Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Black Heart Love (Episode - 43)

Black Heart Love By Abdul Ahad Butt

جیا کی اس حادثاتی موت کو ان سب کے لیے برداشت کرنا بالکل بھی ممکن نہیں تھا۔۔۔۔۔!!

لیکن وہ سب کیا کر سکتے تھے ؟؟ اللہ کی رضا پر صبر کرنا تھا انھیں،،، مہر ہاؤس میں کئی دنوں تک ماتم چھایا رہا۔۔۔۔

لیکن پھر ایک سے ڈیڑھ ہفتہ گزرنے کے بعد سب لوگ اپنی روٹین پر واپس آنے۔۔۔۔ معمول زندگی کی طرف لوٹ گئے،،،

جیا کے وفات کی وجہ سے عشاء اور مہر ماحد کی شادی ایک مہینے کے بجائے مزید پانچ مہینے ڈیلے کر دی گئی تھی،،

جیا نے کتنا غرور کیا تھا خود پر۔۔۔۔!! وہ ہمیشہ سے یہی سوچتی سمجھتی تھی کہ جو وہ کرنا چاہتی ہے اسے وہ کر کے رہے گی۔۔۔ اور اس میں اسے کوئی بھی نہیں روک سکتا۔۔۔۔

لیکن شائید وہ اور اس کی ماں رب کو بھول گئے تھے۔۔۔۔۔ انھیں یہ یاد نا رہا تھا کہ اگر اللہ کا حکم ہوا تو وہ اگلی سانس بھی نہیں لے سکے گی،،،

انھوں نے خود کر غور کیا جو اللہ تعالیٰ کو بالکل بھی پسند نہیں،،، خدا نے ان کا غرور مٹی میں ملا دیا۔۔۔”

اور کیسے وہ چوبیس گھنٹوں کے دوران ہی کہاں سے کہاں پہنچ گئی!! اس لیے ہمیں چاہئیے کہ ہم بھی اللہ کی رضا پر خوش رہیں اور اس غرور ، تکبر جیسی بری بیماریوں سے بچنے کی کوشش کریں۔۔۔

صبح تقریباً نو بجے کے قریب ذیشان کی آنکھ کھلی تو اس وقت آیت جو رات بھر اس کی آغوش میں رہی وہ اب یہاں نہیں تھی۔۔۔۔!!

وہ جھٹ سے اٹھا اور دیکھا تو وہ کھڑکی میں کھڑی ہوئی کسی گہری سوچ میں گم تھی!!!

ذیشان بستر سے اٹھتا ہوا اس کی طرف بڑھا۔۔۔۔۔ اور اسے پیچھے سے اپنے حصار میں لیتے ہوئے اپنے دہکتے لبوں کا لمس اس کی گردن پر چھوڑا۔۔۔۔!!

اس کے لمس کو محسوس کرتی ہوئی آیت ہلکا سا مسکرائی۔۔۔۔

” گڈ مارننگ۔۔۔۔!!! “

آیت نے آہستگی سے کہا!!

” گڈ مارننگ ٹو یو سویٹ ہارٹ!!! “

لہجے پیار بھرا تھا۔۔۔۔ جب ہی وہ اس کے سامنے آ کھڑا ہوا۔۔۔۔ آیت کے چہرے پر ابھی مسکراہٹ چھائی ہوئی تھی!!

” کیا ہوا ؟؟ کن سوچوں میں گم ہو ؟؟ “

ذیشان نے اس کے سامنے آتے ہوئے کہا۔۔۔۔ اور جوں ہی نظر اس کے شفاف چہرے پر پڑی تو نظروں نے ہٹنے سے ہی انکار کردیا۔۔۔

وہ بہت ہی زیادہ خوبصورت لگ رہی تھی۔۔۔۔ اور پھر کھڑکی میں سے آتی ہوئی سورج کی کرنیں اس کے چہرے کو مزید چمکا رہی تھی!!

” کچھ بھی تو نہیں۔۔۔۔۔!!! ویسے ہی۔۔۔۔!! خیر یہ سب چھوڑیں فریش ہو جائے ناشتے پر ہمارا ویٹ ہو رہا ہو گا!!! “

آیت نے نیم مسکراہٹ چہرے پر لیے ہوئے کہا تو وہ بھی مسکرا دیا۔۔۔۔” جب ہی آیت اسے کہتے ہوئے مڑی کہ اس نے اسے اپنی طرف کھینچا اور اس کے گالوں پر اپنے لب رکھتا ہوا مسکرایا۔۔۔

” لو اب میں ہو گیا فریش۔۔۔۔۔!! “

آہستگی سے اس کے کانوں میں سرگوشی کرتا ہوا اس کا چہرہ کانوں تک سرخ کرتا ہوا وہاں سے چلا گیا۔۔

ایک خوبصورت صبح کا آغاز ہوا۔۔۔۔ ساری شاہ فیملی کھانے کی میز پر موجود تھی!! سب لوگ بہت زیادہ خوش تھے۔۔۔۔۔!!

سب کی زندگیاں مکمل ہو گئی تھی۔۔۔۔۔!!! ان کی زندگی میں اب صرف خوشیاں ہی خوشیاں تھی۔۔۔۔

شاہ نواز اور باقی سب میز پر بیٹھ کر ناشتہ کر رہے تھے!!! یونہی ہنستے ہوئے کچھ دن گزر گئے۔۔۔۔!!!

یارش اور یمن کا ہنی مون پر نیو یارک جانے کا ارادہ تھا۔۔۔۔۔!! دادی کے اور یارش کے انسسٹ کرنے پر ذیشان اور آیت بھی ان کے ساتھ جا رہے تھے!!

ساری پیکنگ مکمل کرتے ہوئے وہ لوگ ائیر پورٹ کے لیے نکلے تھے۔۔۔۔ اور فلائٹ سے نیو یارک پہنچے!!!”

کچھ دیر گھومنے کے بعد وہ چاروں اپنے اپنے ہوٹل کے کمروں میں چلے گئے۔۔۔۔ یمن کافی تھک گئی تھی۔۔۔۔

اسی وجہ سے وہ فریش ہونے کے لیے واش روم چلی گئی۔۔۔۔ جبکہ یارش بیڈ پر بیٹھا ہوا موبائل یوز کرنے میں بیزی تھا!!

” آہ۔۔۔۔۔!! “

وہ موبائل یوز کر رہی رہا تھا کہ جب ہی اسے واش روم میں سے یمن کے چیخنے کی آواز سنائی دی۔۔۔۔ جسے ہر وہ گھبرا گیا۔۔۔

کیونکہ وہ بہت زور سے چلائی تھی۔۔۔۔۔ وہ فون بیڈ پر پھینکتا ہوا واش روم کی طرف بھاگا جیسے ہی اندر پہنچا تو دیکھا کہ وہ شاور کے بالکل ساتھ آنکھیں بند کیے ہوئے کھڑی تھی۔۔۔۔

گویا وہ کسی چیز سے ڈر رہی تھی!!

” کیا ہوا یمن ؟؟ “

یارش نے پریشانی سے سوال کیا۔۔۔۔ جب ہی یمن نے آنکھیں کھولیں تو اسے سامنے پایا۔۔۔۔!! اور فوراً اس کی طرف لپکی۔۔۔

” یارش وہ یہاں۔۔۔۔!! یہاں پر “

وہ ڈرتے ڈرتے ہوئے بول رہی تھی۔۔۔۔ اس کی گھبراہٹ سے یہ محسوس کو رہا تھا جیسے کہ اس نے کوئی بھوت دیکھ لیا ہو!!

” کیا ہوا ؟؟ کوئی بھوت دیکھ لیا ؟؟ “

یارش نے اس کی گھبراہٹ کو محسوس کرتے ہوئے کہا۔۔۔۔ اور آہستگی سے اس کے بازو پر ہاتھ پھیرنا شروع کیا۔۔۔

” یارش بھوت سے بھی بہت خطرناک تھا وہ۔۔۔۔۔۔!!. “

یمن نے اسے بھی ڈراتے ہوئے کہا۔۔۔۔ پر وہ بیچارہ سوچ میں پڑ گیا کہ بھوت سے بھی خطرناک کیا ہو سکتا ہے ؟؟

” یمن کیا تھا بتاؤ تو سہی۔۔۔۔۔!!! “

یارش نے سنجیدہ لہجہ اپنایا۔۔۔۔ اب اسے خود بھی تجسس ہو رہا تھا کہ ایسا بھی کیا تھا جس سے یمن اتنا ڈر رہی ہے۔۔۔۔”

” وہ کا۔۔ ک روچ۔۔۔!!! “

یمن نے جیسے ہی اسے ٹوٹے پھوٹے لہجے میں بتا کہ وہ ایک کیڑے سے ڈر رہی تھی تو یارش کا ایک زور دار قہقہ بلند ہوا۔۔۔

یمن نے اسے گھور کر دیکھا!!

” کاکروچ بھی بھلا کوئی ڈرنے والی چیز ہے۔۔۔۔ ؟؟ ڈرپوک کہیں کی۔۔۔ مجھے نہیں معلوم تھا کہ تم اتنا ڈرتی بھی ہو۔۔۔۔۔!! “

یمن نے اس کی مزاخیہ لہجے پر اسے گھور کر دیکھا۔۔۔۔

” تم میرا مزاق اڑا رہے ہو ؟؟ “

یمن کے لہجے میں افسردگی تھی۔۔۔۔ جبکہ یارش کے چہرے سے مسکراہٹ ختم ہونے کا نام ہی نہیں لے رہی تھی!!

” مزاق نا اڑاؤ تو اور کیا کروں ؟؟ “

یارش نے ایک مرتبہ بھی ہنستے ہوئے کہا!!

اس کی مسکراہٹ تھی کہ رکنے کا نام ہی نہیں لے رہی تھی۔۔۔۔۔!! یہ سارے مسکراہٹ ختم تو اس وقت ہوئی جب یمن نے ہاتھ بڑھاتے شاور چلا دیا۔۔۔۔ یارش کو معلوم نہیں تھا کہ وہ ان ساری باتوں کے دوران وہ شاور کے بالکل نیچے پہنچ چکا تھا۔۔۔۔!!! “

” اب پتہ لگے گا کہ بیوی سے پنگا کون تو کیا ہوتا ہے ؟؟ “

یمن نے مسکراتے ہوئے کہا۔۔۔۔ اور جیسے ہی پیچھے ہوئی تو یارش نے اس کا ہاتھ تھامتے ہوئے اپنی طرف کھینچا۔۔۔۔

” اب تمھیں پتا لگے گا کہ شوہر سے پنگا لوں تو کیا ہوتا ہے۔۔۔۔؟؟ “

یارش نے مسکرا کر کہا اور اسے شاور کے نیچے کردیا۔۔۔۔ جس سے شاور کا پانی یمن کے جسم کو بھگونے لگا۔۔۔۔

وہ بے ساختہ مسکرا گئی تھی۔۔۔۔ جب ہی وہ اس کی کمر کے گرد ہاتھ حائل کرتا ہوا اسے کے قریب ہوتا ہوا اپنے آپ کو بھی شاور کے نیچے کر گیا!!

” لو بھیگ گیا میں بھی پورا۔۔۔۔۔ اب خوش۔۔۔۔”

یارش نے خمار آلود لہجے میں کہتے ہوئے اس کے بھیگے وجود کو خود میں سمیٹا اور اس کے لبوں کر جھک گیا۔۔۔ اور انھیں اپنی مظبوط گرفت میں لے گیا!!

آیت اور ذیشان ساتھ والے روم میں تھے۔۔۔۔۔ ذیشان کسی کام کے تحت زرا باہر گیا تھا۔۔۔ وہ دونوں کھانا کھا چکے تھے۔۔۔۔

آیت کمرے میں ہی بیٹھی ہوئی موبائل استعمال کرنے میں مصروف رہی،،،، بابا سے بات کرنے کے بعد جیسے ہی اس نے فون بند کیا۔۔۔

اگلے ہی لمحے دروازہ کھڑاک کی آواز پیدا کرتا ہوا کھلا اور ذیشان کمرے میں داخل ہوا۔۔۔۔!! رات کے نو بج رہے تھے۔۔۔۔

” کہاں رہ گئے تھے آپ ؟؟ “

آیت نے افسردگی سے اسے دیکھتے ہوئے کہا۔۔۔۔۔!!! وہ اس کے پاس آتے ہوئے بیٹھ گیا۔۔۔

” کچھ کام میں مصروف ہو گیا تھا۔۔۔۔۔!! تم بتاؤ طبعیت کیسی ہے اب ؟؟ “

یہاں پہنچ کر آیت کی طبعیت کچھ خراب ہو گئی تھی۔۔۔۔!!! ذیشان کو اس کی بہت فکر لگی ہوئی کہ کہیں مزید طبعیت خراب نہ ہو جائے اس کی۔۔۔۔!!

” اللہ کا شکر ہے میں اب ٹھیک ہوں۔۔۔۔!! “

آیت نے مسکرا کر کہا۔۔۔۔

” یعنی تم تیار ہو ؟ “

اس نے ذو معنی مسکراہٹ چہرے پر لیے ہوئے کہا تو آیت کا چہرہ سرخ پڑ گیا۔۔۔۔!! لہجہ میں شوخ پن بھی موجود تھا!!

” جی ؟؟ “

اس نے سوالیہ لہجے میں کہا۔۔۔ تو ذیشان مسکرایا۔۔۔۔

” مجھے معلوم تھا کہ تم تیار ہو۔۔۔!! “

ذیشان نے مسکراتے ہوئے کہا اور اس پر جھک گیا۔۔۔ آیت ہلکا سا مسکرائی اور اسے پیچھے کرنے کی کوشش کی۔۔۔۔!! لیکن یہ ممکن نا ہوا۔۔۔ اگلے ہی لمحے وہ اس کے لبوں پر جھکا۔۔۔

لبوں کو آزادی بخشنے کے بعد وہ اس کی گردن پر اپنا بہکتا لمس چھوڑنے لگا۔۔۔۔ اور جیسے جیسے رات گزرتی گئی اس کے ہر عمل میں شدت پیدا ہوتی گئی۔۔۔۔!!!

یمن جیسے ہی چینج کرتے ہوئے باہر نکلی تو یارش کو شرٹ لیس پایا۔۔۔۔ وہ اس سے نظریں چراتے ہوئے بیڈ کی طرف بڑھ گئی۔۔۔ اس کے اس عمل پر یارش مسکرایا۔۔۔

جب ہی اس نے اس کا بازو تھامتے ہوئے اسے اپنے طرف کھینچا۔۔۔۔۔” جس پر یمن کے چہرے کا رنگ اڑ گیا!!

” یہ کیا کر رہے ہو ؟؟ “

یمن نے نظریں گھماتے ہوئے کہا۔۔۔

” تمھیں اپنے قریب۔۔۔۔۔!! اور تم نظریں کیوں چرا رہی ہو ؟؟ کیا بہت ہینڈسم ہوں میں جو دیکھا نہیں جا رہا ؟؟ “

یارش نے اس کے چہرہ اپنے ہاتھوں سے اپنی طرف کرتے ہوئے پیار بھرے لہجے میں کہا۔۔۔۔ جس پر وہ مزید سرخ پڑ گئی۔۔۔

” آئی لو یو یمن۔۔۔۔۔!! “

اگلے ہی لمحے یارش نے نظریں اس کے چہرے پر ٹکی تو بے ساختہ لبوں سے نکل پڑا!!

” آئی لو یو ٹو۔۔۔۔!! “

یمن کے کہے ہوئے یہ الفاظ اس کے چہرے پر مسکراہٹ بکھیر گئے تھے،،،،

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *