Black Heart Love By Abdul Ahad Butt NovelR504882 Black Heart Love (Episode - 39)
No Download Link
Rate this Novel
Black Heart Love (Episode - 39)
Black Heart Love By Abdul Ahad Butt
رات کے نو بجے کا وقت تھا!! مہندی کا فنکشن عروج پر تھا۔۔۔۔ ذیشان سارے سیٹ اپ کروا کر آیا۔۔۔۔”
جیسے ہی کمرے میں پہنچا تو نظر سامنے کھڑی اس سامنے حسن پری پر گئی۔۔۔ آیت شیشے کی سامنے کھڑی ہوئی اپنے کمر پر موجود اپنی کڑتی کی دوڑی کو باندھنے کی کوشش میں مصروف تھی!!
وہ اس قدر اپنے کام میں مگن تھی کہ اسے پتہ بھی نہیں چلا کہ ذیشان کمرے میں داخل ہو چکا ہے! ذیشان نے آہستگی سے دروازہ بند کیا اور ہلکے ہلکے قدم لیے ہوئے اس کی طرف بڑھا!
وہ اس کے پیچھے جا کر کھڑا ہوگیا۔۔۔۔ اور دیکھا کہ وہ کمر پر موجود اس کی کڑتی کی دوڑایاں لگانے میں مصروف تھی لیکن وہ صحیح سے ہو نہیں پا رہی تھی۔۔۔
جب ہی ذیشان نے ان دوڑیوں کو اپنے میں لیتے ہوئے گرہ لگائی۔۔۔۔ شیشے میں اپنے پیچھے اس کا عکس پاتے ہوئے دیکھ کر اور اس کے عمل کو محسوس کرتے ہوئے اس کا چہرہ شرم سے لال ہوتا گیا۔۔۔
” کیا بات ہے ؟ آج تو قاتل بنی گھوم رہی ہو!!! “
ذیشان نے اس کے پیٹ کے گرد ہاتھ پھیلاتے ہوئے اس کی کمر اپنے سینے سے لگاتے ہوئے اپنی ٹھوڑی اس کے کندھے پر رکھتا خمار آلود لہجے میں بولا!
” ذیشان میرے پاس برباد کرنے کے لیے بالکل بھی وقت نہیں ہے !! دادی میرا انتظار کر رہی ہوں گی!! “
اس کی بات سنتی ہوئی وہ مسکرا کر کہتی ہوئی اس سے جدا ہوتی ہوئی۔۔۔۔! اور وہاں سے جانے کے لیے دروازے کی طرف بڑھی ہی کہ ذیشان نے اس کا ہاتھ تھامتے ہوئے اسے اپنی طرف کھینچا۔۔۔۔
اس عمل سے وہ اس کے قریب ہوئی مگر ہنوز فاصلہ برقرار رہا۔۔۔۔
” میرے ساتھ تمھارا وقت برباد نہیں ہوگا۔۔۔۔!! دادی کے ساتھ بہت ملازمین ہیں۔۔۔ لیکن تم صرف میرے لیے ہو!! “
ذیشان نے اس کا اور اپنا فاصلہ دو قدموں میں سمیٹتے ہوئے اس کی کمر کے گرد ہاتھ حائل کرتا ہوا اسے اپنے قریب کرتا ہوا آہستگی سے بولا۔۔۔
آیت ہلکا سا مسکرائی۔۔۔۔
” آپ سمجھ نہیں رہے مجھے جانا ہے!! “
آیت نے تھوڑا سا دور ہونا چاہا۔۔۔۔ لیکن اس سے پہلے کہ وہ اس سے دور ہوتی ذیشان اسے مزید اپنے قریب کر گیا۔۔۔
اب کی مرتبہ وہ اس کے اتنے قریب آ چکی تھی کہ اگر تھوڑا سا بھی ہلتی تو ان دونوں کے لب مس ہو جاتے۔۔۔!!!!
” مجھے کچھ بھی سمجھ نہیں آرہا اگر ایک پریکٹیکل ہو جائے تو سمجھ جاؤ گا تھیوری کمزور کے میری۔۔۔۔!! “
ذیشان اس کے کان میں سرگوشی کرتا ہوا اس کے لبوں پر جھکنے ہی لگا کہ آیت نے اپنے دونوں ہاتھوں سے پوری طاقت سے اسے پیچھے دھکیلا اور اس کی گرفت سے نکلتے ہوئے دروازے کی طرف بڑھی۔۔۔
” بھاگ کو بھاگ کو کتنا بھاگو گی ؟؟ آنا تو میرے پاس ہی ہے نا ؟؟ پھر دیکھو گا کیسے بچتی یو میرے سے ؟ “
اس کی حرکت پر وہ کھلکھلا کر مسکراتا ہوا بولا۔۔۔ اس کی یہ بات آیت کا چہرہ کانوں تک سرخ کر گئی۔۔۔۔
وہ کمرے سے جا چکی تھی۔۔۔۔ ذیشان بیڈ پر پڑے ہوئے کپڑوں کو لیتا ہوا تیار ہونے کے لیے واش روم کی طرف بڑھ گیا!!!
کمرے کے شیشے کے سامنے کھڑا وہ اپنے کڑتے کا آخری بٹن بند کرتا ہوا مکمل طور تیار ہو گیا۔۔۔۔۔”
یارش بہت ہینڈسم لگ رہا تھا!!! “
” اممم!! یارش آج تو یمن یارش شاہ تجھ پر فدا ہو ہی جائے گی!! کیونکہ تو ہینڈ سم ہی اتنا لگ رہا ہے!!
لگ کیا رہا ہے ؟؟ تو ہے ہی اتنا ہینڈسم!!! “
وہ شیشے کا سامنے کھڑا ہو کر شوخ لہجے میں خود سے کی ہی تعریف کرتے ہوئے بولا۔۔۔۔ اس کا شوخا ہونا بنتا بھی تھا آخر کار اس کی ہی تو شادی تھی!!!
” یمن میں مانتا ہوں کہ جب یہ رشتہ بنا اس وقت میرے دل میں تمھارے لیے محبت کے جزبات نہیں تھے!!!
لیکن نفرت کے بھی نہیں تھے!! میں نے جب سے تمھیں دیکھا ہے اس وقت سے دل کے کسی حصے میں تمھارا پیار جنم لینا شروع ہو گیا!!
لیکن میں پاغل بے عقل کبھی اس بات کو سمجھ ہی نہیں پایا کیونکہ میں تو امبر سے بیوفائی کا بدلہ لینا چاہتا تھا۔۔۔۔
ان باتوں کا احساس تو مجھے اس وقت ہوا جب مجھے تمھاری ناراضگی جھیلنے پڑی۔۔۔۔!! تب مجھے معلوم ہوا کہ تم صرف میری بیوی ہی نہیں میری محبت بھی ہو!!
ہمارے درمیان کچھ تو ہے اور وہ یقیناً پیار ہی ہے جو تمھیں بھی ہے مجھ سے۔۔۔۔!! “
اب کی مرتبہ اس کے ہر حرف میں سنجیدگی تھی!! کوئی شوخ پن کا مظاہرہ نہیں کیا گیا۔۔۔۔
” اور مجھے پورا یقین ہے کہ تم مجھے ایک موقع اور ضرور دو گی!!! تمھیں مجھے موقع دینا ہو گا!!! تم مجھ سے دور نہیں ہو سکتی!!!!!”
یارش نے اپنے ارادوں کے متعلق خود کو ہی آگاہ کیا!
تم چاہے جتنا بھی زور لگا کو مجھ سے دور ہونے کا
یہ میری بھی ضد ہے میں تمھیں ہر دعا میں مانگوں گا
یمن بھی مکمل طور پر تیار ہو چکی تھی!! اس کے ذہن میں یہی بات گھوم رہی تھی کہ یارش کیسا لگ رہا ہوگا ؟
” یارش شاہ تمھیں جو بھی لگتا ہو کہ یمن یارش شاہ تم سے محبت نہیں کرتی یا تمھیں پسند نہیں کرتی تو یہ سراسر تمھاری بھول ہے!!
میں تم سے بیت پیار کرتی ہوں۔۔۔۔ پہلے دن سے کرتی ہوں اور معاف تو میں نے تمھیں اسی دن کر دیا تھا جس دن امبر نے مجھے فون کر کے سب کچھ بتایا!! “
یمن خود سے ہی باتیں کر رہی تھی کیونکہ کمرے میں تو تھا نہیں اس وقت کوئی جب ہی اسے اس رات امبر سے ہوئی بات یاد آئی!!
فلیش بیک سین!!
یہ بات آج سے ٹھیک تیرہ دن پہلے کی ہے۔۔۔۔!! جس دن یمن اور یارش کے درمیان جھگڑا ہوا تھا یہ اسی دن کی رات کی بات ہے۔۔۔۔!! “
امبر نے یمن کو دو سے تین کالز کی۔۔۔۔
” اسلام علیکم امبر کیسی ہو ؟؟ “
یمن نے اس کی کال پک کرتے ہوئے سلام لے کر اس کا حال پوچھا!!!
” وعلیکم اسلام!!! میں بالکل ٹھیک تم سناؤ کیسی ہو ؟؟ “
یمن سے اس کا حال پوچھا گیا!!
” میں بھی ٹھیک ہوں!! “
یمن نے مسکرا کر کہا!!
” چلو شکر ہے!! یمن مجھے تم سے ایک بہت ضروری بات کرنی ہے جسے تم نے بہت تحمل سے سننا ہوگا!!
یمن میں اور میری فیملی امریکہ شفٹ ہو کو رہے ہیں۔۔۔۔ اور جانے سے پہلے میں تمھیں بہت کچھ کلئیر کرنا چاہتی ہوں۔۔۔۔۔
یمن نکاح والی رات یارش نے جو بھی کہا جو تم نے سنا وہ سب تمھارے لیے غلط فہمی کے سوا کچھ نہیں۔۔۔۔
یمن وہ اپنی جگہ پر بالکل ٹھیک ہے!!! غلطی میری ہی ہے جو میں نے اس کے ساتھ بیوفائی کی۔۔۔۔ قصور وار تو میں ہوں وہ نہیں تو سزا اسے نہیں ملنی چاہئیے!
یمن وہ تم سے محبت کرتا ہے۔۔۔۔ میں نے اس کی آنکھوں میں تمھارے لیے بے تحاشا محبت دیکھی ہے!! پلیز تم اس کے اور اپنے رشتے جو میری وجہ سے خراب مت کرنا!!
اس سے زیادہ مجھے تم سے کچھ نہیں کہنا۔۔۔ ہو سکے تو مجھے معاف کر دینا۔۔۔۔! “
امبر نے ایک ایک بات اسے سمجھانے والے انداز میں کہی۔۔۔۔!! امبر نے اسے سمجھایا کہ یارش اس سے بہت محبت کرتا ہے!!
” تم کیوں معافی مانگ رہی ہو؟ تم ہماری ٹینشن چھوڑو اور اپنی لائف انجوائے کرو بیسٹ آف لک!! “
یمن نے مسکرا کر کہا اور فون رکھتے ہی گہری سوچ میں پڑ گئی۔۔۔۔۔۔ اور سارے سوالات کا جواب یہی ملا کہ یارش اس سے محبت کرتا ہے!! اور وہ بھی یقیناً اس سے محبت کرتی ہے!!
( حال )
اپنی اور امبر کی باتوں کو یاد کرتی ہوئی یمن مسکرائی۔۔۔۔۔ جب ہی وہاں پر کچھ لڑکیاں آیت سمیت اسے لینے کے لیے آگئی۔۔۔ تا کہ مہندی کی رسومات شروع کی جا سکیں!!
مہندی کا فنکشن عروج پر تھا۔۔۔۔ گاڑڈن میں ہی ایک خوبصورت سا سیٹ اپ لگایا گیا!! ہر چیز کو بہت ہی شاندار انداز میں سجایا گیا۔۔۔ ہر چیز بہت زیادہ خوبصورت لگ رہی تھی۔۔۔
” ارے وہاں دیکھو پھول کم ہیں اور لگاؤ!! “
دادی نے اشارتاً وہاں موجود لڑکے سے کہا۔۔۔ جس پر وہ سر ہاں میں ہلاتا ہوا پھول لگانے کے لیے بڑھا!!
” امی۔۔۔۔!! “
وہ لڑکا جیسے ہی گیا۔۔۔۔ اس وقت ہی دادی کے کانوں میں ایک آواز گونجی جسے سننے کے لیے وہ سالوں تڑپی تھی۔۔۔۔
” شاہ نواز۔۔۔۔!! “
وہ ماں تھی اس کی ، کیسے نا پہنچانتی وہ اسے ؟ انھوں نے جیسے ہی پیچھے مڑ کر دیکھا تو سامنے ہی اپنے بیٹے کو کھڑا پایا۔۔۔۔
ان کی آنکھوں میں شکوے امڈے لیکن ہر شکوے کو بھلاتے ہوئے وہ اپنے بیٹے کی طرف بڑھی۔۔۔۔
” شاہ نواز میرا بچہ!! “
انھوں نے اس کے گالوں پر ہاتھ لگاتے ہوئے محسوس کیا کہ کیا حقیقت ہے ؟؟ کہیں ان کا وہم تو نہیں!!
جب ہی شاہ نواز نے ماں کو سینے سے لگا لیا۔۔۔۔”
کچھ دیر وہ دونوں ماں بیٹا یوں ہی ایک دوسرے سے باتیں کرنے میں مصروف رہے!! کافی دیر تک ایک ماں سے کے سینے سے لگی رہی۔۔۔۔
” تجھے ایک مرتبہ بھی ماں کی یاد نا آئی ؟؟ “
دادی کی آنکھ میں ایک اور شکوہ چمکا!!
” امی ان بیس برسوں کا کوئی ایک لمحہ کوئی ایک پل بھی ایسا نہیں ہے جس میں میں نے آپ کو یاد نا کیا ہو !! “
شاہ نواز نے کہا تو وہ مسکرائی!!
” یاد آئی ہوتی تو ماں کے پاس واپس ضرور آتا۔۔۔۔!! “
انھوں نے گلہ کیا۔۔
” امی میں چاہ کر بھی نہیں آ سکا۔۔۔۔ جو حویلی میں باتیں چل رہی تھی۔۔۔۔ ان سب نے میرا آنا نا ممکن بنا دیا۔۔۔۔۔”
شاہ نواز نے وضاحت دی!
” تمھیں آنا چاہئیے تھا بیٹا مجھے تم پر یقین تھا!! “
انھوں نے شاہ نواز کا ماتھا چوما۔۔۔ کافی دیر تک بیٹھ کر وہ دونوں ماں بیٹا ایک دوسرے سے باتیں کرتے رہے!!!
مہندی کا فنکشن شور و شور سے جاری تھا۔۔۔۔۔!! ذیشان یارش کے ساتھ بیٹھا ہوا تھا۔۔۔ جبکہ آیت دادی جان اور بابا کے ساتھ بیٹھی ہوئی باتوں میں مصروف تھی۔۔۔۔!!
آیت یمن کو لینے کے لیے اندر کی طرف بڑھی۔۔۔۔!! ذیشان بھی کسی کام سے اٹھا۔۔۔۔
ذیشان اسٹیج سے نیچے اترتا ہوا آیت کی طرف بڑھا جب ہی اسے ایک بچہ ہاتھ میں گلاب کا پھول لیے ہوئے آیت کی طرف آتا دیکھائی دیا!!!
” آپی آپ بہت پیاری لگ رہی ہیں!!! “
اس چھ سالہ بچے نے بڑی ہی معصومیت سے آیت کے پاس آتے ہوئے اسے گلاب کا پھول دے کر کہا!!!
جس پر آیت نے مسکرا کر وہ گلاب کا پھول اس کے ہاتھ سے پکڑ لیا۔۔۔۔ جبکہ ذیشان نے یہ سارا ماجرا بڑی ہی حیرانگی سے دیکھا!!
” تھینک یو سو مچ آپ بھی بھی بہت پیارے لگ رہے ہو!! “
آیت کو بچے بہت پسند تھے۔۔۔۔ اور وہ بچہ بہت کیوٹ تھا۔۔۔۔ آیت نے عقیدت بھرے لہجے میں کہتے ہوئے اس کا ماتھا چوما!!
جسے دیکھ کر ذیشان شاہ مزید چونکا۔۔۔۔!! اسے آیت کا یہ عمل بہت ہی زیادہ نا گوار گزرا!!
” آیت یہ کیا ؟ “
” ذیشان پلیز ہم بعد میں بات کرتے ہیں!! مجھے کام ہے اس وقت!!”
ذیشان اس سے کچھ کہنے ہی لگا تھا کہ آیت نے اس کی بات درمیان میں ہی کاٹی اور وہاں سے چلی گئی۔۔۔۔۔
وہ ایک بچے سے جل رہا تھا!! جو خود چھ سال کا تھا اور ذیشان وہ تو ستائس سال کا تھا تو اپنے سے اکیس سال چھوٹے بچے سے وہ جلن محسوس کر رہا تھا!!
