Black Heart Love By Abdul Ahad Butt NovelR504882 Black Heart Love (Episode - 1)
No Download Link
Rate this Novel
Black Heart Love (Episode - 1)
Black Heart Love By Abdul Ahad Butt
شاہ حویلی میں ہر جگہ ماتم چھا گیا تھا۔۔۔۔۔! جب وہ دو جوان لاشیں حویلی میں لائی گئی۔۔۔۔۔! دو چھوٹے سے معصوم سے بھائی بچپن میں مسکین ہوگئے۔۔۔۔۔!
ان کے والدین کو بے رحمی سے قتل کر دیا گیا۔۔۔۔۔! ایک کا نام ذیشان شاہ اور دوسرے کا نام یارش شاہ تھا۔۔۔۔! ذیشان آٹھ سال کا تھا اور یارش ابھی بس تین سال کا ہی۔۔۔۔۔!
لیکن اب بڑے کو ہی چھوٹے کا سہارا بننا تھا۔۔۔۔۔۔! ذیشان نے یہ دل سے ٹھان لیا تھا کہ وہ بڑا ہو کر شاہ نواز سے اپنے ماں باپ کا بدلہ ضرور لے گا۔۔۔۔۔!
کئی سالوں بعد۔۔۔۔۔۔!
کئی سال گزر گئے تھے۔۔۔۔ وہ دونوں بھائی اب جوان ہو چکے تھے۔۔۔۔۔! نشیب و فراز زندگی کا حصہ ہیں جو ان کی زندگی میں بھی تھے۔۔۔۔۔!
لیکن وہ دونوں بھائی آج اس مقام پر تھے جس پر ہونا کسی کے لیے بھی آسان کام نہیں تھا۔۔۔۔۔” یارش کی پڑھائی مکمل ہونے والے تھی۔۔۔۔۔! جبکہ ذیشان کا اپنا بزنس تھا۔۔۔۔
ان دونوں بھائیوں کے دل میں بچپن سے شاہ نواز کے لیے بھری اس نفرت کی وجہ سے ان کا دل کالا ہو چکا تھا۔۔۔۔۔۔” وہ دونوں زیادہ ہنستے نہیں تھے۔۔۔۔!
کیونکہ بچپن میں ہی ان کی زندگی سے سارے شوخ چھین لیے گئے۔۔۔۔۔! ان کے ہنستے بستے گھر کو تباہ و برباد کردیا گیا۔۔۔۔۔!!!
ذیشان کے مطابق وہ وقت آگیا تھا۔۔۔۔۔! جب شاہ نواز سے بدلہ لے سکے۔۔۔۔۔!
شاہ نواز رشتے میں اس کا چچا تھا۔۔۔۔۔! اس کے باپ اور شاہ نواز میں زمین کے مسئلے کی وجہ سے لڑائی ہوگئی۔۔۔۔۔” اور اسے یہی بتایا گیا کہ شاہ نواز نے اس کے ماں اور باپ کو قتل کردیا۔۔۔۔۔”
اس کے علاؤہ شاہ نواز کا شاہ حویلی سے چلے جانا۔۔۔۔۔! اسی طرف اشارہ کر رہا تھا کہ شاہ نواز ہی وہ قاتل ہے جس نے ان دونوں بھائیوں کے ماں باپ کو مارا ہے۔۔۔۔۔”
ویسے تو یہی کہاوت کہی جاتی ہے خون کے بدلے خون۔۔۔۔۔! پر ذیشان کے بدلہ لینے کا انداز تھوڑا سا مختلف تھا۔۔۔۔۔! وہ شاہ نواز کی ساری ڈیٹیلز نکلوا چکا تھا۔۔۔۔۔”
وہ کہاں رہتا ہے۔۔۔۔۔؟ کن کے ساتھ رہتا ہے۔۔۔۔۔۔؟ اس کے کتنے بچے ہیں۔۔۔۔۔؟ اور اس نے اس کے ساتھ کیا کرنا ہے۔۔۔۔۔؟ وہ سب کچھ جانتا تھا۔۔۔۔۔!
وہ سب کچھ ٹھان تو چکا تھا۔۔۔۔۔! پر کیا واقع یہی حقیقت تھی جو اسے بتائی گئی تھی کہ شاہ نواز نے اس کے ماں باپ کا قتل کیا تھا۔۔۔۔۔!!! یا حقیقت کچھ اور تھی۔۔۔۔۔؟
وہ کئی دن سے گھر نہیں گیا تھا۔۔۔۔۔! کیونکہ بڑی ہی آسانی سے ماحد مہر کی پانچ سال کی منگیتر کو اس کے کزن کے ساتھ منسوب کردیا گیا تھا۔۔۔۔۔!
جسے اس سے جوڑا گیا اسے ہی اس سے الگ کردیا گیا۔۔۔۔۔! اور سب سے زیادہ غصہ تو اسے عشاء پر تھا۔۔۔۔۔۔! اتنا سب کچھ ہونے کے باوجود بھی وہ اپنے ماں باپ کے سامنے کچھ نہیں بولی تھی۔۔۔۔۔”
شائید یہ اس کی تربیت کے خلاف تھا کہ وہ اپنے ماں باپ کچھ بھی کہے یا ان کے سامنے زبان چلائے۔۔۔۔۔!
پر اپنے حق کے لیے بولنا چاہئیے تھا۔۔۔۔۔! اسے اپنی محبت کے لیے بولنا چاہئیے تھا۔۔۔۔۔۔! وہ دونوں پانچ سال سے ایک دوسرے جڑے ہوئے تھے۔۔۔۔۔!
ماحد عشاء سے اس وقت سے محبت کرتا ہے جب اسے یہ بھی معلوم نہیں تھا کہ محبت ہوتی کیا چیز ہے۔۔۔۔۔؟ عشاء بھی اس سے اتنی ہی محبت کرتی ہے۔۔۔۔۔
لیکن ماں باپ کے فیصلے کے سامنے عشاء کچھ بھی نہیں بولی۔۔۔۔۔۔! ماحد سے بھی رشتہ ان کی مرضی سے ہی ہوا تھا۔۔۔۔۔۔۔! پر ناجانے کیوں انھوں نے اس رشتے سے انکار کردیا۔۔۔۔۔!
دکھ اور غصہ عشاء کو بھی اس سب پر بہت تھا۔۔۔۔! لیکن وہ کچھ بھی نہیں کر سکتی تھی۔۔۔۔۔ بچپن سے وہ وہی کرتی جو اسے اس کے ماں باپ کرنے کا کہتے۔۔۔۔۔۔!
وہ کمرے میں مکمل طور پر اندھیرا کیے ہوئے بیٹھی تھی۔۔۔۔۔۔۔! ہر طرف بس اندھیرا ہی اندھیرا تھا۔۔۔۔ اس کے سوا کچھ نہیں۔۔۔۔۔!
اس اندھیرے میں وہ بھی کہیں کھو سی گئی تھی۔۔۔۔۔! عشاء کو سمجھ نہیں آرہا تھا کہ وہ اب کرے تو کیا کرے۔۔۔۔۔؟ اس کے والدین نے اس کا رشتہ ماحد سے کیوں ختم کیا۔۔۔۔۔؟
وہ اپنی ہی سوچوں میں گم سی تھی۔۔۔۔۔ جب ہی اس کا فون بجا۔۔۔۔۔۔۔! اسنے دیکھا تو موبائل کی سکرین پر ماحد کا نام نظر آیا۔۔۔۔! وہ آنکھوں میں آنسو لیے فون کاٹ گئی۔۔۔۔۔!
دو سے تین مرتبہ مزید فون رنگ ہوا لیکن ہر دفعہ فون کاٹتی گئی۔۔۔۔ کچھ لمحات بعد اسے ماحد کے نمبر سے ایک وائس مسیج ریسو ہوا۔۔۔۔! کچھ دیر بعد اس نے ہمت کرتے ہوئے اس کا وائس ریکارڈر سنا۔۔۔۔!
” عشاء میں مزید ایک دفعہ فون کرو گا اگر تم نے فون نہ اٹھایا تو میں تمھارے گھر آجاؤں گا۔۔۔۔۔!”
بوجھل سے لہجے میں اس نے غصے کے شدت سے کہا۔۔۔۔! جس پر اس نے اپنی آنکھوں کے آنسو صاف کیے۔۔۔۔۔”
جیسے ہی اس نے ماحد کا وائس ریکارڈر سنا اسی وقت فون ایک مرتبہ پھر سے بج اٹھا۔۔۔۔! اس نے ہمت کرتے ہوئے فون اٹھایا۔۔۔۔”
” بولو ماحد کیا ہے۔۔۔۔!”
لہجے میں عجب بیزاریت سی تھی۔۔۔۔۔۔! جیسے وہ اس سے بات ہی نہیں کرنا چاہتی تھی۔۔۔۔! اس کا لہجہ پہلے تو ماحد سے بات کرتے ہوئے کبھی بھی ایسا نہیں ہوا تھا۔۔۔۔۔۔!
” عشاء تم اس رشتے سے انکار کر دو۔۔۔۔۔!”
لہجہ میں غصہ لیے جس پر وہ ضبط کیے ہوئے تھا۔۔۔۔! اس نے کہا۔۔۔۔! جس پر عشاء لب بھینج گئی۔۔۔۔۔!
” ماحد پلیز۔۔۔۔۔! اب دوبارہ مجھے کال مت کرنا اور میرے لیے وہی فیصلہ سب سے بڑھ کر ہے جو میرے والدین نے میرے لیے کیا ہے۔۔۔۔۔!”
آنکھوں سے آنسو ٹوٹ کر ہر لمحے باہر نکل رہے تھے اس نے کبھی سوچا بھی نہیں تھا کہ وہ مسحد سے یہ الفاظ کہے گی۔۔۔۔۔!
” کبھی سوچنا بھی مت عشاء یہ کہ میں تمھیں کسی بھی اور کا ہونے دو گا۔۔۔۔۔! تم صرف میری ہو صرف میری ماحد مہر کی۔۔۔۔۔! جو میرا ہوتا ہے وہ کسی اور کا نہیں ہو سکتا۔۔۔۔۔”
شدت سے بھرے لہجے میں وہ کہتا ہوا وہ فون بند کر گیا یقیناً اسے عشاء کی بات بری لگی۔۔۔۔۔۔! کر وہ بھی تو اب مزید کچھ بھی نہیں کر سکتی تھی۔۔۔۔۔!
کالج سے واپس آکر اس نے ابھی گھر میں قدم ہی رکھا تھا جب اس پر پھولوں کی برسات شروع ہو گئی۔۔۔۔۔”
Happy birthday to you
Happy birthday to you
Happy birthday to Dear Ayat
Happy birthday to you
سامنے سے ہی اس کے بابا اور ماما یہ کہتے ہوئے اس کے پاس آئے جس پر وہ حیران رہ گئی کہ انھیں یاد تھا کہ آج اس کی سالگرہ ہے۔۔۔۔”
لیکن آیت کے والدین نے اسے یہ سرپرائز دے کر اسے بہت خوش کردیا تھا۔۔۔۔!
آیت کسی اور کی نہیں بلکہ شاہ نواز کی بیٹی تھی۔۔۔۔۔! اس کی زندگی میں بہت موڑ آنا باقی تھے۔۔۔۔۔! جن کا اسے بہت صبر سے سامنا کرنا تھا۔۔۔۔۔”
