Black Heart Love By Abdul Ahad Butt NovelR504882 Black Heart Love (Episode - 35)
No Download Link
Rate this Novel
Black Heart Love (Episode - 35)
Black Heart Love By Abdul Ahad Butt
” امی۔۔۔۔۔۔!!! کر دیکھایا آپ کی اس ہونہار بیٹی نے اپنا مقصد پورا۔۔۔۔!!! “
جیا نے کمرے میں آتے ہوئے فخر سے نجمہ کو بتایا کہ وہ اپنے مقصد میں کامیاب ہو گئی ہے۔۔۔۔!! جس پر نجمہ نے مسکرا کر اس کی طرف دیکھا۔۔۔۔!!
” مطلب ماحد اور عشاء ؟ الگ الگ!!! “
نجمہ نے مسکرا کر اس کی طرف دیکھا جس پر وہ سر ہاں میں ہلا گئی۔۔۔!! جسے دیکھتے ہی نجمہ کی خوشی کی انتہا نا رہی۔۔۔۔ اس کا تو بس نہیں چل رہا تھا کہ اچھلے کودے ناچے موج مستی کرے!!!
پر ہڈیوں نے ساتھ نا دیا۔۔۔۔!!
” اب کی مرتبہ ایسا الگ کیا ہے میں نے ان دونوں کو کہ کبھی قریب نہیں آ پائیں گے۔۔۔۔۔!!
آپ کو پتا ہے وہ ماحد جسے میں بیوقوف بالکل بھی نہیں سمجھتی تھی۔۔۔۔۔!! وہ اتنا بیوقوف نکلا کہ نقلی تصویریں دیکھ کر ہی یقین کر لیا کہ عشاء اسے دھوکا دے رہی ہے۔۔۔
جبکہ ایسا کچھ بھی نہیں ہے۔۔۔۔! “
عشاء کی بات پر اس کی ماں نجمہ کو غصہ آیا۔۔۔۔!!
” ارے پاگل لڑکی کتنی ہی مرتبہ میں نے تجھے یہ بات سمجھائی ہے کہ اپنا بھانڈا اپنے ہی منھ سے مت پھوڑا کر لیکن تو ہے کہ بیوقوف کہی کی۔۔۔۔
میرا بچہ دیواروں کے بھی کان ہوتے ہیں۔۔۔۔۔!! اور اگر کسی نے آتے جاتے ہماری باتیں سن لی نا تو ہمارا سارے کا سارے کھیل بگڑ جائے گا۔۔۔۔
ابھی فلحال تم عشاء کو تسلی دو۔۔۔۔!! “
نجمہ نے بیگم نے اسے ساری بات سمجھانے کی کوشش کی۔۔۔۔
” مر کر بھی نہیں۔۔۔!! “
عشاء کو تسلی دینے والی بات سے جیا شدید زچ ہوئی۔۔۔۔!!!
” تو میں کونسا کہہ رہی ہوں کہ تم اصلی تسلی دو۔۔۔۔ بیٹا کچھ پانے کے لیے کچھ کھونا تو پڑتا ہی ہے نا!!
تو یہاں پر تمھیں اپنی انا گنوانی ہو گی۔۔۔۔!! اور عشاء کو جھوٹی تسلی دینی ہو گی۔۔۔۔!!
اور سب سے بڑھ کر جیا تمھیں ایسی باتیں کرنی ہوں گی جس سے اسے لگے کہ ماحد بھی کسی لڑکی کو پسند کرتا ہے۔۔۔۔!!
اور وہ اس کے لیے عشاء پر جھوٹا الزام لگا رہا ہے۔۔۔۔! تا کہ عشاء اس کی راہ کی رکاوٹ نا بنے۔۔۔۔۔!!
تمھیں عشاء کے دل میں ماحد کے لیے اور ماحد کے دل میں عشاء کے نفرت کی اس لگی ہوئی آگ کو بھڑکانا ہو گا۔۔۔۔!!
تا کہ کبھی بھی وہ دونوں ایک نا ہو سکیں۔۔۔۔!! ان میں کبھی بھی محبت دوبارہ پیدا نا ہو سکے۔۔۔۔!
اور اس کے بعد میں امجد صاحب سے کہہ کر تمھاری اور ماحد کی شادی کروا دو گی۔۔۔ اور ساتھ ہی عشاء کی بھی جس سے میرا برسوں پرانا خواب پورا ہو جائے گا!!! “
نجمہ نے جیا کو اپنی چال کا ایک ایک پہلو اچھے طریقے سے واضح کرتے ہوئے اسے ساری بات بتائی۔۔۔۔۔
لیکن جیا صرف اس بات سے کی خوش تھی کہ اس کی اور ماحد کی شادی ہو گی۔۔۔۔!!!
” جی امی۔۔۔۔۔!! سب کچھ آپ کے کہے مطابق ہی ہو گا۔۔۔۔!! “
جیا نے ماں کی بات پر سر ہاں میں ہلاتے ہوئے اسے تسلی دی کہ جیسا وہ سوچ رہی ہے۔۔۔۔۔
سب کچھ ویسا ہی ہو گا۔۔۔۔!! وہ اپنے مقصد کو پورا ضرور کرے گے۔۔۔۔!!
اس بار کوئی بھی انھیں روک نہیں سکتا!!!
یارش یمن کی یونیورسٹی کے سامنے ہی کھڑا تھا۔۔۔۔۔!! آج تین دن بعد وہ ہمت کر کے وہاں پر آیا تھا۔۔۔
کیونکہ اس دن ہونے والے واقع کے بعد وہ اس کے سامنے آنے کی ہمت نہیں کر پا رہا تھا۔۔۔۔!!!!
جب وہ کچھ دیر تک وہی کھڑا رہا تو سامنے ہی وہ ستم گر کچھ دوستوں کے ہمراہ یونی سے باہر نکلی۔۔۔۔!!
سامنے ہی یارش کو پاتے ہوئے وہ ایک ہی جگہ تھم سی گئی۔۔۔ یمن کی آنکھوں کو جیسے سکون سا ملا اسے دیکھ کر۔۔۔۔!!
وہ آہستگی سے اس کی طرف قدم بڑھا رہی تھی۔۔۔۔!! اور اسی سپیڈ میں قدم بڑھاتے ہوئے اس کے پاس پہنچی تھی۔۔۔۔!!
” تو آج یہاں کیسے ؟؟؟ “
یمن نے آہستگی سے کہا جس پر یارش طنزیہ مسکرایا۔۔۔۔!!
” میری چھوڑو۔۔۔۔!! تم بتاؤ کیسے گزرے یہ تین دن۔۔۔۔ یقیناً سکون کے ہی گزرے ہوں گے!!!! “
یارش کے بقول اس کے یہ تین دن سکون سے گزرے ہوں گے۔۔۔۔ لیکن وہ تین دن تڑپی تھی اسے دیکھنے کے لیے۔۔۔۔۔!!
وہ اپنے کہے ہوئے پر تھوڑی سی شرمندہ تھی۔۔۔۔“
” یہ میرے سوال کا جواب نہیں۔۔۔۔۔!! “
یمن نے نظریں گھماتے ہوئے کہا۔۔۔۔ جس پر وہ ہلکا سا مسکرایا۔۔۔۔
” ویسے دل چاہا تم نے بات کر لو۔۔۔۔!! تو چلا آیا۔۔۔۔!! “
یارش نے ٹوٹے ارمانوں سے چور لہجے میں کہا۔۔۔۔ یمن نے بھی اس کے لہجے کی سادگی کو محسوس کیا تھا۔۔۔۔!!
وہ اس کی طرف دیکھ کر مسکرائی ہی تھی کہ جب ہی ایک گاڑی یمن کے بالکل سامنے آ رکی۔۔۔۔!! یارش نے ماتھے پر بل لاتے ہوئے اس شخص کو دیکھا۔۔۔
یمن ہلکا سا مسکرائی۔۔۔۔۔
” ارے یمن تم یہاں مجھے لگا تم گھر چلی گئی ہو گی۔۔۔۔ میری تو اچانک نظر پڑی تم پر۔۔۔۔!! “
وہ پینٹ شرٹ میں ملبوس نو جوان ہینڈسم سا لڑکا گاڑی سے اترتے ہوئے بولا۔۔۔
یارش نے حیرانگی سے اسے دیکھا۔۔۔۔
” یمن تم جانتی ہو اسے ؟؟؟ “
اس نے حیرانگی سمیت سوالیہ نظریں لیے ہوئے اس سے سوال کیا۔۔۔۔!! جب ہی وہ لڑکا یمن کے ساتھ آکھڑا ہوا۔۔۔۔۔
” بس یمن ہی نہیں میں بھی یمن کو جانتا ہوں۔۔۔۔۔!! ویسے آپ کون ؟؟ پہلے کبھی دیکھا نہیں آپ کو یمن کے ساتھ!!! “
وہ شخص بالکل یمن کے ساتھ کھڑا تھا۔۔۔۔۔ آج پہلی بار یارش کو جلن محسوس ہوئی ہے۔۔۔ وہ بھی یمن کے لیے۔۔۔۔۔!!
” عالیار یہ میرے!!! “
” شوہر۔۔۔۔!! شوہر ہوں یمن کا میں۔۔۔۔!! اور آپ کون ؟؟ “
یمن اپنے کزن عالیار سے یارش کا تعارف کروانے لگی کہ تھی اس نے خود ہی اپنا تعارف عالیار سے کروایا۔۔۔۔ اور اس سے اس کے متعلق سوال کیا!!!!
” اوو تو یہ ہیں دلہا بھائی!! میں عالیار۔۔۔۔!! یمن کے ماموں کا بیٹا۔۔۔۔!! اس کا فرسٹ کزن۔۔۔۔!! “
عالیار نے اس کی تصدیق کرتے ہوئے اپنا تعارف کروایا اور ہاتھ ملانے کے لیے اپنا ہاتھ آگے بڑھایا۔۔۔۔۔
یمن عالیار کی طرف دیکھ کر مسکرائی۔۔۔۔ جس پر یارش شاہ کو مزید جلن محسوس ہوئی۔۔۔۔۔
اس سے پہلے یارش کو کسی کے لیے بھی جلن محسوس نہیں ہوئی تھی۔۔۔۔۔ اسے پہلی بار کسی سے جلن محسوس ہو رہی یمن یارش شاہ کے لیے۔۔۔۔۔!!
” Nice to Meet you….!!! “
ان دونوں نے ہاتھ ملائے۔۔۔۔!! اور عالیار نے مسکراتے ہوئے یارش سے کہا۔۔۔ وہ بھی جھوٹی مسکراہٹ چہرے پر لایا۔۔۔۔!!!
” مجھے بالکل بھی نہیں ہوئی۔۔۔۔!! “
وہ منھ میں ہی بڑبڑایا۔۔۔۔!! لیکن یمن کو لگا کہ وہ کچھ بولا۔۔۔۔۔!!
” کچھ کہا ؟؟ “
یمن نے اس کے لبوں کو ہلتا ہوا پایا تو اس سے سوال کیا۔۔۔۔۔ کیونکہ وہ کچھ کلئیر سن نہیں پائی تھی۔۔۔۔
” ہاں نا میں نے کہا مجھے بھی خوشی ہوئی۔۔۔۔!! “
وہ جھوٹی مسکراہٹ چہرے پر لاتے ہوئے اسے اس کی بات کا جواب دے گیا۔۔۔۔۔!!!
لیکن جیسے ہی یمن نے چہرہ گھمایا یارش نے ساری مسکراہٹ کو ختم کرتے ہوئے سری ہوئی شکل بنا لی۔۔۔۔
یقیناً یہ اس کے دل میں یمن کے لیے جنم لیتی ہوئی محبت ہی تھی۔۔۔۔!!!”
جو یمن کے دل میں بھی جنم لے چکی تھی۔۔۔۔!!
” چلو یمن میں تمھیں چھوڑ دیتا ہوں ویسے بھی کافی دیر ہو گئی ہے!!!! “
یارش نے یمن سے کہا کہ وہ اسے چھوڑ دیتا ہے یمن نے سر ہاں میں ہلایا ہی کہ عالیار ان کے درمیان بولا۔۔۔۔
” ارے دلہا بھائی۔۔۔۔! آپ کیوں تکلف کر رہے ہیں ؟؟ میں ہوں نا میں چھوڑ دیتا ہوں ویسے بھی مجھے یمن کے گھر ہی جانا ہے!!
کیوں یمن ؟ “
عالیار کی بات پر یارش سختی سے لب بھینج گیا۔۔۔۔۔!!
” ہاں میں عالیار نے ساتھ چلی جاؤ گی تم گھر چلے جاؤ!!! “
یمن کی بات پر یارش نے اسے گھور کر دیکھا۔۔۔۔!! جو عالیار کے ساتھ فرنٹ سیٹ پر بیٹھتی ہوئی وہاں سے چلی گئی۔۔۔۔
ان دونوں کو جاتا ہوا دیکھ یارش اپنے ہاتھ سختی سے بھینج گیا۔۔۔۔ غصے پر بہت مشکل سے قابو پایا تھا اس نے۔۔۔۔۔!!
وہ بھی گاڑی چلاتا وہاں سے نکل گیا۔۔۔۔”
یمن کو ایک گھنٹہ ہوچکا تھا گھر آئے ہوئے۔۔۔۔۔!! یمن کچھ دیر ان کے ساتھ بیٹھنے کے بعد کمرے میں چلی گئی۔۔۔۔۔!!
تقریباً آدھے گھنٹے کے بعد جب وہ نیچے آئی تو سامنے یارش شاہ کو پاتے ہوئے وہ حیران ہوئی۔۔۔۔۔
” تم یہاں ؟؟ “
یمن نے بے ساختہ حیرانگی سے اسے دیکھتے ہوئے اس سے سوال کیا۔۔۔ کیونکہ اسے بالکل بھی امید نہیں تھی کہ وہ یہاں پر ( اس کے گھر ) موجود ہو گا۔۔۔۔!!
” کیوں میں یہاں نہیں ہو سکتا ؟؟ انکل آنٹی سے ملنے کا دل چاہ رہا تھا اس لیے آگیا “
اس نے معصوم شکل بناتے ہوئے کہا۔۔۔۔ یہ انکل آنٹی والا تو بس ایک بہانہ ہی تھا وہ تو بس یمن کو ہی دیکھنے آیا۔۔۔۔۔
” نہیں میرا وہ مطلب نہیں تھا میرا مطلب تھا اس وقت!! “
یمن نے اپنے سوال کا مطلب اسے سمجھانا چاہا۔۔۔۔!!
” ارے یمن کیا بچے سے سوال کیے جا رہی ہو ؟؟ اس کا جب دل کرے بیٹا وہ آ سکتا ہے!!
اس کا اپنی ہی گھر ہے۔۔۔۔!! تم بھی بیٹھ جاؤ “
یمن کے سوالات و جوابات کا سلسلہ سنتے ہوئے اس کی امی نے اسے ٹوکا اور اسے بیٹھنے کا کہا۔۔۔۔
” جی امی۔۔۔۔!! “
وہ سر ہاں میں ہلاتے ہوئے بیٹھ گئی۔۔۔۔!!
یارش اسے بیٹھتا ہوا دیکھ سختی سے لب سمیت مٹھیاں بھی بھینج گیا۔۔۔۔ کیونکہ عالیار کے ساتھ سامنے والے صوفے پر جا کر بیٹھ گئی۔۔۔۔ چاہے وہ دونوں صوفے کے ایک ایک طرف بیٹھے ہوئے تھے ان کے درمیان وسیع فاصلہ تھا۔۔۔۔
لیکن یارش کو اس بات سے غصہ تھا کہ وہ اس کے ساتھ بھی تو آ کر بیٹھ سکتی تھی۔۔۔۔!!
لیکن اسے بھی تو یارش کو چڑھانے کا موقع چاہئیے!!
” یمن بیٹا چائے وغیرہ پوچھو!! “
کچھ لمحات گزرنے تک جب وہ خاموشی سی بیٹھی یارش کو ہی تکتی رہی تو اس کی والدہ نے اسے ایک اور تاکید کی اور خود کسی کام سے اٹھتی کوئی وہاں سے چلی گئی۔۔۔۔
” کیا لے گے آپ ؟؟ چائے یا کافی ؟؟ “
یمن ماں کی بات سنتے ہوئے سر ہاں میں ہلاتی ہوئی اٹھ گئی اور کسی اچھی ادب و آداب والی بیوی کی طرح اس سے سوال کیا۔۔۔۔۔۔!!!!
یارش نے پہلے تو اسے حیرانگی سے دیکھا!! کیا یہ وہی تھی ؟؟ یا جن بھوت تو نہیں آگیا تھا اس میں ؟؟
” کافی!! “
یارش نے آہستگی سے کہا۔۔۔۔
” عالیار سے بھی تو پوچھ لو !! “
یارش کی بات سنتے ہوئے یمن سر ہاں میں ہلاتی ہوئی وہاں سے جانے ہی لگی۔۔۔۔۔۔!! جب ہی یارش کی ایک اور کہی ہوئی بات پر وہ مڑی اور مسکرائی۔۔۔
” مجھے معلوم ہے کہ وہ بھی کافی ہی لے گے۔۔۔۔۔!! “
یمن مسکرا کر کہتی ہوئی وہاں سے یارش کو حیران کرتی ہوئی چلی گئی۔۔۔۔
” میرے متعلق یمن کو سب کچھ معلوم ہے۔۔۔۔!! “
عالیار کی بات پر یارش کا دل تو کیا کہ اس کا سر پھاڑ دے مگر پھر مٹھیاں بھینجتا ہوا غصے پر قابو پاتا چہرے پر جھوٹی مسکراہٹ لا گیا۔۔۔!!
جسے دیکھ عالیار بھی مسکرایا اور موبائل فون میں بیزی ہو گیا۔۔۔۔یارش اسے سرد نگاہوں سے گھورتا رہا۔۔۔!! جسے عالیار نے ایک مرتبہ بھی نوٹ نہیں کیا۔۔۔۔
ماحد نے کل رات سے عشاء کو بلایا نہیں تھا۔۔۔۔۔!! عشاء کو بھی اس پر شدید غصہ تھا کہ وہ اس کے بارے میں ایسا سوچ بھی کیسے سکتا تھا ؟؟ کہ وہ اس کے نکاح میں ہوتے ہوئے اسے دھوکا دینے کے متعلق بھی سوچے گی!!!!
اور کچھ جیا رانی نے عشاء کے دل میں ماحد کے لیے آگ کو بھڑکانا شروع کیا ہوا تھا۔۔۔۔!!
اور ساتھ ہی میں وہ ماحد کو بھی عشاء کے خلاف بھڑکا رہی تھی۔۔۔۔!! تا کہ ان دونوں میں کبھی بھی کچھ بھی ٹھیک نا ہو!!!
لیکن وہ اور اس کی ماں ایک بہت ہی بڑے سچ سے نا واقف تھی۔۔۔۔۔!! “
” آیت کیا کوئی گھر آیا تھا ؟؟ “
شاہ نواز رات کو جب گھر آئے تو آیت جو افسردہ پایا اور گھر کی حالت بھی کچھ ایسی تھی جسے دیکھ کر صاف معلوم ہو گیا کہ کوئی گھر پر ضرور آیا تھا۔۔۔۔
” جی بابا ذیشان شاہ آئے تھے۔۔۔۔!!! “
اس نے آہستگی سے کہا۔۔۔۔۔
” واٹ ؟؟ “
وہ حیران ہوئے۔۔۔۔
” جی بابا وہ آئے تھے۔۔۔۔۔!! مجھے اپنے ساتھ لے کر جانے کے لیے لیکن میں نے ان کے ساتھ جانے سے انکار کر دیا!!! “
اس کی بات سنتے ہوئے شاہ نواز مزید حیران ہوئے۔۔۔۔
” کیا یہ واقع سچ ہے ؟؟ کہ وہ یہاں پر پہنچ گیا اور تمھیں لے کر نہیں گیا۔۔۔۔؟؟؟ “
شاہ نواز کو جیسے یقین ہی نہیں آیا”
” بابا انھیں ساری حقیقت معلوم ہو چکی ہے۔۔۔۔۔!! کہ ان کے والدین کا ق*تل آپ نے نہیں کیا!!! وہ معافی کے طلب گار ہیں۔۔۔۔
لیکن میں انھیں معاف نہیں کروں گی۔۔۔۔!! وہ معافی کے قابل نہیں ہیں۔۔۔۔!! “
آیت اسے بتاتی ہوئی وہاں سے اٹھتی ہوئی کچن کی طرف بڑھ گئی۔۔۔۔!! جب ہی شاہ نواز گہری سوچ میں پڑ گیا۔۔۔۔۔!!
” اگر وہ معافی کا طلب گار ہے ؟؟ تو اسے معاف کر دینا چاہئیے!! “
شاہ نواز نے منھ میں ہی کچھ کہا جسے آیت سن نا سکی۔۔۔۔۔!!
