Black Heart Love By Abdul Ahad Butt NovelR504882 Black Heart Love (Episode - 29)
No Download Link
Rate this Novel
Black Heart Love (Episode - 29)
Black Heart Love By Abdul Ahad Butt
ان کا باس عشاء کی طرف بڑھا۔۔۔۔ لیکن چہرے پر پڑنے ایک زور دار مکے کی وجہ سے وہ دور جا گرا۔۔۔
وہ دونوں شخص بھی اس کی طرف بڑھے لیکن اس نے ان دونوں کی بھی خوب دھلائی کی۔۔۔ عشاء ابھی بھی بے ہوش ہی تھی۔۔۔۔۔!
وہ کوئی اور نہیں بلکہ ماحد مہر تھا۔۔۔۔ جسے عشاء کے لا پتہ ہونے کی خبر جیسے ہی ملی۔۔۔۔
اس نے اپنے دوست کی مدد سے کالج کی سی سی ٹی وی فوٹیج نکلوائی اور گاڑی کا نمبر ٹریک کرتے ہوئے عشاء کی لوکیشن معلوم کی۔۔۔۔
ان میں سے ایک اور شخص دوبارہ اٹھا اور ہاتھ کا پنچ بناتے ہوئے ماحد کی طرف بڑھا۔۔۔
جب ہی ماحد نے اس کا ہاتھ پکڑتے ہوئے ایک زوردار پنچ اس نے چہرے پر مارا۔۔۔۔
جس وجہ سے اس شخص کے ہونٹ کا کنارہ پھٹ گیا اور وہاں سے خون بہنے لگا۔۔۔۔۔
باقی دو بھی کھڑے ہوئے اور باری باری اپنی اپنی قسمت آزمانے کی کوشش کی لیکن ٹک نا سکے۔۔۔۔
اور ارادوں سمیٹ مٹی میں مل گئے۔۔۔۔ وہ بیچارے اس کا غصہ دیکھ کر ہی ڈر گئے۔۔۔۔ اور وہاں سے بھاگ گئے۔۔۔۔
ویسے تو وہ لوگ جیا کے سامنے بہت بڑی بڑی چھوڑ رہے تھے کہ آپ کو فکر کرنے کی ضرورت نہیں ہے۔۔۔۔!!
ہم ڈرنے والوں میں سے نہیں ہیں۔۔۔۔۔!!
بڑا بہادر بن کر کہہ رہے تھے جیا کو یہ سب۔۔۔۔۔ کہ آپ کو فکر کرنے کی کوئی بھی ضرورت نہیں ہے۔۔۔۔ ہم سب کچھ سنھبال لیں گے۔۔۔۔
وہ لڑکی زندہ نہیں بچے گی۔۔۔!! اور بھی بہت کچھ۔۔۔۔ پر اب اب کیسے یہ سب لوگ بھیگی بلی بن کر بھاگ رہے تھے وہاں سے۔۔۔۔
ان کے جاتے ہی جیسے ہی ماحد کی نظر عشاء پر پڑی تو اس کا دل تڑپ اٹھا۔۔۔۔ کتنی بے رحمی سے اس پر ظلم کیا گیا۔۔۔۔
اگر وہ تینوں ابھی بھی یہی پر ہوتے تو یقیناً ماحد کے ہاتھوں مارے جاتے۔۔۔۔!
ماحد نے اس کے سر سے بہتے ہوئے خون کو دیکھا۔۔۔۔ جو بہتا ہی جارہا تھا۔۔۔۔۔!!
ماحد نے عشاء کا ہی دوپٹہ پکڑتے ہوئے اس کے سر پر باندھا۔۔۔۔ تا کہ اس کا جو خون بہہ رہا ہے وہ رک جائے۔۔۔۔
عشاء کی یہ حالت دیکھتے ہوئے اس کے ہاتھ کانپ رہے تھے۔۔۔۔ اس نے اپنی لرزتے ہاتھوں سے ہی اس کا جسم رسیوں سے آزاد کروایا۔۔۔۔
وہ ہنوز بے ہوش ہی تھی۔۔۔۔۔ عشاء کی باڈی میں ہلکی سی بھی مومنٹ نہیں تھی۔۔۔۔“
ٹھنڈ بھی بڑھ رہی تھی۔۔۔۔ کیونکہ رات مزید گہری ہوتی جارہی تھی۔۔۔۔۔!!!
ماحد نے اپنا کوٹ اتارتے ہوئے اس کے کندھوں پر رکھا۔۔۔۔ اور اسے اپنی باہوں میں بھرتے ہوئے اس کا سر اپنے سینے سے لگا گیا۔۔۔۔
اس کا جسم ٹھنڈا پڑ چکا تھا۔۔۔۔۔ ماحد نے آہستگی سے اس کے ماتھے پر ایک بوسہ دیا۔۔۔۔۔
” میری جان تمھیں کچھ بھی نہیں ہوگا۔۔۔۔۔!! “
وہ لہجے میں فکر لیے زور و شور سے دھڑکتے ہوئے دل کو قابو میں پاتا ہوا آہستگی سے بول گیا۔۔۔
اور اگلے ہی پل عشاء کے نازک وجود کو اپنی باہوں میں لیے ہوئے وہ باہر کی طرف بڑھا۔۔۔۔ اور آہستگی سے اسے گاڑی کی بیک سائیڈ پر لٹاتے ہوئے وہ خود ڈرائیونگ سیٹ پر آکر بیٹھ گیا۔۔۔۔
دوپہر کو جب ماحد عشاء کو یونیورسٹی سے لینے گیا تو کافی دیر تک عشاء یونی سے نا نکلی۔۔۔۔ تو اسے کچھ عجیب سے محسوس ہوا۔۔۔۔
ظاہر سی بات ہے جب وہ یونیورسٹیوں گئی ہی نہیں تھی تو وہ وہاں سے نکلتی کیا۔۔۔۔؟؟
ماحد نے اندر جا کر اس کے متعلق پوچھنا مناسب سمجھا کیونکہ اسے وہاں ہر کھڑے ہوئے ایک گھنٹے سے بھی زیادہ وقت ہو چکا تھا۔۔۔۔۔
لیکن وہ نہیں نکلی تھی۔۔۔۔
اور اب تو سارے اسٹوڈنٹس بھی جا چکے تھے۔۔۔۔ اس کے پوچھنے پر اسے معلوم ہوا کہ عشاء تو آج یونی آئی ہی نہیں۔۔۔۔
لیکن ماحد نے ان کی بات پر یقین نا کیا۔۔۔۔ کیونکہ وہ خود اسے یونی اتار کر گیا تھا۔۔۔۔
لیکن سی سی ٹی وی فوٹیج دیکھتے ہوئے اسے سب معلوم ہوگیا۔۔۔۔ اس نے گاڑی کا نمبر نوٹ کرتے ہوئے اسے ٹریک کروایا۔۔۔
پر اسے پہنچنے میں بہت دیر ہوگئی۔۔۔۔ عشاء کی حالت بہت بگڑ چکی تھی۔۔۔۔ وہاں پہنچ کر اس نے اسے بچایا اور اب اسے لیے ہوسپٹل کی طرف بڑھ رہا تھا۔۔۔۔
وہ گاڑی تیز رفتار میں چلا رہا تھا۔۔۔۔ بغیر اس چیز کی پرواہ کیے کہ اس کا ایکسیڈینٹ بھی ہو سکتا یے۔۔۔۔
اسے اس وقت اگر کسی کی پرواہ تھی وہ صرف اور صرف عشاء ماحد مہر کی تھی۔۔۔۔۔!!
گاڑی اپنی منزل مقصود پر پہنچ گئی تھی۔۔۔ ہوسپٹل کے سامنے گاڑی روکتے ہوئے اس نے گاڑی کے پچھلی سائیڈ سے آہستگی سے عشاء کو اٹھایا اور اندر کی طرف بھاگا۔۔۔۔
اندر پہنچے ہوئے اس نے زور زور سے ڈاکٹرز کو آوازین لگائیں۔۔۔۔ جس پر ایک ڈاکٹر اور دو سے تین نرسز وہاں پہنچی۔۔۔۔
عشاء کو وینٹیلیٹر پر لٹایا گیا۔۔۔۔۔ جبکہ اس کے بہتے خون کی وجہ سے وینٹیلیٹر کی سفید چادر بھی لال ہونا شروع ہوگئی۔۔۔۔۔
” ان کا کافی خون بہہ گیا ہے۔۔۔۔ ہمیں جلد از جلد ان کا آپریشن کرنا ہوگا۔۔۔۔!! “
ڈاکٹر نے آہستگی سے کہا۔۔۔۔۔ جس پر ماحد نے اسے قہر برساتی ہوئی نظروں سے دیکھا۔۔۔۔
” تو میری شکل کیا دیکھ رہے ہو تم لوگ۔۔۔۔؟ جاؤ اور جلد از جلد آپریشن شروع کرو۔۔۔۔! “
وہ بہت گھبرائے ہوئے لہجے میں مگر غصے کی انتہا کو چھوتا ہوا بولا۔۔۔۔۔۔ ڈاکٹر نے فوراً سر ہاں میں ہلایا۔۔۔
اور عشاء کو آئی سی یو کی طرف لے گئے۔۔۔۔۔۔!!! ماحد وہی کھڑا رہ کر اس کی سلامتی کی دعائیں کرنے لگا۔۔۔۔“
” ایک کام دیا تھا میں نے تم لوگوں کو۔۔۔۔ پر تم لوگ۔۔۔۔۔ تم سے وہ بھی نہیں ہوا۔۔۔۔
مجھے زرا ایک بات تو بتاؤ کہ تم کر کیا رہے تھے وہاں پر۔۔۔۔۔ تم لوگوں کو میں نے اسے مارنے کا کام دیا تھا۔۔۔۔۔
تو اب تک تم لوگوں نے اسے مارا کیوں نہیں۔۔۔۔؟ میں اس مصیبت سے اپنی جان چھڑوانا چاہتی تھی۔۔۔۔ اور اب تم لوگوں کی وجہ سے وہ پھر میرے سر پر آگئی ہے۔۔۔۔!! “
جیا کو جیسے ہی ان کے کارنامے کے بارے میں معلوم ہوا۔۔۔ وہ غصے سے لال ہوگئی۔۔۔۔ اس کا سارا پلین دھرے کا دھرا رہ گیا تھا۔۔۔۔“
صرف اور صرف ان لوگوں کی لاپرواہی کی وجہ سے۔۔۔۔ وہ تینوں ہنوز نظریں جھکائے ہوئے کھڑے تھے۔۔۔
” ہمیں کیا پتہ تھا کہ وہ لڑکا وہاں آکر اسے بچا لے گا۔۔۔۔!! “
ان میں سے ایک نے نظریں جھکائے ہوئے آہستگی سے کہا۔۔۔۔ جس پر جیا نے اسے گھورا۔۔۔۔
” تو تم لوگ کیا وہاں پر گھوڑے بیچ کر سو رہے تھے۔۔۔۔۔؟؟ ہمم بولو۔۔۔ تم لوگوں کا کام تھا نا اس گودام کے گیٹ کو بند رکھنا۔۔۔۔
کام اتنی صفائی سے کرنا کہ کسی کو بھی کچھ بھی معلوم نا ہو۔۔۔۔۔ لیکن نہیں ٹھیک سے تو کام کرنا ہی نہیں نا۔۔۔۔۔!! “
وہ ہنوز نظریں جھکائے ہوئے اس کی باتیں سن رہے تھے۔۔۔۔ اگر عاصم درانی کو حکم نا ہوتا تو اس بد زبان لڑکی کی عقل کو ٹھکانے لگا دیتے۔۔۔۔۔
” اب جاؤ کھڑے کھڑے شکل کیا دیکھ رہے ہو میری۔۔۔۔۔۔!! “
جیا نے غصے سے انھیں دیکھتے ہوئے کہا۔۔۔۔ جس پر وہ نظریں جھکائے ہوئے وہاں سے چلے گئے۔۔۔
اسے سمجھ نہیں آرہا تھا کہ کیا کرے۔۔۔۔؟ عشاء اس کی زندگی میں واپس آگئی تھی۔۔۔۔۔
پر اس کے پاس بھی ایک نیا پلین تھا۔۔۔۔۔
عشاء کی کڈ نیپنگ کسی اور نہیں بلکہ جیا نے کروائی ہے اس بات سے جیا کی ماں بھی نا واقف تھی۔۔۔۔!!
آیت ابھی کمرے میں آئی تھی باکر سے دروازے کو لاک کر کے کیونکہ اس کے بابا ہر وقت اس کے پاس نہیں رہ سکتے تھے۔۔۔۔
اگر وہ چوبیس گھنٹے فلیٹ میں ہی رہتے تو ذیشان اور اس کے ساتھیوں کو ان پر شق ہو جاتا۔۔۔۔
اس بات سے شاہ نواز انجان نہیں تھے کہ ذیشان نے ان پر پہرے دار بٹھا رکھے ہیں۔۔۔۔
اور اگر انھیں بھنک بھی پڑ جاتی کہ آیت اس فلیٹ میں رہ رہی ہے۔۔۔۔۔ تو آیت کی زندگی پھر خطرے میں آجاتی۔۔۔۔!!
آیت کے کہنے پر شاہ نواز نے خلا کے پیپرز بھی تیار کروائے تھے۔۔۔۔۔!! وہ مزید ذیشان کے ساتھ اس رشتے میں نہیں رہنا چاہتی تھی۔۔۔۔
اگر وہ طلاق کا مطالبہ کرتی تو ذیشان اسے کبھی بھی ڈائیورس نہیں دیتا۔۔۔۔
اور اس طرح وہ اس کے سامنے بھی آجاتی۔۔۔۔ لیکن خلا کا کام وہ بہت ہی رازداری سے کروا رہے تھے۔۔۔۔۔
تا کہ کسی بھی شخص کو معلوم نا ہو کہ آیت یہاں ہے۔۔۔۔۔!!
وہ کمرے میں آتی دروازہ بند کرتی ہوئی کھڑکی میں جا کر کھڑی ہوگئی۔۔۔۔ چاند کی روشنی اس کے چہرے پر پڑتے ہی اس چہرے کو مزید خوبصورت کرنے لگی۔۔۔۔۔
اس نے جیسے ہی موبائل چلایا۔۔۔۔اسی وقت اس کے سامنے اپنی اور ذیشان کی تصویر آگئی۔۔۔۔
وہ تصویر یارش کے نکاح کے فنکشن کی تھی۔۔۔۔ جو دادی نے زبردستی ان کی بنوائی تھی۔۔۔۔
اس تصویر کو دیکھتے ہی آیت کو ذیشان کی اور اس کے ساتھ گزارے ہوئے لمحات کی یاد آگئی۔۔۔۔!!!
لیکن اس نے فوراً اس تصویر کو گیلری سے ڈلیٹ کر دیا۔۔۔۔۔ تا کہ اس کی کوئی بھی یاد اس کے ساتھ نا رہے۔۔۔۔“
” اب نا ہی میں آپ کی زندگی میں کبھی واپس آؤ گی۔۔۔۔ اور نا ہی کبھی آپ کو اپنی زندگی میں واپس آنے دو گی میں۔۔۔۔۔!! “
آیت ہنوز چاند کی طرف دیکھتے ہوئے ٹوٹے لہجے میں بولی۔۔۔۔ جب کہ بات مکمل ہوتے ہی آنکھ سے آنسو موتی کی صورت میں آنکھ سے الگ ہوتا ہوا اس کی گال پر بہہ گیا۔۔۔۔
جسے اس نے صاف کیا۔۔۔۔ اور کپڑے چینج کرنے کے لیے چلی گئی۔۔۔۔
یارش فون کان سے لگائے ہوئے کافی دیر سے کھڑا تھا۔۔۔۔۔ جبکہ وہ اس بات سے انجان تھا کہ دادی اماں بھی اس کی ان حرکات کو نوٹ کر رہی تھی۔۔۔۔۔
” یارش بیٹا۔۔۔۔۔!! کیا ہوا کسے کال کر رہے ہو آپ۔۔۔۔۔؟ کافی دیر سے میں دیکھ رہی ہوں۔۔۔۔!! کسی کو کال کر رہے ہو۔۔۔ کوئی مسئلہ ہے۔۔۔۔“
دادی اماں کی آواز پر اس نے چونک کر پیچھے کی طرف دیکھا۔۔۔۔ جہاں پر وہ کھڑی تھی۔۔۔۔
ان کے سوال کا کیا جواب دیتا وہ۔۔۔۔؟ کہ وہ یمن کو کافی دیر سے فون کر رہا ہے۔۔۔۔۔
پر وہ میڈم ہیں کہ فون اٹھانے کا نام ہی نہیں لے رہی۔۔۔۔۔!! اگر وہ بتا بھی دیتا تو دادی ضرور اس سے وجہ پوچھتی۔۔۔۔۔
تو وہ کیا جواب دیتا۔۔۔۔؟؟
” یمن کو کال کر رہے ہو۔۔۔۔۔؟ “
انھیں کیسے معلوم ہوا کہ وہ یمن کو ہی فون کر رہا ہے۔۔۔۔
” جی پر آپ کو کیسے پتا لگا دادی۔۔۔ ؟ “
اس نے حیرانگی سے ان سے سوال کیا۔۔۔۔
” مجھے پتا تھا اور وہ تمھارا فون کیوں اٹھائے گی۔۔۔۔؟؟؟؟ وہ بھی اب۔۔۔۔۔۔۔!! “
دادی اماں نے کڑے تیور لیے ہوئے یارش کو کہا۔۔۔۔ جس پر وہ چونک گیا۔۔۔۔ کیا انھیں حقیقت معلوم ہوگئی تھی۔۔۔۔!! لیکن ایسا کیسے ہوسکتا تھا۔۔۔۔
کیا یمن نے انھیں سب کچھ بتایا۔۔۔۔؟؟“ کئی سوال اس کے ذہن میں گردش کرنے لگے۔۔۔۔!!
