Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Black Heart Love (Episode - 38)

Black Heart Love By Abdul Ahad Butt

 ” بابا یہ سب سچ نہیں ہے نا ؟؟ کہیں نا صادق سے وہ مزاق کر رہا ہے مجھ سے ؟؟ ایسا کیسے ہو سکتا ہے ؟؟ ذیشان ایسا کچھ بھی نہیں کر سکتے !! “

جب وہ زندہ تھا تو اس سے معافیاں مانگتا رہا۔۔۔۔۔!! لیکن اب جب اس کی موت کی خبر سامنے آئی تو وہ کیسے تڑپی تھی!!

شاہ نواز نے ایک سرد آہ بھری۔۔۔۔۔!!!

” بیٹا۔۔۔۔۔!! یہی سچ ہے ! “

شاہ نواز نے آہستگی سے اسے تھامتے ہوئے کہا۔۔۔۔۔ وہ بے یقینی سے ان کے ہاتھوں کی گرفت میں سے پیچھے ہٹی!!

” بابا پلیز میرے ساتھ ایسا مزاق کرنے کی ضرورت نہیں ہے۔۔۔۔!! ذیشان کو کچھ بھی نہیں ہو سکتا۔۔۔۔!!

وہ جھوٹ بول رہے ہیں۔۔۔۔!! “

آیت کی آنکھوں سے آنسو بہنا شروع ہوئے۔۔۔۔ شاہ نواز نے لب سختی سے بھینج لیے!!

شاہ نواز کی خاموشی اسے صاف بتا رہی تھی کہ یہ سب کچھ حقیقت ہے!!!

” بیٹا یہی حقیقت ہے تم مان لو اس بات کو!! “

شاہ نواز نے اسے سمجھانے کی کوشش کی!!!

” کیسے مان لو میں آپ کی بات ؟؟ کیسے یقین کر لو اس نوٹ پر میرا دل اس بات کو جب ماننے کے لیے تیار ہی نہیں کہ ذیشان کو کچھ بھی ہوا ہے!!

بابا وہ بالکل ٹھیک ہیں!! کیوں دے گے وہ اپنی جان ؟؟ “

وہ رونے کے در پر تھی۔۔۔۔!! شاہ نواز سے اس کا یہ حال دیکھا نہیں جا رہا تھا۔۔۔۔

” آیت تم حقیقت جھٹلا نہیں سکتی۔۔۔۔! بیٹا وہ تم سے سچی محبت کرتا تھا۔۔۔۔!!

اسی لیے تو اس نے اپنا کہا پورا کر دیکھایا “

شاہ نواز نے کہا تو وہ مزید افسردہ دل ہوئی۔۔۔۔ سر نفی میں ہلاتی ہوئی وہ زمین پر بیٹھتی گئی۔۔۔۔

آنسوؤں کا پھندا گلے میں اٹکا۔۔۔۔ سسکیاں نکلنی شروع ہوئی۔۔۔۔!! شاہ نواز وہاں سے باہر کی طرف بڑھ گئے۔۔۔۔” بیٹی کا یہ حال نہیں دیکھ سکتے تھے وہ!!

اس کی سسکیاں بڑھتی جا رہی تھی۔۔۔۔ ہچکیاں تھی کہ بڑھتی جا رہی تھی۔۔۔۔ صوفے کی پشت سے ٹیک لگائے ہوئے وہ بیٹھی اپنے اور اس ستم گر کے ساتھ گزرے ہوئے لمحات کو یاد کر رہی تھی۔۔۔۔۔”

” ایک مرتبہ تو پوچھا ہوتا کہ میں آپ سے محبت کرتی ہوں کہ نہیں !! میں آپ کو معاف کرنا چاہتی ہوں کہ نہیں!!

بس ایک مرتبہ تو پوچھا ہوتا!!

میں قسم کھا کر کہتی ہوں معاف کر دیتی آپ کو۔۔۔۔!! میں اقرار کرتی ہوں اس بات کا کہ میں آپ سے بہت محبت کرتی ہوں۔۔۔۔!!

آئی لو یو ذیشان شاہ!!! “

وہ روتے ہی سہی لیکن اپنی محبت کا اقرار کر گئی تھی۔۔۔۔”

” تو یہ بات تھوڑا پہلے کہہ دیتی تو کیا جاتا ؟؟ “

ایک بھاری بھرکم شخص کی آواز تھی یہ جس کی آہٹ وہ پہلے محسوس نہیں کر پائی تھی۔۔۔۔!! اس کی آواز سنتے ہی اس کے دل کو سکون سا میسر آیا۔۔۔

جب ہی پیچھے کی طرف مڑی تو آنکھوں کو بھی سکون ملا۔۔۔۔ سامنے ہی وہ ستم گر ذیشان شاہ کھڑا تھا۔۔۔۔

اسکے ہاتھ میں گلاب کے پھولوں کا بکے تھا۔۔۔۔!!

آیت اسی وقت اپنی جگہ سے کھڑی ہوئی۔۔۔ اور اس کی طرف بھاگی۔۔۔۔ جیسے ہی اس کے قریب پہنچی تو اس کے اور ذیشان کے درمیان وہ بکے فاصلہ حائل کر رہا تھا۔۔۔

آیت نے چڑتے ہوئے اس بکے کو اٹھا کر زمین پر پٹکا اور ذیشان کو گلے سے لگا لیا۔۔۔۔ اسے اتنا زور سے تھاما تھا آیت نے کہیں یہ اس کا خواب نا کو اور وہ کہیں غائب نا ہو جائے۔۔۔۔”

اپنے لیے اس کی اس فکر کو اس بے چینی کو دیکھتے ہوئے ذیشان کے لبوں پر مسکراہٹ بکھر گئی تھی۔۔۔۔”

آیت ابھی بھی بلک بلک کر رو رہی تھی۔۔۔۔!!

” اوئے چپ کرو۔۔۔۔! دیکھو میں تمھارے پاس ہوں تمھارا ذیشان تمھارے پاس ہے تمھارے قریب ہے۔۔۔۔!!

کہیں نہیں گیا!! اور میری ایک بات ہمیشہ یاد رکھنا اگر میں مر بھی گیا نا تو تب بھی تم صرف میری ہی رہو گی۔۔۔۔

بھوت بن کر آ جاؤ گا میں!!! “

اسے چپ کروانے کے لیے اس نے چند جملے ادا کیے جو آیت جو مزید زچ کر گئے۔۔۔۔

” شٹ اپ جسٹ شٹ اپ۔۔۔۔! آپ کو کسی کی فیلنگز کی قدر نہیں ہے کیا ؟؟ کیا آپ میرے بارے میں نہیں سوچتے کہ میرا کیا ہوتا اگر آپ کو کچھ ہو جاتا تو ؟؟

میں کہاں جاتی ؟ کیسے گزارتی یہ زندگی آپ کے بغیر ؟؟ میں مر جاتی!! ایک سانس بھی نہیں لے سکتی میں آپ کے بغیر۔۔۔

سمجھے مسٹر ذیشان شاہ!! خبردار جو آئیندہ ایسا خیال بھی اپنے ذہن میں لانے کی کوشش کی تو۔۔۔۔!!

آپ نا واقع میں سنگ دل ہیں ٬ کالے دل والے ہیں۔۔۔۔۔!! جسے کسی کی پرواہ نہیں ہے!! آپ نے ایک گھٹیا نوٹ لکھ دیا۔۔۔۔

لیکن ایک بار بھی یہ نہیں سوچا کہ یہ سب پڑھنے ٬ سننے کے بعد میرا کیا ہو گا ؟؟ “

وہ بولنے پر آئی تو بولتی چلی گئی۔۔۔۔۔! اس کے ایک ایک حرف میں صرف اور صرف ذیشان کے لیے پریشانی جھلک رہی تھی۔۔۔۔!!

وہ جتنا بھی پچھلے دنوں کہتی رہی کہ وہ اسے معاف نہیں کرے گی۔۔۔۔!! یا اس سے محبت نہیں کرتی!! وہ ذیشان سے علیحدگی چاہتی ہے !!

وہ سب کچھ جھوٹ تھا۔۔۔۔ بس ایک جھوٹ جھوٹ کے سوا اس کے یہ الفاظ کچھ بھی نہیں تھے!!!

کیونکہ اس وقت تو وہ اس پر غصہ تھی۔۔۔۔۔! اور کیوں نا ہوتی وہ اس پر غصہ حق بنتا تھا اس کا غصہ کرنا اس پر۔۔۔۔!!

کیونکہ جو غلطیاں ذیشان سے ہوئی تھی وہ بھی تو نا قابلِ معافی تھی!!!”

” اگر مجھے پرواہ ہے ٬ اور اگر میں آج زندہ ہوں ٬ اس نوٹ پر لکھی ہوئی بات جھوٹ ہے تو وہ صرف اور صرف تمھارے لیے ہے۔۔۔۔!!

میں تو بس دیکھنا چاہتا تھا کہ تمھیں مجھ سے محبت ہے کہ نہیں!! “

وہ اب بھی اس کے گلے سے لگی ہوئی اس کے ہونے کا احساس محسوس کر رہی تھی!!

لیکن اس کی بات سنتے ہوئے آیت کے ذہن میں سارا واقع گھومنے لگا صادق کا آنا ٬ اسے وہ خط دینا ٬ وہ خط پڑھنا ٬ صادق کے کہے ہوئے وہ الفاظ!!

اس کے بابا نے جو بھی کچھ اس سے کہا وہ سب صرف اور صرف جھوٹ۔۔۔۔۔! اس کے جذبات سے کھیلا گیا تھا!!

” ایک منٹ تو مطلب یہ سارا آپ کا پلین تھا ؟؟ “

آیت نے سوالیہ انداز میں پوچھا۔۔۔۔۔!!

” جی بالکل۔۔۔۔۔!! “

اس نے بڑے فخر سے بتایا تھا اسے کہ یہ سارے کا سارے پلین اسی کا ہے!!!

جس پر آیت نے طیش میں آتے ہوئے اس کے سینے پر مکے برسانے شروع کر دیے۔۔۔۔”

” ارے!! ارے کیا کر رہی ہو ؟ جان لو گی کیا میری ؟؟ “

ذیشان نے با مشکل ہی اپنا بچاؤ کرتے ہوئے کہا۔۔۔۔!

” ذیشان میں آپ سے بات نہیں کرو گی۔۔۔۔۔!! آپ کو بالکل بھی کسی کہ فیلنگز کا احساس نہیں ہے۔۔۔۔۔ آپ بہت پتھر دل ہیں!!!! “

وہ منھ بسورتے ہوئے بولی۔۔۔۔

” تو میں کب چاہتا ہوں کہ تم مجھ سے بات کروں میں تو چاہتا ہوں کہ تم مجھ سے باتیں کرو!!!! “

ذیشان نے آنکھ دباتے ہوئے مسکرا کر کہا۔۔۔۔” جس پر وہ بھی مسکرائی۔۔۔۔!

جب ہی ذیشان چہرے پر سنجیدگی سجائے اس کے سامنے آ کھڑا ہوا!!

” آیت میں چاہتا ہوں کہ تم مجھے دل سے معاف کر دو۔۔۔۔۔!! میں نے بہت بہت بڑے بڑے گناہ کیے ہیں جن کی معافی ملنا شائید آسان نہیں۔۔۔۔پر شائید تم معاف کر دو تو اللہ بھی مجھے معاف کردیں۔۔۔۔! “

ذیشان نے ایک مرتبہ پھر سے اپنی غلطیوں کی معافی مانگی!!

” میں آپ کو معاف کر چکی ہوں۔۔۔۔!! “

آیت نے بھی سنجیدگی کا لہجہ اپناتے ہوئے کہا۔۔۔۔!

” اور ویسے بھی زندگی میں کچھ ایسی چیزیں ہوتی ہیں جن ہمارا اپنا کوئی بس نہیں چلتا۔۔۔۔! پھر چاہے وہ ہماری فیلنگز ہوں یا پھر ہماری زندگی کے ہونے والے ایکسیڈینٹس!!

اور اگر دیکھا جائے تو آپ اپنی جگہ غلط نہیں تھے!!! میں نے آپ کو اسی دن معاف کردیا تھا جس بابا نے مجھے کہا تھا کہ آپ کو سچائی کے متعلق کچھ علم نہیں!! “

آیت نے سنجیدگی سے کہا۔۔۔۔ اور اس کے سینے سے لگتی اس کا لمس محسوس کرنے لگی۔۔۔۔!! جب ہی وہ اس کے جسم سے اٹھتی ہوئی دلفریب مہک کو اپنے اندر اتارنے لگا۔۔۔۔”

” آئی لو یو آیت۔۔۔۔۔!! “

کچھ لمحات بعد وہ زمین پر بیٹھتا پاس پڑے ہوئے گلاب کے پھولوں کے گلدستے سے ایک پھول نکالتا ہوا کہہ گیا۔۔۔۔

” آئی لو یو تو ذیشان۔۔۔۔!! “

اس کے ہاتھوں سے وہ پھول پکڑتے ہوئے آیت نے مسکرا کر اسے جواب دیا۔۔۔

اس کا جواب سنتے ہوئے ذیشان کھڑا ہوتا ہوا اس کے ماتھے پر اپنے لب رکھتا اپنی پیار کی مہر لگا گیا۔۔۔۔

جس پر آیت مسکرائی۔۔۔۔”

” تو پھر ہم گھر چلیں ؟؟ آپ کے بھائی کی شادی ہے!!! “

شاہ نواز ٬ ذیشان ٬ آیت بیٹھ کر کافی دیر تک باتیں کرتے رہے۔۔۔۔۔ جب ہی آیت نے ذیشان سے ایکسائٹد ہوتے ہوئے کہا۔۔۔۔

” جی ضرور۔۔۔۔!! شاہ نواز انکل آپ بھی چلیں نا ہمارے ساتھ!!! “

ذیشان نے شاہ نواز کو بھی ساتھ چلنے کی دعوت دی۔۔۔۔

” جی بابا آپ بھی چلیں نا ہمارے ساتھ۔۔۔۔۔!! دادی آپ کو دیکھ کر بہت خوش ہو جائے گی۔۔۔۔!! “

آیت نے بھی مسکراتے ہوئے اس کا ساتھ دیتے ہوئے کہا۔۔۔۔!!

” میں ضرور آؤ گا حویلی پر ابھی تم دونوں جاؤ اور انجوائے کرو۔۔۔!! “

شاہ نواز نے دونوں کی بات سنتے ہوئے کہا۔۔۔۔!!!

” ٹھیک ہے میں آپ کا انتظار کرو گا۔۔۔۔!! “

ذیشان نے کہا اور اس کو گلے ملا ،، آیت بھی اسے گلے ملی اور پھر وہ دونوں حویلی کے لیے روانہ ہوئے۔۔۔۔!!

جیا اور اس کی والدہ کا کھیل ختم۔۔۔۔!!! ماحد نے جیا کو پولیس کے حوالے کر دیا۔۔۔۔!! کیونکہ اس نے عشاء کو کڈنیپ کروا کر اس پر جان لیوا حملہ کروایا۔۔۔۔

سب کو یہ بھی معلوم ہو گیا کہ صرف اور صرف عشاء ہی اس گھر کی بیٹی ہے۔۔۔۔!! جیا کی ماں نجمہ نے بیس سال پہلے جھوٹ بولا کہ یہ بچی امجد صاحب کی ہے۔۔۔۔” اور ان کی باقی چالوں کا بھی سب کو علم ہو گیا تھا۔۔۔

نجمہ کو گھر سے نکال دیا گیا۔۔۔۔۔!! لیکن جیا کو پولیس کے حوالے کر دیا گیا۔۔۔۔

جب ان دونوں ماں بیٹی کو یہ معلوم ہوا یہ سب کچھ ناٹک تھا جو ماحد اور عشاء نے مل کر کیا تو وہ دونوں ہی صدمے میں آگئی۔۔۔۔!!

جیا کو پولیس کے کر جا ہی رہی تھی کہ راستے میں فائرنگ شروع ہوگئی۔۔۔۔!! اور وہاں ہر بھگڈر مچ گئی۔۔۔۔”

جو کانسٹیبل جیا کو لے کر جا رہی تھی وہ اپنی جان بچا کر بھاگ گئی۔۔۔۔!! جبکہ وہاں پر بھگڈر کی وجہ سے جیا کو بھی دھکا لگا اور اس کا سر ایک درخت سے جا ٹکرایا۔۔۔۔”

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *