Black Heart Love By Abdul Ahad Butt NovelR504882 Black Heart Love (Episode - 36)
No Download Link
Rate this Novel
Black Heart Love (Episode - 36)
Black Heart Love By Abdul Ahad Butt
ماحد ابھی ہی آفس سے گھر واپس لوٹا تھا۔۔۔۔۔۔ وہ موبائل میں بیزی تھا۔۔۔۔!! اس نے جیسے ہی نظر اٹھا کر سامنے کی طرف دیکھا تو عشاء کے قدم اپنی طرف بڑھتے ہوئے دکھائی دیے۔۔۔۔!
وہ یونہی چپ چاپ اسے اگنور کرتا ہوا چلتا جا رہا تھا۔۔۔۔۔!! جب ہی عشاء اس کے پاس آ رہی تھی۔۔۔۔
” ماحد مجھے آپ سے بات کرنی ہے۔۔۔۔!! “
وہ جیسے ہی ماحد کے پاس آکر رکی اور جب ہی ماحد نے نظریں اٹھا کر سامنے دیکھا تو جیا کو چھپتا ہوا پایا۔۔۔۔!!
” لیکن مجھے تم سے کوئی بات نہیں کرنی!! “
وہ تلخ لہجے میں اس سے گویا ہوا۔۔۔۔ ماحد کو جیا مسکراتی ہوئی اچھے طریقے سے دکھائی دے رہی تھی۔۔۔۔!!
” مجھے آپ سے ایک بہت ضروری بات کرنی ہے۔۔۔۔!! اور میری بات سنے بغیر آپ یہاں سے نہیں جا سکتے!!! “
عشاء ضدی بنی۔۔۔۔
” لیکن میں نے کہا نا مجھے کوئی بات نہیں کرنی تو نہیں کرنی ؟؟ اور نا ہی مجھے کوئی تم سے بات کرنے والا تعلق رکھنا ہے۔۔۔۔ “
وہ غصے سے کہتا ہوا وہاں سے آگے بڑھ گیا۔۔۔۔۔!! جب ہی جیا بھی وہاں سے چلی گئی۔۔۔۔
ماحد نے اسے جاتا ہوا دیکھ لیا لیکن جیا نہیں جان پائی کہ ماحد بھی اسے دیکھ چکا ہے۔۔۔۔!!
” آہ۔۔۔۔۔!! “
کچھ لمحات بعد ہی عشاء کی ایک چیخ بر آمد ہوئی۔۔۔۔ جیا وہاں سے جا چکی تھی۔۔۔۔!!
ماحد نے جیسے ہی مڑ کر دیکھا تو عشاء سر ہاتھوں میں تھامے کھڑی تھی۔۔۔۔ ماحد کو غصہ چڑھا اور اس کی طرف لپکا۔۔۔
” عشاء تم پاگل ہو ہر بات کو دل سے لگا لیتی ہو!! “
اس کے قریب آتا ہوا ماحد عشاء کو اپنی باہوں میں بھر گیا۔۔۔ اور نیم غصیلے لہجے میں اس سے گویا ہوا۔۔۔۔
عشاء ہلکا سا مسکرائی۔۔۔۔
” یہاں دل کو نہیں دماغ کو لگی ہے!! “
عشاء نے مسکراتے ہوئے اس کی بات کا مزاق بنایا کہ اس کے دل میں نہیں بلکہ سر میں درد ہو رہا ہے۔۔۔۔!
جب ہی وہ اسے اس کے کمرے میں لے گیا۔۔۔!
کمرے میں لاتا ہوا اسے صوفے پر بٹھا گیا۔۔۔۔!!! عشاء کا سر درد کافی بہتر ہوگیا۔۔۔۔۔!! عشاء صوفے سے کھڑی ہوتی ہوئی اس کے رو برو آئی۔۔۔!!!
” میں تو مان گئی آپ کو سچی میں مجھے تو یہی لگا کہ آج یہ رشتہ پکا ختم۔۔۔۔۔!! “
اس کے منھ سے یہ نکلے ہوئے الفاظ ماحد مہر جو تڑپا گئے تھے۔۔۔۔۔ جب ہی اس نے عشاء کو اپنے سینے سے لگا لیا۔۔۔۔”
” شششش!!! خبردار جو آئیندہ اس قسم کی بات کرنے کی کوشش بھی کی تو۔۔۔۔۔ ورنہ میں تم سے سچی میں ناراض ہو جاؤ گا۔۔۔۔”
وہ اسے سینے سے لگاتا ہوا آنکھیں موند گیا۔۔۔۔ جبکہ اسے سینے سے لگاتے ہوئے ماحد کے دل میں سکون اترتا جا رہا تھا۔۔۔۔
جب سے وہ گھر آئی تھی وہ اس وقت سے اسے سینے سے نہیں لگا پایا تھا۔۔۔۔۔ اپنے پلین کے چکر میں اس سے ڈھنگ سے بات بھی نہیں ہوئی تھی اس کی۔۔۔۔
ماحد کے سینے سے لگتے ہی عشاء کے لبوں پر بھی مسکراہٹ بکھر گئی تھی۔۔۔۔!! اس کے زخم ابھی تک بھرے نہیں تھے۔۔۔۔ لیکن اس کے سینے سے لگ کر عشاء کو کافی سکون میسر آیا تھا۔۔۔۔۔۔
” سوچ سمجھ کر بولا کرو عشاء جو تمھارے منھ میں آتا ہے بول دیتی ہو۔۔۔۔۔!! “
کچھ لمحات تک وہ اسے سینے سے لگائے اس کے لمس کو محسوس کرتا رہا۔۔۔ پھر عشاء اس کے سینے سے جدا ہوئی۔۔۔۔! جب ہی ماحد سمجھانے والے انداز میں اس سے کہہ گیا۔۔۔۔
” سوری!!! “
عشاء تھوڑی سی شرمندہ ہوتے ہوئے بولی۔۔۔۔!!
” سوری سے کام نہیں چلے گا۔۔۔۔ بلکہ ایک منٹ ایک منٹ میں تو تم سے ناراض ہو بہت ناراض!!! اور اصل کھیل تو صبح کھیلا جائے گا!! “
وہ مسکراتے ہوئے بول ہی رہا تھا جب ہی اس کے ذہن میں ایک بات گھومی جس کے یاد آتے ہی ماحد کے ماتھے پر بل پڑے اور چہرے پر غصہ بھی رونما ہوا۔۔۔۔!
” کیوں ؟؟ کیوں ناراض ہیں آپ مجھ سے ؟؟ “
عشاء نے سوالیہ نگاہوں سے اسے دیکھتے ہوئے پوچھا۔۔۔۔ جس پر ماحد مزید زچ ہوا۔۔۔
” تم نے سوچ بھی کیسے لیا کہ یہ بات مجھ سے چھپی رہ جائے گی ؟؟ کہ تمھیں کڈ نیپ کروانے والا کوئی اور نہیں بلکہ وہ بد تمیز جیا ہی تھی۔۔۔۔۔!! “
اس کی بات سنتے ہوئے عشاء کی آواز حلق میں ہی اٹکی رہ گئی۔۔۔۔۔!! وہ اسے ابھی نہیں بتانا چاہتی تھی۔۔۔۔
کیونکہ وہ ڈر رہی تھی کہ کہیں جیا کو جیل نا بھیج دیا جائے!! وہ حیران تھی کہ اسے یہ بات کیسے پتہ چلی ؟؟
” اس رات جب تم نے مجھ سے ساری حقیقت شئیر کی تو تم نے مجھے یہ کیوں نہیں بتایا کہ وہ جیا ہی تھی جس نے تمھیں کڈ نیپ کروایا تھا۔۔۔۔!! “
ماحد نے ناراضگی سے کہا اور اس رات ہونے والے واقع کو یاد کیا۔۔۔۔!! جب اس کی اور عشاء کی لڑائی کو دیکھ جیا نے جا کر سب کچھ اپنی ماں کو بتایا۔۔۔۔
( فلیش بیک سین )
اس رات جب جیا اس بات سے بے چین تھی کہ عشاء بچ گئی۔۔۔۔۔۔ اور وہ اپنے مقصد میں نا کام ہوگئی ہے۔۔۔۔!!
اور جب اس نے ہر بڑی میں سارے راز اپنی ماں کے سامنے کھول دیے تو وہ دونوں ماں بیٹی یہ نہیں جانتی تھی کہ ان کی ساری کی ساری باتیں عشاء نے سن لی ہیں۔۔۔۔۔!!!
عشاء کو یہ سب سن کر بہت بڑا جھٹکا لگا تھا۔۔۔۔۔!! کہ جیا ہی تھی وہ جس نے اسے کڈ نیپ کروایا۔۔۔۔۔”
اور وہ اس کی سگی بہن نہیں ہے اور نا ہی اس نے اسے کبھی اپنی بہن مانا ہے۔۔۔۔!!
جبکہ عشاء نے تو اسے ہمیشہ اپنی بہن سے بڑھ کر سمجھا۔۔۔۔۔!!! لیکن جیا نے ہی اس کے ساتھ اتنا برا کیا۔۔۔ ؟ کیوں صرف اور صرف ماحد کو پانے کے لیے!!!!
اور اس کی ماں نے اس کا ساتھ دیا بس صرف اس جائیداد کے لالچ میں!! انھوں نے اگر کبھی عشاء کے لیے محبت دکھائی بھی تھی تو وہ بس جائیداد کی وجہ سے۔۔۔۔۔!!
وہ ہلکے ہلکے قدم لیتے ہوئے گاڑدن کی طرف بڑھ گئی۔۔۔۔ لیکن جیا اور نجمہ کو کچھ بھی معلوم نہیں ہوا۔۔۔۔۔”
عشاء گاڑدن میں تھی۔۔۔۔!! جب ہی ماحد آہستگی سے اس کے قریب پہنچا۔۔۔۔ سرد ہوائیں چل رہی تھی اور وہ بس ایک عام سا دوپٹہ لیے کھڑی تھی۔۔۔۔
اور وہ دوپٹہ بھی اس کے کندھے سے سرکتا ہوا اس کے پیروں کو چھو رہا تھا۔۔۔۔!! ماحد کو ایک پل کے لیے غصہ آیا۔۔۔ کہ وہ کتنی لا پرواہی برتے رہی ہے۔۔۔۔
اتنی ٹھنڈ ہے اور یہ لڑکی یہاں لاپرواہی سے کھڑی ہے۔۔۔۔ پہلے طبعیت کیا کم خراب ہے جو مزید ٹھنڈ لگوانی ہے اسے۔۔۔۔!!
لیکن پھر جیسے ہی وہ اس کے قریب گیا تو اسے روتا ہوا پا کر اسے جھٹکا لگا۔۔۔۔!!
” عشاء تم رو رہی ہو ؟؟ کیا ہوا ؟؟ “
ماحد نے پریشانی کے عالم میں اس کا رخ اپنی طرف موڑا۔۔۔۔!! جب ہی وہ اس کے گلے سے لگ گئی۔۔۔۔!! اور مزید روانگی سے رونے لگی۔۔۔۔!! ماحد کا دل مزید بیٹھتا جا رہا تھا۔۔۔۔۔
” عشاء پلیز مجھے بتاؤ کیا ہوا ہے کیوں رو رہی ہو ؟؟ “
ماحد نے اسے خود سے جدا کرتے ہوئے اس کے آنسوؤں کو اپنے لبوں سے چنا اور آہستگی سے اس سے سوال کیا!!!
اس کا لمس محسوس کرتی عشاء بھی چپ کر گئی۔۔۔۔۔!! اسے یہ سچائی اپنے بابا کے سامنے ہر حال میں لانی تھی کہ وہ کتنے بڑے دھوکے میں جی رہے ہیں۔۔۔۔۔
جیا ان کی بیٹی نہیں ہے۔۔۔! ہر سچ لانا چاہتی تھی وہ ان کے سامنے۔۔۔۔!!
” ماحد۔۔۔۔۔!! جیا نے آپ کو کیا میری کچھ تصویریں دکھائی ہیں ؟؟ “
عشاء کے سوال پر ماحد کو یاد آیا کہ جیا نے اسے آج صبح ہی عشاء کی کچھ تصویرات دکھائی تھی۔۔۔۔۔۔!!
لیکن وہ تو اس بات کو بھول بھی چکا تھا۔۔۔۔” کیونکہ اسے جیا ہر بالکل بھی بھروسہ نہیں تھا۔۔۔۔!!
” ہاں پر تم کیوں پوچھ رہی ہو ؟ کیا اس نے تم سے کچھ کہا ہے ؟؟”
یہ کہتے ہوئے ماحد کے ماتھے پر بل پڑے۔۔۔۔!
” جب اس نے آپ کو تصویریں دکھائی تو آپ نے اسے کیا کہا ؟؟ “
عشاء نے اس سے ایک اور سوال کیا۔۔۔۔!!
” عشاء۔۔۔۔۔!! جب اس نے مجھے وہ تصاویر دیکھائی تو میں خاموش ہو گیا۔۔۔۔ کیونکہ اس وقت تمھاری حالت بہت خراب تھی اور میں نہیں چاہتا تھا کہ گھر میں کوئی بد مزگی پیدا ہو۔۔۔۔
لیکن مجھے سمجھ نہیں آئی کہ نا جانے اس نے وہ تصاویر مجھے کیوں دکھائی۔۔۔۔!! “
ماحد نے ساری بات اس کے سامنے کلئیر کی تھی۔۔۔۔۔!!
” تو یعنی آپ کو یہ نہیں لگا تھا کہ میں آپ کو دھوکا دے رہی ہوں ؟؟؟ “
عشاء نے ایک اور سوال اس سے کیا۔۔۔۔!!
” نو نہیں۔۔۔۔۔!! کبھی بھی نہیں۔۔۔۔!! میں ایسا خیال کبھی اپنے ذہن میں لا بھی نہیں سکتا کہ تم مجھے دھوکا دو گی۔۔۔۔!! “
ماحد نے اس کے ہاتھوں کو اپنے ہاتھوں میں لیے ہوئے اسے تسلی دی۔۔۔۔!! عشاء ہلکا سا مسکرائی۔۔۔۔!!
” اب تم مجھے بتاؤ کہ تم کیوں رو رہی تھی ؟؟ “
ماحد نے اس کی بات کا جواب دے کر اس سے سوال کیا کہ وہ کیوں رو رہی تھی۔۔۔۔؟؟
عشاء اب اسے ساری حقیقت بتانے کا ارادہ رکھتی تھی۔۔۔۔ اور اس نے یہی کیا ایک ایک کر کے ساری باتیں اسے بتاتی چلی گئی۔۔۔۔۔!!
لیکن اس نے ماحد کو اس بات سے خود نا واقف رکھا کہ جیا نے ہی اسے کڈ نیپ کروایا تھا۔۔۔۔!!
کیونکہ وہ ایک مرتبہ خود اس سے بات کرنا چاہتی تھی۔۔۔۔۔!! کہ اس نے ایسا کیوں کیا ؟
یہ سن کر ماحد کو بھی بہت بڑا دھچکا لگا۔۔۔۔ وہ ان سے یہ پوچھنا تو چاہتا تھا کہ انھوں نے یہ سب کچھ کیوں کیا ؟؟ اور عشاء پر اتنا بڑا الزام کیوں ؟؟
لیکن عشاء نے اسے روک دیا کیوں کہ وہ ان کے خلاف ثبوت ڈھونڈنا چاہتی تھی۔۔۔۔!! تا کہ وہ اپنے بابا کو بھی ان دونوں کی حقیقت سے آگاہ کر سکے۔۔۔۔!!
اور انھوں نے ایسا کرنے کے لیے ایک چال چلی جس میں وہ کامیاب ہوگئے۔۔۔۔!!
( حال )
” لیکن یہ بات آپ کو کیسے معلوم ہوئی ؟؟ “
عشاء نے سارے واقع کو یاد کرتے ہوئے اس سے سوال کیا کہ اسے یہ سب کچھ کیسے معلوم ہوا ؟؟
” میں نے جیا کو بات کرتے ہوئے سنا تھا۔۔۔۔!! لیکن اب میں تمھاری ایک بھی نہیں سنو گا۔۔۔۔ اب جو کرنا ہو گا میں کروں گا اور وہ بھی کل صبح۔۔۔۔۔!!
اور ویسے بھی ہمیں سارے ثبوت مل گئے ہیں نا۔۔۔۔!! “
ماحد نے اسے بتایا کہ عشاء کی کڈ نیپنگ والی بات اسے کیسے معلوم ہوئی۔۔۔۔!! اور اب اس کا آگے کیا کرنے کا ارادہ ہے۔۔۔۔!!
” جی ہمیں سارے ثبوت مل گئے ہیں۔۔۔۔۔!! آج صبح بھی جب نجمہ آنٹی اور جیا ساری باتیں کر رہی تھی ایک دوسرے سے تو میں نے ان کی ساری باتیں اپنے موبائل میں ریکارڈ کر لی تھی۔۔۔۔!! “
عشاء نے بھی اسے حقیقت سے آگاہ کیا۔۔۔۔!!
” لیکن آپ کرے گے کیا ؟؟ “
عشاء کے سوال پر ماحد مسکرایا۔۔۔۔!!!
” وہ تم بس مجھ پر چھوڑ دو اور چپ چاپ جا کر ریسٹ کرو زیادہ زور مت ڈالو اپنے دماغ پر ورنہ پھر درد ہو گا۔۔۔۔!! “
آہستگی سے آگے بڑھتا اس کے گالوں سے اپنے لب لگائے انھیں چومتا ہوا وہ پیچھے کی طرف بڑھا اور اس کے گالوں کو اپنے ہاتھوں کے پیالے میں لیتا ہوا پیار سے کہتا ہوا وہاں سے چلا گیا۔۔۔۔!!
اب جیا اور نجمہ کا مزید بچ پانا بہت زیادہ مشکل تھا۔۔۔۔!!!
” پلیز مجھے معاف کردے۔۔۔۔۔!! مجھ سے بہت بڑی غلطی ہوئی ہے غلطی نہیں گناہ کیا ہے میں نے !! جس کی شائید معافی نہیں ہے۔۔۔۔!! “
شاہ نواز کو دروازے پر جب بیل بجنے کی آواز سنائی دی تو اس نے جا کر دروازہ کھولا۔۔۔۔ سامنے ہی اسے ذیشان کھڑا دکھائی دیا۔۔۔۔۔۔ لیکن اس مرتبہ اسے اس کے چہرے پر وہ غصہ ٬ وہ بدلے کی آگ نظر نہیں آئی جو ہمیشہ ہوا کرتی تھی۔۔۔۔!!
اس نے حیرانگی سے اسے دیکھا اور اس سے سوال کیا کہ وہ یہاں کیا کر رہا ہے ؟؟
جس پر ذیشان نے اسے بتایا کہ وہ اس سے بات کرنا چاہتا ہے۔۔۔۔ شاہ نواز نے اسے اندر آنے کی اجازت دی۔۔۔۔ بات کرنے کے لیے وہ دونوں آمنے سامنے کھڑے ہوئے۔۔۔۔!!!
جب ہی ذیشان گھٹنوں کے بل بیٹھتا ہوا اس سے معافی مانگنے لگا۔۔۔۔!! ایک لمحے کے لیے تو شاہ نواز کو بھی شدید جھٹکا لگا۔۔۔۔!!
اسے بالکل بھی امید نہیں تھی کہ ذیشان اس سے یہ بات کہے گا!!
” میں جانتا ہوں کہ میں نے بہت بڑی غلطی کی ہے۔۔۔۔ پہلے آیت کے ساتھ غلط کیا اس کی ساتھ ساتھ آپ کو اور آپ کی وائف کو کتنا تڑپایا میں نے۔۔۔۔!!!
میں ہی ہوں ان کی موت کا زمہ دار۔۔۔۔!!
لیکن میں قسم کھا کر کہتا ہوا کہ یہ جو کچھ بھی میں نے کیا کہ میں نے صرف اور صرف بدلے کی آگ میں کیا۔۔۔۔۔
اس وقت میں حقیقت سے آشنا نہیں تھا۔۔۔۔۔!! اور مجھے میرے بدلے کے آگے کچھ بھی دیکھائی نہیں دے رہا تھا۔۔۔
کچھ بھی نہیں۔۔۔۔۔ اور اس کے لیے میں آپ سے بہت شرمندہ ہوں۔۔۔۔ آپ مجھے جو سزا دینا چاہے آپ دے سکتے ہیں۔۔۔۔ میں آف تک بھی نہیں کہوں گا۔۔۔۔”
وہ کتنا پتھر دل تھا!! کتنا سنگ دل تھا!!! آیت نے ہی اس سے کہا تھا نا کہ وہ ایک کالے دل والا شخص ہے۔۔۔۔!!!
جو کسی کو تکلیف دے کر بہت ہی زیادہ خوش ہے۔۔۔۔۔!! اسے کسی کی تکلیف سے کوئی غرض نہیں۔۔۔۔۔
لیکن آج یہ وہی پتھر دل شخص!! سنگ دل شخص!! کالے دل والا شخص معافی کے لیے گھٹنوں تک پر بیٹھ گیا۔۔۔۔!
شاہ نواز نے جب ایک مرتبہ خود کو اس کی جگہ کر رکھ کر دیکھا تو اسے معلوم ہوا کہ شائید کہیں نا کہیں وہ شخص اپنی جگہ پر صحیح ہی تھا۔۔۔۔!!
کیوں کہ بدلہ کی آگ چیز ہی ایسی ہوتی ہے جو ہر چیز کو تباہ کرنے پر آمادہ کر دیتی ہے۔۔۔۔۔۔!!
اسی وجہ سے شاہ نواز نے اسے معاف کرنے کا ارادہ کیا تھا۔۔۔۔!!”
