Black Heart Love By Abdul Ahad Butt NovelR504882 Black Heart Love (Episode - 15)
No Download Link
Rate this Novel
Black Heart Love (Episode - 15)
Black Heart Love By Abdul Ahad Butt
وہ جو تھے بڑے ہی خاص وہ ہمیں چھوڑ کر چلے گئے۔۔۔۔۔” کل رات آیت کی والدہ کی طبعیت بہت خراب ہوگئی تھی۔۔۔۔!
لیکن ڈاکٹرز نے انھیں انجیکشن دیے اور وہ وقتہ طور پر بہتر بھی ہوگئی۔۔۔۔۔ لیکن ان کے جانے کا وقت آگیا تھا۔۔۔۔ شائید رب کریم نے انھیں اپنے پاس یوں ہی بلانا تھا۔۔۔۔!
آیت کی والدہ شاہ نواز کی بیگم نجمہ بیگم اس دنیا سے چلی گئی تھی۔۔۔۔۔! لیکن آیت کی بھی کتنی بدقسمتی تھی کہ وہ ماں کی موت کے بارے میں بھی جان نہ سکی۔۔۔۔!
یا شائید اس کے شوہر نے اسے اس بات کا علم ہی نہیں ہونے دیا۔۔۔۔ ہاں۔۔۔۔! جب ذیشان کو یہ سب معلوم ہوا کہ نجمہ بیگم نہیں رہی تو اس نے آیت کو کچھ بھی بتانے سے صاف انکار کردیا۔۔۔۔!
کتنا سنگ دل تھا وہ جو اس کو اس کی مں کی موت سے بے خبر رکھ رہ تھا۔۔۔۔۔!” اس کی سفاکیت اور اس کے کالے دل کا یہی سے اندازہ ہوتا ہے۔۔۔۔۔!
جہاں ایک طرف ایک گھر میں ماتم کا سماع تھا وہی ایک طرف خوشیاں بھی منائی جارہی تھی۔۔۔۔۔! یمن اور یارش کی منگنی کی تیاریوں چل رہی تھی جو آج رات کو ہونی تھی۔۔۔!
آیت کی بونڈنگ یارش کے ساتھ اچھی تھی۔۔۔۔۔ وہ بالکل اسے اپنی بہنوں کی طرح ٹریٹ کرتا تھا یا شائید سے بھی کئی زیادہ بڑھ کر۔۔۔۔”
آیت بھی اسے اپنا بھائی مانتی تھی۔۔۔۔۔! آج دادی جان کے ساتھ ساتھ وہ آیت کو بھی شاپنگ پر لے کر گیا تھا۔۔۔۔۔!
ذیشان کا زیادہ تر وقت کام میں گزر جاتا تھا جبکہ آیت اس چیز سے خوش ہوتی تھی کہ وہ اس کے قریب نہیں ہے۔۔۔۔!
اس کی موجودگی میں وہ کافی بوکھلا جاتی تھی۔۔۔۔۔ لیکن وہ ابھی تک یہ نہیں جان پائی تھی کہ ذیشان نے اس سے شادی کیوں کی تھی۔۔۔۔۔؟
شاپنگ مکمل کرتے ہوئے وہ گھر پہنچے تھے۔۔۔۔۔” گھر میں بھی منگنی کے لیے تیاریاں چل رہی تھی۔۔۔۔۔ یوں مانو تو تیاریاں ایسے ہورہی تھی جیسے کہ کسی کی شادی ہو۔۔۔۔؟
لیکن حقیقت میں تو یہ صرف اور صرف منگنی کی رسم تھی۔۔۔ جو ادا کی جارہی تھی۔۔۔۔۔ جبکہ یہ سب کچھ دادی کی فرمائش پر یوریا تھا۔۔۔۔
کہ اتنے سالوں کے بعد گھر میں کوئی فنکشن یوریا ہے تو اسے بھرپور طریقے سے منایا جائے۔۔۔۔ “
بات کی جائے لڑکی والوں کی تو وہ بھی کافی خوش و خرم تھے۔۔۔ ان کے گھر بھی کافی دیر بعد یہ فنکشن ہو رہا تھا۔۔۔۔
یارش اب یمن کو پسند کرنے لگا تھا اس کا پیار دیوانگی میں بدلنے لگا ہے لیکن کیا وہ جو دیکھاتا ہے وہ حقیقت ہے۔۔۔۔؟
نجمہ بیگم کی میت کو گھر لایا گیا۔۔۔۔ کئی لوگ گھر میں جمع ہوئے اور ماتم منایا گیا۔۔۔۔”
جبکہ شاہ نواز اکیلے پر گئے تھے۔۔۔۔۔۔! نا تو اس وقت ان کی جان سے پیاری بیٹی ان کے پاس تھی اور نہ ہی ان کی بیگم اس دنیا میں رہی تھی۔۔۔۔۔”
وہ کرتے تو کرتے کیا۔۔۔۔۔؟ کس نے کہا کہ مرد نہیں روتا۔۔۔۔؟ کیا مرد کے اندر جذبات نہیں ہوتے یا وہ پتھر کا ہوتا ہے۔۔۔۔۔۔؟؟
آج شاہ نواز نے اس بات کو جھوٹا قرار دے دیا۔۔۔۔۔” آج اپنی محبت کے موت پر وہ ڈھارے مار مار کر روئے۔۔۔۔۔
وہ اندر سے مکمل طور پر ٹوٹ چکے تھے۔۔۔۔۔” بیٹی سے جدائی کا دکھ کیا کم تھا جو آج نجمہ بیگم بھی اس دنیا سے چلی گئی۔۔۔۔۔”
میت اٹھانے کا وقت آیا۔۔۔۔ شاہ نواز اپنی ہی محبت کی میت کو کندھا کیسے دیتے۔۔۔۔؟ ان میں تو ہمت ہی نہیں ہورہی تھی۔۔۔۔۔!
لیکن ہمت کرتے ہوئے وہ اٹھے اور ان کی میت کو کندھا دیا۔۔۔ اس موقع پر انھیں آیت کی یاد سخت ستا رہی تھی۔۔۔۔۔”
منگنی کی رسم کا وقت ہونے والا تھا اور سب مہمان اکٹھے ہورہے تھے۔۔۔۔۔ آیت صبح سے کاموں میں مصروف رہی تھی۔۔۔۔!
دادی کے ہلکا سا ڈانٹنے پر وہ کمرے میں آئی کپڑے لیتے ہوئے واش روم میں چلی گئی۔۔۔۔۔
لائٹ براؤن کلر کے ڈریس میں وہ بہت پیاری لگ رہی تھی۔۔۔۔! وہ شیشے کے سامنے آ کھڑی ہوئی۔۔۔۔۔!
اور ہلکا سا میک اپ کرنا شروع کیا۔۔۔۔۔ اس کا میک اپ کچھ ہی لمحات میں ہوگیا۔۔۔۔۔۔! اسے دوسری لڑکیوں کی طرح زیادہ میک کی عادت نہیں تھی۔۔۔۔۔”
اسی وقت ذیشان کمرے میں داخل ہوا۔۔۔۔۔۔! اس نے جیسے ہی دروازے کھولا تو دیکھا وہ اپنے کام میں مصروف ہے۔۔۔۔
اس نے آہستگی سے دروازہ بند کیا اور ہلکے ہلکے قدم لیے ہوئے اس کی طرف بڑھا۔۔۔۔۔!
اور اس کی ایک طرف جا کر کھڑا ہوگیا۔۔۔۔” جبکہ آیت نے اس کی آہٹ بالکل بھی محسوس نہیں کی تھی۔۔۔۔”
اس نے ویسے ہی نظریں گھمائی تو اسے اپنی سائیڈ پر کھڑا پایا۔۔۔۔ وہ ایک دم ڈر سی گئی۔۔۔۔ وہ اس کو یہاں پر بالکل بھی ایسپیکٹ نہیں کر رہ تھی۔۔۔۔” اور اسی وجہ سے اس کی چیخ نکل گئی۔۔۔۔
” آہ۔۔۔۔”
اس سے پہلے کہ اس کی آواز بلند ہوتی ذیشان نے فوراً اس کے چہرے پر ہاتھ رکھتے ہوئے اس کا منھ بند کیا اور اسے اپنی طرف کھینچا۔۔۔۔۔”
وہ اس کے اتنا قریب آچکی تھی کہ اگر آیت کے ہونٹوں پر اس کا ہاتھ نہ ہوتا تو ان دونوں کے ہونٹ مس ہو جاتے۔۔۔۔
ذیشان بھی ایسا کچھ ایسپیکٹ نہیں کر رہا تھا۔۔۔۔” پہلے تو آیت کو لگا کہ کوئی بھوت ہے۔۔۔۔ لیکن اس کو محسوس کرتے ہوئے اسے یقین ہوا کہ وہ ذیشان ہی ہے۔۔۔۔”
کچھ لمحات وہ دونوں یونہی ساکت سے رہے لیکن پھر ذیشان ہلکا سا پیچھے ہوا اور اس کی گرفت آیت پر ڈھیلی پڑی۔۔۔۔
وہ بھی فوراً پیچھے ہوئی۔۔۔۔ اور اپنی تیز ہوئی دھڑکنوں کو نارمل کرنے لگی۔۔۔۔”
” آ۔۔پ یہاں اس وقت۔۔۔۔!”
وہ بوکھلائے ہوئے لہجے میں اس سے گویا ہوئی۔۔۔۔” جس پر ذیشان کے ماتھے پر بل پڑے۔۔۔۔۔!
” کیوں میں یہاں نہیں آسکتا میرا کمرہ ہے۔۔۔۔!”
اس نے کمرے پر حق جتاتے ہوئے کہا۔۔۔۔۔” جس پر آیت نے اس کو حیرانگی سے دیکھا۔۔۔۔۔!
” لیکن اس طرح اچانک۔۔۔۔۔!”
آیت نے کچھ اور کہا۔۔۔۔۔
” اچانک آو یا بتا کر یا کھڑکا کر یہ میری مرضی ہوگی۔۔۔۔! سمجھی۔۔۔۔۔!”
وہ تھوڑا سختی سے گویا ہوا تو آیت خاموش ہوگئی۔۔۔۔۔! اور رخ شیشے کی طرف کر لیا۔۔۔۔۔”
وہ جب اسے یوں اگنور کرتی تھی تو اسے سخت چڑ ہوتی تھی۔۔۔۔ ! وہ اس کا خود کو یوں اگنور کرنا کیوں پسند نہیں کرتا تھا۔۔۔۔
اس کا اس سے دور بھاگنا ذیشان شاہ جو کیوں بے چین کرتا ہے۔۔۔۔۔! آخر کیوں وہ کچھ بھی سمجھ نا پایا۔۔۔۔؟
