Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Black Heart Love (Episode - 44)

Black Heart Love By Abdul Ahad Butt

 (چھ مہینے بعد)

آج بیس سال کے بعد اس نے پاکستان کی سر زمین پر اپنا پہلا قدم رکھا تھا۔۔۔۔

بیس سال پہلے وہ ایک قتل کیس سے بچنے سے کے لیے یہاں سے فرار ہو گیا تھا۔۔۔۔ لیکن آج اسی مقصد اسی عزم کو لیے ہوئے وہ دوبارہ پاکستان آیا۔۔۔۔

” جمال سر آپ کو موبائل۔۔۔۔!! “

وہ شائید اپنا موبائل گاڑی میں ہی بھول گیا تھا۔۔۔۔!! جو وہ شخص اسے دینے آیا تھا۔۔۔

” او شکریہ۔۔۔۔!! “

جمال نے اس شخص کا شکریہ ادا کیا۔۔۔۔۔!!! اور جیسے ہی وہ شخص گیا دوسری طرف سے کسی کا فون آ گیا۔۔۔

” ہاں بولو ؟ کیا خبر ہے ؟ “

جمال نے اس شخص سے سوال کیا۔۔۔۔۔!! جس پر دوسری طرف سے اس شخص نے اپنی بات کہ شروعات کی۔۔۔

” سر وہ دونوں ابھی یہی ہیں۔۔۔۔ اس ہوسٹل میں۔۔۔۔!! “

وہ مسکرایا۔۔۔۔ اس نے ان کی ساری کی ساری معلومات کے رکھی تھی۔۔۔۔

” ٹھیک ہے۔۔۔ تم ان پر نظر رکھو۔۔۔۔۔!! “

جمال نے مسکرا کر کہا۔۔۔

” اوکے سر۔۔۔!! “

فون کی دوسری طرف سے کیا گیا۔۔۔

” مبارک ہو مسٹر ذیشان یور وائف از پریگننٹ۔۔۔ آپ بابا بننے والے ہیں۔۔۔۔!! “

آج صبح سے ہی آیت کی طبعیت کچھ ٹھیک نہیں تھی۔۔۔۔!! اسے بخار سا محسوس ہو رہا تھا۔۔۔

اس کے ساتھ ساتھ وامٹینگ ، دل خراب ہونا بھی شمار تھا تو ذیشان اسے ڈاکٹر کے پاس لے کر آیا۔۔۔۔

جہاں انھیں یہ خوشخبری ملی۔۔۔۔۔ جسے سن نا صرف آیت بلکہ ذیشان کے چہرے کا چہرہ بھی بلش کرنے لگا۔۔۔

یہ ان دونوں کے لیے بہت بڑی خوشخبری تھی۔۔۔۔۔”

” آر یو سریس۔۔!! “

ذیشان کو تو جیسے اس کی بات پر یقین ہی نہیں آیا تھا۔۔۔۔۔!!!! اس نے مسکراتے ہوئے ڈاکٹر سے کہا۔۔۔۔

” یس۔۔۔۔ اب آپ کو ان کا بہت خیال رکھنا ہے۔۔۔۔ ان کی بیڈ ریسٹ کا بہت زیادہ خیال رکھنا ہے آپ کو۔۔۔۔!! “

ڈاکٹر صاحبہ نے ذیشان کو تاکید کی۔۔۔۔۔ جس پر ذیشان نے مسکراتے ہوئے سر ہاں میں ہلایا۔۔۔۔۔

آیت کے چہرے پر شرمیلی سی مسکراہٹ چھائی ہوئی تھی۔۔۔۔!! اسے بچے بہت پسند تھے۔۔۔۔

اور وہ ہمیشہ سے یہی چاہتی تھی کہ اس کے اپنے بچے بھی ہوں۔۔۔۔!!!! اور آج اس کی دعا قبول ہونے جا رہی تھی۔۔۔۔

ڈاکٹر نے انھیں کچھ میڈیسنز لکھ کر دی۔۔۔۔ اور کچھ احتیاطی تدابیر انھیں بتائی۔۔۔۔

اور پھر وہ ہوسپٹل سے باہر نکلے۔۔۔۔۔ ذیشان کی خوشی سنبھلے نا سنبھل رہی تھی۔۔۔۔

وہ دونوں جیسے ہی گاڑی کے پاس پہنچے تو ذیشان نے بغیر کسی بھی چیز ٬ وہاں موجود لوگوں کا خیال کرتے ہوئے آیت کو گلے لگایا۔۔۔۔

آیت کے چہرے پر مسکراہٹ رونما ہوئی۔۔۔۔

” تھینک یو سو مچ مجھے دنیا کی سب سے بڑی خوشی دینے کے لیے۔۔۔۔!! “

ذیشان نے کسی کا بھی خیال کیے بغیر اس کا ماتھا چومتے ہوئے کہا۔۔۔۔ تو آیت کا چہرہ سرخ پڑ گیا۔۔۔۔

ذیشان نے گاڑی کا دروازے کھولا اور فرنٹ سیٹ پر اسے بیٹھاتے ہوئے خود ڈرائیونگ سیٹ پر بیٹھ گیا۔۔۔۔

اب وہ گھر جانے کا ارادہ رکھتا تھا۔۔۔۔!!

” بھائی آپ کو بہت بہت مبارک ہو۔۔۔۔!!! “

یارش کو جب یہ خبر ملی کہ وہ چاچو بننے والا کے تو اس کی خوشی بھی ساتویں آسمان پر پہنچ گئی۔۔۔۔

ان کے گھر میں دو دو ننھے مہمانوں کی آمد ہونے والی تھی۔۔۔۔!! یمن بھی ون منتھ پریگنینٹ تھی۔۔۔۔

” تجھے بھی بہت مبارک ہو تو بھی چاچو بننے والا ہے۔۔۔!!! “

ذیشان نے مسکراتے ہوئے اس سے کہا۔۔۔۔۔

اسی طرح یمن نے آیت کو اس خوشخبری کی مبارکباد دی۔۔۔۔ !! شاہ نواز اور دادی دونوں ہی کچھ ماہ کے لیے دبئی گئے تھے۔۔۔۔

وہ دونوں بھی یہ خوشی کی خبر سن کر یقیناً بہت خوش ہونے والے تھے۔۔۔۔

کچھ دیر بعد جب آیت کمرے میں پہنچی تو کمرے میں اندھیرا پایا۔۔۔۔ رات کا وقت تھا۔۔۔۔

تو وہ اس چیز کو اگنور کرتی ہوئی آہستگی سے قدم بڑھاتی ہوئی بیڈ کی جانب بڑھی۔۔۔۔ لیکن جیسے ہی وہ بیڈ کے قریب پہنچی تو اسے اپنے پر کچھ گرتا ہوا محسوس ہوا۔۔۔۔

آیت کو لگا کہ شائید وہ پتے ہیں۔۔۔۔ اس نے جیسے ہی ان میں سے ایک کو ہاتھ میں تھاما تو اسے معلوم ہوا کہ یہ گلاب کی پتیاں تھی۔۔۔۔

اگلے ہی لمحے کمرے کی لائٹس آن ہوئی۔۔۔۔!! اور اسے معلوم ہوا کہ اوپر چلتے ہوئے پنکھے سے یہ پتیاں اس پر گر رہی تھی۔۔۔۔

سارے بیڈ پر بھی پتیاں بکھری ہوئی تھی۔۔۔۔!! آیت کے چہرے پر مسکراہٹ نے بسیرا کر رکھا تھا۔۔۔۔

وہ جیسے ہی مڑی ہوئی تو ذیشان کو پیچھے دیوار سے ٹیک لگائے کھڑا ہوا پایا۔۔۔۔

جو اس کی طرف دیکھ کر ہی مسکرائے جا رہا تھا۔۔۔۔!! ” اور پھر آہستگی سے قدم بڑھاتا ہوا اس کی طرف بڑھا۔۔۔۔

” واٹ از دس ؟ “

آیت نے سوال کیا۔۔۔

” کیا مطلب ؟ کیا تمھیں یہ پسند نہیں آیا ؟ “

ذیشان کے چہرے کی مسکراہٹ اڑ سی گئی۔۔۔۔

” نہیں وہ بات نہیں ہے مجھے بہت پسند آیا۔۔۔ پر اس سب کی کیا ضرورت تھی ؟؟ “

آیت نے مسکرا کر کہا۔۔۔

” کیوں ضرورت نہیں تھی ؟؟ تم مجھے اتنی بڑی خوشی دینے جا رہی ہو تو میں تمھارے لیے اتنا تو کر ہی سکتا ہوں۔۔۔۔!! “

اس کے الفاظ سنتے ہوئے آیت کے چہرے پر مسکراہٹ بکھر گئی اور اس کے گلے سے جا کر لگ گئی۔۔۔۔!!

جس ہر ذیشان کے چہرے پر مسکراہٹ چھا گئی۔۔۔

” تھینک یو سو مچ آیت۔۔۔۔۔!! مجھے اس دنیا کی سب سے بڑی خوشی دینے کے لیے۔۔۔۔ “

ذیشان نے اسے خود میں سمیٹتے ہوئے کہا۔۔۔!! آیت ہنوز مسکراتی رہی۔۔۔۔!!!!

وہ دونوں بھی اب ماں باپ کے عہدے پر فائز ہونے جا رہے تھے!!

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *