Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Black Heart Love (Episode - 31)

Black Heart Love By Abdul Ahad Butt

 ” ماحد بیٹا۔۔۔۔!! عشاء کیسی ہے۔۔۔۔۔؟؟ “

امجد صاحب کو جیسے ہی خبر ملی کہ عشاء کڈنیپ ہوئی ہے۔۔۔۔ اور اس وقت وہ ہوسپٹل میں ہے۔۔۔۔۔ وہ فوراً بیٹی کے پاس بھاگے چلے آئے۔۔۔۔۔!!

اس مرتبہ تو نجمہ بیگم کے چہرے پر بھی اداسی تھی۔۔۔۔

ہوسپٹل پہنچتے ہوئے انھوں نے اکاؤنٹنٹ سے عشاء کے متعلق دریافت کیا۔۔۔۔ جس پر اس نے انھیں یہاں کی راہ دکھائی۔۔۔۔۔! یہاں پہنچے تو سامنے ہی ماحد کھڑا تھا۔۔۔۔

وہ سر جھکائے ہوئے خون سے لت پت ایک زندہ لاش کی مانند وہاں پر کھڑا تھا۔۔۔۔۔!! اس کے ہاتھوں پر خون تھا۔۔۔۔

اس کے جسم پر موجود کالے رنگ کی شڑٹ پر بھی خون کے رنگ صاف واضح ہو رہے تھے۔۔۔۔۔!

اس کی حالت کو دیکھ کر صاف معلوم ہو رہا تھا کہ عشاء کی حالت بھی بہت بری ہوگی۔۔۔۔۔۔!!! اس کی آنکھوں کے کنارے نم تھے۔۔۔۔

جب ہی نجمہ اور امجد ان کے پاس آئے اور اس سے عشاء کی صحت کے متعلق سوال کیا۔۔۔۔۔!!

وہ یوں ہی چپ چاپ کھڑا رہا۔۔۔۔۔۔ اس نے منھ سے ایک لفظ بھی نا نکالا۔۔۔۔۔ حتی کہ ماحد نے ایک نظر انھیں اٹھا کر بھی نہیں دیکھا تھا۔۔۔۔۔!!!

شائید اس میں ہمت ہی نہیں ہو رہی تھی۔۔۔۔ کہ وہ کچھ بھی بولے۔۔۔۔۔!!!!!!“

” بولو بھی ماحد بیٹا۔۔۔۔۔؟؟ کیا کہا ڈاکٹر نے ؟؟ کیسی ہے میری بچی۔۔۔۔۔!! کچھ تو کہو۔۔۔۔۔۔!! “

اب کی مرتبہ امجد مہر نے اسے بازوؤں سے جھنجھوڑتے ہوئے کہا۔۔۔۔ جس پر ماحد نے ایک نگاہ اٹھا کر ان کی طرف دیکھا۔۔۔۔۔!!! “

” حالت بہت خراب ہے۔۔۔۔۔۔!! ڈاکٹر نے کہا ہے بچنا بہت ہی مشکل ہے۔۔۔۔۔!! “

اس کے یہ الفاظ وہاں کھڑے ہوئے ہر شخص کو ان کی جگہ ہر ساکت کر گئے تھے۔۔۔۔۔!!! امجد مہر نے بے یقینی سے مہر ماحد کے بازوؤں سے ہاتھ ہٹا لیا تھا۔۔۔۔

یہ سن کر نجمہ بیگم کو بھی شائید دکھ پہنچا۔۔۔۔۔! ماحد کی والدہ اس وقت گھر میں تھی۔۔۔۔۔!! نجمہ نے انھیں گھر رہنے کا ہی کہا ورنہ وہ بھی پریشان ہو جاتی۔۔۔۔۔

جبکہ اس کے یہی الفاظ سامنے کھڑی ہوئی جیا کے چہرے پر مسکراہٹ بکھیر گئے تھے۔۔۔۔۔!!

وہ یہی سننا چاہتی تھی۔۔۔۔۔ جو اس نے سن لیا۔۔۔۔۔!!

” (اس کا مطلب یہ ہوا کہ عاصم ملک کے بندے بھی بیوقوف نہیں ہیں۔۔۔۔۔!! وہ بھی اپنا کام خوب کرنا جانتے ہیں۔۔۔۔۔!!

بے کار میں ہی میں نے ان بیچاروں کو اتنی سنا دی۔۔۔۔۔!! جبکہ انھوں نے تو اپنا کام پورا بھی کردیا۔۔۔۔۔

عاصم ملک کا شکریہ ضرور ادا کرو گی میں۔۔۔۔۔۔!!)“

جیا نے خود سے چند قدم دور کھڑے ہوئے ماحد کی بات سن کر مسکراتے ہوئے اپنے دل ہی دل میں سوچا۔۔۔۔۔

کسی بھی شخص کا اس کی طرف دھیان نہیں تھا۔۔۔۔ اگر ہوتا تو اس سے ضرور سوال کیا جاتا کہ وہ کیوں مسکرائی ؟ اس کی وجہ کیا ہے ؟؟؟

” آپریشن چل رہا ہے اس کا آپ سب بھی پلیز اس کے لیے دعا کریں۔۔۔۔۔!! “

ماحد نے ایک اور بجلی امجد صاحب پر برسائی۔۔۔۔۔!! وہ وہی سامنے والی کرسی پر بیٹھ گئے۔۔۔۔ جبکہ ماحد وہی ان کے سامنے کھڑا رہا۔۔۔۔۔

اسے اپنا دل بند ہوتا ہوا محسوس ہو رہا تھا۔۔۔۔۔!!

کیونکہ عشاء کی حالت واقع بہت نازک تھی۔۔۔۔۔!! اور اگر اسے کچھ ہو گیا تو بچ تو وہ بھی نہیں پائے گا۔۔۔۔۔!! اگر عشاء ماحد مہر کو کچھ ہو گیا۔۔۔۔

مر تو ماحد مہر بھی جائے گا۔۔۔۔۔“ سب لوگ عشاء کی سلامتی کے لیے دعائیں کرنے لگے۔۔۔۔۔

لیکن جیا جسے عشاء نے ہمیشہ اپنی سگی بہن سے بڑھ کر مانا۔۔۔۔۔ آج وہی اسے مرنے کی بد دعا دے رہی تھی۔۔۔۔۔

اگر وہ اس کی سگی بہن ہوتی تو کبھی بھی ایسا کچھ بھی نہیں کرتی۔۔۔۔۔!!

لیکن حقیقت تو یہی تھی نا کہ وہ دونوں سگی بہنیں نہیں تھی۔۔۔۔۔! سگی کیا وہ دونوں سوتیلی بہنیں بھی نہیں تھی۔۔۔۔۔

پھر بھی عشاء نے اسے بہن سے کم کبھی بھی نا مانا۔۔۔۔ امجد صاحب نے ان دونوں میں کبھی فرق نہیں کیا۔۔۔۔

اس وقت بھی نہیں جب انھیں یہ معلوم ہوا ہے کہ جیا اور نجمہ ہی عشاء کی زندگی تباہ کر دینا چاہتے ہیں۔۔۔۔۔!!

انھوں نے اس وقت بھی انھیں معاف کردیا۔۔۔۔!!!“ لیکن اس سب کا وہ کیا صلہ دے رہی تھی ان سب کو۔۔۔۔۔؟؟

ماحد کی یہ حالت دیکھ کر اسے جلن ہو رہی تھی۔۔۔۔۔۔ کہ اس نے عشاء کے لیے اپنا کیا حال بنایا ہے۔۔۔۔!!

اور اگر اسے سچ میں کچھ ہو گیا تو وہ کیا کرے گا اپنے ساتھ۔۔۔۔؟؟ “

جیا نے قہر برساتی نظروں سے آئی سی یو کو نوازہ۔۔۔۔!!

کچھ لمحات کے بعد ہی ایک نرس آئی سی یو سے باہر نکلی۔۔۔۔ اسے دیکھ کر ماحد اس کی طرف متوجہ ہوا۔۔۔۔

” دیکھیں پیشنٹ کو بہت پہی برے طریقے سے مارا گیا ہے۔۔۔۔ زخم بھی کافی گہرا ہے۔۔۔۔۔!! اور اسی وجہ سے ان کا خون کافی بہہ گیا ہے۔۔۔۔!!

البتہ بلیڈنگ رک گئی ہے۔۔۔۔۔ لیکن خون کے زیادہ بہہ جانے کی وجہ سے ان کے جسم میں بلڈ دیفیشنسی (Blood Deficiency) ہو گئی ہے۔۔۔۔۔!!

حالت بہت ہی زیادہ کریٹیکل ہے ان کی۔۔۔۔! آپ پلیز جلد از جلد اے پازیٹو بلڈ گروپ (A positive blood group) کا بندوبست کر دیں۔۔۔۔!! دو بوتل بلڈ چاہئیے ہمیں۔۔۔۔۔

ویسے بھی پہلے ہی بہت دیر ہو چکی ہے۔۔۔۔ مزید دیر مت کیجئے گا۔۔۔۔!! پلیز تھوڑا جلدی۔۔۔۔۔!! اگر تھوڑی سی بھی دیر ہوئی ان کا بچنا مشکل ہی نہیں نا ممکن کو جائے گا۔۔۔۔۔! “

نرس نے انھیں عشاء کی حالت سے آگاہ کیا تھا۔۔۔۔۔! جبکہ اس کے آخری کہے ہوئے جملے پر ماحد کو شدید غصہ چڑھا۔۔۔۔۔!!

” عشاء کو کچھ بھی نہیں گا۔۔۔۔۔ سمجھی آپ۔۔۔۔۔!!

او۔۔۔ر اور آپ کو بلڈ کی ضرورت ہے نا تو آپ میرا بلڈ لے لیں۔۔۔۔۔ میر بلڈ گروپ اے پازیٹو ہے۔۔۔۔۔!! دو کی بجائے چار بوتل بلڈ لے لیں۔۔۔۔!!!

مجھے کوئی پرواہ نہیں ہے۔۔۔۔ بس میری آپ سے یہی گزارش ہے۔۔۔۔ پلیز آپ میری بیوی کو بچا لیں۔۔۔۔

اسے کچھ بھی نہیں ہونا چاہئیے۔۔۔۔۔!! “

ماحد کی بات سنتے ہوئے جیا نے اسے گھور کر دیکھا۔۔۔۔۔ وہ کیا کرنے جا رہا تھا ؟؟ اگر اس سب سے عشاء کی جان بچ گئی تو۔۔۔۔ ؟ پھر کیا ہوگا۔۔۔۔۔؟

” ارے ماحد۔۔۔!! اس سے تم خود کمزوری کا شکار ہو جاؤ گے۔۔۔۔۔!! اور ایسے میں گھر والوں کا خیال کون رکھے گا۔۔۔۔۔؟

تم ایک کام کرو تھوڑا سا ویٹ کر لو۔۔۔۔۔ میں انتظام کرتی ہوں بلڈ کا۔۔۔۔۔!!! “

جیا نے اسے روکنے کی کوشش کی۔۔۔۔۔!! لیکن وہ رکنے والوں میں سے نہیں تھا۔۔۔۔۔!!

” کچھ نہیں ہو گا مجھے۔۔۔۔۔ دو بوتل خون کے دینے سے مر نہیں جاؤ گا میں۔۔۔۔۔ اور ویسے بھی اگر مجھے کبھی بھی زندگی کے کسی بھی موڑ پر مجھے عشاء جان بچانے کے لیے اپنی جان بھی قربان پڑی نا۔۔۔۔!!

تو میں ہنستے ہنستے اپنی جان کو اس لیے دے دو گا۔۔۔۔۔!!! مجھے کوئی فرق نہیں پڑے گا۔۔۔۔۔!! “

ماحد کی کہی گئی یہ بات جہاں سب کے دلوں میں ایک سکون سا پیدا کر گئی تھی۔۔۔۔ وہی پر اس کی یہی بات جیا کے تن بدن میں آگ لگانے کا باعث بنی تھی۔۔۔۔۔۔!!!

” ( تم جتنی بھی کوشش کر لو مہر ماحد پر میں عشاء کو زندہ بچنے نہیں دوگی۔۔۔۔۔!! )“

اسے نرس کے ساتھ جاتا ہوا دیکھ کر جیا نے اپنے دل میں ہی سوچا تھا۔۔۔۔!! اور وہی ایک جگہ پر جا کر کھڑی ہوگئی۔۔۔۔۔

کچھ دیر بعد ماحد واپس وہی پر آیا۔۔۔۔۔۔ اسے تھوڑے بہت چکر تو ضرور آئے لیکن اس نے خود کو سنبھال لیا۔۔۔۔۔!! اور وہی کھڑا رہ کر عشاء کی سلامتی کی دعائیں کرنے لگا۔۔۔۔۔۔

” ہم نے ان کا ٹریٹمنٹ کر دیا ہے۔۔۔۔۔!! اگلے جوبیس گھنٹے ان کے لیے بہت اہم ہیں۔۔۔۔ وہ ابھی خطرے سے باہر نہیں ہیں۔۔۔۔۔

ان کی باڈی میں اب تک کوئی بھی مومنٹ نہیں پائی گئی۔۔۔۔ اور اگلے چوبیس گھنٹوں میں انھیں ہوش آگیا تو ٹھیک ورنہ۔۔۔۔۔!! “

وہ لوگ کافی دیر تک باہر بیٹھے رہے۔۔۔۔!! عشاء کی سلامتی کے لیے دعائیں کرتے رہے۔۔۔۔۔۔!! کافی دیر بعد ڈاکٹر آئی سی یو سے نکلی۔۔۔۔ انھیں دیکھتے ہوئے ماحد ٬ امجد صاحب ٬ ان کی طرف بڑھے۔۔۔۔۔

نجمہ بیگم نے بھی آگے بڑھنا چاہا لیکن جیا نے انھیں روک دیا۔۔۔۔۔!!“ جبکہ ڈاکٹر کی بات سنتے ہوئے ماحد کا دل مزید بیٹھتا گیا۔۔۔۔۔۔

” ورنہ کیا۔۔۔۔۔؟؟ “

لہجے میں پریشانی لیے ہوئے اس نے ڈاکٹر سے سوال کیا تھا کہ اگر عشاء کو اگلے چوبیس گھنٹوں کے اندر اندر ہوش نہیں آیا تو وہ کیا ہو گا۔۔۔۔؟ ڈاکٹر کی ادھوری بات کا اس نے جواب مانگا تھا۔۔۔۔۔

” ورنہ آپ دعا کریں۔۔۔۔۔ اللہ سب بہتر کرے گا۔۔۔۔ ہم بھی پوری کوشش کرے گے۔۔۔۔۔!! “

انھیں ایک مرتبہ پھر سے چہرے پر اداسی لیے نا امید کیا گیا تھا۔۔۔۔۔!!! اور وہاں سے چلی گئی۔۔۔۔۔ جبکہ امجد صاحب کے لیے یہ سب کچھ برداشت کرنا بہت زیادہ مشکل تھا۔۔۔۔۔!!

” انکل حوصلہ رکھیں۔۔۔۔۔!! کچھ بھی نہیں ہو گا عشاء کو آپ یوں مایوس نہیں ہو سکتے۔۔۔۔۔!!

اللہ پر بھروسہ رکھیں آپ۔۔۔۔ کچھ بھی نہیں ہونے دو گا میں عشاء کو۔۔۔۔ ہمیں اللہ سے اچھا گمان رکھنا چاہئیے۔۔۔۔۔!!

ہمت کریں آپ کچھ بھی نہیں ہو گا اسے۔۔۔۔۔!!! اللہ سے دعا کریں۔۔۔۔۔“

ماحد نے انھیں ہمت و حوصلہ دیتے ہوئے کہا۔۔۔۔۔ وہ انھیں تو ہمت دے رہا تھا۔۔۔۔۔!! انھیں سمجھا رہا تھا۔۔۔۔ کہ اللہ ہر بھروسہ رکھیں۔۔۔۔۔ بے شک اللہ رحم فرمانے والا ہے۔۔۔۔۔

لیکن اب ڈاکٹرز کی بات سنتے ہوئے وہ خود بھی حوصلہ گوا رہا تھا۔۔۔۔۔!! اس کا دل ڈوبتا جا رہا تھا۔۔۔۔!!

” اللہ صحت دے عشاء کو آمین۔۔۔۔۔۔!!!! “

نجمہ بیگم کو عشاء کے لیے دعائیں کرتا ہوا دیکھ کر جیا کو شدید غصہ چڑھا۔۔۔۔!! اس نے تیکھی نگاہوں سے اپنی ماں کو دیکھا۔۔۔۔۔!!

جیا نے انھیں اپنی طرف کھینچا جب ہی نجمہ بیگم نے اسے حیرانگی سے دیکھا۔۔۔۔

” امی آپ کیوں دعائیں کر رہی ہیں اس منحوس کے لیے۔۔۔۔۔!! مرتی ہے تو مرنے دیں۔۔۔۔۔! ہمیں اس سے کیا فرق پڑتا ہے۔۔۔۔

ہمارے لیے تو یہ بات اچھی ہی ہے نا۔۔۔۔۔؟ “

جیا نے انھیں قریب کرتے ہوئے اپنا منھ ان کے کان کے پاس لے کر جاتے ہوئے اپنے لہجے میں عشاء کے لیے نفرت لیے ہوئے آہستگی سے کہا تا کہ کوئی ان کی بات سن نا لے۔۔۔۔۔!!

” کیسی باتیں کر رہی ہو جیا۔۔۔۔ ؟؟ جو بھی چاہے ہمیں جتنا بھی برا ہی کیوں نا لگتا ہو لیکن ہمیں اس کے مرنے کی دعائیں نہیں کرنی چاہئیے۔۔۔۔!!

اللہ کو یہ سب بہت برا لگتا ہے۔۔۔۔!!! “

آج پہلی بار نجمہ بیگم نے اسے کچھ اچھا سمجھانے کی کوشش کی تھی۔۔۔۔۔!! جس پر اس نے منھ کے زاویے بگاڑے۔۔۔۔۔!!

” امی پلیز۔۔۔۔۔!! آگے کیا اس منحوس کے حمایتی یہاں پر کم ہیں۔۔۔۔۔؟؟ جو بھی اب اس کی حمایت کرے گی۔۔۔۔ کم از کم آپ تو میرا دل مت جلائیں نا۔۔۔۔۔! “

جیا نے منھ بناتے ہوئے جس پر نجمہ نے اسے گھورتے ہوئے دیکھا۔۔۔۔!! اسے جیا سے یہ بالکل بھی امید نہیں تھی۔۔۔۔۔!!!“

آٹھ گھنٹے گزر چکے تھے۔۔۔۔۔ لیکن ابھی تک عشاء کو ہوش نہیں آئی تھی۔۔۔۔!!! سب بہت پریشان ہورہے تھے۔۔۔۔۔

ماحد کا دل بیٹھتا جارہا تھا۔۔۔! جب دس گھنٹے گزر گئے تو اس سے اب مزید برداشت نا ہوا اور وہ ڈاکٹر کے پاس گیا۔۔۔۔۔!!

” ڈاکٹر مجھے عشاء سے ملنا ہے۔۔۔۔۔۔!! “

اس نے روم میں داخل ہوتے ہوئے ان کے پاس آتے ہوئے انھیں کہا کہ وہ عشاء سے بات کرنا چاہتا ہے۔۔۔۔۔ اسے دیکھنا چاہتا ہے۔۔۔۔ اس سے ملنا۔ ایرا ہے۔۔۔۔۔

” دیکھیں ہم آپ کو کبھی بھی نا روکتے لیکن ابھی ان کی حالت ایسی نہیں ہے کہ وہ کسی بھی شخص سے ملے یا ان سے بات کر سکیں۔۔۔۔۔!!

ابھی کچھ دیر آپ ویٹ کر لیں۔۔۔۔!! “

ڈاکٹر نے اسے سمجھانے کی کوشش کی۔۔۔۔۔ لیکن وہ بھی سمجھنے والوں میں سے نہیں تھا۔۔۔۔۔

” نہیں مجھے ملنا ہے۔۔۔۔ پلیز صرف اور صرف پانچ منٹ۔۔۔۔۔!! “

ماحد نے ضدی لہجہ اپناتے ہوئے ان سے التجائیہ کہا۔۔۔۔ جس پر ڈاکٹر ایک گہری سوچ میں پڑ گئے۔۔۔۔۔۔!!

” ٹھیک ہے صرف اور صرف پانچ منٹ۔۔۔۔۔ اس سے زیادہ نہیں۔۔۔۔۔“

ڈاکٹر نے سمجھاتے ہوئے کہا کہ وہ پانچ منٹ سے زیادہ ان کا وقت نہیں لے گا۔۔۔۔!! جس پر ماحد نے بنا کچھ کہے سر ہاں میں ہلایا۔۔۔۔۔!!

یہ پانچ منٹ اس کے لیے بہت اہم تھے۔۔۔۔۔!! اس میں ایک امید سی پیدا ہوگئی تھی کہ وہ ٹھیک ہو جائے گی۔۔۔۔!!

اس نے اس کمرے میں قدم رکھے جہاں پر عشاء موجود تھی۔۔۔۔۔!!! اسے کمرے میں شفٹ کردیا گیا تھا۔۔۔۔

لیکن ابھی بھی وہ انڈر آبزرویشن تھی۔۔۔۔۔!! ماحد دروازہ آہستگی سے بند کرتا ہوا ہلکے ہلکے قدم لیتا ہوا اس کے پاس آیا۔۔۔۔۔!!“

اور اس کے مختلف مشینوں سے گرے ہوئے وجود کو دیکھا۔۔۔۔۔ جس کے لیے سانس لینا بھی بہت مشکل تھا۔۔۔۔۔!!“

وہ وہی پر پڑی ہوئی کرسی کو آگے کرتا ہوا اس کی ہی سامنے بیٹھ گیا۔۔۔۔!! عشاء کی یہ حالت دیکھتے ہوئے ماحد مہر جو بہت تکلیف ہو رہی تھی۔۔۔۔۔!

آنکھوں میں آنسو بھر آئے۔۔۔۔ وہ شخص رونے کے در پر تھا۔۔۔۔۔ اس نے عشاء کا ہاتھ تھاما۔۔۔۔۔

” عشاء پلیز آٹھ جاؤ۔۔۔۔ دیکھو نا یہاں پر سب لوگ ہیں۔۔۔۔۔ تمھارے پاپا ٬ ماما ٬ میں سب لوگ موجود ہیں یہاں پر۔۔۔۔!!!

ماحد نے ہاتھ سے اشارہ باہر کی طرف کرتے ہوئے کہا۔۔۔۔۔۔“

ہم سب لوگ تمھارے اٹھنے کا ہی انتظار کر رہے ہیں بس۔۔۔۔۔!! پلیز تم اٹھ جاؤ۔۔۔۔۔ دیکھو نا تمھارے بابا کتنے پریشان ہیں تمھارے لیے۔۔۔۔۔!!

اگر تمھیں کچھ ہو گیا تو وہ تو کیا۔۔۔۔۔ میں بھی زندہ نہیں رہ پاؤں گا۔۔۔۔۔

مجھ سے تمھاری یہ حالت نہیں دیکھی جا رہی ہے۔۔۔۔۔!!! دیکھو بس ایک دفعہ آنکھیں کھول کر مجھے دیکھ لو۔۔۔۔۔! پلیز عشاء پلیز۔۔۔۔۔!!

پلیز بس ایک دفعہ ہوش میں آکر مجھے دیکھ کر میرے دل کو سکون پہنچا دو۔۔۔۔!!

اور بس ایک دفعہ مجھے بتا دو کہ تمھارے ساتھ یہ سب کچھ کس نے کیا ہے ؟ میں اسے زندہ نہیں چھوڑو گا۔۔۔۔۔

لیکن ایک مرتبہ ہوش میں آؤ تو سہی۔۔۔۔۔!!! “

ماحد کی آنکھوں سے آنسو تیز روانی سے بہہ رہے تھے۔۔۔۔۔!! اس نے عشاء کے ہاتھ پر ہی اپنا سر رکھا۔۔۔۔ اور ہنوز اسی پوزیشن میں بیٹھا رہا۔۔۔۔

وہ کسی بچے کی مانند رو رہا تھا۔۔۔۔!!

جبکہ وہاں پر کھڑی جیا جو ابھی کچھ لمحے پہلے ہی آئی تھی۔۔۔۔۔ عشاء کے وجہ سے اس کی یہ حالت دیکھ کر جل بھن گئی۔۔۔۔۔!! “

اور غصے سے وہاں سے نکل گئی۔۔۔۔ جبکہ ماحد ہنوز اسی طرح بیٹھا رہا۔۔۔۔۔!!

” آیت بیٹا۔۔۔۔۔!! یہ لو یہ خلا کے پیپرز ہیں۔۔۔۔۔!! “

شاہ نواز ابھی کچھ دیر پہلے ہی آئے تھے۔۔۔۔۔ آیت کچھ دیر بیٹھ کر ان سے باتیں کرتی رہی۔۔۔۔۔۔!!

پھر اسے کچھ کام یاد آیا جب ہی وہ کمرے میں گئی۔۔۔۔ شاہ نواز نے اسے یہ پیپرز دینے کی ہمت کی۔۔۔۔ اور جیسے ہی وہ ان کے پہنچی انھوں نے آہستگی سے آیت کو پیپرز تھماتے ہوئے کہا۔۔۔۔!!

آیت کی سانسیں پھولی۔۔۔۔۔!!! اس نے لرزتے ہاتھوں سے ان پیپرز کو پکڑا۔۔۔۔۔ یہ عمل شاہ نواز کی نظروں سے بچ نہیں سکا۔۔۔۔۔!!“

” بیٹا۔۔۔۔۔!! چاہے ذیشان جیسا بھی ہو۔۔۔۔۔۔ اور جو بھی اس نے ہمارے ساتھ کیا ہو۔۔۔۔۔!! لیکن بیٹا وہ تمھارا شوہر ہے۔۔۔۔۔!!

اس نے تم سے نکاح کیا ہے۔۔۔۔ اور نکاح ایک بہت ہی زیادہ پاک بندھن ہوتا ہے۔۔۔۔۔!!

مجھے لگتا ہے بیٹا تمھیں ایک مرتبہ اس بارے میں سوچ لینا چاہئیے کہ کیا واقع تم ذیشان سے خلا چاہتی ہو ؟؟ “

شاہ نواز کی بات پر وہ نظریں جھکا گئی۔۔۔۔۔!! کیونکہ وہ ٹھیک ہی تو کہہ رہے تھے۔۔۔۔۔ وہ اس کا شوہر ہے۔۔۔۔۔!! وہ اسے سمجھا رہے تھے کہ وہ اس سے خلا نا لے۔۔۔۔۔!!!

اور پھر وہ اس سے محبت بھی کرتی ہے۔۔۔۔!!! تو پھر خلا کیوں ؟؟“

اس نے سوچا لیکن پھر اپنی ماں کی وفات کی خبر اس کے ذہن میں گھومی۔۔۔۔

آیت کی آنکھیں نم ہو گئی تھی۔۔۔۔۔ پورے دن میں ایسا کوئی لمحہ ٬ کوئی گھڑی ایسی نہیں تھی جب اس نے اپنی ماں کو یاد نا کیا ہو۔۔۔۔۔!!!!!!!“

“ بابا میں نے پورے ہوش و حواس میں سوچ سمجھ کر یہ فیصلہ کیا ہے۔۔۔۔۔!!

میں اس سے پیچھے نہیں ہٹوں گی۔۔۔۔۔!! “

آیت اٹل لہجے میں کہتی وہاں سے اٹھتی چلی گئی۔۔۔۔۔ جبکہ شاہ نواز نے مایوسی سے اپنی بیٹی کو دیکھا۔۔۔۔۔!!!

وہ خود پر ظلم کر رہی تھی۔۔۔۔ کیونکہ انھوں نے اس کی آنکھوں میں ذیشان کے لیے محبت صاف دیکھی تھی۔۔۔۔۔!!!

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *