Black Heart Love By Abdul Ahad Butt NovelR504882 Black Heart Love (Episode - 6)
No Download Link
Rate this Novel
Black Heart Love (Episode - 6)
Black Heart Love By Abdul Ahad Butt
آیت مکمل طور پر ہوش میں آ چکی تھی۔۔۔۔! وہ اچھے طریقے سے سمجھ رہی تھی کہ اسے اغواہ کیا گیا ہے۔۔۔۔”
وہ کئی آنسو بہا چکی تھی۔۔۔۔” کئی مرتبہ دروازہ کھڑکا چکی تھی۔۔۔۔” لیکن دروازہ کھلنے کا نام ہی نہیں کے رہا تھا۔۔۔۔”
عجیب کالے دل کا انسان تھا جو اسے یہاں لایا ہی کیوں تھا۔۔۔۔؟ اور یہاں قید کر کے کیوں رکھا تھا۔۔۔۔؟ وہ کچھ بھی سمجھ نہیں پا رہی تھی۔۔۔”
وہ رونے کا شغل فرما رہی تھی جب ہی وہ کمرے میں داخل ہوا۔۔۔۔ آیت اس کی طرف بڑھی۔۔۔۔!
” دیکھو پلیز مجھے یہاں سے جانے دو۔۔۔۔! “
اس کے پاس جاتے ہوئے وہ گڑگڑائی تھی۔۔۔۔۔! لیکن ذیشان پر تو کوئی اثر ہی نہیں تھا۔۔۔۔
” یہ لو کپڑے تیار ہو جاؤ۔۔۔۔” نکاح ہے ہمارا۔۔۔۔ ذیشان شاہ کے ساتھ نکاح ہے تمھارا۔۔۔۔”
اس کی طرف کپڑے بڑھاتے ہوئے اپنا تعارف کرواتے ہوئے ذیشان نے اسے یہ بتایا کہ وہ ان کا نکاح ہے۔۔۔۔!
” کبھی بھی نہیں۔۔۔۔۔!” وہ چیخی۔۔۔”
” تمھاری بھول ہے یہ ذیشان شاہ کہ میں تم سے کبھی بھی شادی کرو گی۔۔۔۔۔”
وہ غصے سے چیخ پڑی تھی۔۔۔۔۔” لیکن اس کا یہ روپ بھی ذیشان کو کافی پسند آرہا ہے۔۔۔۔”
” دیکھتے ہیں کہ یہ میری بھول ہے یا یہ تمھاری بھول ہے مسسز آیت ذیشان شاہ۔۔۔۔!
کیونکہ تم بیوی تو میری ہی بنو گی۔۔۔۔ خوش رہ کر یا غمگین ہو کر۔۔۔۔”
اس کی بات سنتے ہوئے ذیشان نے ہلکی سی مسکراہٹ چہرے پر لیے ہوئے اس سے کہا جس پر آیت کو شدید غصہ چڑھا۔۔۔۔”
” میں مر جاؤ گی۔۔۔۔! پر تم سے کبھی بھی شادی نہیں کرو گی۔۔۔”
آنکھوں میں آنسو لے کر وہ غصے سے چلائی۔۔۔۔ لیکن پھر بھی وہ مسکرایا۔۔۔۔!
” مرنا بھی تو تمھیں میری ہی مرضی سے ہی ہے۔۔۔۔۔! لیکن ابھی چپ چاپ تیار ہو جاؤ۔۔۔۔۔! بس پانچ منٹ ہیں۔۔۔۔ بس پانچ منٹ ہیں۔۔۔
اس کے بعد ہمارا نکاح ہے ہمارا تیار ہو جاؤ۔۔۔۔ میرے آنے تک اگر تم تیار نہ ہوئی تو تمھارا میں وہ حشر کرو جو تم نے سوچا بھی نہیں ہو گا۔۔۔۔”
آخری جملہ اس نے شدید غصے میں ادا کیا جس سے اس کا خوف کافی حد تک اس کی بیٹھ گیا۔۔۔۔۔!
لیکن وہ کیا کرتی۔۔۔۔؟ ابھی وہ اس کے ساتھ تھی اس کمرے میں اکیلی تھی۔۔۔۔ وہ اس کے ساتھ کچھ بھی کر سکتا تھا۔۔۔۔ وہ خاموش ہو گئی۔۔۔
لیکن اس کے ذہن میں بہت تصورات تھے یہاں سے بھاگنے کے لیے۔۔۔۔! وہ اس پر ایک نگاہ ڈالتے ہوئے کمرے سے نکل گیا اور رے جو باہر سے لاک کر دیا۔۔۔۔!
” آخر کون ہے یہ شخص۔۔۔۔؟ کیا بگاڑی ہے میں نے اس کا جو یہ میرے ساتھ یوں کر رہا ہے۔۔۔؟ مجھے یہاں سے بھاگنا ہو گا۔۔۔۔ مما بابا پریشان ہو گئے ہونگے۔۔۔۔
مجھے جلد از جلد ان کے پاس جانا ہو گا۔۔۔۔!”
اس کے نکلتے ہی اس نے خود سے ہی بات کی اور آیت کی نظر سامنے کھڑکی پر گئی۔۔۔!
.
اس کی نظر جیسے ہی کھڑکی پر پڑی اس کے ذہن میں سب سے پہلا خیال یہی آیا کہ وہ وہاں سے بھاگ جائے۔۔۔۔!
لیکن کھڑکی بند تھی۔۔۔۔۔ لیکن وہ کھولنے کی کوشش بھی تو کرسکتی تھی۔۔۔۔ وہ اس کھڑکی کی طرف بڑھی۔۔۔۔!
اور اسے کھولنے کی کوشش کی۔۔۔۔” شائید خدا بھی اس کا ساتھ دے رہا تھا۔۔۔۔ اور سب سے بڑھ کر یہ تھا کہ ساتھ ہی گارڈن تھا۔۔۔
وہ کھڑکی سے باہر نکلتے ہوئے گارڈن میں آ پہنچی تھی۔۔۔۔” وہ وہاں سے بھاگنے کے ارادے رکھتی تھی۔۔۔۔ اور اس میں کامیاب بھی ہو گئی۔۔۔۔”
کیونکہ گارڈ مولوی صاحب کو اندر تک چھوڑنے گیا تھا اور وہ اس گھر سے باہر نکل گئی۔۔۔ اور ایک الگ ہی راہ پر آگئی۔۔۔”
لیکن وہ نہیں جانتی تھی کہ یہ سب کچھ کرکے وہ کتنا بڑا خطرہ مول لے رہی ہے۔۔۔۔”
.
” دلہن کو بھی بلا لیں تا کہ نکاح شروع کریں۔۔۔۔۔”
مولوی صاحب نے ذیشان کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا۔۔۔۔ جس پر وہ سر اثبات میں ہلا گیا اور کمرے کی طرف بڑھا۔۔۔۔”
لیکن جیسے ہی کمرے میں پہنچا تو وہاں آیت کو نا پاکر اس کا غصہ ساتویں آسمان پر پہنچ گیا۔۔۔۔”
” آیت۔۔۔۔!”
وہ غرایا۔۔۔۔! لیکن جواب نہ ملنے پر اسے مزید غصہ چڑھا۔۔۔۔” اس نے پہلے واش روم میں چیک کیا لیکن وہاں کوئی بھی نہیں تھا۔۔۔”
پھر اچانک ہی اس کی نظر کپڑوں پر پڑی جنھیں دیکھ کر اسے مزید غصہ آیا تھا۔۔۔۔
” صادق۔۔۔۔۔ صادق۔۔۔۔ گارڈز۔۔۔۔ کہاں مر گئے ہو تم سارے۔۔۔۔۔!”
وہ غصے سے پاغل ہوا جا رہا تھا۔۔۔۔” جب ہی وہ اس کے بلانے کی آواز کو سنتے ہوئے سارے حاضر ہوئے۔۔۔۔”
” یس سر۔۔۔۔۔!”
صادق اور دوسرے گارڈز وہاں پہنچے اور صادق نے اس سے کہا۔۔۔۔!
” تم لوگوں کے ہوتے ہوئے وہ لڑکی اس گھر بھاگ گئی۔۔۔۔۔! تم لوگ کیا سوئے ہوئے تھے۔۔۔۔!
اور جمیل تم۔۔۔۔۔!! تم تو گیٹ پر ہوتے ہو نا تو وہ تمھاری نظروں کے سامنے سے کیسے بھاگ گئی بتاؤ گے زرا تم مجھے۔۔۔۔!”
ذیشان تو جیسے ان پر برس ہی پڑا ہو۔۔۔۔”
” سو سوری سر۔۔۔۔!”
اس کے غصے کو دیکھتے ہوئے جمیل نے بس یہی کہنا مناسب سمجھا۔۔۔۔!
” کیا سوری۔۔۔۔؟ خیر جو بھی ہے وہ لڑکی زیادہ دور تک نہیں بھاگی چلو اسے لے کر آئے۔۔۔۔! صادق تم یہی رکو۔۔۔
مولوی صاحب کے پاس وہ کہیں بھی نہیں جانے چاہئیے۔۔۔۔! اس لڑکی کو اب میں اپنے طریقے سے لے کر آو گا۔۔۔۔!”
وہ غصے سے کہتا ہوا کمرے سے نکل چکا تھا جبکہ صادق سر اثبات میں ہلا گیا تھا۔۔۔
.
” امی شکر ہے اللہ کہ عشاء کے نکاح میں صرف ایک دن ہی رہ گیا ہے۔۔۔۔۔ اس کے بعد اس منحوس سے ہماری جان چھوٹ جائے گی۔۔۔۔”
جیا نے اپنی ماں سے کہا جو عشاء کی سوتیلی ماں تھی اور اس کی بات سن کر وہ بھی مسکرائی۔۔۔۔”
” ہاں بیٹا۔۔۔۔! بالکل صحیح کہا تم نے۔۔۔۔! اور یہ سب میری بدولت ہی ہو رہا ہے۔۔۔۔!”
اس کی ماں نے فخر محسوس کرتے ہوئے کہا۔۔۔۔”
” بالکل امی جان۔۔۔۔۔! اگر آپ ماحد پر الزام نہ لگاتی اور بابا کا دل اس کی طرف سے برا نہ کرتی تو یہ کیسے ممکن ہوتا۔۔۔۔؟
کیسے بابا مانتے اس رشتے کے خاتمے کے لیے۔۔۔۔۔! کئی چالیں چلی ہیں آپ نے اب اس کا پھل بھی تو لینا ہے نا۔۔۔۔”
وہ کہے جارہی تھی جبکہ باہر کھڑا اس کا باپ جو انھیں یہ کہنے آیا تھا کہ عشاء کی شادی کی تیاری کر لیں ان کی باتیں کر وہ ساکت پڑ گیا۔۔۔۔”
وہ ششدر رہ گیا کہ جسے وہ سب کچھ سمجھ رہا تھا جسے وہ اپنی بیٹی عشاء کے رکھوالے سمجھ رہا تھا وہی حقیقت میں دھوکے باز تھے۔۔۔”
وہی عشاء کے ساتھ اتنا بڑا ظلم کر رہے تھے۔۔۔۔۔! اس کا پانچ سال کا رشتہ ٹڑوانا چاہتے تھے وہ لوگ۔۔۔۔؟
وہ گہری سوچ میں پڑتا کسی کو کال کرنے لگا اور دروازے سے چلا گیا۔۔۔۔!!
.
وہ اس انجان سڑک پر بس بھاگے جارہی تھی۔۔۔” اسے یہاں کے راستوں کے بارے میں کچھ بھی معلوم نہیں تھا۔۔۔۔”
کیونکہ یہاں پر وہ پہلی مرتبہ آئی تھی۔۔۔” آج سے پہلے شائید ہی کبھی وہ بابا کے ساتھ یہاں آئی ہو۔۔۔۔!
کیونکہ یہ تو اس کا شہر ہی نہیں ہے۔۔۔۔! تو وہ کیسے پہنچاتی ان راستوں کو۔۔۔؟ ناجانے یہ کون لوگ ہیں جو اس کی جان کے پیچھے پڑے ہیں۔۔۔۔؟
ناجانے کیوں وہ شخص اس سے نکاح کرنا چاہتا ہے۔۔۔؟ کیا بگاڑہ ہے آیت نے اس کا جو وہ اس سے نکاح کرنا چاہتا ہے۔۔۔؟
اسے بس اتنا ہی پتہ تھا کہ اسے جلد از جلد اپنے بابا کے پاس پہنچنا تھا۔۔۔۔۔! لیکن کیا ذیشان یہ ممکن ہونے دے گا۔۔۔۔؟
