسے لالچ کھانے لگ گیا کہ ماحد جیسا لڑکا صرف اس کی ہی بیٹی کی زندگی میں ہونا چاہئیے۔۔۔۔”
اسی وجہ سے اس نے مختلف الزامات لگاتے ہوئے اس کے باپ کو اس رشتے کو ختم کرنے پر قائم کر لیا اور عشاء کا رشتہ جواد سے طہ کروا دیا۔۔۔”
جس سے پورے خاندان کو ہی جھٹکا لگا تھا۔۔۔۔۔۔” لیکن عشاء کے بھی اس بارے میں ایک مرتبہ اپنے بابا سے بات کرنی کی کوشش کی لیکن انھوں نے اسے چپ کروا دیا یہ کہہ کر کہ وہ اس کے بارے میں سارے فیصلے اچھے ہی کرے گے۔۔۔۔۔”
جس پر وہ بھی چپ ہو گئی تھی۔۔۔۔” لیکن ماحد کی والدہ نے اس چیز کو محسوس کیا تھا کہ یہ جو کچھ بھی ہو رہا ہے وہ بہت ہی زیادہ غلط ہو رہا ہے۔۔۔۔۔!!!
لیکن اب خدا ہی انھیں عقل دیتا کہ انھیں اپنی بیٹی کے لیے ماحد سے بہتر رشتہ نہیں مل سکتا۔۔۔۔۔؟
.
رات کے سائے ڈھل چکے تھے۔۔۔۔۔۔! یہ تقریباً رات کے بارہ بجے کا وقت تھا۔۔۔۔! عشاء کی رات کو آنکھ کھلی اسے اس وقت بہت پیاس لگی ہوئی تھی۔۔۔
وہ پانی لینے کے لیے جگ اٹھاتی ہوئی کمرے سے باہر نکل گئی تھی۔۔۔۔” اسے معلوم نہ تھا کہ ماحد گھر واپس آچکا ہے۔۔۔۔۔”
وہ سیڑھیوں کے پاس گئی اور اسے کسی کی آہٹ محسوس ہوئی۔۔۔۔” وہ ان قدموں کی آہٹ پہنچاتی تھی۔۔۔۔! لیکن وہ کیسے ہو سکتا ہے۔۔۔۔؟ وہ تو گھر ر ہی نہیں تھا۔۔۔۔”
جبکہ سامنے کھڑا شخص بھی اسے پہنچان گیا۔۔۔۔۔” لیکن وہ دونوں صرف ایک دوسرے کی پرچھائی کو ہی دیکھ پا رہے تھے۔۔۔۔”
لیکن جیسے ہی اس نے قدم بڑھائے اس کا پاؤں پھسلا اور وہ سامنے والے شخص پر جا گری۔۔۔۔۔! سامنے والا اس کے لیے بالکل بھی تیار نہ تھا۔۔۔۔”
جیسے ہی عشاء اس پر گری وہ گرتا چلا گیا۔۔۔۔ لیکن اتفاق ہی سہی لیکن ان دونوں کے لب ایک دوسرے سے مس ہوگئے۔۔۔۔! عشاء کی دل کی دھڑکن تیز ہو گئی۔۔۔۔۔!
جبکہ ماحد کی آنکھیں بھی کھلی کی کھلی رہ گئی۔۔۔۔۔” وہ اس عمل کی امید بالکل بھی نہ رکھتا تھا۔۔۔۔” جبکہ وہ فوراً ہی اس کے سینے سے پیچھے ہوئی۔۔۔۔۔”
” اتنی رات گئے یہاں کیا کر رہی ہو۔۔۔۔!؟”
وہ بھی کھڑا ہو گیا۔۔۔۔” اور اس سے سوال کیا کہ وہ اتنی رات یہاں کیا کر رہی ہے۔۔۔۔۔”
” و۔۔۔۔ وہ میں پانی لینے آئی تھی۔۔۔۔۔”
اس نے ماحد کی بات کا جواب دیتے ہوئے کہا جس پر ماحد سر ہاں میں ہلا گیا۔۔۔۔”
” تم سوئے نہیں۔۔۔۔۔”
” تم۔۔۔۔۔!”
اس نے سوال کیا جس پر اسکی طنزیاتی بات سن کر وہ آنکھیں میچ گئی۔۔۔۔! بس وہی جانتی تھی کہ اس نے یہ آپ سے تم کا سفر کیسے مقرر کیا تھا۔۔۔۔!
