Black Heart Love By Abdul Ahad Butt NovelR504882 Black Heart Love (Episode - 42)
No Download Link
Rate this Novel
Black Heart Love (Episode - 42)
Black Heart Love By Abdul Ahad Butt
ساری رسومات مکمل کرنے کے بعد یمن کو یارش کے کمرے میں بیٹھایا گیا۔۔۔۔۔ جو بہت ہی خوبصورت انداز میں سجایا گیا۔۔۔۔!!
کمرے میں لگے ہوئے گلاب کے پھولوں کی دلفریب مہک اس کی نتھ کو چھو رہی تھی!!! جو یمن کو معطل کر رہی تھی۔۔۔۔۔!
کچھ ہی لمحوں میں اسے دروازہ کھلنے کی آواز سنائی دی اور کسی کے بھاری قدموں کی آہٹ محسوس ہوئی۔۔۔۔۔۔ یمن نے آہستگی سے جھکی ہوئی پلکوں کو اوپر اٹھایا!!
اور سامنے یارش کو پایا تو فوراً نظریں جھکا گئی۔۔۔۔ اس کا یہ عمل بھی یارش شاہ کی نگاہوں سے بچ نہیں سکا!!
یارش نے ہلکی سی مسکان چہرے پر لیے ہوئے اسے دیکھا اور پھر دروازہ لاک کرتے ہوئے قدم بیڈ کی طرف بڑھائے!
اس کے قریب آتا ہوا وہ اس کے پاس بیٹھ گیا۔۔۔۔” یمن نے آہستگی سے اسے نظریں اٹھا کر دیکھا۔۔۔۔ وہ بہت ہینڈسم لگ رہا تھا۔۔۔۔
دونوں کے چہروں پر نیم سی مسکراہٹ تھی۔۔۔۔!!
” مجھے تم سے کچھ بات کرنی ہے۔۔۔۔۔!!! “
یارش نے آہستگی سے کہا۔۔۔۔ یمن کے چہرے کی مسکراہٹ نے اسے اس کا جواب دے دیا تھا۔۔۔۔!”
” میں جانتا ہوں کہ میں نے بہت غلطیاں کی ہیں۔۔۔۔ اس رات میرے کہے ہوئے ایک ایک لفظ نے تمھیں بہت زیادہ ہرٹ کیا۔۔۔
لیکن میرا مقصد تمھیں ہرٹ کرنا بالکل بھی نہیں تھا۔۔۔۔۔ میں تو امبر کو جلانا چاہتا تھا یہ دکھا کر اگر اس نے بیوفائی کی ہے تو میں نے یہ اس سے بدلہ لیا ہے۔۔۔۔
یہ باتیں صرف اور صرف کہنے کی ہی تھی! میرا ایسا کرنا کا بالکل بھی کوئی ارادہ نہیں تھا۔۔۔۔!!!
پہلے دن سے میرے دل میں تمھارے لیے کچھ تھا!!! لیکن کبھی بھی میں یہ نہیں جان پایا تھا کہ وہ کچھ صرف اور صرف پیار ہے۔۔۔!
اس کچھ کا احساس مجھے اس وقت ہوا جب تم مجھ سے ناراض رہی۔۔۔۔۔ جب تمھاری ناراضگی مجھ سے برداشت نہیں ہوئی۔۔۔۔
اور میں مزید تمھاری ناراضگی برداشت نہیں کر سکتا پلیز مجھے معاف۔۔۔۔!!! “
یارش کا کہا ہوا ایک ایک حرف یمن کے چہرے کی مسکان کو گہرا کرتا جا رہا تھا۔۔۔۔!! وہ بول ہی رہا تھا کہ یمن نے اس کی بات کو کاٹا!!
” میں نے تمھیں اسی دن معاف کردیا تھا جس دن امبر نے مجھ پر حقیقت کو عیاں کیا!! اب میرے دل میں تمھارے لیے نا ہی کوئی غصہ ہے اور نا ہی کوئی شکوہ! “
یمن نے مسکراتے ہوئے نظریں اٹھا کر کہا۔۔۔۔ اور اسے اس رات والی اپنی اور امبر کی ساری باتیں بتانا شروع کر دی!!
جسے سن کر یارش ہلکا سا مسکرایا!
” تو تمھارے دل میں میرے لیے کیا ہے ؟؟ “
یارش نے آہستگی سے کہتے ہوئے سوال کیا!
” محب۔۔۔۔!! “
وہ بے ساختہ کچھ کہتے کہتے رک گئی۔۔۔۔ جسے دیکھ کر یارش کے چہرے کی مسکراہٹ مزید گہری ہوئی۔۔۔۔”
یمن کو شرم آئی جس پر اس نے نظریں جھکا لی۔۔۔
” مجھے لگتا ہے کہ وہ لفظ کچھ اور نہیں بلکہ محبت ہے!!! “
یارش نے شوخ لہجے میں کہا۔۔۔۔”
جس پر یمن نے نظریں اٹھا کر اسے دیکھا۔۔۔۔۔!! اور سر اثبات میں ہلایا تو یارش کو جی جان سے اس پر پیار آیا۔۔۔۔!!
جب ہی اس نے جیب سے ایک خوبصورت بریسلٹ کا باکس نکالا اور اس میں بریسلٹ نکالتے ہوئے یمن کے داہنے ہاتھ پر پہنا دیا۔۔۔۔
” یہ میری محبت کی نشانی ہے۔۔۔۔ جو تمھاری کلائی پر ہمیشہ رہے گی۔۔۔۔!! جب بھی تم اسے دیکھو گی کرو تمھیں میں یاد آؤ گا! “
یارش نے مسکراتے ہوئے اس سے اپنی محبت کا اظہار کیا۔۔۔۔!!!
” یاد انھیں کیا جاتا ہے جنھیں آپ بھول سکتے ہوں اور میں تمھیں کبھی بھی نہیں بھول سکتی تھی!! “
یمن کے کہے ہوئے یہ الفاظ یارش کو اس کے دل میں موجود اپنے لیے محبت کا باورا کروا گئے تھے۔۔۔۔
” یہ بات بھی سہی ہے!!! “
یارش نے آہستگی سے آگے بڑھتے ہوئے اس کے گالوں پر اپنا بہکتا لمس چھوڑا۔۔۔ یمن کے دل کی دھڑکنیں تیز ہوئی تھی۔۔۔
” تمھارا بیت بہت شکریہ کہ تم نے ہمارے رشتے کو ایک نیا موقع دیا۔۔۔۔!!! اور میں تم سے وعدہ کرتا ہوں کہ کبھی بھی تم پر کوئی بھی آنچ نہیں آنے دو گا۔۔۔
اور نا ہی کبھی تمھارا دل دکھاؤ گا!! “
یارش نے آہستگی سے کہا اور اس کی گردن پر جھکتا ہوا اپنا لمس چھوڑنے لگا!!!
یمن کے چہرا سرخ پڑ رہا تھا۔۔۔۔!! کچھ لمحات بعد وہ اس کی بالوں کی خوشبو محسوس کرتا ہوا آہستگی سے اس کے لبوں پر جھکا اور انھیں اپنی گرفت میں لے لیا۔۔۔!
آہستہ آہستہ اس کے ہر عمل میں شدت پیدا ہوتی گئی!! یمن اس کے ارادے بھانپتی ہوئی اپنا آپ اسے سونپ گئی۔۔۔۔
آیت واش روم سے چینج کر کے نکلی تو سارے کمرے کو سجا ہوا پایا!! جب وہ واش روم میں گئی تھی اس وقت تو کہیں بھی پھول نہیں لگے تھے لیکن اب پورے کمرے میں لگے ہوئے تھے!!
اس نے دو قدم مزید بڑھائے اور جوں ہی نظر بیڈ کی جانب گئی تو دیکھا کہ گلاب کے پھولوں کی پتیوں سے زی (Z) آگے خوبصورت سا دل اور اس کے بعد اے (A) لیکھا گیا تھا جس کا مطلب تھا ذیشان لوو آیت۔۔۔۔!!!
ان سب کو دیکھتے ہوئے آیت بے ساختہ مسکرائی۔۔۔۔۔!! جب ہی کسی نے پیچھے سے اسے اپنے حصار میں لیا۔۔۔۔
اس شخص کے بدن سے اٹھتی ہوئی دلفریب مہک یہ بتا رہی تھی کہ وہ ذیشان ہے!!
” تو پھر کیسا لگا ؟؟ میرا سرپرائز ؟ “
اس کی بھاری آواز پر اسے مزید یقین ہو گیا کہ وہ کوئی اور نہیں بلکہ ذیشان ہی تھا۔۔۔۔۔۔ آیت ہلکا سا مسکرائی!!
” بہت اچھا۔۔۔۔۔”
آیت نے آہستگی سے کہا۔۔۔۔!! ذیشان بھی مسکرایا!!
اگلے ہی لمحے ذیشان کا رخ اپنی طرف کیا۔۔۔۔! اور اس کی کمر کے گرد ہاتھ حائل کرتے ہوئے اسے مزید اپنے قریب کیا۔۔۔۔۔!!”
” تو تم یہ بھی جانتی ہو گی کہ میں نے یہ سب ارینج مینٹس کیوں کیے ہیں ؟؟ “
اس نے سوال کیا۔۔۔۔
” مجھے نا ہی پتہ ہے اور نا ہی مجھے معلوم کرنا ہے مجھے بس نیند آ رہی ہے!!! “
آیت کے چہرے پر شرمیلی مسکراہٹ نے بسیرہ کیا جب ہی وہ پیچھے جانے کے لیے مڑی تو ذیشان نے ایک ہی لمحے میں اسے اپنی مظبوط گرفت میں لے لیا۔۔۔”
” آج یہ نیند والا بہانہ نہیں چلے گا جان من!!! “
ذیشان نے ذو معنی مسکراہٹ لیے ہوئے کہا!
” آیت دیکھو!! تمھیں معلوم ہے کہ دادی کو پوتے پوتیوں کی خواہش ہے۔۔۔۔اور ایک تم ہو میں جب بھی تمھارے قریب آنے کی کوشش کرتا ہوں تم مجھ سے دور بھاگ جاتی ہوں!!
تو ایسے میں ان کی یہ خوائش کیسے پوری ہوگی ؟ بھئی دیکھو آج تو تمھیں مجھ سے کوئی بھی نہیں بچا سکتا!! “
ذیشان کے الفاظ آیت کا چہرہ کانوں تک سرخ کر گئے تھے!! جب ہی ذیشان اس کی گردن پر جھکتا ہوا اس کے بالوں میں منھ چھپاتا اپنا لمس چھوڑنے لگا۔۔۔۔
آیت کا چہرہ سرخ پڑ گیا تھا۔۔۔۔۔!!! اسے کچھ بھی سمجھ نہیں آ رہا تھا کہ وہ کیا کرے ؟ اس کی دل کی دھڑکنیں تیز سے تیز تر ہوتی جا رہی تھی۔۔۔!!
جان منھ کو آ رہی تھی!! جب ہی ذیشان تھوڑا سا پیچھے ہوا اور اس کے گالوں پر اپنے لب رکھے اور انھیں چومتا ہوا اس کے لبوں کی طرف بڑھا۔۔۔۔ اس کے لبوں پر جھکتا ہوا وہ انھیں اپنی گرفت میں لے گیا!!!
آیت کی سانس پھولنے لگی تھی۔۔۔۔۔۔!! کچھ لمحات بعد ذیشان آہستگی سے اس کے لبوں کو آزادی بخشا ہوا پیچھے ہوا!!!
” مجھے نہیں لگتا ہے کہ یہ میرے لیے کافی ہے۔۔۔۔۔!! “
ذیشان نے مسکراہٹ دباتے ہوئے کہا اور اسے اپنی باہوں میں اٹھاتا ہوا بیڈ کی طرف بڑھا! آیت کے چہرے پر بھی مسکراہٹ چھا گئی۔۔۔۔
وہ اپنا آپ اسے سونپ گئی تھی۔۔۔۔۔!! وہ اپنا پیار اس پر نچھاور کرنے لگا!!!”
” سر آپ فکر مت کریں ہم آپ کو یہاں سے نکال لیں گے!!!”
عاصم جیل کی سلاخوں کے پیچھے تھا۔۔۔۔ اس کا ہی ایک آدمی اس سے ملاقات کرنے کے لیے آیا۔۔۔۔ اور اس نے عاصم سے کہا تو وہ مسکرایا۔۔۔۔
” اس کی کوئی ضرورت نہیں ہے!! یہ گرفتاری میں نے خود دی ہے!! کیونکہ میں نے اپنے ہی ہاتھوں اپنے پیار کو مار دیا ہے۔۔۔۔!!
میرے ہی ہاتھوں سے گولی چلی تھی وہ جو جیا کے سینے کو چیر گئی۔۔۔۔!! آج مجھے معلوم ہوا کہ کسی اپنے کو کھونے کا غم کیسا ہوتا ہے ؟؟
ہم دوسرے لوگوں کا قتل کرتے تھے اور کبھی اس بات کا احساس نہیں ہوا کہ اس کے چاہنے والوں کو اس وقت کیسا لگتا ہو گا ؟؟
لیکن آج مجھے معلوم ہو گیا!! مجھے اپنی سزا قبول ہے!! تم لوگ بھی یہ کام چھوڑ دو!! “
عاصم کو اپنی کی گئی غلطیوں پر شدید ندامت تھی!! جس پر سامنے کھڑا شخص خاموش ہو گیا!!!
