Black Heart Love By Abdul Ahad Butt NovelR504882 Black Heart Love (Episode - 41)
No Download Link
Rate this Novel
Black Heart Love (Episode - 41)
Black Heart Love By Abdul Ahad Butt
عشاء اس وقت اپنے کمرے کی کھڑکی میں کھڑی ہوئی اپنی سوچوں میں گم تھی!! جب ہی ماحد آئسکریم لیے ہوئے کمرے میں داخل ہوا۔۔۔۔!!
” عشاء یہ لو میں آئسکریم لے آیا ہوں۔۔۔!!”
ماحد نے نیم مسکراہٹ چہرے پر لیے ہوئے کہا کیونکہ عشاء کو آئسکریم بہت پسند تھی۔۔۔۔۔۔۔ لیکن عشاء نا تو مڑی اور نا ہی اس نے کوئی بھی جواب دیا!!
ماحد آئسکریم ٹیبل پر رکھے اس کی طرف بڑھا۔۔۔۔ رات کا چاند اس کے چہرے کو مزید چمکا رہا تھا۔۔۔۔!! اور ساتھ اس کی آنکھوں سے بہتے ہوئے آنسو جو اس کی گالوں پر آ رہے تھے وہ بھی۔۔۔۔۔۔!!!!
” عشاء تم رو رہی ہو ؟؟ “
ماحد اس کی طرف بڑھا اور جیسے ہی قریب پہنچا تو احساس ہوا وہ کسی گہری سوچ میں ڈوبی ہوئی آنسو بہا رہی تھی۔۔۔۔۔!!
ماحد نے اپنے ہاتھ اس کے کندھوں پر رکھتے ہوئے اسے اپنی طرف موڑا جب ہی وہ اس کے سینے سے لگ گئی۔۔۔۔۔”
” دیکھو عشاء مجھے بتاؤ کیا ہوا ہے ؟؟ کیا کیا نے کچھ کیا ہے ؟
please Esha tell me What’s The problem ? Why are you crying? “
اس کے سینے سے لگے رہنے کے باوجود آنسو بہنا جارہی رہے۔۔۔۔۔!!!! ماحد کو اب فکر ہو رہی تھی کہ جب سب ٹھیک ہو گیا ہے تو وہ کیوں رو رہی ہے ؟؟
کچھ لمحات تک خاموشی چھائی رہی،،،، اس کے بعد عشاء ماحد کے سینے سے جدا ہوئی لیکن اس کی پناہوں میں ہی رہی۔۔۔۔
” ماحد مجھے بابا کے لیے بہت زیادہ برا لگ رہا ہے!! ساری حقیقت کو ساری سچائی کو جاننے کے بعد بابا کی حالت بہت خراب ہے،،، نجمہ آنٹی نے جو کیا وہ کیا!!!
لیکن ماحد جیا کو تو انھوں نے گود میں کھلایا تھا۔۔۔۔ بیٹی سے بھی زیادہ بڑھ کر پیار دیا اسے!!
کبھی انھوں نے مجھ میں اور جیا میں کوئی بھی کسی بھی قسم کا فرق نہیں کیا،،
ان کے لیے یہ ساری سچائی نا قابلِ برداشت ہے۔۔۔۔۔!! “
دو قدم کا فاصلہ بناتے ہوئے عشاء نے اپنے رونے کی وجہ ماحد کے سامنے رکھی۔۔۔۔ اور وہ سب کچھ سچ ہی تو بول رہی تھی۔۔۔۔۔۔!!!
امجد صاحب کو اس بات سے اعتراض نا ہوا کہ جیا ان کا خون نہیں ہے۔۔۔۔۔ وہ اب بھی اسے اپنی بیٹی مانتے تھے لیکن انھیں اعتراض تھا تو وہ اس بات سے اس نے عشاء کا کڈ نیپ کروایا۔۔۔۔ اس کی جان لینے کی کوشش کی!!!
نجمہ بیگم کو اس سارے تماشے کے بعد گھر سے نکال دیا گیا۔۔۔۔۔۔” وہ یہاں سے بہت دور اپنے بھائی کے پاس چلی گئی۔۔۔۔!! لیکن بھابھی نے اسے نوکرانی بنا کر رکھ دیا تھا۔۔۔۔!!
اس کا سارا کیا اس کے سامنے آ رہا تھا۔۔۔۔۔” لیکن جیا کو پولیس کے حوالے کر دیا گیا۔۔۔۔!
” تمھارا دکھی ہونا بجا ہے لیکن عشاء جیا کا جرم نا قابلِ معافی ہے۔۔۔۔!! اس نے تمھیں قتل کروانے کی کوشش کی ہے۔۔۔۔
اور میں اتنا اچھا بالکل بھی نہیں ہوں کہ کوئی تمھاری جان۔۔۔۔ لینے کی کوشش کرے اور میں ہاتھ پر ہاتھ رکھ کر بیٹھا رہو۔۔۔۔
It’s not Possible!!
اور جہاں تک رہی بات امجد انکل کی تو وہ وقت کے ساتھ ساتھ ٹھیک ہو جائے گے۔۔۔۔ تم اپنا زیادہ سے زیادہ وقت ان کے ساتھ اسپینڈ کرو۔۔۔۔!! “
ماحد نے آہستگی سے اس سے کہا۔۔۔۔! اور عشاء کو امجد صاحب کے ساتھ زیادہ وقت گزارنے کی تاکید کی۔۔۔۔” جس پر عشاء نے سر ہاں میں ہلایا۔۔۔۔۔!!!
” تھینک یو۔۔۔۔۔!!!! “
عشاء نے آہستگی سے کہا۔۔۔ رونے کی وجہ سے آواز بھاری بھاری سے لگ رہی تھی اس کی !!
” کس بات کے لیے ؟؟؟ “
ماحد کے چہرے پر سوالیہ تاثرات عیاں ہوئے!
” مجھ پر یقین کرنے کے لیے۔۔۔۔۔۔!! مجھے پر اعتماد رکھنے کے لیے!! میرا ساتھ دینے کے لیے۔۔۔
اگر آپ کی جگہ کوئی اور ہوتا تو شائید ان تصویروں پر یقین کر لیتا لیکن آپ نے ایک مرتبہ ایسا سوچا بھی نہیں۔۔۔۔۔!! “
عشاء نے مسکراتے ہوئے کہا۔۔۔۔ آنسو ابھی بھی گالوں پر بہہ رہے تھے!!
” کیونکہ مجھے تم پر پورا یقین ہے۔۔۔۔۔!! کہ تم مجھے کبھی بھی دھوکا نہیں دے سکتی ہو!!
تم کبھی بھی کچھ ایسا نہیں کر سکتی جس سے مجھے ٹھیس پہنچے۔۔۔۔!!! اور مجھے اس بات پر بھی پورا یقین ہے کہ تم میرے علاؤہ ایک لمحے کے لیے بھی کسی بھی دوسرے شخص کا خیال اپنے ذہن میں نہیں لا سکتی۔۔۔۔۔!!
آئی لو یو۔۔۔۔!! “
اس نے عشاء کی گالوں پر بہتے ہوئے آنسو اپنے لبوں سے چنتے ہوئے مسکرا کر اس سے کہا تو وہ اس کے سینے سے لگ گئی۔۔۔۔
ماحد کے چہرے پر مسکراہٹ عیاں ہوئی۔۔۔۔
” آپ کو معلوم ہے آج پولیس اسٹیشن کے سامنے بہت فائرنگ کی گئی۔۔۔۔۔! دو لوگوں کی جان چلی گئی۔۔۔۔ اور چھ افراد زخمی ہوئے۔۔۔۔!! “
عشاء نے نہایت ہی افسردہ لہجے میں اس سے کہا۔۔۔۔
” مجھے معلوم ہے میں اس وقت وہی پر تھا۔۔۔۔۔!! “
اس کی بات سنتے ہی ایک لمحے میں عشاء اس سے جدا ہوئی اور سوالیہ نظروں سے اسے دیکھا۔۔۔۔
” واٹ ؟ آپ وہاں پر کیا کر رہے تھے ؟؟ خدا ناخواستہ اگر آپ کو کچھ ہو جاتا تو ؟ ایک بار بھی سوچا آپ نے۔۔۔۔!!
وہ جو لوگ بھی تھے وہ بہت ہی زیادہ خطرناک تھے۔۔۔۔!! کتنے لوگوں کی جان داؤ پر لگی ہوئی ہے۔۔۔۔۔۔
آپ مجھے بتائیں وہاں پر کیا کر رہے تھے آپ ؟ “
عشاء کے چہرے پر اپنے لیے فکر کو دیکھتے ہوئے وہ مسکرایا۔۔۔۔ جس پر عشاء نے مزید حیرانگی سے اسے دیکھا۔۔۔۔
” میں آپ سے کچھ پوچھ رہی ہوں۔۔۔۔!! اور آپ مسکرا رہے ہیں ؟ آپ مجھے بتائیں آپ کو کہیں کوئی چوٹ تو نہیں لگی ؟ میرے سوال کا جواب۔۔۔۔۔!!! “
وہ بول ہی رہی تھی جب ہی ماحد اپنے اور عشاء کے درمیان موجود فاصلے کو دو قدم میں ختم کرتا ہوا اس کے لبوں پر جھکا۔۔۔۔ اور اس کے لبوں کو اپنی گرفت میں کے گیا۔۔۔۔”
اس کے اتنے پاس آ جانے سے عشاء کا دل زور سے دھڑکا۔۔۔۔!! عشاء کا چہرہ سرخ پڑا۔۔۔۔! کچھ لمحات بعد آہستگی سے وہ اس کے لبوں کو آزادی بخشا ہوا پیچھے ہوئے۔۔۔
عشاء کی نگاہیں شرم سے جھک گئی۔۔۔۔۔!! جبکہ ماحد کے لبوں پر نیم مسکراہٹ چھائی ہوئی تھی۔۔۔۔
” آج کے بعد تمھارے ہر سوال کا جواب یہی ہو گا!!! “
اس کے قریب آتے ہوئے آہستگی سے ماحد نے عشاء کے کانوں میں گستاخی کی۔۔۔۔۔!! جس پر عشاء کے چہرے پر ہلکی سے مسکراہٹ رو نما ہوئی۔۔۔
جبکہ ماحد نے اسے خود میں چھپا لیا۔۔۔۔” ان دونوں کے چہروں پر مسکراہٹ تھی!!
ماحد اور عشاء بیٹھ کر آئسکریم سے لطف اٹھا رہے تھے۔۔۔۔۔!! جب ہی انھیں نیچے سے شور کی آواز کی آواز سنائی دی۔۔۔۔ شائید کوئی رو رہا تھا۔۔۔۔!!!!
” یہ کس کی آواز ہے ؟؟ “
ماحد نے آواز پہنچاننے کی کوشش کی۔۔۔
” شائید کوئی رو رہا ہے۔۔۔۔۔۔!!! “
عشاء نے اندازہ لگایا!!
” ہاں۔۔۔!! چلو چل کر دیکھتے ہیں!! “
وہ دونوں آئسکریم وہی ٹیبل پر رکھتے ہوئے نیچے کی طرف بڑھے۔۔۔۔۔ اور جیسے ہی نیچے کی طرف بڑھے تو دیکھا کہ ماحد کی والدہ رو رہی تھی!!
جبکہ امجد صاحب وہاں پر کسی بت کی طرح کھڑے تھے شائید وہ صدمے میں چلے گئے تھے۔۔۔۔۔!! عشاء نے جا کر ماحد کی والدہ کو سنبھالا لیکن جو ہی نظر سامنے پڑی۔۔۔۔
تو وہاں پر ایک جسم سفید چادر سے ڈھکا ہوا تھا جو یقیناً کوئی مردہ تھا۔۔۔۔ عشاء نے کسی سے پوچھے بغیر،،، جیسے ہی اس کے چہرے سے کپڑا ہٹایا تو جیا امجد مہر کا چہرہ پایا۔۔۔۔
” آہ۔۔۔۔۔!! “
جیا کی ڈیڈ باڈی دیکھتے ہوئے عشاء کی ایک زور دار چیخ نکلی۔۔۔۔۔!! ” اسی لمحے عشاء جو اپنے گھٹنوں پر بیٹھی تھی اس کا چہرہ دیکھنے کے لیے وہ زمین پر کھڑی ہوئی لیکن اس سے کھڑا بھی نا ہوا گیا!!!
ماحد نے اپنی والدہ کو صوفے پر بٹھایا اور انھیں پانی پلایا۔۔۔۔ اور پھر آکر عشاء کو سنبھالا۔۔۔۔
عشاء کے آنسو بہنا شروع ہو چکے تھے!!
” یہ سب کیسے ہوا ؟؟ “
ماحد نے سامنے کھڑے ان دو کانسٹیبل سے جو جیا کی لاش کو لائے تھے ان سے سوال کیا!!
‘” سر اس دن جب تھانے کے باہر جب فائرنگ ہوئی تو اس میں سے ہی ایک گولی ان کے سینے کو چیر گئی۔۔۔۔۔۔
اور موقع پر ہی ان کی موت ہو گئی۔۔۔۔۔!!! “
ان میں سے ایک کانسٹیبل نے انھیں ساری بات بتائی۔۔۔۔!! عشاء کا رونا جاری رہا!!
امجد صاحب کو جیسے چپ ہی لگ گئی تھی۔۔۔۔” یہ ان سب کے لیے بہت زیادہ مشکل وقت تھا!!
مہندی کے بعد پوری حویلی میں بارات کی رسومات کی شروعات کی گئی تھی۔۔۔۔۔”
ذیشان جب صبح اٹھا تو اپنی آغوش میں آیت کو گہری نیند میں پایا۔۔۔۔۔!!!
اس کی طرف دیکھتا ہوا وہ مسکرایا۔۔۔۔۔۔” اور اس کی طرف بڑھتا ہوا آہستگی سے اس کے ماتھے پر جھکتا ہوا اپنے لب رکھ گیا۔۔۔۔
اس کے لبوں کا لمس محسوس کرتے ہوئے آیت ہلکا سا مسکرائی۔۔۔ وہ بھی اٹھ چکی تھی!! جس پر ذیشان بھی مسکرایا۔۔۔۔
” گڈ مارننگ جان من۔۔۔۔۔۔!! “
ذیشان نے مسکراتے ہوئے کہا۔۔۔ جب ہی وہ اٹھ کر بیٹھ گئی۔۔۔۔۔!!
” گڈ مارننگ!! “
آیت بھی مسکرائی۔۔۔۔۔!!!”
” کل رات تم میرے آنے سے پہلے ہی سو گئی کیوں ؟ “
ذیشان نے ماتھے پر بل ڈالے ہوئے کہا!!
” کیوں کہ مجھے نیند آرہی تھی۔۔۔۔”
آیت نے مسکرا کر کہا۔۔۔۔
” لیکن میرا دل تو تمھارے ساتھ کچھ حسین لمحات گزارنے کا تھا۔۔۔ چلو کوئی بات نہیں کل کا ادھورا کام ہم آج رات پورا کر لیں گے۔۔۔۔!! “
اس نے اس ذو معنی مسکراہٹ لیے ہوئے کہا تو آیت کا چہرہ کانوں تک سرخ پڑ گیا۔۔۔ وہ تکیہ اس کی طرف اچھالتے ہوئے بیڈ سے نیچے اتری۔۔۔۔۔۔
اور چینج کرنے کے لیے کپڑے لیتے ہوئے واش روم میں گھس گئی۔۔۔۔”
جبکہ ذیشان کے چہرے پر مسکراہٹ نے بسیرہ کر لیا!!!
آج اس کے رخصت ہونے کا دن آ ہی گیا۔۔۔۔۔!!! یارش اور یمن کی بارات کا فنکشن شروع ہو چکا تھا۔۔۔۔۔”
یمن پارلر سے تیار ہو کر آئی تھی۔۔۔۔ اس کا بھائی اسے پارلر سے ہال لے آیا۔۔۔۔۔ اور اسے برائڈل روم میں بٹھایا گیا،،،،،،
بارات آ چکی تھی۔۔۔۔ کھانے کے بعد رخصتی کی رسم کا ادا کرنا بس باقی تھا۔۔۔۔۔۔!! یمن بہت نروس ہو رہی تھی۔۔۔۔۔
ماں باپ سے دور جانے کا غم اسے ستائے جا رہا تھا! جب ہی کچھ دیر بعد اپنے گھر والوں کے ہمراہ وہ اسٹیج تک پہنچی”
اسٹیج پر جیسے ہی یمن کی نظر پڑی تو سامنے کھڑے اس سفید رنگ کی شیروانی میں ملبوس یارش شاہ پر جا ٹکی۔۔۔۔
دوسری طرف یارش شاہ کی نظریں بھی صرف اور صرف یمن یارش شاہ ہر ہی ٹکی ہوئی تھی۔۔۔۔۔!!
آج وہ دونوں ایک ہونے جا رہے تھے۔۔۔۔۔۔! اب انھیں کوئی بھی الگ نہیں کر سکتا تھا!!!
جیسے ہی یمن اسٹیج کے قریب پہنچی یارش نے اس کا ہاتھ تھامنے کے لیے ہاتھ بڑھایا۔۔۔۔۔” یمن نے اپنا ہاتھ آہستگی سے اس کے ہاتھ میں تھما دیا۔۔۔۔۔!
جس پر وہاں موجود سب لوگوں نے زور سے تالیاں بجائی۔۔۔۔۔!! دودھ پلائی اور باقی سب چھوٹی چھوٹی رسومات کے بعد رخصتی کی گئی۔۔۔۔۔!!
یمن بھائی اور باپ کے زیرِ سایہ رخصت ہوئی۔۔۔۔ آخری موقع پر اس کی آنکھ سے آنسو بھی نکل پڑے!!
کس کے نہیں نکلتے آنسو ؟؟
ماں ، باپ ، بھائی ، بھابھی سب سے ملنے کے بعد وہ وہاں سے رخصت ہوئی۔۔۔۔!! آج وہ ہمیشہ کے لیے یارش کی ہو گئیں تھی!!!
