Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Black Heart Love (Episode - 4)

Black Heart Love By Abdul Ahad Butt

وہ اپنی سہیلیوں کے ساتھ مصروف ہو گئی۔۔۔۔! اس کے کزن کی شادی تھی جو اس کے ماموں کا بیٹا ہے۔۔۔۔!

گھر میں کافی رونق کا ماحول تھا۔۔۔۔! سب لوگ بہت زیادہ خوش تھے۔۔۔! جبکہ کچھ ہی دیر میں مہندی کی رسم شروع ہونے والی تھی۔۔۔!

جب ہی آیت کے پاس ایک ویٹریس آئی۔۔۔۔! اور اسے اپنی طرف متوجہ کرتے ہوئے بولنے لگی۔۔۔۔!

” میم۔۔۔۔! آپ پلیز زرا باہر جائے۔۔۔۔! وہاں آپ کے بابا آپ کو بلا رہے ہیں۔۔۔۔!”

اس نے کہا تو آیت کے ماتھے پر بل پڑے۔۔۔۔۔!

” پر بابا و یہاں۔۔۔۔۔!”

بل پڑھنے کی وجہ یہ تھی کہ اس کے بابا یہی موجود تھے اس کی مما کے ساتھ۔۔۔۔ لیکن جیسے ہی اس نے دیکھا تو وہ وہاں ہر نہیں تھے۔۔۔

شائید کال سننے کے لیے وہ باہر گئے اور اسے بلوایا کوئی کام ہو سکتا ہے۔۔۔۔!

” ٹھیک میں جاتی ہوں۔۔۔۔۔!”

ماتھے سے بل ختم ہو گئے تھے۔۔۔۔!!! آیت نے مسکراتے ہوئے کہا جس پر ویٹریس سے اثبات میں ہلا گئی۔۔۔۔!


🌹 🌹 🌹 🌹 🌹 🌹 🌹 🌹 🌹 🌹 🌹.

” بابا۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔! بابا۔۔۔۔۔۔۔۔!”

وہ باہر نکلی تو وہاں پر بس اندھیرا ہی اندھیرا تھا۔۔۔۔! اس نے آواز بھی دی لیکن اسے کوئی جواب موصول نہ ہوا۔۔۔۔!

وہ یہ سمجھنے لگی کہ شائید اس کے بابا اسے کوئی سرپرائز دینا چاہتے ہیں لیکن کیا۔۔۔۔۔؟

وہ سوچ کی رہی تھی کہ اسے کسی کی آہٹ سنائی دی جیسے ہی اس نے مڑ کر دیکھا تو وہ تیز قدموں سے اس کی طرف بڑھی۔۔۔۔”

اسے دیکھ آیت چیخی۔۔۔۔! جبکہ وہ مزید تیزی سے اس کی طرف بڑھی اور اس کی چیخ سن کر ہی وہ بلی وہاں سے بھاگ گئی۔۔۔۔!

آیت کافی حد تک ڈر سی گئی۔۔۔۔۔! اسے یقین ہو گیا کہ یہاں پر اس کے بابا موجود نہیں ہیں۔۔۔۔۔!!

شائید اس ویٹریس کو کوئی غلط فہمی ہوئی ہو گی۔۔۔۔۔” لیکن اسے کیا پڑی تھی کہ اس سے جھوٹ کہے۔۔۔۔؟

چلو ایک کام کرتی ہوں کہ جا کر اس سے ہی پوچھ لیتی ہوں۔۔۔۔۔!

آیت نے سوچتے ہوئے یہی فیصلہ کیا کہ وہ جا کر اس ویٹریس سے پوچھے کہ اس نے اسے یہاں پر کیوں بھیجا۔۔۔۔؟

لیکن جیسے ہی وہ مڑی تو اسے کسی کے بھاری قدموں کی آہٹ سنائی دی۔۔۔۔! اس سے پہلے کہ وہ مڑتی۔۔۔۔!

وہ اس کے منھ پر رومال رکھ چکا تھا۔۔۔۔! آیت اس یکدم ہونے والے حملے سے کافی حد تک گھبرا سی گئی تھی۔۔۔۔!

وہ بہت چیخی بھی چلائی بھی لیکن اس شخص کی آواز اس کو بہت کم لگ رہی تھی۔۔۔۔ تو اندر شور شرابے میں سب کو کیا سنائی دیتی۔۔۔۔۔؟

کچھ لمحے اس نے بہت کوشش کی کہ اس کی جان اس شخص سے چھوٹ جائے پر شائید یہ ہونا نہ تھا اور اس رومال پر لگے ہوئے کیمیکل کی بدولت وہ بے ہوش ہو گئی۔۔۔۔!

وہ شخص اسے وہاں سے لے جاتا سامنے والی گاڑی میں بیٹھا گیا اور اس گاڑی کو اس کی گھر کی طرف روانہ کردیا جہاں پر ذیشان موجود تھا۔۔۔۔!


🌹 🌹 🌹 🌹 🌹 🌹 🌹 🌹 🌹 🌹 🌹.

عشاء عصر کی نماز پڑھ کر کمرے سے نکلی اس وقت ہی اس کے سامنے ماحد آ رکا۔۔۔۔۔!

وہ دوسری سے جانے لگی وہ تو پھر سے اس کے سامنے آگیا۔۔۔۔! جب پھر دوسری طرف ہوئی تو اس نے پھر سے سامنے آتے ہوئے اس کا راستہ روکا۔۔۔۔!

” یہ کیا بد تمیزی ہے۔۔۔۔؟ ہٹو میرے راستے مجھے جانا ہے۔۔۔۔۔!”

غصے سے کہتے ہوئے اس نے اسے پیچھے کیا تھا۔۔۔۔! جو کب سے اس کے سامنے کھڑا تھا۔۔۔۔۔۔۔

لیکن جیسے ہی وہ آگے کی طرف بڑھی ماحد اس کا ہاتھ تھامتے ہوئے اسے اپنی طرف کیا۔۔۔۔!

اس شدید ہونے والے عمل سے وہ اپنا توازن برقرار نہ رکھ سکی اور اس کے سینے سے جا ٹکڑائی۔۔۔۔!

پہلے جو رات کو ہوا۔۔۔۔۔! وہ اب تک اسے نہیں بھلا پا رہی تھی اور اب اوپر سے یہ سب کچھ۔۔۔۔۔”

” یہ کیا حرکت ہے ماحد۔۔۔۔۔۔؟ تمھیں سمجھ نہیں آ رہا کہ میں نے تم سے کیا کہا ہے۔۔۔۔؟ مجھے جانا ہے تو جانا ہے۔۔۔ سمجھے تم۔۔۔۔ “

اسے ایک مرتبہ پھر سے دھکا دیتے ہوئے پیچھے ہوئی۔۔۔۔! ماحد تو اس کے انداز کو ہی دیکھ کر رہ گیا۔۔۔۔!

وہ ایسی تو نہ تھی۔۔۔۔! اس کی آنکھوں میں آج بھی ماحد کے لیے محبت چمکتی تھی۔۔۔۔۔

بس عشاء ہی جانتی تھی کہ وہ یہ رویہ اس کے ساتھ کیسے اختیار کر رہی تھی۔۔۔۔! وہ تو اسے کبھی تم کہہ کر یہ بلاتی۔۔۔۔!

اور آج یہ حالات ہو گئے کہ وہ اسے خود سے دور کر رہی تھی۔۔۔۔! یقیناً وہ اندر سے ٹوٹ چکی ہے۔۔۔۔!

اگر اس کے والد نے اس سے وعدہ نہ کیا ہوتا کہ وہ ان کے ہی پسند کے لڑکے سے شادی کرے گی تو وہ کبھی بھی ماحد سے یہ رویہ اختیار نہ کرتی۔۔۔۔!

” عشاء۔۔۔۔! میری بات غور سے سن لو میں تم سے محبت کرتا ہو۔۔۔۔! چاہے جو بھی ہو جائے۔۔۔۔! تم صرف میری ہو صرف میری۔۔۔۔!”

غصے پر بہت ہی زیادہ مشکل سے قابو پائے اس نے کہا۔۔۔۔! غصے کی شدت کی وجہ سے اس کی نسیں ابھرنے لگی۔۔۔۔۔!

” لیکن میں تم سے محبت نہیں کرتی۔۔۔۔! مہر ماحد۔۔۔ میرے لیے سب سے بڑھ میرے گھر والوں کا میرے بابا کا فیصلہ ہے۔۔۔۔

اور وہ نہیں چاہتے ہیں کہ میں تم سے شادی کرو۔۔۔۔۔! تو میں تم سے شادی نہیں کرو گی۔۔۔۔۔۔!

انھوں نے میرے لیے اگر جواد کو چنا ہے تو میں اس سے ہی شادی کرو گی۔۔۔۔! تم پلیز مجھ سے دور رہا کرو۔۔۔۔۔!”

وہ بولنے پر آئی تو بولتی چلی گئی۔۔۔۔۔! جو مہر ماحد کو ایک مرتبہ پھر سے تیش دلا گئی۔۔۔۔۔!”

” شٹ اپ۔۔۔۔! شٹ اپ۔۔۔۔! میری بات کان کھول کر سن لو عشاء میرے علاؤہ کسی بھی شخص کا اپنے ذہن میں خیال لانے سے پہلے سوچنا بھی مت۔۔۔۔۔!

میں نے کہا نا کہ تم صرف میری ہو صرف میری۔۔۔۔۔! اور اگر ایسا کچھ بھی ہوا تو شادی سے پہلے ہی جواد کا جنازہ اٹھ جائے گا سمجھی تم۔۔۔۔!”

غصے کی شدت میں وہ بہت کچھ بول گیا۔۔۔۔ جبکہ عشاء نے اس کا یہ روپ پہلی مرتبہ دیکھا تھا۔۔۔۔! یہ کہہ کر وہ وہاں سے چلا گیا۔۔۔۔”

جبکہ وہ خاموش سی کچن کی طرف بڑھ گئی۔۔۔۔۔”


🌹 🌹 🌹 🌹 🌹 🌹 🌹 🌹 🌹 🌹 🌹.

” ارے نجمہ بیگم۔۔۔۔۔! یہ آیت کہاں ہے۔۔۔۔؟ کافی دیر ہو گئی ہے وہ نظر نہیں آ رہی۔۔۔۔۔!”

کافی دیر سے وہ آیت کو دیکھ رہے تھے لیکن انھیں اس کا کہیں بھی پتا نہ چلا۔۔۔۔! تو شاہ نواز اپنی بیگم سے مخاطب ہوئے۔۔۔۔”

” شاہ نواز صاحب معلوم نہیں ہے۔۔۔۔۔! ابھی تو یہی پر تھی۔۔۔۔ لیکن اچانک سے کہاں چلی گئی وہ۔۔۔۔؟ “

نجمہ بیگم نے کچھ دیر پہلے اسے دیکھا تو آیت یہی پر موجود تھی۔۔۔۔ لیکن ابھی کہاں ہے ان کو معلوم نا تھا۔۔۔۔۔!

نجمہ اٹھی اور اس کی سہیلی کے پاس گئی۔۔۔۔

” جمیلہ بیٹا۔۔۔۔! کیا آپ نے کہیں آیت جو دیکھا ہے۔۔۔۔؟ کافی دیر ہو گئی ہے۔۔۔ پتہ نہیں کدھر گئی۔۔۔۔!”

انھوں نے اس سے سوال کیا۔۔۔۔!

” آنٹی مجھے بھی معلوم نہیں ہے کہ آیت کہاں ہے۔۔۔۔؟ مجھے بتا کر نہیں گئی ہے وہ۔۔۔۔! “

جمیلہ نے ان سے کہا تو وہ گھبرا سی گئی۔۔۔۔! جب ہی ان کی بھابھی وہاں پر آئی۔۔۔

” ارے نجمہ۔۔۔۔۔۔! کیا ہوا ہے۔۔۔۔؟ اتنی پریشان کیوں لگ رہی ہو۔۔۔۔۔؟”

ان کی بھابھی نے انھیں پریشانی سے دیکھتے ہوئے کہا۔۔۔۔۔”

” وہ بھابھی۔۔۔۔۔! آیت کا کچھ پتہ نہیں چل رہا ہے۔۔۔۔ ابھی یہی تھی۔۔۔! لیکن پتہ نہیں کہا ہے۔۔۔۔؟”

انھوں نے پریشانی سے بتایا شاہ نواز بھی وہاں پہنچ گئے۔۔۔۔۔ جو باہر سے آئے تھے۔۔۔۔”

” میں نے باہر سے ہر جگہ دیکھ لیا ہے لیکن وہاں کہیں بھی مجھے آیت نہیں ملی ہے۔۔۔۔!”

انھوں نے بتایا کہ وہ باہر سے ہر جگہ دیکھ چکے تھے لیکن انھیں کہیں بھی آیت نہیں ملی۔۔۔۔” جسے سن کر سب پریشان ہوئے۔۔۔۔”

” شاہ نواز صاحب میرا دل بہت زیادہ گھبرا رہا ہے۔۔۔۔!”

وہ ماں تھی اس کی۔۔۔۔” ماں جو تو ہر بات کا پتہ چل جاتا ہے اسی طرح انھیں یہ معلوم ہو گیا تھا کہ ان کی بیٹی کسی خطرے میں ہے۔۔۔۔!!!”

” ارے نجمہ۔۔۔۔! اس میں گھبرانے والی کوئی بات نہیں ہے۔۔۔۔ آیت اندر ہو گی۔۔۔۔! چلو ہم دیکھتے ہیں۔۔۔۔۔۔”

اس کی بھابھی نے اسے دلاسا دیا۔۔۔۔” جس پر وہ سارے گھر کے اندر کی طرف گئے اور اسے تلاش کرنے لگے۔۔۔۔۔”

°°°°°°°°°

” انتقام کے لیے تیار ہو جاؤ شاہ نواز۔۔۔۔”

شیطانی قہقہہ لگاتے ہوئے اس ٹیرس پر کھڑے ہوتے ہوئے کہا۔۔۔۔وہ گاڑی اپنی منزل مقصود پر پہنچنے ہی والی تھی۔۔۔۔”

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *