Black Heart Love By Abdul Ahad Butt NovelR504882 Black Heart Love (Episode - 3)
No Download Link
Rate this Novel
Black Heart Love (Episode - 3)
Black Heart Love By Abdul Ahad Butt
” صادق۔۔۔۔! مجھے وہ لڑکی چاہئیے ہے۔۔۔۔! ہر حال میں ہر قیمت پر۔۔۔۔! تم چاہے اس کے لیے اسے اغواہ کرو۔۔۔۔!
چاہے جو مرضی کرو لیکن مجھے آیت چاہئیے یہاں اس کمرے میں موجود صحیح سلامت اسے ایک بھی کھروچ نہ آئے۔۔۔۔۔!
میری بات غور سے سنو۔۔۔۔۔ تمھارے پاس صرف اور صرف تین دن ہی باقی ہیں۔۔۔۔!
اگر ان تین دنوں کے دوران مجھے وہ لڑکی نہ ملی تو تم اپنی نوکری سمیت زندگی سے بھی ہاتھ دھو بیٹھو گے۔۔۔۔”
اسے کمرے میں بلاتے ہوئے ذیشان نے صاف طور پر اس سے کہہ دیا۔۔۔۔! جس پر صادق پھٹی پھٹی نگاہوں سے اسے دیکھنے لگا۔۔۔۔”
” پر سر۔۔۔۔!”
” کیا سر۔۔۔۔۔؟ کیا تمھیں اس کام سے کوئی اعتراض ہے صادق بولو۔۔۔۔! یا تمھیں کوئی مسئلہ ہے۔۔۔۔ تو مجھے بتا دو۔۔۔۔!”
وہ کچھ بولنے ہی لگا تھا۔۔۔۔! جب کہ ذیشان کی بات کو سن کر وہ مکمل طور پر خاموش ہو گیا۔۔۔۔!
اس کی بات میں ہی اس کی دھمکی واضح تھی۔۔۔۔!
” کچھ نہیں سر۔۔۔۔! میں تو بس یہ کہہ رہا تھا کہ آج کل ان کے رشتہ دار کی شادی ہے۔۔۔۔! تو ایسے میں انھیں کیسے یہاں لائے۔۔۔۔!”
صادق نے بات کو فوراً بدل دیا۔۔۔۔! اس کی آنکھوں میں اتر ہوا خون وہ دیکھ چکا تھا۔۔۔۔!
” صادق آئی ڈونٹ کئیر۔۔۔۔! واٹ اویر اس نے جہاں بھی جانا ہو وہ جائے۔۔۔۔!
لیکن مجھے ٹھیک تین دن بعد وہ اس کمرے میں جائیے تو اس کا مطلب ہے کہ وہ مجھے چاہئیے۔۔۔۔۔!”
اس کے سر پر اپنے بدلے کا جنون سوار تھا۔۔۔۔۔! شاہ نواز سے بدلہ لینا اس کی ضد بن چکا تھا۔۔۔۔!
جبکہ اس کی بات کو سنتے ہوئے صادق سر ہاں میں ہلاتے ہوئے کمرے سے باہر نکل گیا۔۔۔۔!
” شاہ نواز۔۔۔۔! مکافات عمل کا وقت آگیا ہے۔۔۔۔! جو آپ نے بویا ہے اسے کاٹنے کا وقت بھی آن پہنچا ہے۔۔۔۔۔!
چوبیس سال پورے چوبیس سال انتظار کیا ہے میں نے اس وقت کا۔۔۔۔۔!
لیکن میں تمھیں اور تمھاری فیملی کو مار کر اتنی آسان سزا تو نہیں دو گا۔۔۔۔!
پہلے تمھاری بیٹی کی زندگی برباد کرو گا میں۔۔۔۔!
اس کے بعد تمھیں بہت زیادہ تر پاؤ گا۔۔۔۔ اور اس میں کوئی شک بھی نہیں کہ بیٹی کا یہ حال دیکھ کر تم تڑپو کے بھی بہت۔۔۔۔!
جو میرے لیے زندگی کی سب سے بڑی خوشی ہو گی۔۔۔۔!
اور پھر پہلے تم سے تمھاری فیملی کو دور کرو گا میں جس سے تم بہت محبت کرتے ہو۔۔۔۔!
تا کہ تمھیں احساس تو ہو کہ اپنوں کو کھونے کا غم کیسا ہوتا ہے۔۔۔۔؟
اور پھر کہیں جا کر میں تمھیں اور تمھاری پوری فیملی کو ختم کر دو گا۔۔۔۔! جس سے مجھے بہت خوشی ہو گی۔۔۔۔
اور میرے ماں باپ کی روح جو سکون ملے گا۔۔۔۔”
صادق کے جانے کے بعد وہ بولنا شروع ہوا تو بولتا چلا گیا۔۔۔۔!
اور اس کمرے میں اکیلے بیٹھے ہوئے خود سے ہی وہ ساری باتیں کیے جا رہا تھا۔۔۔۔!
اپنے ہی خیالات کو اپنے ہی منھ سے سن کر اس نے ایک بلند قہقہ سا لگایا تھا۔۔۔۔!
.
ہوٹل کے کمرے سے نکلتے ہوئے وہ قدم آگے بڑھا رہی تھی۔۔۔۔ جب ہی اس کا پاؤں گیا۔۔۔۔! لیکن اس سے پہلے کہ وہ گرتی وہ کسی کہ مظبوط ہاتھوں میں جھول گئی۔۔۔۔!
پہلے تو اسے لگا جیسے وہ گر جائے گی۔۔۔۔۔۔ جس کی وجہ سے وہ اس نے آنکھیں بند کر لی۔۔۔۔!
لیکن خود کو کسی کی باہوں میں پاتے ہوئے یمن نے آنکھیں کھولی۔۔۔۔!
تو سامنے اس فرشتہ صفت انسان جو دیکھا جس نے اسے بچایا تھا ورنہ آج تو وہ گر ہی جاتی اور ناجانے کہاں کہاں چوٹ لگ جاتی۔۔۔۔۔!
” تھینک یو۔۔۔۔۔!”
سوچوں میں سے نکلتے ہوئے وہ اس کی باہوں سے اٹھی اور اس سے کہا۔۔۔!
” ویلکم۔۔۔۔”
جس پر اس نے مسکرا کر صرف اتنا ہی جواب دیا۔۔۔۔۔ اس کو دیکھتے ہوئے یارش کے دل میں ایک عجیب سا احساس پیدا ہوا۔۔۔۔!
” یمن۔۔۔۔! تم ٹھیک ہو۔۔۔۔۔!”
اس کی دوست نے اس کے پاس آتے ہوئے اس سے سوال کیا۔۔۔۔! جس پر وہ سر ہاں میں ہلا گئی۔۔۔۔!
” ہممم میں ٹھیک انھوں نے مجھے بچایا بچائی۔۔۔۔۔!”
یمن نے یارش کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا۔۔۔۔ جس پر اس کی دوست امبر نے یارش کی طرف دیکھا۔۔۔۔!
” تھینک یو سو مچ سر کہ آپ نے میری فڑینڈ کی کو گرنے سے بچایا۔۔۔۔!”
امبر نے بھی باقائدہ اس کا شکریہ ادا کیا اور یمن کو لیتے ہوئے وہاں سے چلی گئی۔۔۔۔!
جبکہ یارش شاہ تو اسے دیکھتا ہی رہ گیا۔۔۔۔۔۔۔! اسے یوں لگ رہا تھا کہ اس سے حسین لڑکی تو اس نے اپنی پوری زندگی میں دیکھی ہی نا ہو۔۔۔۔!
وہ بہت خوبصورت تھی۔۔۔۔! اس کا نام کیا تھا ہاں ” یمن۔۔۔۔” کتنا پیارا نام ہے۔۔۔۔۔! بالکل اس کی طرح۔۔۔۔!
وہ کسی ہیرے کی طرح تھی۔۔۔۔!
کیا وہ یہاں کی تھی۔۔۔۔؟ یا کسی اور شہر سے تھی۔۔۔”
شائید وہ کہیں اور سے تھی کیونکہ وہ یہاں اپنے دوستوں کے ساتھ گھومنے آیا تھا۔۔۔۔”
اور یہاں اسی ہوٹل میں ایک ٹرپ بھی آئی تھی۔۔۔۔! کیا وہ ان میں سے تھی۔۔۔؟
” یارش یار کہاں کھو گیا۔۔۔۔۔؟ چل یہاں سے۔۔۔۔!”
یارش شاہ اپنی ہی سوچوں میں گم تھا جب ہی اس کے دوست نے اسے ہوش دلائی۔۔۔
” ہاں چل۔۔۔۔!”
ایک دم اس کے خیالات سے نکلتے ہوئے اس نے اپنے دوست سے کہا جس پر وہ بھی سر ہاں میں ہلا گیا اور اس کے ساتھ چلا۔۔۔۔!
.
لپ اسٹک کو لگاتے ہوئے وہ اپنی تیاری مکمل کر چکی تھی۔۔۔۔” جب ہی وہ اپنا لہنگا اٹھاتے ہوئے کمرے سے باہر نکلی جہاں اس کے بابا اور ماما اس کا انتظار ہی کر رہے تھے۔۔۔۔!
” ماما بابا۔۔۔۔! چلے ہم۔۔۔۔”
وہ کمرے سے نکلتے ہوئے بولی جب ہی اس کو دیکھ اس کی مما نے اس کا صدقہ اتارا یقیناً وہ بہت ہی خوبصورت لگ رہی تھی۔۔۔!
وہ ہمیشہ ہی بہت پیاری لگتی تھی۔۔۔۔! لیکن آج تو وہ بہت ہی پیاری لگ رہی تھی۔۔۔۔!
صدقہ اتارنے کے بعد وہ لوگ گاڑی کی طرف بڑھ گئے تھے۔۔۔۔! اور پھر شادی والے گھر کے لیے نکل گئے۔۔۔۔!
وہاں جا کر وہ سب سے ملے اور آیت لڑکیوں کے ساتھ ڈانس کرنے میں مصروف ہو گئی۔۔۔۔۔۔۔!
ان کے گھر رونق اور ہلا گھلا وغیرہ لگا ہوا تھا۔۔۔۔! پر یہ رونق یہ۔ خوشیاں سب کچھ دکھ درد اور ماتم میں بدلنے والا تھا….!
کیونکہ ذیشان کے ارادے نیک نہ تھے اور آج آخری اور تیسرا دن تھا صادق کے پاس اور آج ہی اسے آیت جو ذیشان کے سامنے لے کر جانا ہے۔۔۔۔!
ورنہ اسے آپی نوکری اور جان سے ہاتھ دھونے پڑے گے۔۔۔۔!
