Black Heart Love By Abdul Ahad Butt NovelR504882 Black Heart Love (Episode - 8)
No Download Link
Rate this Novel
Black Heart Love (Episode - 8)
Black Heart Love By Abdul Ahad Butt
وہ لوگ پولیس مین کمپلین چکے تھے۔۔۔۔۔! آئی جی صاحب کا حکم ہونے کی وجہ سے پولیس بھی اپنا کام اچھے طریقے سے بنگال رہی تھی۔۔۔۔”
پورے شہر کو چھان مارا تھا ان لوگوں نے۔۔۔۔” لیکن کہیں بھی انھیں آیت کا کوئی بھی نام و نشان نہیں ملا۔۔۔۔!
انھیں معلوم ہو گیا تھا کہ جس نے بھی آیت کو کڈ نیپ کروایا ہے۔۔۔۔! وہ اس شہر کا نہیں ہے۔۔۔۔”
اسی وجہ سے انھوں نے دوسرے شہروں کی پولیس سے رابطہ کیا اور انھیں بھی مدد کے لیے کہا۔۔۔۔”
چھان بین کے مطابق انھیں معلوم ہوا کہ ذیشان شاہ نے اس کو کڈنیپ کروایا ہے۔۔۔”
لیکن اس کے پولیس کے ساتھ کافی اچھے تعلقات تھے۔۔۔۔” جس وجہ سے پولیس میں اس کا کافی خوف تھا۔۔۔۔!
لیکن آئی جی صاحب کا بھی پیچھے سے کافی زور تھا۔۔۔۔۔” جس وجہ سے انھیں مجبوراً ذیشان سے اس متعلق بات کرنی پڑی۔۔۔۔!
.
نکاح خواہ پہنچ چکے تھے۔۔۔” ماحد اور اس کی والدہ بھی پہنچ گئے تھے۔۔۔۔” جنھیں دیکھ کر نجمہ حیران رہ گئی۔۔۔۔!
” ارے بھابھی۔۔۔۔۔! آپ بھی یہاں۔۔۔۔! مجھے تو لگا تھا کہ آپ نکاح میں نہیں آئے گی۔۔۔۔۔!”
اپنی بھابھی کو دیکھتے ہوئے نجمہ نے حیرانگی سے کہا۔۔۔۔” جس پر وہ مسکرائی۔۔۔۔„
” ارے بھئی نجمہ۔۔۔۔! جب میرے بیٹے کا نکاح ہے تو میں کیوں نہیں آؤ گی۔۔۔۔!”
اس کی بات سن کر نجمہ کو بہت عجیب سا لگا۔۔۔! یہ وہ کیا کہہ رہی ہے۔۔۔۔؟
” بھابی یہ آپ کیا کہہ رہی ہیں۔۔۔۔؟ میں کچھ سمجھی نہیں۔۔۔۔؟”
اس نے ماتھے پر بل ڈالتے ہوئے کہا۔۔۔۔!
” ارے بھئی۔۔۔ تم شائید ابھی تک سمجھی نہیں کہ نکاح ماحد اور عشاء کا ہی ہے۔۔۔۔!”
اس کی بات سنتے ہوئے اسے مکمل طور پر اچھا خاصا جھٹکا لگا تھا۔۔۔۔!! ایسا کیسے ہو سکتا تھا۔۔۔! کیا یہ واقع حقیقت ہے۔۔۔۔!
” سوری بیگم۔۔۔۔! میں آپ کا بتانا بھول گیا کہ کل ہی میں نے ماحد اور عشاء کا نکاح طہ کردیا تھا۔۔۔۔”
یہ کہتے ہوئے عشاء کے والد ایک گہری سوچ میں پڑ گئے۔۔۔” جب انھوں نے جواد کے گھر فون کیا۔۔۔۔!
” اسلام علیکم۔۔۔۔! کیسے ہیں آپ۔۔۔۔! دراصل میں نے آج آپ کو ایک خاص مقصد کے لیے فون کیا ہے۔۔۔۔!
میں نے جواد اور عشاء کا رشتہ ختم کر رہا ہوں۔۔۔۔ سو پلیز کل آپ کو نکاح کے لیے آنے کی کوئی ضرورت نہیں ہے۔۔۔۔!”
اس کے بابا نے انھیں مزید کچھ کہنے کا موقع دیے بغیر یہ رشتہ ختم کردیا اور فون رکھ دیا۔۔۔۔”
اس کے بعد ماحد اور عشاء کے نکاح کے لیے انھوں نے اپنی بھابھی کو فون کیا۔۔۔۔۔”
” اسلام علیکم۔۔۔۔! بھابھی کیسی ہیں آپ۔۔۔۔؟”
انھوں نے فون اٹھاتے ہوئے ان سے سوال کیا۔۔۔”
” وعلیکم السلام۔۔۔! کیسے ہو اور آج تم نے مجھے فون کیسے کر لیا۔۔۔۔؟”
انھوں نے بے یقینی سے فون اٹھاتے ہوئے اس سے کہا۔۔۔۔” وہ جس نے رشتہ تعلق سب ختم کردیا اس نے کیسے فون کر لیا۔۔۔!
” بھابھی۔۔۔۔! مجھے ایک ضروری بات کرنی ہے۔۔۔۔! بھابھی میں چاہتا ہوں کہ کل ہی ماحد اور عشاء کا نکاح کردیا جائے۔۔۔۔!”
ان کی یہ بات سن کر اس کی بھابھی کے ماتھے پر ہلکے سے بل پڑے۔۔۔!
” نکاح۔۔۔۔! لیکن تم نے تو ہم سے رشتہ توڑ دیا ہے نا تو یہ نکاح کیسے۔۔۔؟”
” بھابھی۔۔۔۔۔! وہ میری سب سے بڑی غلطی تھی۔۔۔۔! مجھے معاف کردیں۔۔۔۔ میں نے اپنی بیوی کی باتوں میں آکر بہت بڑی غلطی کردی۔۔۔۔!
لیکن مجھے اب اس بات کا احساس ہوا ہے۔۔۔۔! پلیز بھابھی اس نکاح کے لیے مان جائے۔۔۔۔! میں ہمیشہ آپ کا احسان مند رہو گا۔۔۔۔۔!”
” اس میں احسان والی کوئی بات نہیں ہے۔۔۔۔۔! عشاء میری بیٹی ہے۔۔۔! ہم کل نکاح کے لیے ضرور آئے گے۔۔۔!”
اپنی اور اپنی بھابھی کی یہ باتیں یاد کرتے ہوئے وہ حال میں واپس آئے تھے۔۔۔۔! اور ہلکا سا مسکرائے بھی۔۔۔۔”
جیا اور اس کی ماں کو یہ سب بالکل بھی اچھا نا لگا۔۔۔۔” وہ تو کچھ اور ہی سوچے بیٹھے تھے۔۔۔۔۔!
لیکن یہاں تو کچھ اور ہی ہو رہا تھا۔۔۔۔” جو ان کے سر سے اوپر اڑ رہا تھا۔۔۔۔” وہ اپنے ارادوں میں بری طرح ہار گئے۔۔۔۔”
” ارے شہناز بیگم۔۔۔۔! کیا ہوا ؟ تم بہت پریشان لگ رہی ہو۔۔۔۔! کہیں کوئی مسئلہ تو نہیں ہے۔۔۔۔!”
ابھی تو وہ بہت نرمی سے ان سے پیش آرہا تھا لیکن ماحد اور عشاء کے نکاح کے بعد اس پر لگامیں لگانے کے ارادے رکھتا تھا۔۔۔۔”
” ن۔۔۔۔۔ نہیں ن۔۔۔ نہیں۔۔۔۔۔! مجھے بلا کیا مسئلہ ہو سکتا ہے۔۔۔! آپ کو جو سہی لگے وہ کریں۔۔۔۔”
وہ پر سکون لہجے میں کہہ رہی تھی۔۔۔۔۔” لیکن اس کے تن بدن میں آگ لگ گئی تھی۔۔۔۔۔!
” اچھی بات ہے۔۔۔۔۔! اور مجھے نہین لگتا کہ تمھیں کوئی اعتراض ہونا چاہئیے۔۔۔۔۔!”
وہ طنزیہ کہہ گیا لیکن شہناز اس کی بات کو نہ سمجھی اور ہلکا سا مسکرا گئی۔۔۔۔”
” امی۔۔۔۔۔! مجھے نہیں پتا کچھ بھی کریں یہ شادی رکوائیں۔۔۔۔! ورنہ میں کچھ کر جاؤ گی۔۔۔۔۔!”
جیا نے اپنی والدہ شہناز کو ایک طرف کرتے ہوئے کہا تھا۔۔۔! جس پر شہناز نے اسے گھورا۔۔۔۔”
” بکواس بند کرو اپنی جیا۔۔۔۔ یہ کیا بات ہے کہ میں کچھ کر بیٹھو گی۔۔۔۔” خبردار جو آج کے بعد ایسی بات اپنی زبان پر بھی لائی تو۔۔۔۔!”
وہ غصے سے بولی۔۔۔۔” پھر نکاح کا وقت ہوا۔۔۔۔۔”
.
مولوی صاحب نے اجازت لیتے ہوئے نکاح شروع کروایا۔۔۔۔۔” ماحد اور عشاء ایک دوسرے کے سامنے بیٹھے ہوئے تھے۔۔۔۔”
جبکہ عشاء ابھی تک اس بات سے نا واقف تھی کہ اس کا نکاح ماحد سے ہو رہا ہے۔۔۔۔”
” عشاء ولد مہر امجد آپ کا نکاح مہر ماحد والد سلطان مہر سے بعوض حق مہر شرعی کیا جاتا ہے کیا آپ کو یہ نکاح قبول پے۔۔۔۔؟”
مہر ماحد کا نام سنتے ہی عشاء کو جھٹکا لگا کیا مولوی صاحب نے نام غلط لے لیا لیکن نظر اٹھا کر دیکھا تو سامنے اسے پایا۔۔۔۔”
” عشاء بیٹا جواب دو۔۔۔۔۔”
اس کے بابا نے اسے ہمت دیتے ہوئے کہا جس پر عشاء سر ہاں میں ہلا گئی۔۔۔۔۔”
ق۔۔۔ قبول ہے۔۔۔
قبول ہے۔۔۔۔۔۔۔
ق۔۔۔۔قبول ہے۔۔۔
تینوں دفعہ مولوی صاحب کے پوچھنے پر لڑکھڑاتے لہجے سے اس نے اس نکاح کو قبول کیا۔۔۔” اس سے سائن کروانے کے بعد مولوی صاحب ماحد کی طرف متوجہ ہوئے۔۔۔۔!
” مہر ماحد والد سلطان مہر آپ کا نکاح عشاء ولد مہر امجد سے بعوض حق مہر شرعی کیا جاتا ہے کیا آپ کو یہ نکاح قبول ہے۔۔۔؟”
قبول ہے۔۔۔۔۔۔!
قبول ہے۔۔۔۔۔۔!
قبول ہے۔۔۔۔۔!
اس نے بھی تینوں مرتبہ کہتے ہوئے اسے اپنے نکاح میں شامل کر چکا تھا۔۔۔۔” اسے اپنے پیار پر پورا بھروسہ تھا۔۔۔۔ جو پورا ہوا۔۔۔۔
اور عشاء اس کے حق میں لکھ دی گئی۔۔۔۔۔” ماحد اور عشاء کا نکاح ہو گیا۔۔۔۔”
اب عشاء امجد مہر سے عشاء ماحد مہر بن گئی تھی۔۔۔۔۔”ت سارے ڈرے سے لگ رہے تھے۔۔۔۔!
” مجھے نہیں پرواہ کہ وہ کس کی بیٹی ہے۔۔۔۔؟ اور نہ ہی مجھے جاننا ہے کہ آئی جی کا اس سے کیا رشتہ ہے۔۔۔۔!
مجھے بس یہی معلوم ہے کہ وہ میری بیوی ہے۔۔۔۔! اور جب تم یہ اپنے آئی جی کو بتاؤ گے تو مجھے لگتا کہ اسے کوئی اعتراض ہوگا۔۔۔
میاں بیوی کے ساتھ رہنے میں۔۔۔”
ذیشان نے اس کی بات سنتے ہوئے نہایت ہی پر سکون سے لہجے میں کہا۔۔۔۔! پولیس یہ سن کر حیران رہ گئی۔۔۔۔”
” نکاح۔۔۔۔!!!”
ان میں سے ہی ایک چونک کر بولا۔۔۔۔۔
” ہاں نکاح۔۔۔۔! اور خبردار جو اسے یہاں سے لے کر جانے کا سوچا بھی تو۔۔۔۔!”
ذیشان نے اسے سب کچھ کلئیر کیا اور ایک نوٹوں کی تھدی اس کی طرف پھینکی۔۔۔۔!
وہ جانتا تھا کہ انھیں کیا چیز مات دے گی اور یہ پیسہ ہی تھا کو انھیں دے چکا تھا۔۔۔۔ نوٹ دیکھتے ہوئے ان کے اندر کی غیرت مر گئی۔۔۔۔”
” سر آپ کا کام ہو جائے گا۔۔۔۔ فکر مت کریں۔۔۔ ہم آئی کی کو سمجھا لے گے۔۔۔۔! بس آپ ہم پر یہی رحم و کرم کردیا کریں۔۔۔۔”
اس پولیس آفیسر نے لالچی لہجے میں کہا جا پر ذیشان نے بنا کچھ کہے انھیں باہر کا اشارہ کیا اور تینوں وہاں سے نکل گئے۔۔۔۔۔”
” چلو زرا بیگم کے پاس چلتے ہیں رات بھر میری بیگم نے میرا انتظار کیا ہے۔۔۔۔! اب اس انتظار کو ختم کرتے ہیں۔۔۔۔!”
وہ مسکراتے ہوئے خود سے ہی بولا۔۔۔۔” کیونکہ کل رات وہ بالکل بھی آیت کے پاس کمرے میں نا گیا۔۔۔۔
جبکہ وہ کافی ڈر اور سہم گئی تھی۔۔۔۔ اس کے ساتھ جو یہ سب ہوا اس کے لیے برداشت کرنا بھی بہت مشکل ہے۔۔۔۔”
لیکن رات کو رو رو کے اس نے اپنا برا حال کر لیا لیکن کچھ ہی دیر میں اس کی آنکھ لگ گئی۔۔۔۔!
.
وہ کمرے میں داخل ہوا تو اسے روتا ہوا پایا۔۔۔! کل رات سے وہ رو ہی رہی تھی۔۔۔”
اسے شدید غصہ چڑھا اور اس کی طرف بڑھا۔۔۔۔۔! لیکن اسے اپنی طرف بڑھتا ہوا دیکھ کر وہ معصوم سی گئی۔۔۔۔
” یہ کیا رونا دھونا لگا رکھا ہے تم نے۔۔۔۔؟ مجھے روندھو لڑکیاں بالکل بھی پسند نہیں۔۔۔۔۔!
اور اب جو ہونا تھا وہ ہو گیا ہے۔۔۔۔ ہمارا نکاح ہو گیا ہے۔۔۔۔! اب اگر مجھے روتی ہوئی نظر آئی تو ایسا حال کرو گا کہ پوری زندگی یاد رکھو گی۔۔۔۔”
اسے دیکھتے ہی اس کی آنکھوں میں خون اتر آیا۔۔۔ اسے اس میں شاہ نواز کا عکس نظر آتا تھا۔۔۔
” نہیں مانتی میں اس نکاح۔۔۔۔!”
” خبردار جو یہ الفاظ زبان پر لانے کی کوشش بھی کی تو۔۔۔ ورنہ جسم سے جان نکال کر رکھ دو گا۔۔۔”
آیت جیسے ہی بولی۔۔۔۔ ذیشان کی آنکھوں میں خون ایک دفعہ پھر سے اترا اور اس کانھ دبوچتے ہوئے وہ انگاروں بھرے لہجے میں بولا۔۔۔۔۔!
” د۔۔۔۔یکھو پ۔۔۔۔ پلیز۔۔۔۔ مجھے ج۔۔۔۔انے دو۔۔۔۔۔ م۔۔۔ یں۔۔۔۔ ن۔۔۔۔ے تم۔۔۔ھارا کچھ نہیں بگاڑہ۔۔۔۔!”
جیسے ہی ذیشان نے اس کا چہرہ چھوڑا تو بکھرتے الفاظ کے ساتھ بول گئی۔۔۔”
جس پر ذیشان کے چہرے پر شیطانی مسکراہٹ چھا گئی۔۔۔۔۔! جبکہ آیت اسے دیکھتی ہی رہ گئی۔۔۔۔
” مجھے بھی معلوم ہے کہ تم نے کچھ بھی نہیں کیا ہے۔۔۔۔؟ لیکن تمھارے کسی بہت ہی عزیز نے میرا بہت کچھ بگاڑہ بھی ہے۔۔۔۔۔”
وہ بولا تو آیت ایک گہری سوچ میں پڑ گئی کہ وہ شخص کہہ۔کیا رہا تھا۔۔۔۔؟ کس کے لیے کی سزا بھگت رہی تھی وہ۔۔۔۔۔؟
کس کی بات کر رہا تھا ذیشان شاہ۔۔۔۔۔! وہ اپنی ہی سوچوں میں گم سم تھی جب وہ کمرے سے نکل گیا۔۔۔۔
اور دروازے کے بند ہونے کی وجہ سے کھڑاک کی آواز پیدا ہوئی جس سے وہ ہوش میں آئی۔۔۔۔”
ہوش میں آتے ہی وہ فوراً دروازے کی طرف بڑھی۔۔۔۔”
” پلیز مجھے جانے دو۔۔۔۔ پلیز مجھے جانے دو۔۔۔۔”
وہ دروازے کی طرف بڑھی اور دروازے پر زور زور سے ہاتھ مارتے ہوئے دھارے مار مار کر رونے لگی۔۔
لیکن اس شخص پر کسی بھی چیز کا اثر ہونے کا نام ہی نہیں لے رہا تھا۔۔۔۔۔
کالے دل کا انسان تھا نا تبھی تو یہ سب کچھ اس پر کوئی بھی اثر نہیں رکھتا تھا۔۔۔۔”
.
آج یمن کی ٹرپ واپس چلی گئی۔۔۔۔۔! لیکن بہت یادیں چھوڑ گئی۔۔۔۔
یمن نے اپنی دوست امبر کے ساتھ بہت انجوائے کیا۔۔۔۔ کچھ لمحات کو اپنے پاس سیو بھی کر لیا۔۔۔۔۔”
لیکن یارش کو جب معلوم ہوا کہ وہ چلی گئی ہے تو اسے تھوڑا سا برا لگا۔۔۔۔
شائید وہ یہ نہیں چاہتا تھا کہ وہ چلی جائے۔۔۔۔؟ لیکن کیوں وہ یہ نہیں چاہتا کہ وہ اس سے دور جائے۔۔۔۔؟
کیوں وہ۔یہ چاہتا ہے کہ یمن اس کے قریب رہے اس کی نظروں کے سامنے۔۔۔۔؟
آخر کیوں کیا رشتہ تھا اس کا یمن سے۔۔۔۔۔۔؟ کیوں وہ ایسا چاہتا تھا۔۔۔۔
کیا اسے ایسا پہلے بھی کسی لڑکی کے لیے محسوس ہوا تھا۔۔۔۔؟ یا یہ پہلی مرتبہ تھا۔۔۔۔؟
اسے ایک عجیب سا احساس محسوس ہو رہا تھا۔۔۔۔کیا تھا وہ احساس کس چیز کی طرف وہ اشارہ کر رہا تھا۔۔۔۔۔”
کیا یہ احساس محبت کا تھا۔۔۔۔۔؟ یا کسی اور کا۔۔۔۔؟ لیکن اسے کیسے اس سے محبت ہو سکتی ہے۔۔۔۔؟
وہ تو اس کے ساتھ کچھ ہی لمحے رہا ہے۔۔۔۔۔! تو محبت کیسے۔۔۔۔۔؟ ایسا کچھ بھی نہیں ہے۔۔۔۔۔!
وہ خود کو سمجھاتا ہوا سوچ رہا تھا۔۔۔ لیکن اس کا خیال تھا کہ ذہن سے جانے کا نام ہی نہیں لے رہا تھا۔۔۔”
.
ماحد اور عشاء کی رخصتی ابھی نہیں کی گئی تھی۔۔۔ کیونکہ ابھی بس سرپرائز نکاح ہوا تھا۔۔۔۔
جس سے سب شاکڈ تھے۔۔۔۔ حتی کہ خود عشاء بھی یہ سب سمجھ نہ پائی۔۔۔۔! یہ اب کب کیسے اور کیوں ہوا۔۔۔۔؟
اس کے بابا تو اس کی شادی کسی اور کے ساتھ کروانا چاہتے تھے۔۔۔۔؟ اور وہ کوئی اور نہیں بلکہ اس کا ہی کزن تھا۔۔۔۔؟
لیکن پھر اس کا یوں اچانک ماحد کے ساتھ نکاح سب کچھ اس کی سوچ سمجھ سے باہر تھا۔۔۔! اور کیا ماحد کو یہ سب معلوم تھا کہ نہیں۔۔۔!
وہ ابھی ابھی اپنے کمرے میں پہنچی۔۔۔۔۔ اور چینج کر کے جیسے ہی کمرے سے باہر نکلی تو سامنے ہی اسے کھڑا ہوا پایا۔۔۔۔!
” آپ۔۔۔۔۔!”
ایک لمحے کے لیے تو عشاء ڈر سی گئی۔۔۔۔ لیکن پھر اسے دیکھتے ہوئے اس نے ماتھے پر بل لیے ہوئے کہا۔۔۔۔۔!
” ہاں میں۔۔۔۔۔۔! تو بتاؤ پھر کون جیتا۔۔۔۔۔؟ تم نے تو کہا تھا کہ ہم کبھی بھی ایک نہیں ہونگے۔۔۔۔
اور میں نے تم سے یہ کہا تھا کہ تم صرف اور صرف میری ہو صرف مہر ماحد کی عشاء ماحد مہر۔۔۔۔
اور دیکھو تم اب میری ہو اور میرا تمھارے ساتھ ایسا تعلق بند چکا ہے۔۔۔۔۔ جس میں تمھیں مجھ سے لگ کرنے کی ہمت کسی کی بھی نہیں۔۔۔۔۔!
تو بولو پھر کیا میں درست تھا کہ تم میری ہو اور اب تو تمھارے بابا نے ہی ہمارا نکاح بھی کروا دیا ہے۔۔۔۔۔”
وہ اسے اپنی اور اس کے درمیان ہوئی ساری باتیں یاد کرواتا ہوا بولا۔۔۔۔۔” جبکہ وہ خاموش سی کھڑی رہی۔۔۔۔۔”
” وہ۔۔۔۔۔۔ وہ۔۔۔۔ ماحد۔۔۔۔”
وہ کچھ کہنے ہی لگی کہ جب ہی ماحد نے اس کا بازو پکڑتے ہوئے اسے اپنی طرف کھینچا۔۔۔۔
لیکن عشاء توازن نہ برقرار رکھ سکی اور اس کے سینے سے جا ٹکڑائی۔۔۔۔۔!
