Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Black Heart Love (Episode - 32)

Black Heart Love By Abdul Ahad Butt

 یارش نے دادی کے کہے مطابق یمن کو منانے کے لیے کچھ خوبصورت سے ارینجمینٹس کیے۔۔۔۔۔!!

اس کے لیے یہ ناراضگی مزید برداشت کرنا نا ممکن تھا۔۔۔۔۔ آج تک کوئی ایسا شخص نہیں تھا جو اس سے ناراض ہوا ہو۔۔۔۔

یمن یارش شاہ اس کی بیوی ہی وہ پہلی شخصیت تھی جو اس سے ناراض ہوئی تھی۔۔۔۔۔!!“

یارش نے کبھی بھی کسی بھی شخص کے لیے ایسا کچھ بھی نہیں کیا تھا۔۔۔۔۔!! اور نا ہی منانے کی کوشش کی تھی۔۔۔۔

اس کے مطابق یمن ہی تھی جو اسے نکھرے دکھا رہی تھی۔۔۔۔۔!! لیکن غلطی تو یارش کی بھی تھی۔۔۔۔!!!

اس نے بھی تو غلط کیا تھا یمن کے ساتھ۔۔۔۔۔!!

ناراض ہونا تو پھر بنتا تھا ہی نا اس کا۔۔۔۔۔۔۔ پر کب تک رہے گی یہ ناراضگی ؟؟ کبھی نا کبھی تو یہ ناراضگی ختم ہونی ہی ہے نا۔۔۔۔!

تو پھر اب کیوں نہیں۔۔۔۔!!

وہ یونیورسٹی گیا تھا اور یمن کو اپنے ساتھ چلنے کا کہا۔۔۔۔ لیکن اس نے صاف طور پر انکار کردیا۔۔۔۔

یارش اس کے گھر پہلے ہی بتا چکا تھا کہ وہ آج یمن کو باہر لے کر جانا چاہتا ہے۔۔۔۔

انھیں کیا اعتراض ہو سکتا تھا ؟؟ وہ اس کی بیوی تھی۔۔۔۔۔۔!!“

یمن کے انکار کرنے پر اس نے بتایا کہ اسے لینے کوئی نہیں آئے گا۔۔۔۔ تو اسے اس کے ساتھ ہی جانا پڑے گا۔۔۔۔۔!!

یمن نے زیادہ بحث کرنا مناسب نا سمجھا کیوں کہ وہ ایک ببلک پلیس تھی تو وہ کوئی بد مزگی پیدا نہیں کرنا چاہتی تھی۔۔۔۔۔

وہ یارش کے ساتھ اس کی گاڑی میں بیٹھ گئی۔۔۔۔۔!! جب ہی وہ دونوں ایک جگہ پر آئے۔۔۔

جہاں پر دور دور تک لوگوں کا کوئی نام و نشان نہیں تھا۔۔۔۔ یمن نے حیرانگی سے اس جگہ کو دیکھا۔۔۔۔۔ کہ وہ شخص کیا پاغل تھا جو اسے یہاں لایا تھا۔۔۔۔۔

” ہم یہاں کیوں آئے ہیں۔۔۔۔۔؟؟ “

یمن نے نے یارش کی طرف دیکھتے ہوئے ماتھے پر بل لیے کہا۔۔۔۔ جس پر وہ ہلکا سا مسکرایا۔۔۔۔

” اترو گاڑی سے تو بتاتا ہوں۔۔۔۔۔!! “

یارش نے گاڑی کا دروازہ کھولتے ہوئے گاڑی سے اترتے ہوئے کہا۔۔۔۔۔!!! یمن نے اسے گھورا۔۔۔۔

جب ہی اس نے گاڑی کی دوسری طرف آتے ہوئے گاڑی کا دروازہ کھولا۔۔۔۔۔!!!

” کچھ بتاؤ تو سہی مجھے۔۔۔۔۔؟؟؟ “

یارش نے یمن کا ہاتھ تھامنے کے لیے ہاتھ آگے کی طرف بڑھایا۔۔۔۔۔!! لیکن اس نے ایک نظر ہاتھ پر ڈالی اور اسے مکمل طور پر اگنور کرتے ہوئے گاڑی سے اتری۔۔۔۔۔!!

یارش نے ہاتھ بھینج لیا۔۔۔۔ اور پیچھے ہٹ گیا۔۔۔۔۔!!“

” اب تم مجھے بتانا پسند کرو گے کہ ہم یہاں کیا کر رہے ہیں۔۔۔۔۔؟؟ “

یمن اس سے بار بار ایک ہی سوال پوچھ رہی تھی۔۔۔۔۔!!! لیکن وہ کوئی جواب نہیں دے رہا تھا۔۔۔۔۔

اب کی مرتبہ یمن کے لہجے میں اکتاہٹ تھی۔۔۔۔

” چلو۔۔۔۔ میرے پیچھے آ جاؤ سب پتہ لگ جائے گا۔۔۔۔۔ “

یارش نے قدم ایک راہ پر بڑھائے تھے۔۔۔ یہ ایک پارک کی طرح کی جگہ تھی۔۔۔۔!! لیکن بہت ہی سنسان تھی۔۔۔۔۔

یہاں کر کوئی بھی نہیں تھا۔۔۔۔۔!! لیکن ہے یہ جگہ بہت خوبصورت تھی۔۔۔۔۔!!

اسے جاتا ہوا دیکھ کر یمن نے بھی قدم اس کے پیچھے بڑھانا شروع کر دیے تھے۔۔۔۔۔!!”

جیسے ہی وہ اس کے ساتھ آگے کی طرف بڑھی سامنے ہی ایک خوبصورت سا سیٹ اپ لگایا گیا تھا۔۔۔۔

یمن اسے دیکھ کر حیراں ہوئی۔۔۔۔۔!!

” I am sorry…..!! “

سامنے ہی خوبصورت سا کر کے لکھا گیا تھا۔۔۔۔۔!! جسے دیکھ کر یمن نے حیرانگی سے یارش کو دیکھا۔۔۔۔

جو ہنوز مسکرا رہا تھا۔۔۔۔۔!!“

” یہ سب کیا ہے ؟؟ “

یمن نے دو قدم آگے بڑھاتے ہوئے اس کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر رہا۔۔۔۔ یارش نے مسکرا کر اسے دیکھا۔۔۔۔۔

” یہ ہے معافی۔۔۔۔۔۔!! مجھے لگتا ہے کہ تمھیں نظر تو آہی رہا ہے۔۔۔۔۔!!! تو پھر یہ سوال کیوں ؟؟

دیکھو یمن مجھے پتہ ہے کہ تم مجھ سے بہت ناراض ہو۔۔۔۔۔ مجھے معلوم ہے کہ میں نے تمھارے ساتھ بہت ہی زیادہ غلط کیا ہے۔۔۔۔۔

پر اب تو ہمارا نکاح ہو گیا ہے۔۔۔۔۔!! مجھے لگتا ہے ہمیں ان لڑائیوں جھگڑوں کو بھلا کر مو آن کر جانا چاہئیے۔۔۔۔۔ “

یارش نے اس کے سامنے کھڑے ہوتے ہوئے ان ارینجمینٹس کو کرنے کی وجہ بیان کی۔۔۔۔۔

جس کا مقصد صرف اور صرف یہی تھا کہ وہ اس سے معافی مانگنا چاہتا ہے۔۔۔۔ اپنے رشتے جو ایک اور موقع دینا چاہتا ہے۔۔۔۔

یمن اس کی باتیں سن کر طنزیہ مسکرائی بلکہ مکمل ہنسی تھی۔۔۔۔ اس کے چہرے پر طنزیہ تاثرات کو یارش نے بخوبی پہنچانا تھا۔۔۔۔۔

” تم ہنس کیوں رہی ہو ؟؟؟ “

یارش نے ماتھے پر بل ڈالے ہوئے اس کی طنزیہ مسکراہٹ کی وجہ پوچھنی چاہی جبکہ وہ باقاعدہ مسکراتے ہوئے تالیاں بھی بجانے لگی۔۔۔۔!!!!“

یارش مزید زچ ہوا۔۔۔۔۔۔

” واہ یارش شاہ واہ۔۔۔۔۔!!! تم نے تو کمال ہی کر دیا۔۔۔۔۔ تمھارا تو جواب ہی نہیں۔۔۔۔۔

اتنا اچھا ناٹک۔۔۔۔؟؟ مطلب۔۔۔۔!! “

وہ مسکراتے ہوئے بول رہی تھی۔۔۔۔۔ لیکن اب اس کے چہرے سے ساری مسکراہٹ ساری ہنسی اڑ گئی تھی۔۔۔۔۔ اب اس کے چہرے پر یارش کو صرف اور صرف طنز دکھائی دے رہے تھے۔۔۔۔!!

” مطلب یہ کہ پہلے تم نے مجھے دھوکا دیا۔۔۔۔۔!! مجھے پیار کے جال میں پھنسایا۔۔۔۔ تم خود بیت معصوم بنے رہے۔۔۔۔۔

نکاح تک میں یہی سمجھتی رہی کہ یارش ایک بہت اچھا انسان ہے۔۔۔۔ نیک دل ٬ رحم دل ٬ سب کا احساس کرنے والا۔۔۔۔۔

لیکن نکاح کے بعد مجھے پتہ چلتا ہے کہ یارش شاہ نے اگر کبھی میرے لیے کوئی بھی جزبات رکھے ہیں تو وہ بس بدلے کے ہی جزبات ہیں۔۔۔۔۔!!!!!!

اس کی محبت ٬ اس کی رحم دلی ٬ اس کا سچا ہونا خود بس ایک جھوٹ ہے۔۔۔۔۔! “

یمن کی باتیں سنتے ہوئے وہ پل پل مر رہا تھا۔۔۔۔۔ کتنی نفرت کرتی تھی نا وہ اس سے۔۔۔۔۔۔۔۔!!!

لیکن وہ بھی اور کیا کرتی ؟؟ کیا وہ اپنی جگہ پر غلط تھی ؟؟ نہیں اگر کسی بھی لڑکی کے ساتھ ایسا ہوتا تو شائید وہ چپ بھی نا رہتی !!

وہ چیخ چیخ کر سب کو بتاتی کہ اس نے دھوکا کیا ہے۔۔۔۔!! پر یہ یمن یارش شاہ کا بڑا دل تھا جو چپ چاپ اس کے دیے دھوکے جو برداشت کر گئی تھی۔۔۔۔۔

اور دھوکا بھی وہ جس میں اس کا کوئی قصور ہی نہیں تھا۔۔۔۔ جبکہ وہ اس معاملے کو جانتی تک نہیں تھی۔۔۔۔۔

اگر غلطی تھی بھی نا تو امبر نے اس کے ساتھ بے وفائی کی تھی نا کہ یمن نے!!

” تم نے میرا محبت سے یقین اٹھا دیا۔۔۔۔ یارش شاہ۔۔۔۔۔!! میں وہ لڑکی تھی جو محبت پر یقین رکھتی تھی۔۔۔۔

خوابوں میں جیتی تھی۔۔۔۔ جس کے پاس اس کے ماں باپ نے کبھی دکھ بھی نہیں پہنچنے دیا تھا۔۔۔۔۔!!

اور اس زندگی کے جتنے بھی دکھ تھے وہ مجھے یارش شاہ سے ملے۔۔۔۔۔!!!

ایک ہی پل مجھے عرش سے فرش پر لا کر بٹھا دیا۔۔۔۔ میرا بھرم ٬ یقین سب ختم کر دیا۔۔۔۔ “

اس کی باتیں یارش کے دل کو چیر رہی تھی۔۔۔۔ لیکن کیا وہ غلط کہہ رہی تھی ؟؟ کیا اس کی کہی ہوئی بات کا ایک حرف بھی جھوٹا تھا ؟؟ نہیں یہ سب سچ تھا۔۔۔۔۔!!!!

وہ ہنوز نظریں جھکائے ہوئے اس کی باتیں سن رہا تھا۔۔۔۔۔

” اب میں تمھیں معاف نہیں کر سکتی۔۔۔۔۔ یہ سب کچھ بے کار ہے۔۔۔۔ آئم سوری۔۔۔۔۔!!! “

وہ کہتے ہوئے وہاں سے چلی گئی۔۔۔۔۔ اس کی آنکھوں میں آنسو بھی تھے۔۔۔۔ دکھ بھی۔۔۔۔۔۔

اور اس سب کی وجہ صرف اور صرف یارش شاہ ہی تھا۔۔۔۔۔!!

یارش نے غصے سے اس ٹیبل پر پڑے ہوئے کینڈلز کو چادر سمیٹ زمین پر پھینک دیا۔۔۔۔

اس سیٹ اپ کا خشر نشر بگاڑ دیا تھا اس نے۔۔۔۔۔!!!“

ذیشان اس وقت کمرے میں موجود تھا۔۔۔۔۔!!! اسے سمجھ نہیں آرہی تھی کہ وہ آیت کو کہاں ڈھونڈنے ؟ کہاں گئی تھی وہ ؟؟

اس دن سے لے کر اب تک وہ پانچ وقت کی نمازیں پڑھتا تھا۔۔۔۔۔!! ہر روزانہ رب سے معافی مانگتا تھا۔۔۔۔۔!!!

اپنی غلطیوں پر اس کو شدید پچھتاوا تھا۔۔۔۔۔ وہ یہ نہیں چاہتا تھا کہ آیت کو زبردستی اپنے ساتھ رکھے۔۔۔۔۔

وہ اس کی سلامتی چاہتا تھا۔۔۔۔ اس سے معافی مانگنا چاہتا تھا۔۔۔۔۔

جس درد میں وہ تھا اگر آیت اسے معاف کر دیتی تو شائید اس کے درد میں کمی آ جاتی۔۔۔۔۔!!!

وہ کھڑکی کے سامنے کھڑا تھا جب ہی کمرے کا دروازہ ناک ہوا۔۔۔۔۔

” یس۔۔۔۔”

دروازہ جس نے بھی کھڑکایا تھا۔۔۔۔۔ اس نے اسے اندر آنے کی اجازت دی تھی۔۔۔۔۔!!

یس کی آواز کو سنتا ہوا صادق کمرے میں داخل ہوا۔۔۔۔۔!!!!

” ہاں بولو صادق کیا ہوا۔۔۔۔؟؟ “

جیسے ہی صادق کمرے میں داخل ہوا۔۔۔۔۔!!! ذیشان اس کی طرف مڑا اور چہرے پر عجب بے چینی لیے ہوئے پوچھا۔۔۔۔

لیکن صادق کے چہرے پر اسے خوشی نظر آئی۔۔۔۔!!!! “

” سر ایک گڈ نیوز ہے آپ کے لیے۔۔۔۔۔۔!! “

صادق نے کہا تو وہ طنزیہ مسکرایا۔۔۔۔۔۔ وہ کونسا آیت کے ملنے کی خوش خبری لایا ہوگا۔۔۔۔!!

” کیا آیت کا پتا چل گیا ؟؟؟ “

ذیشان کے کہنے پر وہ مسکرایا۔۔۔۔!!!

” یس سر لگا لیا ہے ہم نے پتہ آیت میم کا۔۔۔۔۔!!! “

صادق کی کہی ہوئی بات کر اس کا یقین کرنا بہت زیادہ مشکل تھا۔۔۔۔۔!!! وہ طنزیہ مسکرایا۔۔۔

” صادق میں اس وقت مزاق کے موڈ میں نہیں ہوں۔۔۔۔۔!!!! “

ذیشان نے ہلکا سا مسکراتے ہوئے کہہ گیا۔۔۔۔ وہ امید کھو چکا تھا۔۔۔پر ہمیں اللہ تعالیٰ سے نا امید نہیں ہونا چاہیے۔۔۔۔!!

” سر میں بھی اس وقت مزاق کے موڈ میں نہیں ہوں۔۔۔۔!! “

صادق کی بات پر وہ مزید حیران ہوا۔۔۔۔

” یس سر۔۔۔۔ میں آپ کو بتاتا ہوں کہ ہمیں کیسے معلوم ہوا یہ سب کچھ۔۔۔۔!!! “

صادق نے کہا۔۔۔۔۔ جس پر ذیشان اس کی طرف متوجہ ہوا۔۔۔۔۔ اس کے لیے اس خوشی سے بڑھ کر کوئی اور بھی خوشی نہیں تھی۔۔۔۔۔!!!!“

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *